CHILDRENEducationImportant Topics

Using Models/ Props to Teach Children Practical Hajj

Question:

Can students learn how to perform hajj practically by using a big box to explain the tawaaf etc. They will have to walk around the box and basically do a the entire  Hajj by walking around the box etc and using other objects as the mountains of Safa and Marwa

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

If boxes or other props are used without making them resemble the actual Ka‘bah (e.g., draping a black cloth over them), then it is permissible.

However, this should not be done in a public setting so as not to give onlookers the wrong impression.[1]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Azhar Mownah

Student Darul Iftaa
Mauritius

Checked and Approved by,

Mufti Muhammad Zakariyya Desai.


[1]

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر المؤلف: أحمد بن محمد مكي، أبو العباس، شهاب الدين الحسيني الحموي الحنفي (ت 1098هـ) الناشر: دار الكتب العلمية (1/ 97):

‌الأمور ‌بمقاصدها.

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

طواف سیکھنے کے لئے بیت اللہ کی شبیہ ینا نا کیسا ہے؟

سوال: بیت اللہ کی شبیہ بنا کر اس پر طواف کا طریقہ سکھانا کیسا ہے؟

جواب: کعبہ  کا ماڈل بنانے میں چوں کہ یہ اندیشہ ہے  کہ عوام ان کی حدود کا خیال نہیں رکھیں گے ، مزید یہ کہ کعبہ کے ماڈل کے طواف کو فی نفسہ عبادت سمجھا   جانے لگے گا جیسا کہ مشاہدہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نعلین کے نقش  کی  تعظیم میں غلو کیا جاتا ہے اورجائز حدود سے حد درجہ تجاوز کیا جا تا ہے ، نیز ایسے ماڈل بنانے کی کوئی   ضرورت بھی نہیں ہے، کیوں کہ طواف کا طریقہ ماڈل کے بغیر بھی سکھایا جا سکتا ہے، جیسا  کہ  حج کیمپوں میں طواف  کا طریقہ ماڈل کے بغیر ہی  عوام کو اچھی طرح سکھایا جاتا  ہے، لہٰذا ان مذکورہ مفاسد کی بنا پر طواف سکھانے کے لیے کعبہ کا ماڈل بنانا درست نہیں ہے۔

عوام کے اسی غلو اور تجاوز کی وجہ سے حضرت حکیم الامت اشرف علی تھانوی قدس سرہ  نے اپنے رسالے “نیل الشفاء بنعل المصطفیٰ”( جس میں نعلین مبارک سے تبرک کا حصول بیان کیا گیا ہے)  سے رجوع فرما لیا تھا،   کیوں کہ   رسالہ نیل الشفا سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ نقشہ نعل شریف سے استبراک و توسل کی مسلمانوں کو تلقین و ترغیب اور نقشہ کی تشہیر و اشاعت کی تحریض  و ترغیب مقصود ہے،  اس کے بعد حضرت نے عوام کے تجاوز عن الحد اور غلو کو مد نظر رکھ کر استبراک و توسل کی ترغیب اور تشہیر و اشاعت کی تلقین سے رجوع فرما لیا تھا۔

مزید تفصیل کے لیے  امداد الفتاویٰ  ، مطبوعہ  مکتبہ دار العلوم کراچی ، جلد 4، ص:374-379 اور ص:533-536 ملاحظہ کیجیے۔

سنن الترمذی  میں  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:

“عن حسن بن علي قال: حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌(دع ‌ما ‌يريبك إلى ما لا يريبك).”(أبواب صفة القيامة والرقائق والورع، باب (60)، ج:4، ص: 249، رقم: 2518، ط: دار الغرب)

ترجمہ:” حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان یاد کیا ہے کہ اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے۔”

کفایت المفتی میں حضرت حکیم الامت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا مفتی اعظم کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ کو  نعلین شریف کے مسئلہ سے متعلق جوابی خط مذکورہے جس میں زیرِ بحث مسئلہ سے متعلق بھی رہ نمائی و اصولی ہدایت مل جاتی ہے:

“ارشاد نامه حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب مد ظلهم بجواب مکتوب مفتی محمد کفایت اللہ صاحب دامت فیوضہم

تصحيح الجواب وتثوثيقه من الاحقر الافقر اشرف على عفى عنه

بعد الحمد والصلوۃ احقر نے دونوں جواب پڑھے جو بالکل حق ہیں اور صحت معنی کے ساتھ اسلوب  کلام میں ادب کی رعایت خاص طور پر قابل داد ہے، جس کی ایسے نازک مسائل میں سخت ضرورت ہے، اب ان کے مضامین کے متعلق بغرض توضیح بعض ضروری معروضات پیش کرتا ہوں:

نمبر ا: بدلائل ثابت ہو چکا کہ یہ اعمال شرعیہ نہیں اور ایسے اعمال کے لیے جن کا منشاحب و شوق طبعی دادب ہو مستقل دلیل کی حاجت نہیں، خلاف دلیل نہ ہونا کافی ہے۔” كما قال عثمان ولا مست ذکری بیمینی منذ بايعت رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم .”(رواه ابن ماجة)،  ظاہر ہے کہ یہ رعایت بنابر حکم شرعی نہیں ورنہ ثوب نجس کا دلک یا عصر بھی یمین سے جائز نہ ہو تا۔

نمبر ۲۔ جب ان اعمال کی بنا ادب و حب و شوق طبعی ہے اور بعض اوقات صرف تشاکل و تشابہ بھی منشا ان جذبات کا ہو جاتا ہے تو وہاں بھی اجازت دی جائے گی ۔” كما في فتاوى العلامة محمد الحى صفحه ۳۲۲- نقل عياض عن احمد بن فضلويه الزاهد الغازى قوله ما مسست القوس بيدى الا على طهارة منذ بلغنى ان رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اخذ القوس بیدہ”  ظاہر ہے کہ مبنی اس کا بجز دونوں قوس کے تشابہ کے اور کیا تھا؟ پھر تشابہ و تشاکل عام ہے،  ناقص ہو یا تام اور کسی عین کا ہو یا تمثال کا،  چناں چہحضرت مولانا گنگوہیؒ نے تصویر روضہ منورہ و نقشہ مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ واقعہ دلائل الخیرات کے باب میں جواب دیا ہے کہ “بوسہ دادن و چشم مالیدن بر یں نقشہ ہا ثابت نیست، و اگر از غایت شوق سر زد ملامت و عتاب ہم بر جا نباشد اه”( من الفتاوی الامدادیہ، جلد ثالث،ص:۱۴۰)،  اور نعل شریف کی تمثال اگر پوری کی مطابق بھی نہ ہو مگر کسی درجہ میں تو مشابہ ضرور ہے جیسا روضہ شریفہ کا نقشہ واقعہ ولائل الخیرات۔ پس غایت مافی الباب تطابق نام کا دعوی و اعتقاد نا جائز و محتاج نقل صحیح ہو گا، باقی مطلق تشابہ تو احادیث سے ثابت ہے۔

نمبر ۳۔ ایسے احکام حبیہ شوقیہ میں تعدیہ نہیں ہوتا اس لیے ضروری نہیں کہ فعل مبارک کے تمثال کے ساتھ کوئی معاملہ کرنا مستلزم ہو،  دوسرے تبرکات کے تماثیل کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرنے کو

” كما قال بعض العشاق:

أمر على الديار ديارليلی         أقبل ذا الجدار وذا الجدارا

وما حب الديار شغفن قلبي    ولكن حب من سكن الديارا

ولم يقل أقبل ذى الثمار وذى الثمارا”

اور مثلاً مستعمل طاہر جو تہ پہن کر نہ جانا جس کی بناء محض ادب طبعی عرفی ہے اس کو مستلزم نہیں کہ جرابیں پہن کر بھی جانا مساجد میں قیا سا خلاف ادب سمجھا جاوے،  اور مثلاً  تقبیلِ تمثالِ روضۂ شریفہ کا جواز (مذکور نمبر ۲) اس کو مستلزم نہیں کہ اصل قبر شریف کی تقبیل کی اجازت دی جائے بلکہ اس کا مدار اہل ادب کے ذوق و عادت پر ہے، باقی تمثال نعل شریف کی تخصیص اول تو بو جۂ ذوقی کےمحل سوال نہیں،  لیکن ممکن ہے کہ داعی اس تخصیصِ عادی کا طالب کا اپنے لیے غایت تذلیل اختیار کرنا ہو کہ اس سے زیادہ درجہ کی چیزوں تک میری کہاں رسائی ہوتی…

نمبر ۴- یہ سب تفصیل حکم فی نفسہ کی ہے، ورنہ جہاں احتمال غالب مفاسد کا ہو وہاں نقشہ تو کیا خود اصل تبرکات کا انعدام بھی بشرط عدم اہانت و بشرط عدم لزوم ابقا مطلوب و مامور بہ ہو گا جیسا حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کا قصہ قطع شجرہ کا منقول ہے ۔کتاب السلوک و الطریقۃ، فصل سوم: توسل،ج:2،ص:93-94، ط: دار الاشاعت

فقط والله اعلم

فتوی نمبر : 144311101129

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

طواف سیکھنے سِکھانے کے لیے بیت اللہ شریف کا ماڈل (شبیہ/نمونہ) بنانا جائز نہیں ہے

سوال: آج کل حج و عمرہ کا طریقہ سیکھنے کے لیے مختلف کلاسیں اور ورکشاپ ہوتی ہیں، لیکن ایک نئی چیز دیکھنے کو مل رہی ہے کہ ان کلاسوں  میں طواف سکھانے کے لیے بیت اللہ شریف کا ماڈل بنایا جاتا ہے اور پھر طواف کرنا سکھاتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟

جواب: واضح رہے کہ بیت اللہ شریف کو اللہ رب العزت نے روئے زمین پر اپنا قبلہ قرار دیا ہے، جس کی وجہ سے اسے خاص شرف حاصل ہے، جس کے سبب بیت اللہ شریف کا ماڈل/نمونہ بناکر اس کو کسی اور مقصد کے لیےاستعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، اگرچہ بیت اللہ شریف کے ماڈل کو کعبۃ اللہ/قبلہ کا درجہ حاصل نہیں ہوتا، تاہم   بیت اللہ شریف کا ماڈل بنانے میں یہ اندیشہ ہے  کہ عوام ان کی حدود کا خیال نہیں رکھیں گے ، مزید یہ کہ بیت اللہ شریف کے ماڈل کے طواف کو فی نفسہ عبادت سمجھا   جانے لگے گا، جیسا کہ مشاہدہ بھی ہورہا ہے، لہٰذا ایسے ماڈل بنانے کی کوئی   ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ طواف کا طریقہ ماڈل کے بغیر بھی سکھایا جا سکتا ہے، جیسا  کہ  حج کیمپوں میں طواف  کا طریقہ ماڈل کے بغیر ہی  عوام کو اچھی طرح سکھایا جاتا  ہے؛  ان مذکورہ مفاسد کی بنا پر طواف سکھانے کے لیے بیت اللہ شریف کا ماڈل بنانا درست نہیں ہے۔

لہٰذا بعینہ ماڈل بنانے سے احتراز کیا جائے، البتہ یہ کیا جاسکتا ہےکہ کوئی مربّع چیز بنائی جائے اس پر بیت اللہ کی طرح کالا پردہ نہ ڈالا جائے، اُس سے طواف کہاں سے شروع کرنا اور کہاں ختم کرنا ہے بتایا جائے تو اس کی گنجائش ہوگی۔فقط واللہ اعلم

Related Articles

Back to top button