In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Raḥmatullāhi Wa-Barakātuh
In principle, a nikāḥ must be concluded in the physical presence of at least two male witnesses. The offer (ījāb) and acceptance (qabūl) may be made directly by the bride and groom or by their authorised representatives. In the case under discussion, the husband and wife were in separate locations, and the offer and acceptance took place directly over a live video call. Although two witnesses were physically present with the husband and heard the exchange, no representative (wakīl) was appointed to conclude the contract in the presence of the required witnesses. Therefore, the nikāḥ was not validly concluded. [1]
Since the nikāḥ was not validly concluded, and there was no physical intimacy or a valid seclusion (khalwah ṣaḥīḥah), the subsequent declaration of ṭalāq does not take effect, nor are the rules of ʿiddah applicable, as both are consequences of a valid nikāḥ. [2]
That been said it is also essential to make sincere tawbah to Allah ﷻfor the above.
And Allah Taʿāla Knows Best.
Baba Abu Bakr
Student -Darul Iftaa
Accra, Ghana
Checked and Approved by
Mufti Muhammad Zakariyya Desai
[1] بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٢/٢٣٢ — الكاساني (ت ٥٨٧)
«(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح، بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول، أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس، لا ينعقد؛ لأن انعقاده عبارة عن ارتباط أحد الشطرين بالآخر، فكان القياس وجودهما في مكان واحد، إلا أن اعتبار ذلك يؤدي إلى سد باب العقود؛ فجعل المجلس جامعا للشطرين حكما مع تفرقهما حقيقة للضرورة، والضرورة تندفع عند اتحاد المجلس، فإذا اختلف تفرق الشطرين حقيقة وحكما فلا ينتظم الركن.»
فتح باب العناية بشرح النقاية ٢/٦ — الملا على القاري (ت ١٠١٤)
(ويصح) عقد النكاح (بلفظ نكاح) أو تزوج (وتزويج) أو إنكاح إجماعا، لأنها صريحة، واقتصر الشافعي في جوازه عليهما.
(وما) أي بلفظ (وضع لتمليك العين) كلها (حالا) كالتمليك، والهبة، والصدقة، والبيع، والشراء، لأنها سبب لملك المتعة في محل يقبلها بواسطة ملك الرقبة، فيكون من إطلاق السبب وإرادة المسبب لقوله صلى الله عليه وسلم «ملكتكها بما معك من القرآن» ، ولقوله تعالى: {وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي} ، ولأن رجلا وهب ابنته لعبيد الله بن الحق بشهادة شاهدين، فأجازه علي رضي الله عنه.
قيد الوضع بتمليك العين، لأن النكاح لا ينعقد بلفظ الإجارة، ولا بلفظ الإعارة على الصحيح. وقيد بالحال، لأن النكاح لا ينعقد بلفظ الوصية، لأنها لتمليك العين بعد الموت لا في الحال.
(وشرط سماع كل منهما) أي من العاقدين لفظ الآخر، لأن عدم سماع أحدهما لفظ الآخر بمنزلة غيبته (وحضور حرين، أو حر وحرتين) وبه قال مالك خلافا للشافعي، لأن عنده شهادة النساء في غير المال وتوابعه لا تقبل، وسيأتي بيان ذلك في الشهادة إن شاء الله تعالى. قال في المبسوط: واعتمادنا حديث عمر رضي الله عنه، حيث أجاز شهادة رجل وامرأتين في النكاح والفرقة.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ١/٢٦٩ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)
«(ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين وهذا قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - ولو أرسل إليها رسولا أو كتب إليها بذلك كتابا فقبلت بحضرة شاهدين سمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب؛ جاز لاتحاد المجلس من حيث المعنى وإن لم يسمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب لا يجوز عندهما.
وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجوز هكذا في البدائع، وإذا بلغها الكتاب وقرأته ولم تزوج نفسها منه في ذلك المجلس وإنما زوجت نفسها منه في مجلس آخر بين يدي الشهود وقد سمع الشهود كلامهما وما في الكتاب يجوز النكاح، كذا في الخلاصة ولو قالت: إن فلانا كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني قد زوجت نفسي منه صح النكاح؛ لأن الشهود سمعوا كلامهما بإيجاب العقد وسمعوا كلام الخاطب بإسماعها إياهم هكذا في الذخيرة ولو كتب الإيجاب والقبول لا ينعقد.»
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ٣/١٢ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)
«(قوله: ولا بكتابة حاضر) فلو كتب تزوجتك فكتبت قبلت لم ينعقد بحر والأظهر أن يقول فقالت قبلت إلخ إذ الكتابة من الطرفين بلا قول لا تكفي ولو في الغيبة، تأمل.
(قوله: بل غائب) الظاهر أن المراد به الغائب عن المجلس، وإن كان حاضرا في البلد»
کتاب النوازل ) 8 / 76(
فون پر نکاح کرنا ؟
سوال(۳۷):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کوئی شخص اپنا نکاح موبائل فون کے ذریعہ دوگواہوں کی موجودگی میں کرے، تواس آدمی کا نکاح درست ہوجائے گا یانہیں؟ دوگواہوں میں ایک گواہ تو لڑکی کی والدہ ہے اور دوسرا گواہ لڑکے کا دوست ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نکاح میں فون کے ذریعہ ایجاب وقبول معتبر نہیں ہے، نکاح اُسی وقت منعقد ہوتا ہے، جب کہ عاقدین اصالۃً یا وکالۃً ایک مجلس میں موجود
ہوں، اور اسی مجلس میں دوگواہوں (یا ایک مرد اور دو عورتوں) نے ایک ساتھ اُن کا ایجاب وقبول سنا ہو، اور مسئولہ صورت میں یہ شرائط نہیں پائی گئیں؛ اس لئے نکاح منعقد نہیں ہوگا؛ البتہ فون پر کسی کو وکیل بنادیا جائے اوروہ عاقد کی طرف سے حسبِ شرائط قبول یا ایجاب کرے، تو نکاح درست ہوجائے گا۔
فتاوی قاسمیہ )13 / 117(
کیا ٹیلی فون پر نکاح ہوجائے گا؟
سوال ]۵۴۰۹[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ ٹیلی فون پر نکاح ہوسکتا ہے یانہیں؟ گواہی اور ایجاب و قبول کی کیا صورت ہوگی؟ قاضی لڑکے کے پاس یا لڑکی کے پاس نکاح پڑھائے گا؟ جواب عالی سے نواز کر عنداﷲ ماجور ہوں۔
المستفتی: محمدانعام احمد ایٹہ
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ٹیلی فون پر نکاح ہوسکتاہے، اس کی شکل یہ ہے کہ جو شخص نکاح کرنا چاہتا ہے، وہ بذریعۂ ٹیلی فون یا دیگر ذرائع سے لڑکے والے لڑکی کے یہاں کسی کو وکیل بنادیں یا لڑکی والے لڑکے کے یہاں کسی کو وکیل بنادیں، پھر یہ وکیل دوگواہوں کے سامنے اپنے موکل کی طرف سے نکاح کا ایجاب یا قبول کر لے، اس کے بعد پھر اس نکاح کی اطلاع ٹیلی فون پر اپنے موکل کو کردے، تو اس طریقہ سے ٹیلی فون پر نکا ح ہوسکتاہے؛ لیکن ٹیلی فون پر اس طرح نکاح جائز نہیں ہے کہ ایک طر ف سے ایک کہے کہ میں تمہارے ساتھ نکاح کرتا ہوں اور دوسری طرف سے یہ کہے کہ میں قبول کرتی ہوں چاہے ٹیلی فون کی آواز متعدد لوگوں کو سنائی دیتی ہو؛ اس لئے کہ مجلس ایک نہیں ہے۔
دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند
کیا موبائل پر نکاح ہوسکتاہے ؟اگر یہ یقین بھی ہو کہ دونوں طرف لڑکی اور لڑکا ہیں تو کیا نکاح ہوگیا؟
سوال
کیا موبائل پر نکاح ہوسکتاہے ؟اگر یہ یقین بھی ہو کہ دونوں طرف لڑکی اور لڑکا ہیں تو کیا نکاح ہوگیا؟
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم فتوی(م): 423=423-3/1433
موبائل پر براہ راست نکاح کا ایجاب وقبول نہیں ہوسکتا کیونکہ صحت نکاح کے لیے اتحاد مجلس شرط ہے اور یہ شرط موبائل پر ایجاب وقبول کی صورت میں مفقود ہے، ہاں بذریعہ توکیل ہوسکتا ہے کہ فون سے کسی کو اپنا وکیل بنادے اور وہ مجلس عقد میں شرعی گواہوں کے سامنے اپنے موکل کی طرف سے ایجاب وقبول کرلے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
[2]شرح مختصر الطحاوي للجصاص ٥/١١٨ — أبو بكر الرازي الجصاص (ت ٣٧٠)
«مسألة: [الخلوة الصحيحة توجب المهر]
(والخلوة الصحيحة تمنع سقوط شيء من المهر بالطلاق قبل الدخول). وذلك لما بينا فيما سلف.
[موانع الخلوة]
فإن كان أحدهما محرما: لم تكن خلوة صحيحة؛ لأنه يصح معها التسليم، وإنما تكون الخلوة تسليما في الموضع الذي يصح معها التسليم.
وكذلك إذا كانا صائمين في شهر رمضان، أو أحدهما.
أو كانت رتقاء، وذلك لما بينا من امتناع وقوع التسليم معه، فصار كمن سلم الدار إلى المستأجر، وفيها غاصب يمنع السكنى، أو سلم السلعة إلى المشتري، وهناك حائل بينه وبينها من غاصب، أو غيره، وكذلك الرتقاء المنع من جهتها، فلا يكون تسليما.»
شرح مختصر الكرخي ٤/٢٦٧ — القدوري (ت ٤٢٨)
«وتوجب الخلوة الصحيحة العدة في النكاح الصحيح دون الفاسد؛ وذلك لأن الخلوة في النكاح الصحيح قائمة مقام الوطء في استقرار المهر، فكذلك في وجوب العدة، ولأن العدة أولى؛ لأنها تجب على وجه الاحتياط، والمهر لا يجب على وجه الاحتياط، فإذا وجب [المهر] بالخلوة فأولى أن تجب العدة، ولأن التسليم الموجب بالعقد قد حصل، فتجب به العدة كما تجب بالوطء، فأما النكاح الفاسد فالخلوة فيه ليست موجبة بالعقد، ألا ترى أنه لا يوجب التسليم، فكذلك لا يوجب العدة،»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٣/١٩١ — الكاساني (ت ٥٨٧)
«وشرط وجوبها الدخول أو ما يجري مجرى الدخول، وهو الخلوة الصحيحة في النكاح الصحيح دون الفاسد، فلا يجب بدون الدخول، والخلوة الصحيحة لقوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا إذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل أن تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها} [الأحزاب: 49] ؛ ولأن وجوبها بطريق استبراء الرحم على ما بينا، والحاجة إلى الاستبراء بعد الدخول لا قبله إلا أن الخلوة الصحيحة في النكاح الصحيح أقيمت مقام الدخول في وجوب العدة التي فيها حق الله تعالى؛ لأن حق الله تعالى يحتاط في إيجابه؛ ولأن التسليم بالواجب بالنكاح قد حصل بالخلوة الصحيحة فتجب به العدة كما تجب بالدخول بخلاف الخلوة في النكاح الفاسد؛ لأن الخلوة الصحيحة إنما أقيمت مقام الدخول في وجوب العدة مع أنها ليست بدخول حقيقة لكونها سببا مفضيا إليه فأقيمت مقامه احتياطا إقامة للسبب مقام المسبب فيما يحتاط فيه.»
البناية شرح الهداية ٥/١٤٧ — بدر الدين العيني (ت ٨٥٥)
«والخلوة الصحيحة قائمة مقام الدخول عندنا في تأكيد المهر، ووجوب العدة، وثبوت النسب، ونفقة العدة، والسكنى، وتزوج البنت، وتحريم الأمة على قول أبي حنيفة.»
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ١/٣٠٤ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)
«والخلوة الصحيحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حسا أو شرعا أو طبعا،»
كتاب النوازل (9/282)
خلوت کے بعد جماع سے پہلے دو طلاق دینا؟
سوال(۲۱۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: معراج نے نسرین سے دوسری شادی کی، نکاح کے بعد وہ اپنے گھر چلی گئی، یہ نکاح ہم دونوں نے چپکے سے گھر والوں کو اطلاع دئے بغیر کیا تھا، پھر میں نے نسرین کے گھر کئی دفعہ گیا اور تنہائی میں ایک کمرہ میں ملاقات ہوتی رہی، میں نسرین سے ہم بستر ہونا چاہتا تھا، تو وہ منع کردیتی تھی، وہ کہتی تھی کہ میں عزت سے جاؤںگی تو میں نے کہا کہ جب نکاح چپکے سے ہوا ہے تو عزت سے کیسے جاؤگی، پھر مجھے غصہ آگیا اور دو مرتبہ کہا کہ میں طلاق دیتا ہوں، تیسری مرتبہ کہنا چاہتا تھا کہ نسرین نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، تو شرعا کونسی طلاق ہوئی؟ اس طلاق کے بعد تقریبا چار یا پانچ مہینہ بعد نسرین پھر میرے گھر آگئی اور اب تک میرے ساتھ رہتی ہے، اور چار ماہ کا حمل بھی ہے، اب شرعا میرے لئے کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللٰہ التوفیق: سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے خلوت کے بعد جماع سے قبل اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی ہیں، اب اگر عدت تین ماہواری کے اندر رجعت پائی گئی، یعنی آپ دونوں کا ملنا جلنا برقرار رہا، تو نکاح باقی ہے، اور اگر طلاق کے بعد عدت گذر گئی، اس کے بعد اس سے آپ کا ملنا جلنا ہوا ہے، تو یہ تعلق حرام ہوا، اب اگر چاہیں تو اس سے دوبارہ نکاح کرلیں، ورنہ مسلسل گنہگار ہوںگے۔