Buying from a Store Owned by a Homosexual (Non-Muslim)
Question:
Salaam alaykum
Can you find out the Masla for me.
Is it permissible to support a store owned by a Homosexual (he is a non-Muslim)? They’re not selling anything related to homosexuality and there’s probably not many stores in Durban that stock what they sell.
Let me know
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
In principle, it is permissible to trade with any non-Muslim, provided that:
- There is no harm to the Muslim’s religion,
- The strength and interests of Muslims are not adversely affected, and
- The principles of Shari’ah are properly observed in the dealings.
It should be noted that Shari’ah prohibits close friendship, heartfelt attachment, and participation in the religious gatherings or rituals of non-Muslims. However, if commercial dealings are conducted while observing other Shari’ah rules, then business transactions with non-Muslims are not only permissible, but Muslims are also encouraged to exhibit Islamic ethics, which can serve as a means of inviting them toward Islam.[1]
And Allah Taʿāla Knows Best.
| Baba Abu Bakr
Student Darul Iftaa Accra, Ghana |
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa |
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] «بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 135): فصل في شرائط ركن البيع
(أما) شرائط الانعقاد فأنواع: بعضها يرجع إلى العاقد، وبعضها يرجع إلى نفس العقد، وبعضها يرجع إلى مكان العقد، وبعضها يرجع إلى المعقود عليه، (أما) الذي يرجع إلى العاقد فنوعان: أحدهما أن يكون عاقلا،……. وكذا إسلام البائع ليس بشرط لانعقاد البيع ولا لنفاذه ولا لصحته بالإجماع، فيجوز بيع الكافر وشراؤه
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 278): كتاب البيع
فشرائط العاقد: العقل فلا ينعقد بيع المجنون والصبي الذي لا يعقل، والعدد في العاقد فلا ينعقد بالوكيل من الجانبين إلا في الأب ووصيه،……
وليس من شرائط العاقد البلوغ فانعقد بيع الصبي وشراؤه موقوفا على إجازة وليه إن كان شراؤه لنفسه ونافذا بلا عهدة عليه إن كان لغيره وليس من شرائطه الحرية فانعقد بيع العبد كالصبي في النوعين وليس منه الإسلام والنطق والصحو.
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 504) كتاب البيوع
وشرطه أهلية المتعاقدين
_________________
(قوله: وشرطه أهلية المتعاقدين) أي بكونهما عاقلين، ولا يشترط البلوغ والحرية. مطلب: شرائط البيع أنواع أربعة وذكر في البحر أن شرائط البيع أربعة أنواع: شرط انعقاد ونفاذ وصحة ولزوم. فالأول أربعة أنواع: في العاقد، وفي نفس العقد، وفي مكانه، وفي المعقود عليه، فشرائط العاقد اثنان: العقل والعدد، فلا ينعقد بيع مجنون وصبي لا يعقل، ولا وكيل من الجانبين، إلا في الأب ووصيه والقاضي، وشراء العبد نفسه من مولاه بأمره، والرسول من الجانبين. ولا يشترط فيه البلوغ ولا الحرية، فيصح بيع الصبي أو العبد لنفسه موقوفا ولغيره نافذا، ولا الإسلام والنطق والصحو.
فتاوى دار العلوم زكريا ط زمزم پبليشر (5/230)
الجواب والله الموفق للصواب:
عام حالات ات میں یہودو نصاری اور دیگر غیر مسلموں کے ساتھ معاملات کرنا جب کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ برسر پیکار نہ ہوں شرعاً جائز اور درست ہے ، قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ولا ينهكم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم … الخ . (سورة الممتحنة، الآية: (۸).
انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہود و نصاری کے ساتھ معاملات فرمائے تھے۔ ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف
میں ہے:
“عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم اشترى طعاماً من رجل يهودي إلى أجل ورهنه درعاً من حديد . (رواه البخاری: ۲۷۷/۱).
انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود خیبر کے ساتھ مزارعت کا معاملہ فرمایا تھا۔
قام عمر خطيباً فقال : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عامل يهود خيبر على أموالهم وقال : نقركم ما أقركم الله . (رواه البخاري: ۳۷۷/۱).
حضرت جابر بن عبد اللہ ﷺ غیر مسلموں کے ساتھ معاملات کرتے تھے :
عن جابر بن عبد الله له قال : كان بالمدينة يهودي وكان يسلفني في تمري إلى الجذاذ. (رواه البخاري، كتاب الاطعمة، (۸۱۸/۲).
وعنه أنه أخبره أن أباه توفي وترك عليه ثلاثين وسقاً لرجل من اليهود. (رواه البخاري: كتاب الاستقراض، ٣٢٢/١).
دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
غیر مسلم کے ساتھ کاروبار کرنا
سوال: غیر مسلم ممالک میں رہتے ہوئے وہاں کے باشندوں کے ساتھ تجارت کرنا کیسا ہے ؟
جواب: واضح رہے کہ غیرمسلم ممالک میں رہتے ہوئے وہاں کے باشندوں کے ساتھ تجارتی معاملات جائز ہیں۔
لہذا صورت مسئولہ میں کسی غیر مسلم کےساتھ کا روبار کرنا شرعا جائز ہے۔بشرطیکہ مسلمانوں کا دینی لحاظ سے کوئی نقصان نہ ہوتا ہو اور نہ مسلمانوں کی طاقت وقوت اس سے متاثرہو تی ہواور کا روبار میں شرعی اصولوں کا لحاظ کیا گیا ہو ۔
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ. (صحيح مسلم، كتاب البيوع،باب الرهن وجوازه فى الحضر كالسفر، ج: ٢/ص: ٣١)
أجمع المسلمون على جواز معاملة أهل الذمة وغيرهم من الكفار إذا لم يتحقق تحريم ما معه لكن لا يجوز للمسلم أن يبيع أهل الحرب سلاحا وآلة حرب ولا يستعينون به في إقامة دينهم. (شرح النووى على المسلم، باب الرهن وجوازه فى الحضر كالسفر، ج:٧ /ص: ٤٣٥٥، دار الفكر)
لا بأس بأن يكون بين المسلم و الذمى معاملة،إذا كان مما لا بد منه. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، ج: ٥/ص: ٤٠٢)
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
غیر مسلم کے ساتھ کاروبار کا حکم
سوال: غیر مسلم کے ساتھ کاروبار کرنا جائز ہے، آ ج کل کال سینٹر پر کام ہو رہا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ غیر مسلم سے دوستانہ ، دلی تعلق اور ان کی مذہبی مجالس اور معاملات میں شرکت سے شریعت نے منع کیاہے، باقی تجارتی معاملات ان کے شرعی احکامات کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں تو نہ صرف تجارتی معاملات غیر مسلم کے ساتھ جائز ہیں، بلکہ اسلامی اخلاق کے ذریعے ان کی تبلیغ اور اسلام کی طرف راغب کرنے کی بھی تعلیم ہے۔
لہذا صورت ِ مسئولہ میں کسی غیر مسلم کے ساتھ کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے بشرط یہ کہ مسلمان کا دینی لحاظ سے بھی کوئی نقصان نہ ہو اور مسلمانوں کی طاقت وقوت بھی اس سے متاثر نہ ہوتی ہو اور کاروبار میں شرعی اصولوں کالحاظ رکھاجاتاہو۔
باقی کال سینٹر پر کام کرنے کے بارے میں حکم یہ ہے کہ کال سینٹر کسی ادارے کے ایسے انتظام وبندوبست کو کہا جاتا ہے جہاں کسٹمر اپنی شکایات کے حل یا معلومات کے حصول کے لیے فون کرے اور نمائندہ اس کو سہولت فراہم کرے؛ لہذا جو کال سینٹر ز کسی ادارے اور کمپنی میں شکایت سننے یا معلومات وغیرہ فراہم کرنے کے لیے قائم ہیں ، تو اس میں ملازمت جائز ہونے یا نا جائز ہونے کا مدار وہاں کے کام پر ہوگا، اگر اس ادارے یا کمپنی کا کام جائز کام ہو تو ملازمت کرنا جائز ہوگا، ورنہ نہیں۔اسی طرح جو کال سینٹر ز مستقل قائم ہیں اور بیرون ملک مختلف کمپنیوں کی اشیاء کی تشہیر کرکے اس کو فروخت کرتے ہیں، اگر یہ کام جائز اشیاء کا ہو، اور اس کام میں کوئی اور شرعی خرابی نہ پائی جائے تو کمیشن پر کام کرنا جائز ہے، لیکن اگر اس کام میں جھوٹ بولنا پڑتا ہو، کال سینٹر والے اپنے آپ کو اسی ملک کا ظاہر کرتے ہوں جس ملک میں کمپنی ہوتی ہے، اور اپنا نام بھی ان ہی ملکوں کے رہائشیوں کی طرح بتاتے ہوں؛ تاکہ خریدار یہ سمجھے کہ یہ ہمارے ملک میں ہی بیٹھ کر ہم سے سودا کررہے ہیں ، تو اس طرح جھوٹ بول کر کال سینٹر کا کام کرنا جائز نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
“لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية۔” (کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس عشر فی اهل الذمة، ج: ۵، ص: ۳۴۶، دارالفکر)
فتاوی محمودیہ میں ہے :
“کفار سے دوستانہ تعلق اور دلی محبت حرام ہے ،البتہ دنیوی معاملات میں لین دین وغیرہ بضرورت درست ہے ۔” (باب الموالات مع الکفار والفسقۃ، ج:۱۹ ، ص: ۵۴۶، فاروقیہ)
فتاوی شامی میں ہے :
“وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به و إن كان في الأصل فاسدًا؛ لكثرة التعامل و كثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.” (کتاب الإجارة، باب الاجارة الفاسدة، مطلب في أجرة الدلال، ج: ۶، ص: ۶۳، ط. سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے :
“و على هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لايصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعًا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح … وكذا لو استأجر رجلًا ليقتل له رجلًا أو ليسجنه أو ليضربه ظلمًا وكذا كل إجارة وقعت لمظلمة؛ لأنه استئجار لفعل المعصية فلايكون المعقود عليه مقدور الاستيفاء شرعا، فإن كان ذلك بحق بأن استأجر إنسانًا لقطع عضو جاز.” (كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج: ۴، ص: ۱۸۹، ط. دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم