BUSINESS & DEALINGSInvestments

Ruling on Earning by Registering with the KOI Company

Question:

Is it permissible to earn money by registering in a company named KOI?

There is an online company named KOI on the internet, which recruits people online. The work of this company is to enter into contracts with various companies and apps around the world, promising them that KOI will promote and introduce their companies to people and increase their app downloads. KOI charges money from these companies for this service.

Then, KOI recruits people online and also charges them a certain amount as investment. For example, the minimum investment is 6,400 PKR, and then there are larger investment levels, going up to 20,000,000 PKR.

In the smallest investment package, the user is given four tasks daily — they have to download four different apps. Each downloaded app earns 50 PKR, making 200 PKR per day. When enough money accumulates in the user’s account, they can withdraw it anytime. The investment term is one year, after which the original investment amount is returned, and the profit earned can be withdrawn at any time during the year.

According to the company, they take this investment from users to ensure that people work seriously and with focus, and so that no hindrance occurs in the contracts they have signed with other companies. KOI’s management says that if they do not charge this investment, people will work carelessly and violate company rules. Therefore, it is necessary to take money from users to ensure that they follow the rules and work properly.

Now the question is:

Is it permissible (halal) to register in this company and earn money from it?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

.As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh

The described business model does not fall under any valid Shariah-compliant mode of contract. Therefore, it is not permissible to register with this company or to earn money through it.[1]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Azhar Mownah

Student Darul Iftaa
Mauritius

Checked and Approved by,

Mufti Muhammad Zakariyya Desai.


[1]

مشكاة المصابيح المؤلف: محمد بن عبد الله الخطيب التبريزي الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت (3/ 1364):

وعن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌يطبع ‌المؤمن ‌على ‌الخلال ‌كلها ‌إلا ‌الخيانة والكذب» . رواه أحمد

https://darulifta-deoband.com/home/ur/halal-haram/601907

برس نامی ایپ سے روپیہ کمانے کا تفصیل حکم؟

سوال:

آج کل BURSEنامی ایک ایپ رائج ہے ، جس سے عام مسلمان، خصوصا نوجوان طبقہ، جانے انجانے میں روپیہ کما رہا ہے ، اس ایپ کی کچھ تفصیل اس طرح ہے کہ اس ایپ میں آرڈر کی شکل میں صرف خریداری کا نظام ہے ، حقیقت میں خریداری نہیں ہے ، حقیقت جس کی یہ ہے کہ اس ایپ کو اوپن کرنے کے بعد صرف یہ چیزیں شو ہوتی ہے ، گنگن، کوکر، ورزش کی مشین اور دو، چار قسم کی فریج، اور ہرایک کے نیچے آرڈر کا بٹن ہوتا ہے ، آرڈر کے بٹن پر ٹاسک کرنے کے بعد ریٹرن کا بٹن نمودار ہوتا ہے ، پھر ریٹرن کے بٹن پر ٹاسک کرنا ہوتا ہے ، یہ ایک مرتبہ کا عمل ہوا اس طرح یومیہ کم از کم تیس مرتبہ کرنا ہوتا ہے ، اگر اس سے کم ٹاسک ہوئے تو وہ نفع کا مستحق نہیں ہوگا اس ایپ میں چار مرحلے ہیں (1) کچھ بھی روپیہ جمع کئے بغیر ۱۰۰روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر آرڈر دینا ہوتا ہے ، پھر اس آرڈر کو ریٹرن کرنا ہوتا ہے ، جس کے نتیجہ میں صارف کا وہ اکاؤنٹ جو ایپ میں ہے ، اس میں نفع کے نام سے معمولی روپیہ جمع ہوتا ہے ، پھر صارف اگر چاہے تو نفع کے عنوان سے دئیے گئے ان روپیوں کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرسکتا ہے ۔ (2) ۵۰۰روپیہ جمع کرکے ۵۰۰روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر سابق عمل کرنا ہوتا ہے ، اس مرحلہ میں اول کے مقابلہ میں نفع کے نام سے کچھ زیادہ روپیہ جمع ہوتا ہے (3) ۵۵۰۰روپیہ جمع کرنا ہوتا ہے ، جس میں سے ۵۰۰روپیہ ممبرشپ کے عنوان سے کٹ جاتا ہے ، پھر اس میں بھی ۵۰۰۰روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر سابق عمل کرنا ہوتا ہے اور اس مرحلہ میں نمبر دو سے ، زائد روپیہ نفع کے نام سے جمع ہوتا ہے (4) اکتیس ہزار روپیہ جمع کرنا ہوتا ہے ، جس میں سے ایک ہزار روپیہ ممبرشپ کے عنوان سے کٹ جاتا ہے ، پھر اس میں تیس ہزار روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر بھی سابق عمل کرنا ہوتا ہے اور اس مرحلہ میں درجہء سوم کے مقابلہ میں زیادہ روپیہ، نفع کے نام سے جمع ہوتا ہے پھر یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اول مرحلے کا صارف نمبر دوم، سوم اور چہارم کی چیز پر آرڈر کرنا کا عمل کرنا چاہے ، تو نہیں کرسکتا، اس کے سامنے ان تین آپشن میں سے کوئی آپشن کھلے گا ہی نہیں، اسی طرح نمبر دو والے کے لئے تیسرا اور سوم مرحلہ والے کے لئے چوتھا آپشن کھلے گا ہی نہیں، جب تک کہ ایپ کی طرف سے متعین کردہ مخصوص رقم جمع نہ کروائے اور ممبرشپ کے عنوان سے متعین کردہ رقم نہ کٹوائے ، *زیادہ نفع کا حصول۔۔۔۔* پھر اگر کوئی صارف زیادہ روپیہ حاصل کرنا چاہے تو آگے کسی کو ممبرشپ دے سکتا ہے ، ممبرشب کی وجہ سے اس کو مزید روپیہ ملیگا، پھر نمبر دو کا ممبر یہ ممبرشپ آگے منتقل کرے گا اور دوم نمبر والا ممبر کمپنی کے اپنے اکاؤنٹ میں ریچارج کرے گا تو اس کی وجہ سے دوم نمبر والے کو تو نفع ملے گا ہی، ساتھ نمبر اول والے کو بھی نفع ملے گا، اگرچہ درجہء سوم کے ممبر کو اول درجہ کا ممبر جانتا اور پہچانتا نہ ہو، اس تیسرے ممبر کی وجہ سے اول کو دوم کے مقابلہ میں کم روپیہ ملے گا، لیکن ملے گا ضرور۔ اسی طرح یہ سلسلہ اور کڑی نیچے کی طرف چلتی رہے گی، اور نیچے کے ممبران کے ریچارج کرنے کی صورت میں اوپر کے تمام ممبران کو ایپ کی طرف سے متعین کردہ تناسب کے حساب سے ہرایک کو کمیشن ملتا رہے گا۔

واضح رہے کہ یہ ممبرشب لازمی نہیں ہے ، اختیاری ہے ، لیکن زیادہ روپیہ کمانے کے چکر میں تقریبا ہر صارف ممبر زیادہ بنانے کی فکر میں رہتا ہے *یہ نفع کس وجہ سے آتا ہے ؟* اس کے متعلق ایپ کے ڈائریکٹر سے بذریعہء واٹس ایپ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ چونکہ آپ نے ہماری تجارت کو فروغ دینے میں اشیاء کا اشتہار کیا، یہ اس اشتہار کی اجرت ہے ، جو ہم آپ کو دے رہے ہیں۔ ہم نے اس کی مصنوعات کی تفصیل جاننا چاہی، تو اس نے ایماژون کا حوالہ دیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایپ ایماژون کی اشیاء کا اشتہار کررہا ہے ، لیکن بسیار تحقیق کے باوجود اس بات کا واضح ثبوت نہیں مل سکا کہ یہ ایپ ایماژون کے ساتھ کنیکٹ ہے ۔ صارفین اور خود کی تحقیق سے مذکورہ بالا طریقہ اور سسٹم کا علم ہوا ہے ۔ شرعی لحاظ سے اس میں شریک ہونا اور اس سے روپیہ حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب نمبر: 601907

بسم الله الرحمن الرحيم

 سوال میں مذکور ایپ سے جڑ کر پیسے کمانا جائز نہیں ہے، تفصیل حسب ذیل ہے:

الف:پہلے مرحلہ میں کچھ پیسے جمع کیے بغیر ۱۰۰/ روپیہ یا اس سے کم قیمت والی اشیا کے آرڈر اور ریٹرن کے بٹن پر ٹاسک کرنایہ ایک بے مقصد اور بے فائدہ عمل ہے؛ کیوں کہ اشیا کی خریداری مقصود تو نہیں ہوتی اور شریعت میں بے مقصد اور بے فائدہ عمل پر اجارہ درست نہیں ہوتا؛ کیوں کہ صحت اجارے کے لیے معقود علیہ کا منفعت مقصودہ ہونا ضروری ہے۔

ومنہا -من شروط صحة الإجارة-أن تکون المنفعة مقصودة یعتاد استیفاوٴہا بعقد الإجارة ویجری بہا التعامل بین الناس؛ لأنہ عقد شرع بخلاف القیاس لحاجة الناس ولا حاجة فیما لا تعامل فیہ للناس، فلا یجوز استئجار الأشجار لتجفیف الثیاب علیہا أوالاستظلال بہا؛ لأن ہذہ منفعة غیر مقصودة من الشجر، ولو اشتری ثمرة شجرة ثم استأجر الشجرة لتبقیة ذلک فیہ لم یجز؛ لأنہ لا یقصد من الشجر ہذا النوع من المنفعة، وہو تبقیة الثمرة علیہا فلم تکن المنفعة مقصودة عادة، وکذا لو استأجر الأرض التی فیہا ذلک الشجر یصیر مستأجرا باستئجار الأرض، ولا یجوز استئجار الشجر۔ وقال بو یوسف: إذا استأجر ثیابا لیبسطہا ببیت لیزین بہا ولا یجلس علیہا فالإجارة فاسدة لأن بسط الثیاب من غیر استعمال لیس منفعة مقصودة عادة، وقال عمرو عن محمد فی رجل استأجر دابة لیجنبہا یتزین بہا فلا أجر علیہ؛ لأن قود الدابة للتزین لیس بمنفعة مقصودة، ولا یجوز استئجار الدراہم والدنانیر لیزین الحانوت، ولا استئجار المسک والعود وغیرہما من المشمومات للشم؛ لأنہ لیس بمنفعة مقصودة؛ ألا تری أنہ لا یعتاد استیفاہا بعقد الإجارة واللہ عز وجل الموفق (بدائع الصنائع، کتاب الإجارة، ۶: ۱۶، ط:دار الکتب العلمیة بیروت)۔

ھي …شرعاً تملیک نفع مقصود من العین بعوض حتی لو استأجر ثیاباً أو أواني لیتجمل بھا أو دابة لیجنبھا بین یدیہ أو دارا لا یسکنھا أو عبداً أو دراھم أو غیر ذلک لا لیستعملہ؛ بل لیظن الناس أنہ لہ فالإجارة فاسدة في الکل، ولا أجر لہ؛ لأنھا منفعة غیر مقصودة من العین، بزازیة، وسیجییٴ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الإجارة، ۹: ۴، ۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

قولہ: ”مقصودة من العین“:أي: في الشرع ونظر العقلاء بخلاف ما سیذکرہ فإنہ وإن کان مقصوداً للمستأجر لکنہ لا نفع فیہ، ولیس من المقاصد الشرعیہ (رد المحتار)۔

قولہ: ”ولا أجر لہ“: أي: ولو استعملھا فیما ذکرہ، وقولھم: ”إن الأجرة تجب في الفاسدة بالانتفاع“ محلہ فیما إذا کان النفع مقصوداً ط (المصدر السابق)۔

وانظر الدر المختار ورد المحتار (۹: ۴۶) أیضاً۔

یجب أن تکون المنفعة التی یعقد علیہا في الإجارة مقصودة فی الشرع ونظر العقلاء فلواستأجر إنسان حصانا لیربطہ أمام دارہ أو لیجنبہ أو استأجر ثیابا لیضعہا فی بیتہ لیظن الناس أن لہ حصانا و ثیابا نفیسة لیراہا الناس ویظہر بہا بمظہر الأغنیاء فالإجارة فاسدة ولا تجب الأجرة فیہا؛ لأنہا منفعة غیر مقصودة من العین في الشرع ونظر العقلاء۔ ولا یکفي لصحة الإجارة أن تکون المنفعة مقصودة للمستأجر، بل لا بد أن یکون فیہا منفعة مقصودة في الشرع ونظر العقلاء، والإجارة وإن کانت تجب باستعمال المأجور في الإجارة الفاسدة إلا أنہ لا بد لذلک من أن تکون تلک الإجارة معقودة علی ما فیہ منفعة مقصودة، فاستئجار التفاح للشم والحلی لوضعہا فی محل منظور من البیت فاسد إلا أنہ یجوز استعارة الحلي للتزین بہا وہذا ما تختلف بہ الإعارة عن الإجارة فالإعارة فیہ جائزة والإجارة فاسدة (درر الحکام شرح مجلة الأحکام لعلي حیدر، ۱: ۴۴۱، ۴۴۲، ط: دار عالم الکتب الریاض)۔

https://www.banuri.edu.pk/readquestion/koi-kampnye-mien-rjistrad-hokr-kmayi-krnye-ka-hukm-144608100408/05-02-2025#:~:text=%D9%85%D8%B0%DA%A9%D9%88%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%D9%85%D9%BE%D9%86%DB%8C%20%D8%B3%DB%92%20%D8%B1%D9%82%D9%85%20%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84,%D9%BE%DB%8C%D8%B3%DB%81%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%DB%94

koi کمپنی میں رجسٹرڈ ہوکر کمائی کرنے کا حکم

سوال: انٹرنیٹ پر KOI کے نام سے ایک  کمپنی ہے، اس میں آن لائن لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے، اِس کمپنی کا  کام یہ ہے کہ دنیا بھر میں جو مختلف کمپنیز  اور ایپس ہیں KOI ان سے اس بات کا کانٹریکٹ لیتی ہے کہ ہم آپ کی کمپنی کو لوگوں میں متعارف کروائیں گے اور اس کی تشہیر کریں گے اور آپ کے ڈاؤن لوڈرز بڑھائیں گے، اس کے لیے وہ ان کمپنیز سے پیسہ لیتی ہے، اور پھر لوگوں کو آن لائن بھرتی کرتی ہے اور آن لائن بھرتی کرنے والوں سے بھی وہ کچھ رقم انویسٹمنٹ کے طور پر لیتی ہے، جیسے: سب سے چھوٹی انویسٹمنٹ 6400 روپے کی ہے اور اس کے بعد اس سے بڑی، پھر اس سے بھی بڑی انوسمنٹ کی جاتی ہے، اور سب سے آخر میں 20,000,000 تک کی انویسٹمنٹ ہے، سب سے چھوٹی انویسٹمنٹ میں روزانہ کے چار ٹاسک دیے جاتے ہیں کہ آپ کو چار مختلف ایپس کو ڈاؤن لوڈ کرنا ہے، ایک ایپ کے 50 روپے ملیں گے، تو ایک دن کے 200 روپے بن جاتے ہیں، اس طرح جب آپ کے اکاؤنٹ میں کچھ رقم جمع ہو جائے تو آپ اس کو جب چاہیں نکال سکتے ہیں، اور اس انویسٹمنٹ کی مدت ایک سال ہے ایک سال کے بعد جو رقم آپ نے ڈپازٹ کروائی تھی وہ رقم آپ کو واپس مل جائے گی، اور جو آپ نے منافع کمایا ہوگا وہ آپ کبھی بھی پورے سال میں نکال سکتے ہیں۔

اور کمپنی کے مطابق وہ لوگوں سے انویسٹمنٹ اس لیے لیتی ہیں تاکہ لوگ پوری توجہ سے کام کریں، اور جو کنٹریکٹ انہوں نے دوسری کمپنیز کے ساتھ سائن کیے ہیں اس میں کسی بھی کسی قسم کی رکاوٹ نہ پڑے، KOI کمپنی کے مالکان کا کہنا ہے کہ اگر ہم لوگوں سے انویسٹمنٹ نہ لیں تو لوگ جو مرضی آئے کریں گے اور کمپنی کے رولز کی نافرمانی کریں گے، اس لیے ان سے پیسے لینا ضروری ہوتا ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لوگ اپنا کام پورے دل سے اور توجہ سے کریں۔

اب اس کمپنی میں رجسٹرڈ ہوکر کمائی جائز ہے یا نہیں؟

جواب: صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمپنی  سے کمانے میں درج ذیل  شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں ،جس کی وجہ سے اس میں رجسٹرڈ ہوکر کمانا جائز نہیں  ہوگا:

1۔کمپنی کا ٹاسک(کام)  مکمل کرنے پر معاوضہ ملنا عقد اجارہ ہے،  لیکن اس کے لیے ابتدائی طور پر 6400  روپے جمع کرانے کی شرط لگانا ناجائز ہے، کیوں کہ اگر یہ رقم شرکت کے طور پر جمع کرائی جاتی ہے تو یہاں پر  شرکت اور اجارہ دونوں جمع ہوجائیں گے، جب کہ شریک کو اجارے پر رکھنا درست نہیں، اور اگر سیکورٹی ڈپازٹ کے طور پر جمع کرائی جاتی ہے تو یہاں املاک نہ ہونے کی وجہ سے سیکورٹی ڈپازٹ کے طور پر رقم جمع کرانے کی شرط  درست نہیں۔

2-  ٹاسک کرنایہ ایک بے مقصد اور بے فائدہ عمل ہے؛ کیوں کہ مسئولہ صورت میں اشیا کی خریداری مقصود نہیں ہوتی، صرف متعدد کمپنیوں کے ڈاؤن لوڈز سے افراد کے ذریعے بڑھانا مطلوب ہوتا ہے، جن کا مقصد اشیاء کی خریداری نہیں ہوتا، پس شریعت میں بے مقصد اور بے فائدہ عمل پر اجارہ درست نہیں ؛ کیوں کہ صحت اجارہ کے لیے معقود علیہ کا منفعت مقصودہ ہونا ضروری ہے۔

3۔   اگر ان اشتہارات میں جان دار کی تصاویر یا خواتین کی تصاویر بھی ہوں تو یہ اور زیادہ شدید گناہ  ہے۔

4۔   عام طور پر اس نوع کی کمپنی سے مقصود  وڈیو ،ایپ،پروڈکٹ  وغیرہ کی تشہیر ہوتی ہے ،تاکہ خریدار / ناظرین کے اعداد و شمار بڑھ جائیں اور  دیگر لوگوں کو راغب کیا جائے حالاں کہ  اس طرح کرنے والے حقیقی خریدار  نہیں ہوتے،کمپنی / ایپ   والے پیسے دے کر جعلی تشہیر کرواتے ہیں جو کہ دھوکے پر مبنی ہے ۔

  مذکورہ کمپنی سے رقم حاصل کرنا چوں کہ شرعاً جائز نہیں، لہذا  اس طرح کی کمپنی  میں رجسٹرڈ ہونا یا اس سے پیسہ کمانا جائز نہیں ۔

مسند امام احمد میں ہے :

“حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب.”  (‌‌تتمة مسند الأنصار،حديث أبي أمامة الباهلي، ج: 36، صفحہ: 504، رقم الحدیث: 22170، ط:  مؤسسة الرسالة)

شعب الإيمان میں ہے:

“عن سعيد بن عمير الأنصاري قال: ‌سئل ‌رسول ‌الله – ‌صلى ‌الله ‌عليه ‌وسلم – ‌أي ‌الكسب ‌أطيب؟ قال: عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور.”

(الثالث عشر من شعب الإيمان، ج4، ص434، رقم:1170، ط: مكتبة الرشد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

“(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له) ؛ لأنه لا يعمل شيئا لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه فلا يستحق الأجر.

(قوله فلا أجر له) أي لا المسمى ولا أجر المثل زيلعي؛ لأن الأجر يجب في الفاسدة إذا كان له نظير من الإجارة الجائزة وهذه لا نظير لها إتقاني، وظاهر كلام قاضي خان في الجامع أن العقد باطل؛ لأنه قال: لا ينعقد العقد تأمل.” (کتاب الإجارة، ج:6، ص:60، ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

“ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها والاستظلال بها؛ لأن هذه منفعة غير مقصودة من الشجر ولو اشترى ثمرة شجرة ثم استأجر الشجرة لتبقية ذلك فيه لم يجز؛ لأنه لا يقصد من الشجر هذا النوع من المنفعة وهو تبقية الثمر عليها فلم تكن منفعة مقصودة عادة وكذا لو استأجر الأرض التي فيها ذلك الشجر يصير مستأجرا باستئجار الأرض، ولا يجوز استئجار الشجر وقال أبو يوسف: إذا استأجر ثيابا ليبسطها ببيت ليزين بها ولا يجلس عليها فالإجارة فاسدة؛ لأن بسط الثياب من غير استعمال ليس منفعة مقصودة عادة وقال عمرو عن محمد في رجل استأجر دابة ليجنبها يتزين بها: فلا أجر عليه؛ لأن قود الدابة للتزين ليس بمنفعة مقصودة ولا يجوز استئجار الدراهم والدنانير ليزين الحانوت، ولا استئجار المسك، والعود وغيرهما من المشمومات للشم؛ لأنه ليس بمنفعة مقصودة ألا ترى أنه لا يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة والله عز وجل الموفق.”

)كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص:192، ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

“(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية.” )كتاب الإجارة، ج:6، ص:4، ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

“وعلى هذا يخرج ‌الاستئجار ‌على ‌المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح.” )كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص:189، ط: دار الكتب العلمية)

الموسوعة الفقهية الكويتية ميں هے:

“الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لايستحق به أجرة.”

(إجارة،‌‌ الفصل السابع،‌‌ الفرع الثالث،‌‌ الإجارة على المعاصي والطاعات، ج: 1، ص290،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية) فقط واللہ اعلم

https://www.banuri.edu.pk/readquestion/app-par-task-pure-kar-ke-pese-kamana-144503100188/17-09-2023#:~:text=1%DB%94%D8%A7%DB%8C%D9%BE%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%B9%D8%A7%D8%B3%DA%A9,%D9%81%D8%A7%D8%B3%D8%AF%20%DB%81%DB%92%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%C2%A0%20%D9%86%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%20%DB%81%DB%92%DB%94

ایپ پر ٹاسک پورے کر کے پیسے کمانا

سوال:  نیٹ پر ایک ایپ ہے جس پر آن لائن کام کرنا ہوتا ہے، کام ایسے کیا جاتا ہے کہ پہلے 4000 روپے ایزی پیسہ/جاز کیش کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں ،جس کے بعد روزانہ کے چار عدد ٹاسک دیے جاتے، جس میں کھانا بنانے کی ویڈیو ہوتی ہے اس کو پلے(چلا کر) کر کےلائک کرنا ہوتا ہے، جس کے 40 روپے ملتے ہیں اور روزانہ کے 160 روپے بنتے ہیں اور 7 دن کے بعد وہ روپے ایزی پیسہ/ جاز کیش کے ذریعے واپس لے سکتے ہیں، ابتدا میں 4000 روپے دیے جاتے وہ 12 مہینے تک چلتے ہیں، چھ ماہ کام کرنے پر ایپ جمع شدہ چار ہزار واپس کر دیتی ہے اپنے ریفرنس کے ذریعے کسی کو اس ایپ پر لانے کے 400 روپے دیے جاتے ہیں جب وہ اپنے 4000 روپے جمع کرواتا ہے، اسکے بارے میں پتہ کرنا ہے کہ یہ جائز ہےیانہیں؟

جواب: صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ایپ سے کمانے میں درج ذیل  شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں ،جس کی وجہ سے مذکورہ ایپ سے پیسے کمانا ناجائز ہے  :

1۔ایپ کا ٹاسک(کام)  مکمل کرنے پر پیسے ملنا اجارے کے حکم میں ہے لیکن اس کے لیے ابتدائی 4000  روپے جمع کرانے کی شرط لگانا شرط فاسد ہے اور  ناجائز ہے۔

2۔ابتداء 4000 روپے جو بعد میں واپس دیے جاتے ہیں ،قرض کے حکم میں ہیں، چناں چہ اس  رقم پر ایپ سے اضافی منافع حاصل   کرنا سود کے حکم میں ہے۔

3۔   عام طور پر اس نوع کی ایپ سے مقصود  وڈیو ،ایپ،پروڈکٹ  وغیرہ کی تشہیر ہوتی ہے ،تاکہ خریدار / ناظرین کے اعداد و شمار بڑھ جائیں اور  دیگر لوگوں کو راغب کیا جائے حالاں کہ  اس طرح کرنے والے حقیقی خریدار بھی نہیں ،کمپنی / ایپ   والے پیسے دے کر جعلی تشہیر کرواتے ہیں جو کہ دھوکے پر مبنی ہے-

4۔ اس میں کلک کرنے والا ایک ہی شخص کئی بار کلک کرتا ہے،  جس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اشتہار دیکھنے والے بہت سے لوگ ہیں، جس سے اشتہار دینے والوں کی ریٹنگ بڑھتی ہے، حال آں کہ یہ بات بھی خلافِ  واقعہ اور  دھوکا دہی  ہے۔

5۔  نیز ایڈ پر کلک ایسی چیز نہیں ہے جو منفعت مقصودہ ہو، اس لیے یہ اجارہ صحیح نہیں ہے۔

6۔   اگر ان اشتہارات میں جان دار کی تصاویر یا خواتین کے تصاویر بھی ہوں تو یہ اس پر مستزاد قباحت ہے۔

7۔  مذکورہ ایپ سے رقم حاصل کرنا چوں کہ شرعاً جائز نہیں ؛لہذا اس ایپ میں کسی کو انوائٹ کرکے اس کے عوض کمیشن لینا گناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے ناجائز ہے ۔ ۔

لہذا  اس طرح کی ویب سائٹ میں رجسٹرڈ ہونا یا اس سے پیسہ کمانا جائز نہیں ۔

فقط واللہ اعلم

 

Related Articles

Back to top button