Non-surgical Body Contouring
Question:
I have a very stubborn fat on my abdominal area I have tried literally everything to get rid of it including gym, water weight cut, fasting ,diet etc but no result Recently a friend told me about Non-surgical Body Contouring that it can help me get rid of the fat but I’m very confused as to whether or not it is permissible
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
Altering the body solely for cosmetic enhancement is generally impermissible (ḥarām). However, non-surgical body contouring is not considered a form of prohibited alteration, as it closely resembles exercise in a different form and may also be intended to address a genuine physical concern.
In your case, the persistent abdominal fat despite sincere and consistent efforts to reduce it can be classified as a form of physical irregularity. Therefore, if the procedure does not cause harm, its use would be permissible. [i]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Baba Abu Bakr
Student Darul Iftaa
Accra, Ghana
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[i] فَتاوَى قاضِيخان فِي مَذْهَب لإِمَامِ الأعْظم أبي حَنِيفَة النعمان المؤلف: الإمام فخر الدين الحسن بن منصور٥٩٢هـ الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت كتاب الحظر والإباحة وما يكره أكله وما لا يكره وما يتعلق بالضيافة (313/ 3)
رجل له سلعة أو حجر فأراد أن يستخرجه ويخاف منه الموت قال أبو يوسف رحمه الله تعالى إن كان فعله أحد فنجا فلا بأس بأن يفعل لأنه يكون معالجة ولا يكون تعريضا للهلاك وفي الفتاوي إذا أراد أن يقطع إصبعا زائدة أو شيئا آخر قال أبو نصر رحمه الله تعالى إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل لأنه تعريض النفس للهلاك وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك
«البناية شرح الهداية» محمود بن أحمد بن موسى بن أحمد بن الحسين المعروف بـ «بدر الدين العينى» الحنفى (ت 855 هـ) الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، لبنان كتاب الكراهية حكم التداوي (12/ 271):
(ولا فرق بين الرجال والنساء) ش: لعموم الآثار فلذلك لم يفرق بين الرجال والنساء. وفي ” الجامع الصغير ” فيجوز لهما التداوي جميعا بالحقنة لأنه لا يستعمل المحرم فيها. م: (إلا أنه لا ينبغي أن يستعمل المحرم كالخمر ونحوها؛ لأن الاستشفاء بالمحرم حرام) ش: لما مر، لأن في حديث أبي الدرداء رحمه الله: «ولا تتداووا بالحرام».
وبه قال مالك وأحمد -رحمهما الله -، وفي ” التهذيب ” للبغوي: يجوز للتعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه، ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه. وإن قال الطبيب يتعجل شفاؤك؟ فيه وجهان، وهل يجوز شرب القليل من الخمر للتداوي؟ فيه وجهان، انتهى.
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» الكتاب: الفتاوى العالمكيرية المعروفة بالفتاوى الهندية لعلامة الهمام مولانا الشيخ نظام الدين وجماعة اهل العلم1086 ه: الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر (وصَوّرتها دار الفكر بيروت وغيرها) كتاب الكراهية وهو مشتمل على ثلاثين بابا
الباب العاشر في استعمال الذهب والفضة (5/ 330):
«امرأة أصابتها قرحة في موضع لا يحل للرجل أن ينظر إليه لا يحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، ولا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهن؛ لأن النظر إلى العورة لا يحل بسبب المحرمية، كذا في فتاوى قاضي خان.»
الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات (5/ 360):
إذا أراد الرجل أن يقطع إصبعا زائدة أو شيئا آخر قال نصير رحمه الله تعالى إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك رجل أو امرأة قطع الإصبع الزائدة من ولده قال بعضهم لا يضمن ولهما ولاية المعالجة وهو المختار ولو فعل ذلك غير الأب والأم فهلك كان ضامنا والأب والأم إنما يملكان ذلك إذا كان لا يخاف التعدي والوهن في اليد كذا في الظهيرية من له سلعة زائدة يريد قطعها إن كان الغالب الهلاك فلا يفعل وإلا فلا بأس به كذا في خزانة المفتين
فتاوی دار العلوم زکریا كتاب الصلاة افادات حضرت مفتی رضاء والحق حب مد ظله شيخ الحديث ومفتى دار العلوم زكريا ، جنوبي افريقه زمزم پبلشرز(6/778)
زینت کے لیے اعضاء کی سرجری کا حکم :
سوال: انسانی اعضاء مثلاً بدن، چہرہ وغیرہ مزین اور خوبصورت بنانے کے لیے سرجری کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یہ سرجری ان عیوب کو بھی شامل ہے جو کسی حادثہ کی وجہ سے یا ولادت کی وجہ سے یا بڑھاپے کی وجہ سے پیش آتے ہیں ، اسی طرح لیزر کے ذریعہ جسم کو نرم بنانا جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر کینسر کی وجہ سے پستان نکال دیا گیا ہو تو گوشت اور پٹھے لگانے یا اور کوئی چیز لگانے کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: انسانی جسم میں ایسے تصرفات جو اپنے خیال میں محض زینت کے قبیل سے ہوں درست ، ہاں ازالہ عیوب جائز ہے مثلاً ٹوٹے ہوئے دانت کی جگہ دوسر ا دانت لگوانا جائز ہے کیونکہ یہ ازالہ عیب ہے اسی طرح نکلے ہوئے دانتوں کو برابر کرنا بھی درست ہے ، مصنوعی ناک کان لگوانا بھی درست ہے تا کہ عیب دور ہو جائے لیکن دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا درست نہیں ہے کیونکہ یہ اس کے خیال میں حسن ہے جس کو فرضی حسن کہہ سکتے ہیں حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو جدید فقہی مسائل میں ہے:
اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جسم اللہ کی امانت اور اس کا پیکر اللہ کی تخلیق کا مظہر ہے جس میں کسی شرعی اور فطری ضرورت کے بغیر کوئی خود ساختہ تبدیلی درست نہیں ، اسی وجہ سے رسول اللہ صلی ال بدیلی درست نہیں ، اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی طور پر بال لگانے ، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان فصل پیدا کرنے کو نا جائز ، قابل لعنت اور اللہ کی خلقت میں تغیر قرار دیا ہے ، اس لیے ظاہر ہے کہ محض زینت اور فیشن کی غرض سے اس قسم کا کوئی آپریشن اور جسم میں کوئی تغیر قطعاً درست نہ ہو گا جیسا کہ آج کل ناک، پستان وغیرہ کے سلسلہ میں کیا جاتا ہے۔
چنانچہ حدیث میں ہے:
لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات . (بخاری)
اللہ کی لعنت ہو گوند نے اور گوند وانے والی اور بالوں کو اکھاڑنے والیوں پر۔
نیز حضرت ابوریحانہ سے مروی ہے :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حرم الوشر (نسانی: ۲۸۱/۲)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو نوک دار بنانے سے منع فرمایا۔
… ہاں اگر عام فطرت کے خلاف کوئی عضو زیادہ ہو گیا ہو مثلاً پانچ کی بجائے چھ انگلیاں ہو گئیں تو آپریشن کے
ذریعہ ان کو علاحدہ کیا جا سکتا ہے :
إذا أراد الرجل أن يقطع أصبعاً زائدة أو شيئاً آخر قال نصير : إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك .
(الفتاوى الهندية: ٣٦٠/٥). (جدید فقہی مسائل : ۳۱۲/۱) ۔ واللہ اعلم ۔
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
سرجری سے متعلق شرعی حکم
سوال: میں علم طب و جراحی کا طالب علم ہوں،ایک قسم کا تخصص جو شعبۂ جراحی میں ہے ، جس کا تعلق لوگوں کے جلے ہوۓ جسمانی حصوں کو ، اور اگر جلد اور چہرے میں کوئی نقص ہے تو اس کو ٹھیک کرنا ہے ، اس کو پلاسٹک سرجری کہتے ہیں ۔
اس قسم کے ماہر جراح سے عورتیں اپنے ہونٹ بڑے بھی کرواتی ہیں اور اپنے پستان بڑے یا چھوٹے بھی کروالیتی ہیں، کچھ عورتیں مخصوص حالات میں اپنے فرج کو تنگ کروالیتی ہیں اور کچھ اپنے کولہوں کو بھی بڑا یا چھوٹا کرواتی ہیں ، کیا یہ سب کام کرنا جائز ہیں؟ ان میں کونسے کام جائز اور کون سے کام ناجائز ہیں؟ ایک ڈاکٹر کو دوران ملازمت کیا کرنا چاہیے؟
جواب :سرجری جسمانی اعضاء میں سے کسی بھی عضو کو بڑا کرنے کے لیے ہو یا چھوٹا کرنے کے لیے، اگر واقعتاً کسی بیماری یا کسی ایسے عیب(چاہے پیدائشی ہو یا کسی حادثے کے نتیجے میں لاحق ہوا ہو) کو دور کرنے کے لیے ہو جس سےغیر معمولی جسمانی یا روحانی تکلیف ہوتی ہو،تو چوں كه شرعی ضرورت اور حاجت کی وجہ سےیہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خلقت کو بدلنے کے تحت داخل نہیں ہے اس ليے ایسی صورتوں میں سرجری کرنا اور کروانا جائز ہے ،کیوں کہ ضرورت اور حاجت کے وقت بعض ممنوع اشیاء بھی جائز ہوجاتی ہیں،(جسمانی تکلیف سے مراد یہ ہے کہ اس عضو میں غیر معمولی تکلیف ہو یا اس کے فطری عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہو،مثلا:ناک اتنا دبا ہوا ہو کہ جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہو،وغیرہ ، اور روحانی تکلیف کا مطلب یہ ہے کہ وہ عیب اس طرح کا ہو کہ اس کی وجہ سے انسان دوسروں سے الگ دکھتا ہو ، اوراسے مذاق و استہزاء کا نشانہ بنایا جاتا ہو )
اور اگر سرجری کا مقصد صرف حصولِ تزیین ، فیشن پرستی اور اظہارِ حسن ہو (جیسا کہ آج کل رائج ہے)تاکہ اعضاء کی ساخت اور بناوٹ میں مناسب تبدیلی کرکےانسان کی ظاہری ہیئت کو خوبصورت اور پر کشش بنایا جاۓ،تو یہ ناجائز اور حرام ہے، کیوں کہ یہ سب تغیرات انسان کے فطری تغیرات ہیں، جو عمر ڈھلنے کے ساتھ ساتھ لازماً پیدا ہوتے ہیں، جن کا سامنا ہر انسان کو کرنا پڑتا ہے،لہٰذا خواتین کا اپنے مخصوص اعضاء کو چھوٹا یا بڑا کروانا شریعت کی رُو سے جائز نہیں ، اور حدیث میں ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی گئی ہے،کیوں کہ اس قسم کی سرجری کا مقصد نہ تو کسی قسم کے جسمانی ضرر کو دور کرنا ہوتا ہے اور نہ روحانی اور معنوی ضرر کو ، بلکہ اس کا مقصد دراصل حسن اور کم عمری کا اظہار ہوتا ہے، چاہے شوہر کے لیے ہو یا کسی اور کے لیے، کیوں کہ حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے سرجری کروانا حدیث کی رو سے دھوکہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، اس لیے کہ یہ سرجری کسی شرعی ضرورت اور حاجت کی بناء پر نہیں بلکہ اپنی خواہش کے مطابق جسمانی اعضاء میں تبدیلی اور افزائشِ حسن کے لیے ہوتی ہے ،جس سے اللہ تعالی کی خلقت میں بلا مقصد اور بلا فائدہ تبدیلی اور دوسروں کو دھوکہ دہی لازم آتی ہے، اور چوں کہ یہ تمام تغیرات نفس و شیطان کی پیروی میں ہوتے ہیں اس لیے قرآن و حدیث میں اصلِ خلقت میں تغیر سے سختی سےمنع فرمایا گیاہے۔
https://www.banuri.edu.pk/readquestion/sarjaree-sy-mutalliq-share-e-ahkaam-144409101194/04-04-2023