Spending Few Days In Jeddah Before Going For ʿUmrah
Question:
If a person lands in jeddah, but spends 3 nights there before going to makkah, will he have to be in ehram for those 3 days?
Clarification: He will be in Jeddah for relaxing.
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Raḥmatullāhi Wa-Barakātuh
In principle, any person who passes the mīqāt with the intention of performing ʿumrah is required to be in the state of iḥrām. However, if the individual’s sole intention is to travel to Jeddah for work or vacation without intending for ʿumrah, then he does not need to get into the state of iḥrām. Later, if he chooses to perform ʿumrah from Jeddah, he may enter the state of iḥrām from Jeddah.
Nevertheless, if the original intention of the journey included ʿumrah, then entering the state of iḥrām prior to crossing the mīqāt becomes mandatory. In the enquired scenario with the clarification, since the intention of ʿumrah was present from the outset, the individual is required to be in iḥrām before passing the mīqāt.[1]
And Allah Taʿāla Knows Best.
Rukunuddin Bin Jahangir
Student –Darul Iftaa
Milwaukee, WI, USA
Checked and Approved by
Mufti Muhammad Zakariyya Desai
[1] «البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» ٣/٥٣ — زين الدين ابن نجيم (ت ٩٧٠)
(قوله: ومن دخل مكة بلا إحرام ثم حج عما عليه في عامة ذلك صح عن دخول مكة بلا إحرام، وإن تحولت السنة لا)؛ لأنه تلافى المتروك في وقته؛ لأن الواجب عليه تعظيم هذه البقعة بالإحرام
[منحة الخالق]……….
أقول: وظاهر ما في البدائع أن من أراد النسك يلزمه الإحرام، وإن قصد دخول البستان لقوله أما إذا لم يرد ذلك إلخ، وكذا من يرد الحرم فلا تنفعه إرادة دخول البستان ويؤخذ ذلك أيضا من قوله في لباب المناسك، ومن جاوز وقته يقصد مكانا في الحل ثم بدا له أن يدخل مكة فله أن يدخلها بغير إحرام فقوله ثم بدا له أي ظهر وحدث له يقتضي أنه لو أراد دخول مكة عند المجاوزة يلزمه الإحرام، وإن أراد دخول البستان؛ لأن دخول مكة لم يبد له، وإنما هو مقصوده الأصلي وحينئذ يشكل قولهم، وهذه حيلة الآفاقي إلخ، وقد أشار إلى هذا الإشكال في شرح اللباب ثم قال: والوجه في الجملة أن يقصد البستان قصدا أوليا، ولا يضره دخول الحرم بعده قصدا ضمنيا أو عارضيا كما إذا قصد مدني جدة لبيع وشراء أولا ويكون في خاطره أنه إذا فرغ منه أن يدخل مكة ثانيا بخلاف من جاء من الهند بقصد الحج أولا ويقصد دخول جدة تبعا، ولو قصد بيعا وشراء. اهـ.
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» ١/١٥٨ — علاء الدين الحصكفي (ت ١٠٨٨)
أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام، فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام، وهو الحيلة لمريد ذلك إلا لمأمور بالحج للمخالفة
«غنية الناسك في بغية المناسك العلامة المحقق محمد حسن شاه» ط. إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، ١٤٠٧ هـ (ص ٣٢)
(مطلب في دخول الآفاق الحل الحاجة) ولو دخل كوفى البستان لحاجة ولو قصدها عند المجاوزة خلافا لما في البحر أنه لا بد من قصدها حين خروجه من بيته ليكون سفره لأجلها لا لدخول مكة وقولهم لحاجة أي لا لمجرد المرور الى مكة فله دخول مكة للحاجة بلا احرام وعن هذا قيل أن حيلة آفاقي يريد دخول مكة لحاجة بلا أحرام أن يقصد البستان لكن لا تتم الحيلة ألا لمن يقصد البستان قصدا اوليا بحيث لا يكون سفرا الا لأجله ولم يرد النسك عند دخول مكة أيضا كما قدمنا في المواقيت وهذه الحيلة لا تجوز للحاج عن الغير للمخالفة لانه اذا دخل مكة بلا احرام بالحيلة صارت حجته مكية ولو خرج الى الميقات أو الآفاق ليحرم منه لا تصير حجته ميقاتية بل يجب العود الى الحرم والاحرام منه ونية مدة الاقامة ليست بشرط على المذهب وقال أبو يوسف رحمه الله تعالى أنه اذا نوى اقامة خمسة عشر في البستان فله دخول مكة بلا أحرام والا فلا ووقته البستان كالبستاني فلو أحرم من الحرم لز مه دم ما لم يعد كما مر ألا أذا دخل الحرم الحاجة ثم أراد . الحج فيحرم من الحرم رد المحتار.
«مناسك ملا على القاري للإمام علي بن سلطان محمد الهروي القاري (المتوفى ١٠١٤ هـ)» ط. ادارة القران العلوم الإسلامية، الطبعة الأولى ١٤١٧ هـ (ص ٨٦) باب المواقيت
(سواء في سقوط الدم، ومن جاوز وقته) أي الذي وصل إليه حال كونه (يقصد مكانا في الحل) كبستان بني عامر ، أو جدة، أو حدة مثلا ، بحيث لم يمر على الحرم، وليس له عند المجاوزة قصد أن يدخل الحرم بعد دخول ذلك المكان ، (ثم بداله) أي ظهور أي حادث (أن يدخل مكة) أي أو الحرم، ولم يرد نسكا حينئذ، (فله أن يدخلها) أي مكة وكذا الحرم (بغير إحرام).
«فتاوى قاسمية، حضرت مولانا مفتى شبير احمد القاسمي» ط. مكتبة اشرفيه، ديو بند الهند، ۱۴۳۷ ھ (١٢/ ١٩٢)
o حدود میقات کے اندر آ کر احرام باندھنا اور عمرہ کرنا
سوال (ب) [۵۰۱۱] : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: ایک شخص عمرہ کے ارادہ سے رمضان المبارک سے دو دن قبل عمرہ کا ویزا لے کر ہندوستان سے مدینہ منورہ پہنچا، دو دن مدینہ منورہ میں قیام کر کے احرام باندھ کر عمرہ کے لئے روانہ ہونا تھا؛ لیکن ان دنوں میں اچانک طبیعت علیل ہو گئی ، ان کو بغیر احرام باندھے جدہ لے جایا گیا جو کہ حدود میقات کے اندر ہے، وہاں ان کا تین یوم تک علاج ہوا ، اس کے بعد انہوں نے جدہ شہر سے احرام باندھا او ر عمرہ کیا، کیا حدود میقات کے اندر آ کر احرام باندھنا اور پھر عمرہ کرنا جائز ہے یا ان پر دم لازم ہے؟ اس طرح عمرہ کر کے واپس اپنے وطن هندوستان ۲۴ / دنوں کے اندر آگئے ، جس میں مدینہ منورہ کے سات یوم اور جدہ کے چار یوم شامل ہیں، یعنی پورا وقت سفر ہی میں گذرا۔
الجواب وبالله التوفیق: اگر چہ اس شخص نے عمرہ کے ارادے سے وطن سے سفر کا سلسلہ شروع کیا ہے اور مدینہ منورہ پہلے پہنچا ہے، تو یہاں سے مدینہ جانے کے لئے احرام باندھنا اس پر لازم نہیں ، پھر مدینہ منورہ سے جدہ علاج کے لئے جاتے ہوئے بھی احرام باندھنا اس پر لازم نہیں تھا ; اس لئے کہ وہ جدہ علاج ہی کے لئے گیا ہے اور جدہ میں علاج ہو جانے کے بعد جب وہاں سے عمرہ کے ارادہ سے مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ کر لیا ہے، تو اب اس کے لئے جدہ یا حل کے اندر حدود حرم سے پہلے پہلے احرام باندھنا لازم ہے۔ اور اس احرام کے لئے اس کو دوبارہ میقات مدینہ جانا لاز ا مدینہ جانا لازم نہیں ہے۔ اور اس کا عمرہ مسنون طریقہ سے ادا ہو گیا اور اس پر کوئی دم بھی نہیں۔
«كتاب المسائل، مولانامفتی محمد سلمان منصور پوری» ط. المركز العلمي للنشر والتحقيق مرادآباد (٣/١١٣)
o آفاقی کا حدود حل میں جانا
اگر آفاقی شخص حدود حل میں جانے کا ارادہ کرے تو اس پر احرام باندھنا لازم نہیں ہے، مثلاً ہندوستان کا کوئی شخص اپنی ضرورت سے جدہ جانا چاہتا ہے تو اس کے لئے احرام باندھ کر جانے کا حکم نہیں ہے۔
نوٹ : اگر آفاقی شخص اپنے کسی کام سے جدہ گیا پھر وہاں جا کر ارادہ ہوا کہ مکہ معظمہ بھی حاضری دے دیں تو اس کے لئے احرام باندھ کر مکہ جانا لازم نہیں؛ بلکہ بلا احرام جا سکتا ہے، لیکن اگر عمرہ یا حج کا ارادہ ہو تو احرام باندھنا ہوگا ۔
«فتاوى دار العلوم زكريا، مفتي رضى الحق» ط. زمزم پبلشرز ، ٢٠١٧ م (٣/٤٠٦) میقات کا بیان
o جدہ میں چند گھنٹے رکھنا ہو تو بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کا حکم :
سوال: اگر کسی شخص نے ارادہ کر لیا کہ چند گھنٹے جدہ میں رک جائے گا، پھر حرم شریف میں داخل ہوگا تو بغیر احرام کے میقات سے گزرسکتا ہے یا نہیں؟ یعنی اس کا جدہ سے احرام باندھنا صحیح ہو گا یادم لازم ہوگا ؟
الجواب: بصورت مسئولہ چونکہ ہوائی جہاز میقات کے اوپر یا اس کی محاذات میں سے گزرتا ہے، لہذا میقات کی محاذات سے پہلے احرام باندھنا ضروری ہے ، اگر کسی نے جدہ میں ایک دن یا چند گھنٹے ٹھہرنے کی نیت کر لی اور جدہ تک احرام کو ٹال دیا تو ایسا کرنا درست نہیں، بلکہ ایک حیلہ ہے، حیلہ ضرورت کے وقت حرام یا مکروہ سے بچنے کے لیے کیا جا سکتا ہے لیکن ایسا حیلہ جس سے ایک حکم شرعی باطل ہو جائے ، درست نہیں ، یہ یوم سبت والوں کے حیلہ کی طرح ہے، جس پر قرآن کریم میں سخت وعید موجود ہے، حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب نے معارف القرآن : ۵۲۳/۷، پر تحریر فرمایا ہے، لیکن یا درکھنا چاہئے کہ اس قسم کے حیلے اس وقت جائز ہوتے ہیں جب کہ انھیں شرعی مقاصد کے ابطال کا ذریعہ نہ بنائے ۔
o جدہ کے قصد سے میقات بغیر احرام کے تجاوز کرنے کا حکم :
سوال: میرا بیٹا جدہ میں رہتا ہے عمرہ کے لیے جاتے وقت میں جدہ میں احرام باندھ سکتا ہوں؟
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر آپ کا ارادہ صرف بیٹے کی ملاقات ہے پھر وہاں سے تبعاً عمرہ کے لیے بھی نیت ہے تو جدہ میں بیٹے کی ملاقات وزیارت کے بعد عمرہ کا احرام باندھنا درست ہے۔ کوئی جزاء واجب نہ ہوگی لیکن اگر آپ کا قصد اولاً عمرہ کا ہے پھر سوچا کہ بیٹے کی بھی ملاقا کی بھی ملاقات کرلے تو میقات سے احرام باندھنا ضروری ہے، ورنہ دم لازم ہوگا، گویا اصلا نیت کا اعتبار ہے اور دل کا حال اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، لہذا بلا ضرورت حیلوں سے بچنا اس مبارک سفر میں بہت ضروری ہے۔