1 Jumaadal Oola 1448 AH | ١ جمادى الأولى ١٤٤٨ هـ | Monday, 12 October 2026

How many saffs must there be for a janaaza?

1 Jumaadal Oola 1448 | 12 October 2026

Question

Assalamualaykum Respected mufti saheb
How many saffs must there be for a janaaza? Must there be 3 staffs or an odd amount of saffs?
Please advice

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Raḥmatullāhi Wa-Barakātuh

In principle, there is no fixed number of rows (ṣufūf) required for the validity of Ṣalātul Janāzah. However, it is preferable to form three rows, where possible. Having exactly three rows or an odd number of rows is not a condition for the validity of Ṣalātul Janāzah. If three rows cannot be formed, the Ṣalāh should proceed with the number of rows possible and remains valid.

And Allah Taʿāla Knows Best.  [1]

Baba Abu Bakr

Student Darul Iftaa

Accra, Ghana

Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek

Student Darul Iftaa
Port-louis, Mauritius

Checked and Approved by

Mufti Muhammad Zakariyya Desai


 [1]  النتف في الفتاوى للسغدي ١/‏١٢٥ — السغدي (ت ٤٦١)

«فأما القوم إذا قاموا على الجنازة ينبغي ان يقوموا ثلاثة صفوف وان قلوا لان ذلك أفضل وقد جاءت الاثار بذلك وان قاموا بخلاف ذلك جاز»

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ١/‏١٨٣ — داماد أفندي عبد الرحمن شيخي زاده (ت ١٠٧٨)

(ولا يصلي) أي لا يجوز أن يصلي (غير الولي) الأحق (بعد صلاته) أي الولي الأحق لأن الفرض تؤدى بالأولى والتنفل بها غير مشروع خلافا للشافعي واعلم أن الأفضل أن تكون الصفوف ثلاثة لقوله عليه الصلاة والسلام «من اصطف عليه ثلاثة صفوف من المسلمين غفر له» وأفضلها في الجنازة الصف الأخير.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ١/‏١٦٤ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)

«إذا كان القوم سبعة قاموا ثلاثة صفوف يتقدم واحد وثلاثة بعده واثنان بعدهم وواحد بعدهما، كذا في التتارخانية.»

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ٢/‏٢١٤ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)

«قال في المحيط: ويستحب أن يصف ثلاثة صفوف، حتى لو كانوا سبعة يتقدم أحدهم للإمامة، ويقف وراءه ثلاثة ثم اثنان ثم واحد. اهـ. فلو كان الصف الأول أفضل في الجنازة أيضا لكان الأفضل جعلهم صفا واحدا ولكره قيام الواحد وحده كما كره في غيرها، هذا ما ظهر لي»

فتاوی دار العلوم زکریا(808/2)

نماز ِ جنازہ کی صفوف میں طاق عدد کا استحباب:

سوال

نمازِ جنازہ کی صفوف میں طاق عدد کا خیال رکھنا مستحب ہے تو کیا طاق عدد کی رعایت کرتے ہوے اگلی صف کو ناقص چھوڑ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

احادیث اور کتبِ فقہ سے ۳ عدد کا استحباب و اہتمام ثابت ہوتا ہے اگر چہ لوگ کم ہوں تین صفوف بنا لی جائے، اور اگر لوگ زیادہ ہیں تو ۵، ۷ وغیرہ طاق عدد میں بنا لی جائے، اور اگر ٤ صف بنتی ہو تو چوتھی کو ناقص رکھ کر پانچویں نہ بنائے کیوں کہ استحباب و فضیلت تین میں حاصل ہو گئی ۔

فتاوی قاسمیہ ) 9 /617(

نماز جنازہ کی صفوف میں طاق عدد کا حکم
سوال ]۳۸۱۶[:  کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں:  کہ نماز جنازہ کی صفوں میں طاق عدد کا اس درجہ اہتمام کرناکہ صفیں مکمل ہونے کے بعد، نماز شروع کرنے سے قبل یہ معلوم ہونے پر کہ صفوں کی تعداد طاق نہیں، ہر صف سے کچھ آدمیوں کو لے کر ایک صف اور بنائی جائے تاکہ صفوں کی تعداد طاق ہی رہے ، کیا نماز جنازہ میں صفوں کی تعداد میں عدد طاق کا لحاظ رکھنا مستحب سنت یا اولویت کا درجہ رکھتا ہے اور پھر اتنا لحاظ کیوں؟
المستفتی: مفتی شباہت علی، سہس پور، بجنور    
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:  نماز جنازہ میں صفوں کی تعدا د تین سے کم نہ ہونی چاہئے؛ لہٰذا مقتدی اگر صرف پانچ ہیں،تو پہلی صف میں دو اور دوسری صف میں دو اور تیسری صف میں ایک کردیا جائے تاکہ تین صفوں کی فضیلت حاصل ہوجائے، باقی تین سے زائد صفوں میں طاق عدد کی صراحت نہیں ملی؛ لہٰذا اگر مقتدیوں کی تعداد کم ہو تو تین صفوں کا اہتمام کرلینا چاہئے اور اگر مقتدی زیادہ ہیں تو تین سے زائد صفوں میں طاق عد کا لحاظ ضروری نہیں ہے، کبھی لحاظ کرلیا جائے تو اس پر نکیرکی بھی ضرورت نہیں۔

This answer is based specifically on the question asked and should be read together with the question. Read our full disclaimer.

↑