ZAKAT

Zakat On Platinum

Question: 

There is a lot of platinum in my country, and people call it “white gold.” Because of this they say that zakat is obligatory on it. Is this correct?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Ramatullāhi Wa-Barakātuh

Apart from gold and silver, no zakāh is due on precious metals merely on account of their intrinsic value if they are held for personal use and are not acquired for the purpose of trade. However, if such a metal is purchased with the intention of resale, it is regarded as trade merchandise according to the established principles of zakāh, and zakāh will be due on its value, subject to the applicable conditions of zakāh on merchandise.

Therefore, platinum is not subject to zakāh merely because it is a precious metal or because it is commonly called “white gold.” If, however, it is acquired for the purpose of trade, it will be treated as merchandise and zakāh will be due accordingly. [2]

And Allah Taʿāla Knows Best.

Baba Abu Bakr

Student Darul Iftaa

Accra, Ghana

Checked and Approved by

Mufti Muhammad Zakariyya Desai

[1]  الجوهرة النيرة على مختصر القدوري ١/‏١٢٣ — أبو بكر الحداد (ت ٨٠٠)

«وأما اليواقيت واللآلئ والجواهر فلا زكاة فيها، وإن كانت حليا إلا أن تكون للتجارة كذا في الجوهرة النيرة. ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة، ولو دخل من أرضه حنطة تبلغ قيمتها قيمة نصاب ونوى أن يمسكها أو يبيعها فأمسكها حولا لا تجب فيه الزكاة كذا في فتاوى قاضي خان.»

درر الحكام شرح غرر الأحكام ١/‏١٧٥ — منلا خسرو (ت ٨٨٥)

«(لا زكاة في اللآلئ والجواهر) كالعل والياقوت والزمرد وأمثالها كذا في الكافي (إلا أن يكون للتجارة) كذا في التتارخانية»

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ١/‏١٨٠ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)

«وأما اليواقيت واللآلئ والجواهر فلا زكاة فيها، وإن كانت حليا إلا أن تكون للتجارة كذا في الجوهرة النيرة.»

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ٢/‏٢٧٣ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)

«(لا زكاة في اللآلئ والجواهر) وإن ساوت ألفا اتفاقا (إلا أن تكون للتجارة) والأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة بشرط عدم المانع المؤدي إلى الثنى وشرط مقارنتها لعقد التجارة»

___________

(قوله والجواهر) كاللؤلؤ والياقوت والزمرد وأمثالها درر عن الكافي (قوله وإن ساوت ألفا) في نسخة ألوفا (قوله ما عدا الحجرين) هذا علم بالغلبة على الذهب والفضة ط

 


فتاوی قاسمیہ) 10 / 415(

ہیرے جواہرات کی زکوٰۃ
سوال:]۴۱۹۲[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ ہیرے جواہرات کی تجارت کی جاتی ہے، جولوگ ہیرے اور جواہرات کی تجارت کرتے ہیں، بظاہر مال تجارت ہونے کی وجہ سے ان پرزکوٰۃ واجب ہوگی ہی لیکن دوسرا سوال یہ ہے کہ جولوگ انکم ٹیکس اور دیگر سرکاری قوانین کی زد سے بچنے کیلئے نقد روپیوں یا سونے چاندی کی صورت میں اپنے سرمائے کو محفوظ کرنے کے بجائے ہیرے جواہرات لاکھوں روپئے کے خرید کر محفوظ کردیتے ہیں، ظاہر ہے کہ ہیرے جواہرات حوائج اصلیہ میں سے نہیں ہیں اور بڑی مالیت رکھتے ہیں، شرعاً ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی یانہیں ؟
بعض اوقات خواتین محض تزئین وآرائش کیلئے ہیرے جواہرات استعمال کرتی ہیں ان کا مقصد تمول نہیں ہوتا ہے ، وجوب زکوٰۃ کے بارے میں ان کا کیا حکم ہوگا؟
المستفتي:مجاہد الاسلام قاسمی، فقہ اسلامی ، پٹنہ ، بہار
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:ہیرے جواہرات اگر تجارت کیلئے ہیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے ، اور اگر تجارت کیلئے نہیں ہیں، بلکہ گھروں میںبرائے زینت یا کسی اور مقصد سے جمع کررکھا ہے تو ہیرے وجواہرات پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اسلئے کہ ہیرے جواہرات اگر چہ حوائج اصلیہ سے زائد ہیں لیکن وجوب زکوٰۃ کیلئے مال نامی ہونا بھی شرط ہے، اور ان میں نمو اور بڑھوتری کی شرط نہیں پائی جاتی ہے، اسلئے ہیرے جواہرات چاہے کتنے ہی مقدار میں ہوں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ہے ۔

Related Articles

Back to top button