Giving Sadaqah from a Non-Baligh’s Wealth
Question:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
Is it permissible for parents to give Sadaqah from a non-baligh childs money?
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Raḥmatullāhi Wa-Barakātuh
Giving ṣadaqah from wealth belonging to a minor is not permissible. This applies regardless of whether the child gives the ṣadaqah with the permission of his parents or guardians, or whether the parents or guardians themselves give it from the child’s wealth. [1]
And Allah Taʿāla Knows Best.
Baba Abu Bakr
Student –Darul Iftaa
Accra, Ghana
Checked and Approved by
Mufti Muhammad Zakariyya Desai
[1] شرح مختصر الكرخي ٦/٣٦٣ — القدوري (ت ٤٢٨)
والصدقة بها تطوع، وذلك لا يجوز في مال الصغير،
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري ٢/١٨٧ — أبو بكر الحداد (ت ٨٠٠)
«والصدقة بعدها تطوع فلا يجوز ذلك في مال الصغير………»
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار ١/٦١١ — علاء الدين الحصكفي (ت ١٠٨٨)
«(وتصرف الصبي والمعتوه) الذي يعقل البيع والشراء (إن كان نافعا) محضا (كالاسلام والاتهاب صح بلا إذن وإن ضارا كالطلاق والعتاق) والصدقة والقرض (لا وإن أذن به وليهما، وما تردد) من العقود (بين نفع وضرر كالبيع والشراء توقف على الاذن) حتى لو بلغ فأجازه نفذ»
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ٥/٣٤٤ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)
«وإن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا إذا كانت الورثة بالغين، فإن كان في الورثة صغير لم يتخذوا ذلك من التركة،»
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ٦/١٧٣ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)
«(قوله والاتهاب) أي قبول الهبة وقبضها وكذا الصدقة قهستاني (قوله وإن ضارا) أي من كل وجه أي ضررا دنيويا، وإن كان فيه نفع أخروي كالصدقة والقرض (قوله كالطلاق والعتاق) ولو على مال فإنهما وضعا لإزالة الملك وهي ضرر محض، ولا يضر سقوط النفقة بالأول وحصول الثواب بالثاني، وغير ذلك مما لم يوضعا له إذ الاعتبار للوضع وكذا الهبة والصدقة وغيرهما قهستاني (قوله لا وإن أذن به وليهما) لاشتراط الأهلية الكاملة،»
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر : 144110201303
نابالغ بچے کے مال سے متعلق سوالات
سوال
اگر نابالغ یا بالغ بچہ اپنی مرضی سے اپنی چیز کسی کو دے تو کیا جائز ہے؟ اگر ماں باپ بچے سے پوچھ کر اس کی چیز کھا لیں یا دوسروں کو دیں تو کیا کوئی حرج ہے؟ کیا ماں باپ بچے کی رضامندی سے کوئی اس کی ملکیت چیز کسی کو دے سکتے ہیں یا ایسا کرنے پر بھی کچھ اسے دینا ہوگا؟ کیا جو چیز بچے کی ملکیت میں ہے، اس سے کوئی دوسرا وقت کے لیے بھی استعمال نہیں کر سکتا یا اس کے سامان سے کوئی بھی نہیں کھیل سکتا؟ کیا جو چیزیں اب بچے کے استعمال کی نہیں رہیں وہ بغیر پوچھے ماں باپ کسی کو دے سکتے؟
جواب
1- نابالغ بچہ یا بچی اگر اپنی مملوکہ چیز کسی کو دیں تو اس کے لیے وہ چیز لینا درست نہیں ہے، خواہ بچہ یا بچی اپنی رضامندی سے دے، البتہ اگر بچے یا بچی کے والد بچوں کی تربیت کے لیے اپنی طرف سے کچھ رقم یا کوئی چیز بچے کو دے کہ یہ چیز فلاں (مثلاً: استاذ یا استانی) کو دے دیں، تو دوسرے شخص کو وہ چیز لینے کی اجازت ہوگی۔
2- نا بالغ بچے کو تحفے میں ملی ہوئی چیزوں (کھلونے، کپڑے وغیرہ) اور اسی طرح نا بالغ بچے کو ہدیہ میں ملی ہوئی رقم اور اس سے خریدی ہوئی چیز (الماری، کپڑے، کھلونے وغیرہ) کو کوئی دوسرا (اس کے اپنے بہن بھائی یا کوئی اور بچہ یا کوئی بڑا) استعمال نہیں کر سکتا ہے، کیوں کہ یہ اشیاء بچے کی ملکیت ہیں اور جو اشیاء بچے کی ملکیتی ہوں والدین کے لیے وہ چیزیں کسی اور کو دینا جائز نہیں ہے۔
3- البتہ اگر کپڑے والدین نے بچوں کو بناکر دیے ہوں یا جوتے وغیرہ والدین نے لیے ہوں اور والدین نے ان کو مالک نہیں بنایا، بلکہ دیتے ہوئے بطورِ استعمال دینے کی نیت ہو، یعنی ابھی یہ بچہ استعمال کرے گا، اور چھوٹے ہونے پر اس کے چھوٹے بہن بھائی استعمال کریں گے، تو دوسرے بہن بھائیوں یا کسی اور بچے کو یہ کپڑے یا جوتے وغیرہ دیے جاسکتے ہیں۔
4- اور اگر کسی اور نے وہ کپڑے بچے کو تحفے میں دیے ہیں اور موسم کے ناموافق ہونے یا کسی اور وجہ سے بچے کے استعمال میں نہیں آسکے اور نہ وہ کپڑے بعد میں بچے کے کام آسکتے ہیں تو ایسی صورت میں والدین یہ کپڑے کسی اور کو دے دیں اور اس کے عوض بچوں کو ان کے مناسب کوئی کپڑا بنا کردے دیں، یا اس کی قیمت ان بچوں کی دیگر اشیاء میں صرف کریں۔
5- نیز نابالغ بچوں کے مال سے خریدی گئی چیز ان سے خرید کر اپنی ملکیت بنا نے کے بعد دوسرے بچوں کے استعمال میں لا نا یا بیچ دینا درست ہے۔
6- اگر بچوں کی ملکیت کی کوئی چیز آپ آگے دے چکے ہوں تو اس کے عوض اور بدلہ میں ان بچوں کو اسی چیز کی قیمت کے برابر کوئی دوسری چیز خرید کر دے دیں۔
7- کھانے پینے کی کوئی چیز بچے کو کوئی ہدیہ دے یا بچہ اپنی رقم سے خریدے تو اس کے والدین اور بھائیوں کو اس میں سے کھانے کی اجازت نہیں ہے،اگر اس چیز کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو قیمت دے کر کھالے یا کسی اور کو دے دے، یا یہ صورت اختیار کی جائےکہ ابھی اس چیز کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے یا بچے کی یہ تربیت کرنے کے لیے کہ وہ تنہا نہ کھائے، بلکہ سب کو کھلایا بھی کرےتو اس کے ساتھ کھالے یا دوسرے بچوں کو ساتھ کھلادے، اور جب بعد میں بچے کو کوئی چیز یا رقم دے تو اس میں اس استعمال کردہ چیز کے عوض کی نیت کرلے تو اس سے بچے کی تربیت بھی ہوجائے گی اور نابالغ کے مال میں تصرف کا اشکال بھی نہیں ہوگا۔
8- اگر والدین اس چیز کو بچے کے لیے نقصان دہ سمجھیں تو ان کو اس کی اجازت ہے کہ وہ بچے کو وہ چیز استعمال کرنے یا کھانے کے لیے نہ دیں، اور اپنی طرف سے بعد میں کوئی چیز دیتے ہوئے اس کے بدل کی نیت کرلیں ۔فقط واللہ اعلم