Refund Query
Question:
Assalāmu ‘alaykum wa rahmatullāhi wa barakātuh Ulamā’
Trust you’re well
- If you buy goods from me and then years later once costing has changed
Can I come to you and say please refund me?
Stating that a Muslim should refund goods happily
- If I buy goods from someone’s company that I sell in my shop
Years pass the owner passes away Can I come 5 years later or 10 years later and make the same demand or request exchange of goods from the new owner of the business (could be the son for example)
Would this be permissible for me to do?
JazakumAllahu khayran
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Raḥmatullāhi Wa-Barakātuh
Islam encourages Muslims to conduct their transactions with kindness, leniency, and a spirit of accommodation. Nabi ﷺ emphasized the virtue of easing matters for others, particularly in dealings of trade and sale.
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أقال مسلما، أقاله الله عثرته يوم القيامة»
Abu Hurayrah (رضي الله عنه): Nabi (ﷺ) said:
“Whoever grants a Muslim a cancellation (of a sale), Allah will grant him relief from his slip (or hardship) on the Day of Resurrection.”
(Sunan Ibn Mājah, 2/741)
Also
«عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “رحم الله رجلا سمحا إذا باع، وإذا اشترى، وإذا اقتضى “.»
Jābir ibn ʿAbdullāh (رضي الله عنهما): The Messenger of Allah (ﷺ) said:
“May Allah show mercy to a man who adopts a kind attitude when he sells, buys and demands his due.”
(Ṣaḥīḥ al-Bukhārī, 3/168)
However, such encouragement does not imply that either party is entitled to make open-ended demands or impose conditions indefinitely. Sharīʿah upholds justice and fairness for both parties, and once a sale has been validly concluded, its terms cannot be undone unilaterally.
Therefore, In the case under discussion, a subsequent change in one’s costs or market prices is not, in itself, a sufficient Sharʿī basis to demand a refund. Unless the other party willingly agrees to reverse the transaction, no refund is due. [1]
And Allah Taʿāla Knows Best.
Baba Abu Bakr
Student –Darul Iftaa
Accra, Ghana
Checked and Approved by
Mufti Muhammad Zakariyya Desai
[1] مختصر القدوري ١/٨٥ — القدوري (ت ٤٢٨) – كتاب البيوع←باب الإقالة
«جائزة في البيع بمثل الثمن الأول فإن شرط أقل منه أو أكثر فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول وهي فسخ في حق المتعاقدين بيع جديد في حق غيرهما في قول أبي حنيفة وهلاك الثمن لا يمنع صحة الإقالة وهلاك المبيع يمنع منها فإن هلك بعض المبيع جازت الإقالة في باقيه»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٥/٣٠٨ — الكاساني (ت ٥٨٧)
«وأما شرائط صحة الإقالة (فمنها) رضا المتقايلين أما على أصل أبي يوسف فظاهر؛ لأنه بيع مطلق، والرضا شرط صحة البياعات.
وأما على أصل أبي حنيفة ومحمد وزفر فلأنها فسخ العقد، والعقد لم ينعقد على الصحة إلا بتراضيهما»
الهداية في شرح بداية المبتدي ٣/٢٣ — المرغيناني (ت ٥٩٣) المجلد الثالث←كتاب البيوع←كيفية انعقاد البيع←مدخل
«وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية.
وقال الشافعي رحمه الله يثبت لكل واحد منهما خيار المجلس لقوله عليه الصلاة والسلام: “المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا” ولنا أن في الفسخ إبطال حق الآخر فلا يجوز. والحديث محمول على خيار القبول. وفيه إشارة إليه فإنهما متبايعان حالة المباشرة لا بعدها أو يحتمله فيحمل عليه، والتفرق فيه تفرق الأقوال.»
«معراج الدراية في شرح الهداية» قوام الدين الكاكي الحنفي (ت 749 هـ) (5/ 631):
وقولنا: (خيار الشرط) من قبيل إضافة الحكم إلى سببه؛ لأنه يحصل بالشرط، وحقه ألا يثبت؛ لما روي أنه عليه السلام «نهى عن بيع وشرط» ولأن فيه معنى الغرر، وفيه معنى القمار، فلا يليق ذلك في الإثباتات، لكن لما ورد النص أظهرنا عمله في منع الحكم دون السبب؛ تقليلا لعمله بقدر الإمكان.
وشرط الخيار جائز بإجماع الفقهاء والعلماء، ولكن اختلفوا في مدته، ويجوز للبائع وللمشتري، أو لهما معا، أو لغيرهما، وفي غيرهما أصلان يجيء.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ٦/١١٠ — زين الدين ابن نجيم (ت ٩٧٠) كتاب البيع] ← [باب الإقالة] ← [ركن الإقالة]
«وأما شرائط صحتها فمنها رضا المتعاقدين لأن الكلام في رفع عقد لازم، وأما رفع ما ليس بلازم فلمن له الخيار بعلم صاحبه لا برضاه، ومنها بقاء المحل لما سيأتي أن المبيع إذا هلك لم تصح الإقالة، ومنها قبض بدلي الصرف في إقالة الصرف أما على قول أبي يوسف فظاهر لأنها بيع، وأما على أصلهما فلأنها بيع في حق ثالث، وهو حق الشرع، ومنها أن يكون المبيع قابلا للفسخ بخيار من الخيارات فلو ازداد زيادة تمنع الفسخ لم تصح الإقالة خلافا لهما، ولا يشترط لصحتها بقاء المتعاقدين فتصح إقالة الوارث والوصي ولا تصح إقالة الموصى له»
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ٣/٨ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)
«وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية كذا في الهداية ولا يحتاج في تمام العقد إلى إجازة البائع بعد ذلك وبه قال العامة وهو الصحيح»
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ٣/١٥٧ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)
«وشرط صحة الإقالة رضا المتقائلين والمجلس وتقابض بدل الصرف في إقالته وأن يكون المبيع محل الفسخ بسائر أسباب الفسخ كالرد بخيار الشرط والرؤية والعيب عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – فإن لم يكن بأن ازداد زيادة تمنع الفسخ بهذه الأسباب لا تصح عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – وقيام المبيع وقت الإقالة فإن كان هالكا وقت الإقالة لم تصح وأما قيام الثمن وقت الإقالة فليس بشرط.»
فتاوی دار العلوم زکریا افادات حضرت مفتی رضاء والحق حب مد ظله شيخ الحديث ومفتى دار العلوم زكريا ، جنوبي افريقه زمزم پبلشرز(5/88-90)
مبیع کی قیمت بڑھ جانے پر فسخ کرنے کا حکم :
سوال: ایک شخص نے بوقت حاجت شدیدہ اپنا ایک مکان اپنی بہن اور بہنوئی کو دوسرے تین بھائیوں اور اپنی بیوی کی موجودگی میں دولاکھ میں ہزار معجل قیمت پر بیچا، پھر البر کہ بینک کے پاس معاملہ پہنچا بینک نے کا غذات طلب کیے لیکن مکان کے کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے پوری رقم ادا نہ ہو سکی اور البر کہ بینک نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے سے انکار کر دیا، تو بائع اور مشتری دونوں نے اپس میں معاملہ طے کر لیا اور مشتری نے ۵۰ ہزار ریند نقد ادا کر دئے اور باقی قسطوں پر کر دئے گئے ہر ماہ کی قسط متعین بتھی بلکہ مشتری کی صوابدید پر موقوف تھی ، اب بائع نے اپریل ۲۰۰۸ میں قیمت لینے سے منع کیا لیکن بعد میں مشتری نے ۲۵ اپریل کو بینک کے واسطہ سے چیک بھیجا تو بائع نے وصول کر لیا اور اس کا کہنا ہے کہ قیمت بہت کم ہے مکان کی ویلیوز یادہ ہے لہذا میں اس قیمت پر راضی نہیں ہوں ۔ جب کہ مشتری پانچ قسطیں ادا کر چکا ہے اور صرف ۴۰ ہزار باقی رہ گئے ہیں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ شریعت کی نگاہ میں اس مکان کا مالک کون ہے؟ کیا بائع کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟
الجواب: صورت مسئولہ میں جانین سے رضا مندی کے ساتھ ایجاب و قبول ہوگیا ،لہذا ابی تام ہوگئی اور مشتری مکان کا مالک بن گیا اب بائع کو فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے، اور جو قیمت معتبل تھی وہ بائع نے خود اپنی رضا مندی سے قسطوں پر کر دی کیونکہ البر کہ بینک نے مکان کے کاغذات طلب کیے اور بائع کے پاس موجود نہ تھے لہذا پوری قیمت وصول نہ ہو سکی۔
(۲) دوسری بات یہ ہے کہ جائداد مثلاً مکانات ، زمین ، دیگر اشیاء اور ضرورت کی چیزیں بلکہ اشیائے خوردنی میں بھی روز بروز ترقی ہوتی ہے اور کافی مہنگی ہو رہی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قیمت کے بڑھنے کی وجہ سے فروخت شدہ مکان واپس طلب کرے بلکہ جو قیمت طے ہوئی ہے اس پر عقد برقرار رہیگا یہاں تک کہ پوری قیمت ادا کر دی جائے ۔
(۳) نیز خرید و فروخت میں عاقدین کے عقد کے وقت بازاری قیمت کا اعتبار ہوتا ہے عقد ہو جانے کے بعد قیمت بڑھ جائے یا کم ہو جائے اس سے عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا ، بلکہ عاقدین آپس میں جو بھی ثمن طے کر لیں پر اس کا اعتبار ہوگا اگر چہ بازاری قیمت اس سے کم ہو یا زیادہ قسطیں بھی طے شدہ ثمن کے مطابق ہی ادا کر دی جائیں گی اس میں تبدیلی نہیں ہوگی مگر مشتری اپنی طرف سے کچھ زیادہ دیدے تو اس کا احسان ہے اور یہ جائز ہے ور نہ بائع کو طے شدہ ثمن سے زیادہ وصول کرنے کا حق نہیں ہے ۔
(۴) جب بائع نے قسطوں کو مشتری کی صوابدید پر چھوڑ دیا کوئی وقت متعین نہیں کیا تب بھی عقد صحیح اور درست ہے اور مشتری کو اختیار رہیگا کہ وہ ماہانہ جتنا ادا کرنا چاہے ادا کر دے لیکن کچھ نہ کچھ ادا کر نا ضروری ہوگا۔ ہاں پوری قیمت عقد کے وقت متعین ہونا ضروری ہے تا کہ بعد میں جھگڑا نہ ہو جیسا کہ صورت مسئولہ میں کل قیمت دولاکھ ۲۰ ہزار متعین ہے تو یہ عقد بالکل صحیح ہے۔
(۵) پانچ قسطیں وصول کرنے کے بعد صرف ۴۰ ہزار رہ گئے اب یہ کہنا کہ میں راضی نہیں ہوں میچ نہیں ہے اور اس سے عقد پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا ۔
فتاوى قاسمية حضرت مولانا مفتى شير احمد القاسمي خادم الافتاء والحديث جامعه قاسميه ناشر مكتبة الشرفيه ، ديو بنك الهند (19/369-370)
بیچ تام اور لازم ہونے کے بعد معاملہ منسوخ کرنے کا حکم
سوال [۸۶۵۴] کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : ایک جائیداد ( نشست گاه) واقع محلہ کشکوئی چاند پور ضلع بجنور جس کا رقبہ تقریباً تمیں گز ہے جو کہ ترکہ پدری جناب حکیم سید ابن حسن صاحب مرحوم سے چاروں بھائیوں کو وراثت میں پہنچی، والدین کے انتقال کے بعد چاروں بھائیوں کی باہمی رضا مندی سے یہ طے پایا کہ جائیداد قلیل ہونے کی وجہ سے اس کو تقسیم کر کے ہر حصہ قابل تعمیر نہ رہے گا؟ لہذا اس کی قیمت اسی ہزار روپئے قائم کر کے طے پایا کہ اس کو کسی ایک بھائی کو دے دیا جائے، خریدنے والا بھائی ان تینوں بھائیوں کو ان کے حصہ کی قیمت ادا کر دے اور جائیداد مذکورہ کو اپنے نام کرالے؛ لہذا سب سے بڑے بھائی سے چھوٹے احمد اشرف نے اس کو لینا اور تینوں بھائیوں نے اس کو دینا قبول کیا ، بڑے بھائی غلام غوث نے احمد اشرف سے دس ہزار نقد لے لیا، دس ہزار باقی رہا، اس کے چار سال بعد بڑے بھائی کا انتقال ہو گیا، باقی چھوٹے دونوں بھائیوں نے بھی اپنے حصہ کی رقم میں ہیں ہزار روپے اپنے خریدار بھائی سے وصول کر لی؛ البتہ بڑے بھائی مرحوم کے دس ہزار روپئے اب بھی باقی ہیں، کیا بڑے بھائی مرحوم کی اہلیہ یا ان کی کسی اولاد کو اس فیصلہ کے منسوخ کرنے کا شرعا حق حاصل ہے، جو فیصلہ بڑے بھائی مرحوم کر گئے ہیں ، اس تحریر کے مطابق شریعت کا کیا فیصلہ ہے؟
المستفنى: احمد اشرف جیلانی محلہ کشکوئی چاند پور ، بجنور
باسمہ سبحانہ تعالی
الجواب وبالله التوفیق: جب چاروں بھائیوں نے مل کر آپسی رضامندی کے ساتھ مذکورہ معاملہ طے کر لیا تھا، تو اب اس پر قائم رہنا لازم ہے، بڑے بھائی کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ یا دیگر وارث کو مذکورہ معاملہ منسوخ کرنے کا شرعا حق نہیں ہے؛ بلکہ یہ معاملہ لازم اور تام ہو چکا ہے؛ اس لئے اسی پر قائم رہنا ضروری ہے، ہاں البتہ جو دس ہزار روپیہ باقی ہے وہ بلا تاخیر ادا کر دینا چاہئے۔