In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
Waswasa refers to intrusive whispers and doubts from Shaytan that can cause a person considerable anxiety. Such thoughts should not be entertained or allowed to dictate one's actions.
When Waswasa come into the mind, ignore them. Neither fight them nor entertain them. Instead, adopt a carefree attitude of “I don’t care” for a few days. You will see the difference.[1]
Moreover, continue with your normal daily activities, engage in the recitation of the Quran, remembrance of Allah (dhikr), and stay away from sins.[2]
If these obsessive doubts continue to interfere with your daily life, consult a qualified religious Muslim female mental-health professional experienced in treating obsessive thoughts.
We also recommend reading “Combating the Whisperings of Shaytaan” by Maulana Yunus Patel Sahib (رحمه الله).[3]
May Allah Ta’ala relieve your distress, protect your faith, and grant you peace and tranquility.
And Allah Ta’ala Knows Best.
|
Baba Abu Bakr Student Darul Iftaa Accra, Ghana |
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek Student Darul Iftaa |
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] ملفوظات حكيم الامت (11/201)
وساوس کا علاج اس کی طرف سے بے التفاتی اور ذکر اللہ ہے فرمایا کہ ذکر اللہ کی یہ خاصیت ہے کہ اس کے بعد وسوسے باقی نہیں رہتے۔ صرف مشابہ وسوسہ کے رہتا ہے اور اس کی ایک حدیث مؤید ہے۔ اذا ذكر الله خنس واذا غفل وسوس میں نے اس کی ایک مثال تجویز کی ہے کہ اگر آئینہ کے اوپر مکھی بیٹھ جائے تو ظاہرا دیکھنے والوں کو گو وہ اندر بھی معلوم ہو گی مگر حقیقتاً باہر ہی ہے اور یہ وسوسہ گو بہت ہلکا مرض ہے مگر لوگوں نے اس کو بڑا بھاری بنا لیا ہے جیسے کسی کا دوڑنے میں سانس پھول جائے اور حکیم سے آکر کہے کہ حکیم جی مجھے تو دمہ کی بیماری ہو گئی تو حکیم ہنستا ہے کہ احمق یہ تو تیرے دوڑنے سے عارضی حرکت پیدا ہو گئی ہے چند منٹ میں دفع ہو جائے گئی یہ دمہ نہیں ہے۔ ایسے ہی مبتدی وسوسہ سے ڈرتا ہے مگر محقق کہتا ہے کہ تم پرواہ نہ کرو التفات نہ کرو اور بے التفاتی سے بھی دفع کا قصد نہ کرو کہ یہ بھی التفات ہے بس یوں ہی بے فکر رہو اگر تمام عمر بھی اسی میں گزر جائے کچھ پرواہ نہ کرو خواہ اسی حالت میں موت آجائے۔
[2] فتاوى محمودية لمحمود حسن گنگوهی بترتيب جديد ط مكتبةمحمودية (6/438)
علاج وسوسہ
سوال: قریب تین ماہ ہوئے ہیں میرے دل ودماغ میں ایک شبہ پڑ گیا ہے۔ مجھے
۱ عن بن عباس قال قال النبیﷺ یوم بدر اللٰھم انشدک عہدک ووعدک اللٰھم ان شئت لم تعبد الخ بخاری شریف، ج۲؍ص۵۶۴؍اول کتاب المغازی، مکتبہ اشرفی دیوبند، ہر وقت یہ خیالات پریشان کرتے رہتے ہیں کہ حضور ﷺنبی تھے یانہیں؟ قرآن پاک آسمانی کتاب ہے یا نہیں؟ اسلام سچا مذہب ہے یا نہیں؟ ان خیالات کی وجہ سے مجھے بڑی بے چینی رہتی ہے اورکسی کام میں دل نہیں لگتا ہے۔
میں اس سوال کو سلجھانے کی ہر چند کوشش کرتا رہتا ہوں مگر میرے دل ودماغ سے یہ خیال جاتا ہی نہیں ہے۔ اگر قرآن پاک پڑھوں تو یہ خیال آتا ہے کہ یہ سب یوں ہی تو نہیں ہے اوراگر حدیث شریف پڑھوں تو بھی یہی خیال آتا ہے۔ اب بتائیں کہ میں کیا کروں؟
جواب: آپ رات کو عشاء کے بعد تازہ غسل کر کے دو رکعت نفل نماز توبہ کی نیت سے پڑھیں ۔ درود شریف ۵۰۰؍دفعہ، پھر استغفراللٰہ ربی من کل ذنب واتوب الےہ ۵۰۰؍دفعہ پڑھ کر خدائے پاک کے سامنے دعاء کریں یا اللہ میرے ہر گناہ کو معاف کر اوراپنی ذات پر اوراپنے رسول پاک ﷺپر اوراپنے قرآن پاک پر یقین نصیب فرما جیسا کہ یقین کا حق ہے اور میرے گناہوں کی نحوست سے اس دولت کو ضائع نہ فرما۔یہ عمل سات روز تک کریں اورچلتے پھرتے درود شریف کثرت سے پڑھا کریں۔ کسی صاحب نسبت متبع سنت بزرگ سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کر لیں۔ خدائے پاک آپ کی مدد فرمائے۔
سورہ حٰم سجدہ روزانہ ایک مرتبہ پڑھ کر دعا مانگنا بھی دفع وسوسہ وشبہ کے لئے اکسیر ہے۔