12 Jumaadal Oola 1448 AH | ١٢ جمادى الأولى ١٤٤٨ هـ | Friday, 23 October 2026

The Relationship Between the Deceased and Their Living Relatives

12 Jumaadal Oola 1448 | 23 October 2026

Question

Please explain this fatwa of Mufti Mahmood Sahib Rahimahullah, as we learnt that our A'maal is closed upon death, so how can the dead make dua for us perhaps there is an explanation for this:

(Fatawa Mahmodiyya V.3,P. 358/359)
Question: Do the deceased maintain any relationship with their parents after their demise?
Answer: Yes, there remains a relationship between the living and deceased in this manner that the deceased are informed of their actions. If they carry out good actions the deceased are pleased, and if they engage in any evil then they are grieved, and the souls (of the deceased) then make Dua for the Reformation of these people. This relationship of the deceased is not only restricted to their parents rather it is with all their relatives and acquaintances.

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

When a person dies, their deeds come to an end, as mentioned in the Hadith.[1] This refers to the deeds they can perform to earn reward in this world (Dunya).[2] Making Dua while in Barzakh is a separate matter, and the deceased does not earn reward for it. Therefore, there is no contradiction.[3]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek

Student Darul Iftaa
Port-louis, Mauritius

Checked and Approved by,

Mufti Muhammad Zakariyya Desai.


[1] «صحيح مسلم» (3/ 1255 ت عبد الباقي):

3 - باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته

14 - (1631) حدثنا يحيى بن أيوب وقتيبة (يعني ابن سعيد) وابن حجر. قالوا: حدثنا إسماعيل (هو ابن جعفر) عن العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة؛

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال (إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة: إلا من صدقة جارية. أو علم ينتفع به. أو ولد صالح يدعو له).

[2] «مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح» (1/ 285):

203 - (وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله) أي: أعماله بدليل الاستثناء، والمراد فائدة عمله لانقطاع عمله يعني لا يصل إليه أجر وثواب من شيء من عمله

[3] فتاوى محمودية لمحمود حسن گنگوهی بترتيب جديد  ط  مكتبةمحمودية (3/358)

میت کا تعلق زندوں سی

سوال: مرنے والے کو مرنے کے بعد اپنے ماں باپ سے کوئی تعلق رہتا ہے؟

جواب: رہتا ہے، اس طرح کہ میت کو ان کے اعمال کی اطلاع دی جاتی ہے، اگر اچھے اعمال  ہیں تو میت کی روح کو خوشی ہوتی ہے، اگر برے اعمال ہیں تو رنج ہوتا ہے، اور وہ روح ان کی اصلاح کی دعا کرتی ہے اور یہ تعلق ماں باپ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جمیع اقرباء ومتعارفین سے رہتا ہے۔

عن انس قال قال رسول الله صلى الله عليه على وسلم ان اعمال لكم تعرض على اقاربكم وعشائركم من الاموات فان خيراً استبشروا وان كان غير ذالك قالوا اللهم لا تمتهم حتى تهديهم كما هديتنا .

مجمع الزوائد ص ۳/۷۳، کتاب الجنائز، باب عرض اعمال الاحياء على الاموات، دار الفكر بيروت، الرقم للحديث : ۳۹۳۳. شرح الصدور ص ۱۰۵ - ۱۰۴ ، باب عرض اعمال الاحياء على الاموات، مسند احمد ص ۳/۶۴۳، رقم الحديث ص ۱۲۲۷۲ ، دار احياء التراث العربي بيروت.

ترجمه: حضرت انس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ تمہارے اعمال تمہارے مرے ہوئے رشتہ داروں پر پیش ہوتے ہیں اگر وہ اعمال بہتر ہوتے ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر اعمال اسکے الله علاوہ ہیں تو کہتے ہیں تو انکو موت نہ دے یہاں تک کہ تو انکو ہدایت دے جیسا کہ تو نے ہمیں ہدایت دیا۔

نجم الفتاوی حضرت شیخ الحدیث مفتی سید نجم الحسن ط شعبه نشر و اشاعت جامعه دارالعلوم یاسین القرآن نارتھ کراچی (1/430)

(۴۶۶) مرحومین کو زندہ لوگوں کے اعمال کی وجہ سے افسوس ہوتا ہے
سؤال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس طرح ہمیں مرحومین کے جدا ہوجانے کاافسوس ہوتا ہے کیا انہیں بھی ایسے ہی افسوس ہوتا ہے ؟ہم  افسوس کے بعد ان کے لئے ایصال ثواب کرتے ہیں،کیا وہ بھی ہمارے صبر کیلئے کچھ کرتے ہیں؟مرحومین کے نہ ہونے پر ہم ان کی خدمت سے محروم  ہو کر تکلیف اٹھاتے ہیںکیا مرحومین کو اس کا غم وافسوس ہوتاہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
مرحومین کی روحوں کو زندہ لوگوں کے اعمال کی وجہ سے افسوس ہوتا ہے،یعنی اگر زندہ رشتہ داروں کے اعمال اچھے ہوں تو وہ خوشی سے اللہ تعالی کی حمد وثناء کرتے ہیںاور اگر زندوں کے اعمال اچھے نہ ہوں تو اس پر غمزدہ ہوتے ہیں،اور مردوں کے اعمال کا سلسلہ چونکہ منقطع ہوجاتا ہے لہذاایصال ثواب کے بدلے مرحومین کی طرف سے کچھ نہیں ملتا البتہ اللہ تعالی کی طرف سے ایصال ثواب کرنے والوں کو اجر ملتاہے۔

لما في كنز العمال (١٥/٦٨٤): إن نفس المؤمن إذا قُبِضَتْ تَلَقَّاها من أهل الرحمة من عباد الله كما يَلْقَوْنَ البشيرَ … وإن أعمالكم تُعْرَضُ على أقاربكم وعشائركم من أهل الآخرة، فإن كان خيرًا فرحوا واستبشروا، وقالوا: اللهم هذا فضلك ورحمتك، فأتمَّ نعمتك عليه، وأمِتْه عليها. ويُعْرَضُ عليهم عملُ المُسيءِ، فيقولون: اللهم ألهمه عملًا صالحًا، ترضى به عنه، وتُقَرِّبُه إليك.

وفيه أيضًا (١٥/٩٥٣): أربعةٌ من عمل الأحياء … مثلُ أجرِ من عمل به، غيرَ أنَّه لا ينقص من أجرِ من عمل به شيءٌ.

جامعہ دار التقویٰ

کیا فوت شدہ رشتہ دار زندہ رشتہ داروں کے اعمال کو جانتے ہیں ؟

استفتاء

(1)     کیا فوت ہوگئے رشتہ دار اپنے زندہ رشتہ داروں کے عمل کو جانتے ہیں ؟

(2)    بعض روایات میں آتا ہے کہ والدین وغیرہ پر ان کے مرنے کے بعد اپنی اولاد کے اعمال جمعہ کے دن پیش ہوتے ہیں اور وہ نیک اعمال دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔کیا یہ بات درست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)     فوت ہونے والے رشتہ دار از خود اپنے زندہ رشتہ داروں کے عمل کو نہیں جانتے ، البتہ بعض روایات میں آتا ہےکہ ان کے سامنے زندہ رشتہ داروں کے اعمال پیش کئے جاتےہیں۔

(2)     مذکورہ بات درست ہے ۔

چنانچہ مسند ابو داؤد طیالیسی (1/474) میں ہے 

عن الحسن ، عن جابر بن عبد الله ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « إن أعمالكم تعرض على عشائركم وأقربائكم في قبورهم ، فإن كان خيرا استبشروا به ، وإن كان غير ذلك قالوا : اللهم ألهمهم أن يعملوا بطاعتك

الجامع الصغیر فی احادیث البشیر و النذیر (للامام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطیؒ) میں ہے 

تعرض الأعمال يوم الاثنين و الخميس على الله تعالى و تعرض على الأنبياء و على الآباء و الأمهات يوم الجمعة فيفرحون بحسناتهم و تزداد وجوههم بياضا و إشراقا فاتقوا الله و لا تؤذوا موتاكم

رواه الحكيم الترمذی عن والد عبدالعزيز (ح) .

ترجمہ  : ہر پیر اور جمعرات کو اللہ تعالی کے حضور اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام اور والدین پر جمعہ کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور ان کے چہرے مزید روشن اور سفید ہوجاتے ہیں ۔لہذا اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنے فوت شدگان کو ایذا مت دو ۔

مذکورہ حدیث کے متعلق  شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ  لکھتے ہیں

قلت: رواية الحکیم الترمذی عن والد عبدالعزیز ذکرها السیوطی فی الجامع و رقم عليه بالحسن۔ (اوجز المسالک، باب حسن الخلق ج 14 ص 191 رقم الحدیث 2874)۔ فقط واللہ تعالی اعلم

https://hadithanswers.com/a-narration-regarding-the-presentation-of-our-deeds-to-the-deceased/

https://hadithanswers.com/our-sins-affecting-the-deceased/

This answer is based specifically on the question asked and should be read together with the question. Read our full disclaimer.

↑