“two contracts in one contract” – YAGA
Question:
There is a website called Yaga where one can buy and sell items. However, at checkout, a buyer protection fee is charged. I would like to know whether trading on this website is permissible or not due to the buyer protection fee.
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
In the inquired scenario, buying and selling permissible items through Yaga is allowed, even if it charges a buyer protection fee.[1]
And Allah Ta’ala Knows Best.
| Baba Abu Bakr
Student Darul Iftaa Accra, Ghana |
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa |
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1]
https://support.yaga.co.za/hc/en-us/articles/22458127139357-Buyer-Protection
فقه البيوع على المذاهب الأربعة محمد تقى العثماني ط مكتبة معارف القرآن كراتشي (1/486).
فتاوى دار العلوم زكريا ط زمزم پبليشر(5/
عقدِ بیع میں مفت سروس کی شرط لگانے کا حکم:
سوال: بہت سی مرتبہ کمپنی والے بتلاتے ہیں کہ ہم مفت سروس کرتے ہیں، لیکن بعد میں سروس کی ضرورت ہوتی ہے تو پوری اجرت لیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ کیا سروس کی شرط لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اکابر رحمه الله کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ مفت سروس کی شرط ایسی ہے جیسے کسی دوکاندار سے چمڑا خریدنا اس شرط پر کہ بائع اس سے جوتا بنا دے گا، اور یہ باتفاقِ فقہاء جائز اور درست ہے، لہذا اس پر عمل ہونا چاہیے ہونا چاہیے ہاں اگر مشتری اس مشین کے کسی پرزے کو توڑ دے تو بائع یا کمپنی اس کی ذمہ دار نہیں ہو گی ۔
شرح مجلہ میں ہے:
وحاصل ما ذكره الفقهاء في البيع مع الشرط أن الشرط الذي يقترن به البيع إما أن يقتضيه العقد، وإما أن لا يقتضيه العقد لكن يلائمه، وإما أن لا يقتضيه العقد ولا يلائمه لكن قد جري العرف باشتراطه، وإما أن لا يقتضيه العقد ولا يلائمه ولا جري العرف باشتراطه، لكن لا منفعة فيه لا حد، فالبيع في هذه الوجوه الأربعة صحيح والشرط معتبر في الوجوه الثلاثة الأولى منها، ويلغو في الوجه الرابع. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، ۲/۵۹، الفصل الرابع في حق البيع بشرط).
مفتی تقی عثمانی صاحب تکملہ میں فرماتے ہیں:
وخلاصة مذهب الحنفية في ذلك أنه إن كان شرطاً يقتضيه العقد، أو يلائم العقد أو شرطاً جري به التعامل بين الناس، فهو جائز ولا يفسد به البيع ومثال الشرط الذي جري به التعامل ما إذا اشتري نعلاً على أن يحذوه البائع أو جراباً على أن يخرزه له خفاً، قال السرخسي رحمه الله في المبسوط: وإن كان شرطاً لا يقتضيه العقد، وفيه عرف ظاهر فذلك جائز أيضاً، كما لو اشتري نعلاً وشراكاً بشرط أن يحذوه البائع، لأن الثابت بالعرف ثابت بدليل شرعي، ولأن في النزع عن العادة الظاهرة حرجاً بيناً، وقال الكاساني: في “البدائع: ۵/۱۷۲” والقياس أن لا يجوز وهو قول زفر رحمه الله، وجه القياس أن هذا شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد العاقدين، وإنه مفسد ولنا أن الناس تعاملوا هذا الشرط في البيع، كما تعاملوا الاستصناع فسقط القياس بتعامل الناس، كما سقط في الاستصناع. (تكملة فتح الملهم: ۱/٦۲۹، مسألة الشرط في البيع).
ہدایہ میں ہے:
ومن اشترى نعلاً على أن يحذوه البائع أو يشركه فالبيع فاسد وفي الاستحسان يجوز للتعامل فيه. (الهداية: ۳/٦۱).
جدید فقہی مسائل میں ہے:
اپنی مصنوعات کو فروغ دینے اور گاہکوں کی ترغیب کے لیے آج کل یہ صورت مروج ہے کہ خریدار کو ایک مدت تک سامان کی اصلاح اور مرمت کا تیقن دیا جاتا ہے، یہ مسئلہ اس لیے اہم ہے کہ شریعت نے خرید و فروخت میں کسی ایسی اضافی شرط کو جائز قرار نہیں دیا ہے، اسی بنا پر فقہاء نے ایسی شرطوں کی وجہ سے خرید و فروخت کے معاملے کو فاسد قرار دیا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس قسم کی گارنٹی کی وجہ سے یہ معاملہ ناجائز قرار پائے لیکن فقہاء کے نزدیک شریعت کی اس ممانعت کا منشا امکانی نزاع کا دروازہ بند کرنا ہے اور جو شرطیں معروف و مروج ہو جاتی ہیں وہ نزاع کا باعث نہیں بنتی ہیں، لہذا ایسی شرطوں کو جائز اور قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے ۔
صاحبِ ہدایہ ایسی شرطوں کو مستثنی قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
“إلا أن يكون متعارفاً”. (الهداية: ۳/۵۹، باب البيع الفاسد). (ماخوذ از جدید فقہی مسائل: ۱/۳۸۷، و کذا فی تقریر الترمذی: ۱/۱۰۹) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر شرط مفسدِ عقد نہیں بلکہ جو مفضی الی النزاع ہو وہ شرط مفسدِ عقد ہے، ورنہ جو مقتضائے عقد کے موافق ہو اور شرطِ ملائم ہو تو اس کی گنجائش ہے، اور آج اکثر شرائط عرف میں رائج ہیں اور مقتضائے عقد کے موافق بھی ہیں، لہذا فسادِ عقد کا حکم نہیں لگایا جائے گا ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ثم جملة المذهب فيه أن يقال كل شرط يقتضيه العقد كشرط الملك للمشتري لا يفسد العقد لثبوته بدون الشرط، وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا أو لأنه يقع بسببه المنازعة فيعري العقد عن مقصوده إلا أن يكون متعارفاً لأن العرف قاضٍ على القياس (الهداية: ۳/۵۹، باب البيع الفاسد).
کفایہ میں ہے:
وكذا كل شرط لا يقتضيه العقد إلا أنه يلائم البيع أي يؤكد موجبه كالبيع بشرط أن يعطي المشتري بالثمن رهناً أو كفيلاً وهو معلوم بالإشارة أو التسمية لا يفسد العقد أيضاً (الكفاية على هامش فتح القدير: ٦/۷۷، كتاب البيوع، مكتبه رشيديه).
مبسوط میں ہے:
وإن كان شرطاً لا يقتضيه العقد، وفيه عرف ظاهر، فذلك جائز أيضاً، لأن الثابت بالعرف ثابت بدليل شرعي، ولأن في النزع عن العادة الظاهرة حرجاً بيناً. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱۳/٤۱). وللاستزادة انظر: (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۸۷، ۸۸، مطلب في البيع بشرط فاسد، سعيد، وبدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ۵/۱۷۲، كتاب البيوع، سعيد، والفتاوى الهندية: ۳/۱۳۳، كتاب البيوع، وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/۷۷، كتاب البيوع، كوئته).
بیع بالشرط کے جواز پر اشکال:
اشکال: بیع بالشرط کے جواز پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ حدیث شریف میں نبی پاک ﷺ نے بیع بالشرط سے منع فرمایا ہے پھر کیسے آپ نے جائز کہا؟ حدیث ملاحظہ ہو: “نهى رسول الله ﷺ عن بيع وشرط”
اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ ایسا عقد ناجائز ہونا چاہیے؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث معلول بعلت ہے، یعنی جہاں نزاع اور جھگڑے کا اندیشہ ہو وہاں عقد فاسد ہو جائے گا، لیکن اگر نزاع کا احتمال نہ ہو تو عقد فاسد نہ ہوگا، گویا حدیث کا مطلب یہ ہوا: “نهى عن بيع وشرط إذا أدى إلى النزاع”.
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
فإن قلت: نهي ﷺ عن بيع وشرط، فيلزم أن يكون العرف قاضياً على الحديث، قلت: ليس بقاضٍ عليه، بل على القياس، لأن الحديث معلول بوقوع النزاع المخرج للعقد عن المقصود به، وهو قطع المنازعة، والعرف ينفي النزاع فكان موافقاً لمعني الحديث، فلم يبق من الموانع إلا القياس والعرف قاضٍ عليه قلت: وتدل عبارة البزازية والخانية، وكذا مسألة القبقاب على اعتبار العرف الحادث، ومقتضي هذا أنه لو حدث عرف في شرط غير الشرط في النعل والثوب والقبقاب أن يكون معتبراً إذا لم يؤد إلى المنازعة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۸۸، كتاب البيوع، سعيد). (وكذا في العناية على الهداية على هامش فتح القدير: ٦/٤٤۲، دار الفكر. والفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/٦۴، الأصل الجامع في بيان الشرط الفاسد). (وكذا في العناية على الهداية على هامش فتح القدير: ٦/٤٤۲، دار الفكر. والفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/٦۴، الأصل الجامع في بيان الشرط الفاسد).
مزید ملاحظہ ہو: (نشر العرف في بناء بعض الأحكام على العرف، وعمدة القاري: ۳/۵۰۰، باب ذكر البيع والشراء على المنبر في المسجد، ط: ملتان). مزید ملاحظہ ہو: (نشر العرف في بناء بعض الأحكام على العرف، وعمدة القاري: ۳/۵۰۰، باب ذكر البيع والشراء على المنبر في المسجد، ط: ملتان).
تکملہ فتح الملہم میں ہے:
وقد كثرت في عهدنا أنواع الشروط في البيوع والإجارات وغيرها فكل ما جري به التعامل العام كان جائز اً، مثل ما تعورف في العالم كله أن مشتري الثلاجات، والدافئات، والماكينات الأخرى يشترط على البائع القيام بتصليحها كلما عرضها فساد في حدود مدة معلومة، كالسنة أو السنتين مثلاً، فإن هذا الشرط جائز لشيوع التعامل بها. (تكملة فتح الملهم: ۱/٦۳۵، مسألة الشرط في البيع). واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
إمداد الفتاوى جديد مولانا أشرف علي تهانوي مكتبة زکریا بک ڈپو دیوبند (6/287)
بيع بشرط حمل بائع الخ
سوال (۱۶۱۵) قدیم ۲۲/۳ – یہاں دستور و عرف ہے کہ جب بقال سے ایک روپیہ یا زائد کا غلہ خریدا جاوے تو وہ مشتری کے مکان تک پہنچادیتا ہے یا مزدوری اس کی دید دیتا ہے یہ بیچ صحیح ہے نہیں؟
الجواب : اصل قاعدہ سے بائع کا پہنچانا درست نہیں ، مگر جہاں عام عادت ہو جاوے وہاں تعامل کے سبب جواز کی گنجائش ہے (۱) اور منظوری دیدینا ایک تاویل سے جائز ہے اور وہ تاویل حط ثمن ہے (۲) ۔
(1)کبھی کبھی عرف عام اور تعامل کی بنا پر قواعد اور اصول کو چھوڑ دیا جاتا ہے، جزئیات ملاحظہ ہوں:
قد اتفق مشايخنا في هذا الزمان فجعلوه بيعا جائزا مفيدا بعض أحكامه وهو الانتفاع به دون البعض، وهو البيع لحاجة الناس إليه ولتعاملهم فيه والقواعد قد تترك بالتعامل وجوز الاستصناع لذلك، وقال صاحب النهاية وعليه الفتوى. (تبيين الحقائق، كتاب الإكراه، إمداديه ملتان ١٨٤/٥ ، زکریا دیوبند (٦ / ٢٣٧)
والأحكام تبتني على العرف فيعتبر في كل إقليم وفي كل عصر عرف أهله (البحر الرائق، باب الحقوق، کراچی ١٣٦/٦ ، زكريا (٦ / ٢٢٨)
تترك الحقيقة بدلالة الاستعمال والعادة (الأشباه والنظائر، قديم ص: ١٥٠)
الأشياء على ظاهر ما جرت به العادة الأشباه والنظائر، قديم ص: ١٥٨))
والتعامل حجة يترك به القياس ويخص به الأثر عقود رسم المفتي سعيديه مظاهر علوم، ص: ۹۸، زکریا دیوبند ص: ۱۸۳))
(2) حط بعض الثمن صحيح . وإن كان البائع قد قبض الثمن وقال: حططت بعض الثمن منك صح، ووجب على البائع رد ذلك على المشتري (تاتارخانية، كتاب البيوع، نوع آخر: في الحط والإبراء عن الثمن، زكريا ٩ / ٤٧، رقم: ١٢٦٧٥)
ويجوز أن يحط عن الثمن …… فالزيادة والحط يلتحقان بأصل العقد عندنا. هداية، كتاب البيوع، باب المرابحة، مكتبه أشرفيه ديوبند (٧٦/٣)
شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
(6/379) جواز بعض صور صفقة في صفقة
سوال (۱۶۷۶): قدیم ٦٣/٣ – نهى عن صفقة في صفقة کے ظاہری معنی کے لحاظ سے بعض امور نا جائز معلوم ہوتے ہیں حالانکہ بکثرت خاص و عام میں شائع ہیں مثلاً گھڑی کی مرمت کہ ٹوٹے ہوئے پرزے کو نکال کر صحیح پر زہ لگادے گا تو اس پرزہ کی تو بیع ہے اور لگانے کا اجارہ۔
(۲) چار پائی بنوانا، اور بان اپنے پاس سے نہ دینا اس میں بان کی بیچ ہے ، اور بنے کا اجارہ۔
(۳) سقہ سے پانی لینا کہ جب اس نے کنوئیں سے پانی نکال کر اپنے ظروف میں لیا تو اس کی ملک ہو گیا سو پانی کی بیچ ہوئی اور وہاں سے لانے کا اجارہ نیز “بیع ما لیس عنده” بھی ہے۔
(۴) کوئی زیور یا انگوٹھی جڑنے کو دینا یہ نگینوں کی بیچ ہے اور لگانے کا اجارہ وغیرہ ۔ ذلک مـــــــن المعاملات الرابحة؟
الجواب : تعامل کی وجہ سے کہ بلانکیر شائع ہے جو ایک نوع کا اجماع ہے یہ سب معاملات جائز ہیں پس نص عام مخصوص البعض ہے جیسا فقہا نے صباغی و خیاطی میں اس کی اجازت دی ہے کہ صبغ اور حیط صانع کا ہوتا ہے اور اس میں اجارہ بھی ہوتا ہے ۔ وهذا ظاهر جدا . فقط واللہ اعلم
** A possible objection is that the Buyer Protection Fee combines a sale with another contract, namely the provision of payment protection, dispute resolution, and related services, thereby falling under the prohibition of “two contracts/conditions in one sale.”
The answer is that, according to the Hanafis, not every condition or additional service attached to a sale is impermissible. A condition that has become an established commercial practice (‘urf) is valid. Since charging a fee for facilitating online transactions, holding funds in escrow, handling disputes, and providing buyer protection has become a recognized feature of online marketplaces, it is regarded as a customary service incidental to the sale, not as a separate contract.
Similarly, modern examples such as a seller undertaking to install a product, register ownership, provide after-sales servicing, honour a warranty, or deliver the goods are considered valid conditions when they have become established commercial practices. They are therefore not treated as prohibited instances of “two contracts in one contract”, but rather as customary aspects of the sale recognized by the Sharīʿah through ʿurf and taʿāmul.
Therefore, the Buyer Protection Fee is permissible as ujrah (payment) for these services and does not fall under the prohibition of two contracts in one.