MadrasahWAQF

Madrassah funds for teachers’ meals

Question:

Assalamualaikum wa rahmatullahi wa barakatuhu

Please assist with the following questions:

We are running a part time Arabic Madrasah for adults for which I have been appointed as the Zimmedaar.

When we have teachers’ workshops and meetings food or snacks are normally provided for the teachers.

Is it ok to use Madrasah funds for this as this is for the teachers?

  1. The Madrasah does not collect Zakaat funds.

Secondly what is the ruling with regards to the leftovers?

These are perishable items and obviously can’t be stored. Who can take it and who can’t? What should be done with it?

Please enlighten me in the light of our beautiful Deen.

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

In principle, if donors have donated Lillah money for a specific purpose such as providing meals or books for the students, etc. it will not be permissible to use the money for any other purpose. However, if they did not specify the avenue in which the fund may be used and have left it to the discretion of the administration, it will be permissible to use the funds to feed the teachers when they have workshops and meeting.

As for the leftovers, it may be given to the students or anyone related to the Madrassah (such as workers, etc.). Nevertheless, it is crucial to make sure beforehand that only the amount needed for the participants is prepared.[i]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Suale Maguene Faine

Student-Darul Iftaa
Mozambique

Checked and Approved by,

Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
 

[i] «المبسوط للسرخسي» (٣/ 12):

«وحديث زينب – رضي الله عنها – محمول على ‌صدقة ‌التطوع فقد روي أنها كانت امرأة ضيقة اليد تعمل للناس وتتصدق من ذلك وبه نقول أنه يجوز صرف ‌صدقة ‌التطوع لكل واحد منهما (أي من الزوجين) إلى صاحبه وكذلك لو أعطى غنيا،»

«تحفة الفقهاء» (١/ 301):

«فأما ‌صدقة ‌التطوع فيجوز صرفها إلى الغني وتحل له وتكون بمنزلة الهبة له……………………..وأما ‌صدقة ‌التطوع فيجوز صرفها إلى هؤلاء لقوله عليه السلام نفقة الرجل على نفسه صدقة وعلى عياله صدقة وكل معروف صدقة وهذا الذي ذكرنا في حالة الاختيار وهو أن يكون للدافع علم بهؤلاء عند الدفع»

«الموسوعة الفقهية الكويتية» (٢٦/ 332):

«الأصل أن ‌الصدقة ‌تعطى للفقراء والمحتاجين، وهذا هو الأفضل، كما صرح به الفقهاء. وذلك لقوله تعالى: {أو مسكينا ذا متربة} واتفقوا على أنها تحل للغني؛ لأن صدقة التطوع كالهبة فتصح للغني والفقير. قال السرخسي: ثم التصدق على الغني يكون قربة يستحق بها الثواب، فقد يكون غنيا يملك النصاب، وله عيال كثيرة، والناس يتصدقون على مثل هذا لنيل الثواب. لكن يستحب للغني التنزه عنها، ويكره له التعرض لأخذها؛ لأن الله تعالى مدح المتعففين عن السؤال مع وجود حاجتهم، فقال: {يحسبهم الجاهل أغنياء من التعفف} ويكره له أخذها وإن لم يتعرض لها. ويحرم عليه أخذها إن أظهر الفاقة، كما يحرم أن يسأل، ويستوي في ذلك الغني بالمال، والغني بالكسب،»

إمداد المفتين لمفتي محمد شفيع صاحب ط دار الإشاعت (2\231) نقد روپیه، قرض، یا مشترک باغ کو وقف کرنا جو موروثی زمین پر واقع ہو:

(سوال ٦٥٢)

نقد روپیہ کا وقف کرنا صحیح ہے یا نہیں۔

(۲)

دین کا یعنی جو کسی پر قرض ہو وقف کرنا صحیح ہے یا نہیں.

(۳)

ایسے باغ کا وقف کرنا صحیح ہے یا نہیں جو مشترک ہو اور ایسی زمین پر واقع ہو جو کرایہ کی ہے لیکن قانون وقف کی رو سے وہ موروثی ہے یعنی نسلاً بعد نسل اسی پر قبضہ رہ سکتا ہے نیز مالک زمین غیر مسلم ہے.

(الجواب) (۱)

جن بلاد میں نقد روپیہ کا وقف کرنا متعارف ہو وہاں جائز ہے جہاں متعارف نہ ہو وہاں جائز نہیں اور عصر حاضر میں وقف در اہم ودنا نیز عامہ بلاد میں متعارف ہو گیا ہے اس لئے جائز ہے۔

قال في قانون العدل والانصاف معزيا للدر المختار وحواشيه رد المحتار: ولما جرى التعارف به وتعورف وقفه في بعض البلاد والدراهم والدنانير والحبوب ونحوها من المكيلات والموزونات والأكسية للفقراء فيجوز وقفها في البلاد التي تعورف فيها وقفها ولا يجوز في البلاد التي لم يتعارف وقفها فيها فالعبرة في ذلك بعرف كل بلاداه (ص18).

«الفتاوى الهندية» (٢/ 362):

«‌ولو ‌وقف ‌دراهم ‌أو مكيلا أو ثيابا لم يجز وقيل في موضع تعارفوا ذلك يفتى بالجواز قيل: كيف؟ قال الدراهم تقرض للفقراء ثم يقبضها أو تدفع مضاربة به ويتصدق بالربح.»

(2) «الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص370): «(‌ولا ‌يتم) ‌الوقف (‌حتى يقبض)» وأقره الشامي عبارت مرقومہ سے معلوم ہوا کہ دین کا وقف صحیح تو ہو جائے گالیکن تجمیل اور اہتمام وقف کا قبض دین پر موقوف رہے گا.

فتاوى محمودية لمفتي محمود حسن كنكوهي ط كراتشي (9\245) للہ دی گئی اشیاء کا تنخواہ میں استعمال:

سوال [۴۷۳۷]: صدقہ نافلہ، کفارہ قسم، کفارہ ظہار کے نام سے جور میں یا اشیاء موصول ہوں ان کو تنخواہوں میں دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

 

 ………… کفارہ ظہار کی رقموں کا مستحق زکوۃ کو مالک بنادینا ضروری ہے معلمین کی تنخواہوں میں دینا جائز نہیں ورنہ کفارہ ادا نہیں ہوگا، جو غلہ وغیرہ اس مد میں آئے اس کا بھی یہی حکم ہے، جو اشیاء محض تحصیل ثواب کے لئے دی جائیں کسی واجب کا ادا کرنا ان سے مقصود نہ ہوان کو تنخواہ میں دینا بھی درست ہے. فقط واللہ تعالیٰ اعلم.

فتاوى محمودية لمفتي محمود حسن كنكوهي ط مكتبة محمودية (21\226) زید نے جس کام کیلئے روپیہ دیا ہے اسکو اسی کام میں صرف کرنا چاہئے:

سوال: زید نے مسجد کی سفیدی کرانے کے لئے روپے دیئے یا کسی اور کام کا نام خاص کر دیا کہ ان روپے کو اس کام میں خرچ کرنا پیسے دینے والے کے بتائے ہوئے کام میں ہی خرچ کرنا چاہئے، یا مسجد کے دوسرے اخراجات مثلا: قتیل، لوٹے، فرش، رسی، بالٹی یا تعمیر مسجد یا خرچ بجلی میں خرچ کئے جاسکتے ہیں۔

الجواب حامد أو مصلياً

: جب معطی نے مصرف کی تعیین کر دی تو کسی دوسرے کام میں روپے خرچ نہ کریں۔

فتاوى قاسمية لمفتي سبير أحمد القاسمي ط ديوبند (19\157) مدرسے کے فنڈ سے مہمان نوازی کرنا:

سوال [۸۴۹۱]: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کیا مدرسہ کے فنڈ سے مہتم ضیافت کر سکتا ہے، چاہے ضیف سید ہو، تاجر ہو، عامی ہو، غیر عامی ہو، غریب ہو؟

الجواب وبالله التوفيق: اگر مدرسہ کو نفع کی توقع ہو اور چندہ دہندگان کی طرف سے صراحتاً یا دلالہ اجازت اور رضامندی ہو، تو مہمانوں کی ضیافت مدرسہ کی جانب سے کرنا درست ہے، یا مدرسہ میں باضابطہ ضیافت کا الگ سے فنڈ ہو، تو اس فنڈ سے کرنا درست ہے، ورنہ ذمہ دار اپنی جیب سے خرچ کرے.

كتاب النوازل لمفتي محمد سلمان منصوربوري ط دار الإشاعت (14\195) مدرسہ کی رقومات کو کس طرح خرچ کیا جائے؟

سوال (۶۱۲۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مدرسہ کے اندر جو چندہ کا مال آتا ہے، اُس کا مالک کس کو بنایا جائے ؟ اور خرچ کا طریقہ کیسے اختیار کیا جائے؟ بغیر مالک بنائے اور بغیر کوئی تدبیر کے اس مال کو خرچ کرنا درست ہے یا نہیں؟ نیز تدبیر کی صورت بھی متعین کی جائے اور آپ کے یہاں تدبیر کی کیا صورت اختیار کی جاتی ہے، اس کو بھی بتادیا جائے، اور بندہ کی اس معاملہ میں رہنمائی فرمائیں؟

باسمہ سبحانہ تعالیٰ: الجواب وبالله التوفيق: مدرسہ میں جور قومات آتی ہیں، اُن میں سے امدادی رقومات کو مدرسہ کے ذمہ داران حسب ضرورت مدرسہ کی کسی بھی مد میں لگا سکتے ہیں، لیکن جو زکوۃاور صدقات واجبہ کی رقومات ہیں، انہیں تعمیری تنخواہ وغیرہ میں براہ رأست خرچ کرنا جائز نہیں ہے؛ بلکہ انہیں زکوٰۃ کے مصارف ہی میں خرچ کرنا ضروری ہے، مثلاً نادار بچوں کے لئے کھانے اور وظیفہ کا نظم وغیرہ۔

فتاوى دار العلوم زكريا لمفتي رضاء الحق صاحب (4\636):

Back to top button