Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
Firstly, it should be understood that taking or paying interest is prohibited in Islam. Therefore, entering into an interest-based mortgage is impermissible, and one should sincerely repent and make every reasonable effort to settle and exit the interest-bearing arrangement as soon as possible.[1] (You may consult Mufti Abrar Mirza of Darul Iftaa Chicago[1] or Mufti Mirza Zain Baig of Canadian Centre for Islamic Research and Iftaa[2] regarding a Halaal alternative that may help you exit the interest-based mortgage.)
Furthermore, the surplus amount included in the NSF lump sum payment (obligatory pension fund) paid under the name of interest is not considered interest. Therefore, the entire amount received is permissible.[2]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa
Port-louis, Mauritius
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] «الأصل» لمحمد بن الحسن (2/ 370): كتاب البيوع والسلم
أحمد بن حفص قال: أخبرنا محمد بن الحسن قال: حدثنا أبو حنيفة عن عطية العوفي عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "الذهب بالذهب مثل بمثل يد بيد، والفضل ربا. والفضة بالفضة مثل بمثل يد بيد، والفضل ربا. والحنطة بالحنطة مثل بمثل يد بيد، والفضل ربا. والتمر بالتمر مثل بمثل يد بيد، والفضل ربا. والملح بالملح مثل بمثل يد بيد، والفضل ربا".
«الأصل» لمحمد بن الحسن (3/ 24): باب القرض والصرف في ذلك
وحدثنا عن الحجاج بن أرطأة عن عطاء بن أبي رباح أنه كان يكره كل قرض جر منفعة......
ولو كان حين أقرضه اشترط عليه أن يقضيه أجود منها أو دونها كان هذا باطلا لا يجوز.
«المبسوط» للسرخسي (12/ 109): [أنواع الربا]
فأما الربا في اللغة: هو الزيادة. يقال: أربى فلان على فلان، أي زاد عليه. ويسمى المكان المرتفع ربوة لزيادة فيه على سائر الأمكنة. وفي الشريعة: الربا: هو الفضل الخالي عن العوض المشروط في البيع؛ لما بينا: أن البيع الحلال مقابلة مال متقوم بمال متقوم فالفضل الخالي عن العوض إذا دخل في البيع كان ضد ما يقتضيه البيع فكان حراما شرعا، واشتراطه في البيع مفسد للبيع، كاشتراط الخمر وغيرها. والدليل على حرمة الربا: الكتاب والسنة.
«المبسوط» للسرخسي (14/ 35): [باب القرض والصرف فيه]
«ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قرض جر منفعة» وسماه ربا وعن محمد بن سيرين قال: أقرض عمر بن الخطاب رضي الله عنه أبي بن كعب رضي الله عنه عشرة آلاف درهم وكانت لأبي رضي الله عنه نخل بعجل فأهدى أبي بن كعب رضي الله عنه رطبا لعمر رضي الله عنه فرده عليه فلقيه أبي فقال: أظننت أني أهديت إليك لأجل مالك؟ ابعث إلى مالك فخذه فقال عمر لأبي رضي الله عنهما رد علينا هديتنا. وبه نأخذ فإن عمر رضي الله عنه إنما رد الهدية مع أنه كان يقبل الهدايا لأنه ظن أنه أهدى إليه لأجل ماله فكان ذلك منفعة القرض فلما أعلمه أبي رضي الله عنه أنه ما أهدى إليه لأجل ماله قبل الهدية منه وهذا هو الأصل؛ ولهذا قلنا: إن المنفعة إذا كانت مشروطة في الإقراض فهو قرض جر منفعة وإن لم تكن مشروطة فلا بأس به حتى لو رد المستقرض أجود مما قبضه فإن كان ذلك عن شرط لم يحل؛ لأنه منفعة القرض وإن لم يكن ذلك عن شرط فلا بأس به؛ لأنه أحسن في قضاء الدين وهو مندوب إليه. بيانه في حديث عطاء قال: «استقرض رسول الله صلى الله عليه وسلم من رجل دراهم فقضاه وأرجح له فقالوا: أرجحت فقال: صلى الله عليه وسلم - إنا كذلك نزن.» فإذا جاز الرجحان له من غير شرط فكذلك صفة الجودة قالوا: وإنما يحل ذلك عند عدم الشرط؛ إذا لم يكن فيه عرف ظاهر أما إذا كان يعرف أنه فعل ذلك لأجل القرض فالتحرز عنه أولى؛ لأن المعروف كالمشروط
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (7/ 395): [فصل في شرائط ركن القرض]
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي عليه السلام: «خيار الناس أحسنهم قضاء».
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
کسی کا سودی قرضہ اتارنے کا حکم
سوال: میرے بھائی نے قرض لیا ہوا ہے،اب وہ ادا نہیں کر سکتا اس کا قرض میں ادا کرنا چاہتا ہوں اس شرط پر کہ دوبارہ وہ سود کا قرض نہ لے اور اس نے بھی توبہ کر لی ہے ۔اب قرضہ ادا کرنے میں کیا میں بھی اس گناہ میں شریک ہوں گا یا مجھ پر کوئی گناہ نہیں؟
جواب: سود کا انجام تباہی اور بربادی ہی ہے۔ سودی معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جائے کہ اس گناہ کا اثر صرف براہِ راست سودی معاملہ کرنے والے دو اشخاص تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے متعلقہ افراد (جو کسی بھی طرح اس سودی معاملہ میں معاون بنتے ہیں، مثلاً: لکھنے والا، گواہ، وغیرہ) وہ سب اللہ کی لعنت اور اس کی رحمت سے دوری کے مستحق بن جاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ سودی معاملہ اور سودی لین دین قرآن وحدیث کی رو سے حرام ہے۔ نیز اسلام میں جس طرح سود لینا حرام وناجائز ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام وناجائز ہے اور احادیثِ مبارکہ میں دونوں پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، سودی معاملہ دنیا اور آخرت کی تباہی اور بربادی، ذلت اور رسوائی کا سبب ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، عموماً جو لوگ سود پر قرض لے کر کاروبار کرتے ہیں، ساری زندگی سود سے پیچھا چھڑانے میں گزرجاتی ہے، بلکہ بکثرت ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ سرمایہ مع اضافہ سب سے ہاتھ دھونا پڑجاتاہے۔
لہذاصورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص (سائل كےبھائي )کا سودی معاہدہ کرنا اور سود کی بنیاد پر قرضہ لینا جائز نہیں تھا، اب ایسے معاملہ کو جلد از جلد ختم کرنا واجب ہے، اور صرف اصل رقم واپس کرنا لازم ہے ، اس کے اوپر سود دینا جائز نہیں ہے؛ لہذا اگر سود سے جان چھڑواسکتاهے تو بہتر، ورنہ مجبوراً جان چھڑانے کی جو بھی صورت ہو(سائل یاسائل کابھائی) اس کو اختیار کرکے جان چھڑالے ؛تاکہ سودی معاملہ کی مدت میں اضافہ نہ ہو،نیز سائل کابھائی اصل قرض کی رقم کی ادائیگی ميں معاونت كرسكتاهے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
"وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰه اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ" [المائدة: الآية: 2[
ترجمہ:"اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالی سے ڈرا کرو بلا شبہ اللہ تعالٰ سخت سزا دینے والا ہے۔"(بیان القرآن)
ارشاد باری تعالی ہے:
"﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾." ]البقرة :278تا280[
ترجمہ:" اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔ "(بیان القرآن )
صحیح مسلم میں ہے:
"عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء." (كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله،3/ 1219 ، رقم الحديث:1598، ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)
ترجمہ:"حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔"
اعلاء السنن میں ہے:
"وکل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف،قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادة أو هدیة، فأسلف علی ذلک أن أخذ الزیادة علی ذلک ربا،قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: کل قرض جر منفعة فهوربا." (کتاب الحوالة،باب کل قرض جر منفعة فهو ربا،14/ 513 ط: ادارۃ القرآن کراتشی) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
سودی قرضہ کا معاملہ ختم کرتے ہوئے سود کی رقم ادا کرنا
سوال: ایک صاحب نے ہندو سے سود پر قرض لیا، اب ان کو معلوم ہوا کہ سود کتنا بڑا گناہ ہے تو چاہتے ہیں کہ مزید سود ادا نہ کریں صرف اصل رقم ادا کریں، لیکن ہندو کہتا ہے کہ آپ نے معاہدہ کیا ہوا ہے سود ادا کرنے کا؛ اس لیے ادا کریں۔ اسلام اس بارے کیا کہتا ہے کہ کیا ایسے معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے؟
جواب: سود کا لین دین شرعاً ا س قدر قبیح اور ناپسندیدہ ہے کہ اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ اعلان جنگ قرار دیاگیا ہے، اور سودی معاملہ ختم کرکے صرف اصل رقم لینے کو جائز قرار دیا ہے۔قرآنِ کریم میں ہے:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ [البقرة : ۲۷۸ إلى ۲۸٠ ]
ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔ (بیان القرآن )
سود کا انجام تباہی اور بربادی ہی ہے۔ سودی معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جائے کہ اس گناہ کا اثر صرف براہِ راست سودی معاملہ کرنے والے دو اشخاص تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے متعلقہ افراد (جو کسی بھی طرح اس سودی معاملہ میں معاون بنتے ہیں، مثلاً: لکھنے والا، گواہ، وغیرہ) وہ سب اللہ کی لعنت اور اس کی رحمت سے دوری کے مستحق بن جاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ سودی معاملہ اور سودی لین دین قرآن وحدیث کی رو سے حرام ہے۔ نیز اسلام میں جس طرح سود لینا حرام وناجائز ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام وناجائز ہے اور احادیثِ مبارکہ میں دونوں پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، سودی معاملہ دنیا اور آخرت کی تباہی اور بربادی، ذلت اور رسوائی کا سبب ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، عموماً جو لوگ سود پر قرض لے کر کاروبار کرتے ہیں، ساری زندگی سود سے پیچھا چھڑانے میں گزرجاتی ہے، بلکہ بکثرت ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ سرمایہ مع نفع سب سے ہاتھ دھونا پڑجاتاہے۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کا سودی معاہدہ کرنا اور سود کی بنیاد پر قرضہ لینا جائز نہیں تھا، اب ایسے معاملہ کو جلد از جلد ختم کرنا واجب ہے، اور صرف اصل رقم واپس کرنا لازم ہے ، اس کے اوپر سود دینا جائز نہیں ہے؛ لہذا اگر سود سے جان چھڑواسکتے ہیں تو بہتر، ورنہ مجبوراً جان چھڑانے کی جو بھی صورت ہو اس کو اختیار کرکے جان چھڑالیں ؛تاکہ سودی معاملہ کی مدت میں اضافہ نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم
https://socialsecurity.govmu.org/socialsecurity/?page_id=5398
NSF Lumpsum
What is NSF?
*NSF (National Saving Fund) – Provide payment of a lump sum to every employee at retirement age or earlier, or on his/her death.
Who contributes to the NSF
-Every employer and employee/s of the private sector pays a monthly contributions representing 2.5% and 1% (total of 3.5%) respectively of the basic wage or salary of every employee, aged between 18 and retirement age subject to the prescribed ceiling
https://socialsecurity.govmu.org/socialsecurity/?page_id=1218
فتاوى دار العلوم زكريا ط زمزم پبليشر (5/
پراویڈنٹ فنڈ کا حکم:
سوال: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے ایک خاص تناسب سے ماہانہ رقم وضع کی جاتی ہے اور یہ حکومت بجبر کرتی ہے ملازمین کا اس میں اختیار نہیں ہوتا، پھر ملازمت ختم ہونے کے بعد مزید اضافہ کے ساتھ واپس کی جاتی ہے تو اس رقم کا لینا اور استعمال کرنا از روئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟
جواب: بصورتِ مسئولہ تکمیل ملازمت پر پراویڈنٹ فنڈ کی رقم لینا اور اس کا استعمال کرنا جائز اور درست ہے، کیوں کہ تنخواہ سے جو رقم حکومت وضع کرتی ہے وہ استحقاق کے زمرے میں آتی ہے اس پر ملازم کی ملکیت نہیں آتی، لہذا حکومت جو سود اس رقم پر دیتی ہے وہ سود نہیں، کیوں کہ سود اپنی مملوک رقم پر مشروط اضافے کا نام ہے، جب کہ یہ رقم مملوک نہیں ۔
ملاحظہ ہو کفایت المفتی میں ہے:
پراویڈنٹ فنڈ پر جو رقم محکمہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور اسی طرح دونوں کے مجموعے پر سود کے نام سے بڑھائی جاتی ہے یہ سب رقم جائز ہے یہ شرعاً سود نہیں اگر چہ محکمہ اس کو سود کے نام سے موسوم کرتا ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/۹۷) ۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
جبری پراویڈنٹ فنڈ کی اصل رقم پر جو زیادتی محکموں کی طرف سے دی جاتی ہے، وہ شرعاً سود نہیں ہے، اس لیے اس کا وصول کرنا جائز ہے ۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۳۰۷) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
یہ سلسلہ حکومت نے اپنے قانون کے پیشِ نظر جاری کیا ہے جس سے ملازم کی خیر خواہی مقصود ہے، جب تک اس پر ملازم کا قبضہ نہ ہو یہ ملازم کی ملکیت نہیں، لہذا اس پر جو کچھ اضافہ ملتا ہے یہ بھی سود نہ ہوگا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۳۹٤، جامعہ فاروقیہ) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے ہر ماہ رقم جبراً وضع کرتی ہے جس کو جی پی فنڈ کہا جاتا ہے، اختتامِ ملازمت (ریٹائرمنٹ) پر حکومت یہ ساری جمع شدہ رقم ملازم کو اور اس کے انتقال کی صورت میں اس کے ورثاء کو ادا کر دیتی ہے، اس میں سود کے نام سے ایک اضافی رقم بھی ملاتی ہے اب یہ اضافی رقم جو حکومت ادا کرتی ہے اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ اس کا جواب یہ کہ یہ اضافی رقم شرعاً سود نہیں ہے کیوں کہ سود دو آدمیوں کے درمیان بذریعہ عقد طے ہوتا ہے، جب کہ دونوں طرف سے مال ہو اور ان کا مملوک ہو، مسئلہ مذکورہ میں ملازم سے جو رقم تنخواہ سے وضع کی جاتی ہے وہ ملازم کی ملک نہیں ہوتی، اس لیے کہ ملازم کی تنخواہ کے ملک میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قبضہ میں ہو:
قال العلامة ابن نجيم رحمه الله: قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن أي لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة. (البحر الرائق: ۷/۳۰۰). چونکہ اس رقم پر ملازم یا اس کے وکیل نے قبضہ نہیں کیا، اس لیے ملازم اس رقم کا مالک نہیں ہوا، لہذا ملازم کے تصرفات اس میں نافذ نہ ہوں گے، اب حکومت اصل رقم یا سود پر اضافی رقم یا سود کے نام پر اضافی رقم جو کچھ بھی ادا کر رہی ہے، سب اجرت ہی کا حصہ ہے جو حکومت مؤجلا اکٹھی ادا کر رہی ہے، چنانچہ حضرت مفتی شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں: جبری پراویڈنٹ فنڈ پر جو سود کے نام سے جو رقم ملتی ہے وہ شرعاً سود نہیں بلکہ اجرت (تنخواہ) ہی کا ایک حصہ ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱٦۹، بحوالہ پراویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ اور سود کا مسئلہ، ص ٤) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
پراویڈنٹ فنڈ پر جو اضافی رقم محکمہ کی طرف سے دی جاتی ہے اس کا لینا جائز ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/۲۱۲) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (منتخباتِ نظام الفتاوی، جلد اول، ص ۲۰۸، و احسن الفتاوی: ۷/۵۰، و جدید فقہی مسائل، جلد اول، ص ۲٤۹، و جدید فقہی مباحث: ٦/۲۹۰، و رسالہ "پراویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ اور سود کا مسئلہ" از حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
كفاية المفتي للشيخ محمد كفاية الله ط دار الإشاعت (8/97)
پراویڈنٹ فنڈ اور اس پر سود لینے کا حکم!
(سوال ) سرمایہ پس اندازی جو کہ ملازموں کی تنخواہ سے گورنمنٹ کی ملازمتوں کی شرائط کا حق جاتا ہے اس کا سود لینا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو لینے والا خود کھا سکتا ہے یا نہیں ؟
(جواب ۱۰۷) پراویڈنٹ فنڈ اور اس پر جو سود لینا اور اپنے صرف میں لانا جائز ہے کیونکہ وہ حقیقتہً سود کے حکم میں نہیں ہے ۔
محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ‘ دہلی