In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
Permanent sterilization through tubal ligation is generally not permissible in Islam, as it permanently terminates the ability to reproduce. However, if a reliable, pious and experienced Muslim doctor determines that a future pregnancy poses a serious risk to the mother’s life, and no suitable temporary alternative is available, then tubal ligation may be permissible due to necessity. Being over 40 years of age alone does not make tubal ligation permissible.[1]
And Allah Taʿāla Knows Best.
|
Baba Abu Bakr Student Darul Iftaa Accra, Ghana |
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek Student Darul Iftaa |
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] «الأصل» لمحمد بن الحسن (4/ 18):
محمد عن أبي يوسف عن ليث بن سعد عن توبة بن نمر الحضرمي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: "لا خصاء في الإسلام ولا كنيسة".
«شرح مختصر الطحاوي» للجصاص (8/ 561): كتاب الكراهية
مسألة: [حكم إخصاء الإنسان، وكسبه، واستخدامه]
قال: (وكره أبو حنيفة رحمه الله كسب الخصيان، وملكهم، واستخدامهم). لأنهم لولا رغبة الناس فيهم لما أخصوا، فكان في اقتنائهم معونة على إخصائهم، وذلك مثلة ومحرم، لقول النبي صلى الله عليه وسلم: "لا إخصاء في الإسلام". *قال: (ولا بأس بإخصاء البهائم)؛ لما فيه من المنفعة للبهيمة وللناس.
«المبسوط» للسرخسي (15/ 134):
لقوله - صلى الله عليه وسلم - «، لا خصاء في الإسلام ولا كنيسة» والمراد نفي إحداث الكنائس في أمصار المسلمين، وفي الخصاء تأويلان. (أحدهما) خصاء بني آدم فذلك منهي عنه وهو من جملة ما يأمر به الشيطان قال الله تعالى {ولآمرنهم فليغيرن خلق الله} [النساء: ١١٩]،
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص660):
وأما خصاء الآدمي فحرام
أحسن الفتاوى للمفتي رشيد أحمد صاحب ط أيج أيم سعيد ( 8/349)
ضبط تولید اور اسقاط حمل دونوں کی مجموعی طورپر چار صورتیں ہی ہیں :
1 قطع نسل ، يعنی کوئی ایسی صورت اختیارکرنا جس کی وجہ سے دائمی طور پر قوت تولید ختم ہو جائے ۔
2 منع حمل ، يعنی ایسی صورت اختیار کرناکہ قوت تولید باقی رہتے ہوئے حمل قرارنہ پائے۔
3 حمل ٹھہر جانے کے بعد چار ماہ پورے ہونے سے پہلے کسی ذریعہ سے اس کو ساقط کرنا ۔
4 چارماہ گزرنے کے بعد حمل گرانا۔
احكام:
پہلی صورت بالاتفاق حرام ہے، خواہ اس میں کتنے ہی والد نظرآئیں اور خواہ اس کے دواعی بظاہرکتنے ہی قوی ہوں ۔
دوسری صورت کے حکم مں یہ تفصیل یہ ہے کہ بلاعذر بصورت اختیارکرنامکروہ تنزیہی ہے اور درج ذیل اعذار کی صورت میں بلا کراہت جائز ہے ۔
عورت اتنی کمزور ہے کہ با حمل کا تحمل نہیں کرسکتی ۔
عورت اپنے وطن سے دور کسی ایسے مقام میں ہے جہاں اس کا مستقل قیام و قرارکا ارادہ نہیں، اور سفر کسی ایسے ذریعہ سے ہے کہ اس میں مہینوں لگ جاتے ہوں ۔
زوجین کے باہمی تعلقات ہموارنہ ہونے کی وجہ سے علیدگی کا قصد ہے ۔ پہلے سے موجود بچے کی صحت خراب ہونے کا شدید خطرہ ہے ۔
یہ خطرہ ہو کہ فسادزمان کی وجہ سے بچہ بداخلاق اور والدین کی رسوائی کا سبب ہوگا
اگر کوئی ایسی غرض کے تحت حمل روکے جو اسلامی اصول کے خلاف ہے تو اس کا عمل بلكل نا جائز ہوگا ،مثلاً کثرت اولاد سے تنگی رزق کا خیال ہو، یا یہ وہ ہوکہ پی پیدا ہوگئی تو عار ہوگی
فتاوى محمودية لمحمود حسن گنگوهی مع تعليق شيخ سليم الله خان ط دار الإفتاء جامعة فاروقية كراچي (18/290)
بچہ دانی کا نکلوانا
سوال [۸۸۰۹] : میرے گھر میں جب حمل قرار پاتا ہے تو بہت الجھن ہوتی ہے اور سخت قسم کی تکلیف ہوتی ہے اور جس قدر پیدائش کا زمانہ قریب آتا ہے، تکلیف بڑھتی جاتی ہے، پھر بچہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر علاج کرتے کرتے عاجز آچکے ہیں، کوئی صورت نفع کی نہیں ہوتی ، ولادت کے بعد بہت مدت تک علاج جاری رہتا ہے تب تکلیف دور ہو کر قوت آتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچہ دانی نکلواد یجئے ، پھر یہ تکلیف نہ ہوگی ۔ براہ کرام فرمائیے کہ شرعاً اس کی اجازت ہے یا نہیں؟
الجواب حامداً ومصلياً :
اگر استقرار حمل اور ولادت کی وجہ سے نا قابل برداشت تکلیف ہوتی ہے اور خطرناک امراض پیدا ہو جاتے ہیں جن سے جان جانے کا قوی مظنہ ہوتا ہے تو تحفظ کی اور صورتیں بھی ہیں ، مثلاً : عزل کر لیا جائے یعنی جماع کے وقت منی علیحدہ نکالی جائے ، فرج کے اندر انزال نہ کیا جائے (۱)، یا مانع حمل دوا استعمال کی جائے جس سے علوق نہ ہونے پائے، یا بعد علوق حمل ضائع کر دے، یا شوہر دوسری شادی کرلے، موجودہ بیوی سے ہمبستری نہ ہو۔
اگر کوئی دوسری صورت ممکن نہ ہو تو پھر بحالت مجبوری عورت کی جان بچانے کے لئے بچہ دانی نکلوانے کی بھی گنجائش ہے۔ جب تک دوسری صورت بھی قابلِ عمل ہو، بچہ دانی نہ نکلوائی جائے ممکن ہے کہ آئندہ حالات اور عمر کے تغیر سے موجودہ تکلیف اور امراض کی کیفیت ختم ہو کر بچہ سہولت سے پیدا ہو سکے، بچہ دانی نکلوانے کے بعد توقع ہی ختم ہو جائے ئے گی اور ایک عورت کونسل کے لحاظ سے بیکار کر دیا جائے گا۔
اور حمل اور ولادت کی تکلیف تو سب کو ہی ہوتی ہے، قرآن پاک سے ثابت ہے حملته أمه كرهاً و وضعته كرها (۱) ، ایسی عمومی تکلیف کی وجہ سے بچہ دانی نکلوانے کی اجازت نہیں (۲) ۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم ۔
كتاب النوازل لمفتي محمد سلمان منصور پوری ط المركز العلمي للنشر والتحقيق لال باغ مراد آباد (16/258)
آپریشن سے بچے بند کرانا؟
سوال(۷۴۲):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حمیرہ خاتون تین بچوں کی ماں ہے، اور فی الحال بھی وہ چار ماہ سے حاملہ ہے، اور انتہائی تکلیف اور پریشانی کے ساتھ ٹائم پورا کررہی ہیں، پریشانی یہ ہے کہ حمل پیڑو یعنی سب سے نچلے حصہ میں قرار پایا ہے، جس کی وجہ سے چلنے پھرنے میں حتی کہ اُٹھنے بیٹھنے میں بھی بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، مسلسل درد رہتا ہے، ساتھ ہی پیشاب بھی برابر جاری رہتا ہے، ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ وہ لیٹی رہیں، یہ صورتِ حال بچے کی پیدائش تک رہتی ہے، اور ہر بچے میں یہی پوزیشن ہوتی ہے، اور یہ تکلیف دورانِ حمل دوسری عورتوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے، مانع حمل دواؤں کا استعمال بھی مفید ثابت نہ ہوا، اَب وہ آئندہ آپریشن کے ذریعہ بچے بند کرانا چاہتی ہے، تو کیا شرعی طور پر تکلیف اور پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کو آپریشن سے بچے بند کرانا جائز ہوگا یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: آپریشن کرانے کی اِجازت نہیں ہے، وقتی طور پر مانع حمل ذرائع کے استعمال کی ایسی ضرورت کے حالات میں گنجائش ہے۔ (احسن الفتاویٰ ۸؍۳۴۷)
عن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ: کنا نغزوا مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولیس لنا شيئٌ، فقلنا: ألا نستخصي؟ فنہانا عن ذٰلک … الخ۔ (صحیح البخاري، کتاب النکاح / باب ما یکرہ من التبتل والخِصاء ۲؍۷۵۹ رقم: ۵۰۷۵ دار الفکر بیروت)
قال الحافظ: نہي تحریم بلا خلاف في بني آدم۔ (فتح الباري، کتاب النکاح / باب ما یکرہ من التبتل والخصاء ۹؍۱۴۹۷ تحت رقم: ۵۰۷۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
في الفتاویٰ: إن خاف من الولد السوء في الحرۃ، یسعہ العزل بغیر رضاہا، لفساد الزمان، فلیعتبر مثلہ من الأعذار مسقطًا لإذنہا۔ (رد المحتار، کتاب النکاح / باب نکاح الرقیق، مطلب في حکم العزل ۳؍۱۷۶ کراچی، وکذا في المحیط البرہاني، کتاب الاستحسان / الفصل التاسع عشر في التداوي والمعالجات ۶؍۱۱۶ المکتبۃ الغفاریۃ کوئٹہ، وکذا في الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات ۵؍۳۵۶ زکریا)
قیل: ذٰلک لا یدل علی حرمۃ العزل؛ بل علی کراہتہ؛ إذ لیس في معنی الوأد الخفي؛ لأنہ لیس فیہ إزہاق الروح بل یشبہہ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب النکاح / باب المباشرۃ ۶؍۳۴۷ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۲؍۱۱؍۱۴۱۹ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
بیوی کے مرنے کے خوف سے نس بندی کرانا؟
سوال(۷۴۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک عورت ہے جس کے دو تین اولاد ہو چکی ہیں؛ لیکن خدشہ ہے کہ اگر چوتھی اولاد ہوگی تو وہ مرجائے گی، تو کیا وہ عورت اِس صورت میں نس بندی یا کوئی دوا استعمال کرسکتی ہے؟ جس سے حمل ساقط ہوجائے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں عارضی مانع حمل تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے؛ لیکن نس بندی کرانا جائز نہیں ہے۔
الحجۃ فیہ أنہم اتفقوا علی منع الجب والخصاء فیلحق بذلک ما في معناہ من التداوي بالقطع أصلاً۔ (فتح الباري شرح صحیح البخاري ۹؍۱۱ بیروت)
قال ابن وہبان: إباحۃ الإسقاط محمولۃ علی حالۃ العذر۔ (شامي ۴؍۳۳۶ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۶؍۱؍۱۴۲۷ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ