Using a Counterfeit note
Question:
Assalamualaykum.
I was given a fake note. Unfortunately, I do not recall from whom did I receive it.
Will it be permissible for me to give it to someone else as a payment?
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
Giving a counterfeit banknote to another person constitutes deception, and fraud. Therefore, it is impermissible to give it to someone else as payment.[1]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa
Port-louis, Mauritius
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] «الأصل» لمحمد بن الحسن (2/ 597): كتاب الصرف
وإذا اشترى الرجل عشرة دراهم بدينار وتقابضا وتفرقا ثم وجد فيها درهما نبهرجا أو لا تنفق غير أنه فضة أو زيفا فإنه يستبدله. وكذلك إن وجد فيها درهمين أو ثلاثة أو أقل من النصف. وإن وجد أكثر من النصف أو النصف سواء زيوفا فإن أبا حنيفة كان يقول بردها، ويكون شريكا في الدينار، ويقول: يستبدل ما بقي الأكثر، ولا يجوز أن يستبدلها. وقال أبو يوسف ومحمد: يجوز أن يستبدلها وإن وجد كلها زيوفا، لأنها فضة، ولأن البيع لم ينتقض. ألا ترى أنه لو شاء قال: أنا أجيزها عنك وأقبلها، فجاز ذلك لهذا. فكذلك النبهرج والدراهم التي لا تجوز، غير أنها فضة، فإنه يستبدلها. وهذا عند أبي يوسف ومحمد بمنزلة رجل اشترى عشرة دراهم بيض بدينار فدلس له البائع سودا مكانها وقبضا وتفرقا ثم علم بذلك، فإن شاء أجازها ورضي بها، وإن شاء ردها وأخذ مكانها بيضا كما شرط له.
«شرح مختصر الكرخي» (5/ 597): كتاب الصرف
2356 – فصل: [الشراء بفلوس كاسدة]
وإذا اشترى مبيعا بفلوس كاسدة أو بدراهم طبرية أو بخارية، أو مكحلة أو مزيفة في موضع لا ينفق، فالبيع فاسد إذا كانت بغير عينها، فإن كانت بعينها جاز؛ لأنها إذا كسدت فهي في حكم العروض، والشراء بعروض بغير عينها لا يجوز….
قال: وأكره أن يرضى بذلك، وأن ينفقه، وأن يشتري به وإن بين ذلك، وكذلك الزيوف والنبهرجة والستوقة أكره إنفاقها وإن بين، وإن تجاوز فيها البائع والمقتضي من قبل أن في إنفاقها ضررا على العوام، وما كان ضرره عاما فهو مكروه وليس يصلحه تراضي هذين الحاضرين، من قبل ما يتحرز به من الدلسة على الجاهل به، ومن الفاجر الذي لا يتحرج.
قال أبو يوسف: وكل شيء من ذلك لا يجوز بين الناس، فإنه ينبغي أن يقطع ويعاقب صاحبه إذا أنفقه وهو يعرفه. والله أعلم.
«مختصر القدوري» (ص91): باب الصرف
ويجوز البيع بالفلوس النافقة وإن لم تتعين وإن كانت كاسدة لم يجز البيع بها حتى يعينها
____________
«الجوهرة النيرة على مختصر القدوري» (1/ 224):
قوله: (وإن كانت كاسدة لم يجز البيع بها حتى يعينها) لأنها خرجت من أن تكون ثمنا وما ليس بثمن لا بد من تعيينه في حالة العقد كالثياب وقيد بالكساد؛ لأنها إذا غلت، أو رخصت كان عليه رد المثل بالاتفاق كذا في النهاية.
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 237): فصل في حكم البيع
ولو اشترى شيئا بفلوس كاسدة في موضع لا تنفق، فإن كانت بأعيانها جاز، وإن لم تكن معينة لم يجز؛ لأنها في ذلك الموضع عرض، والتعيين شرط الجواز في بيع العروض.
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص444): كتاب البيوع
وقال الثاني في رجل معه فضة نحاس: لا يبيعها حتى يبين، وكل شئ لا يجوز فإنه ينبغي أن يقطع ويعاقب صاحبه إذا أنفقه وهو يعرفه.
** The cited texts discuss currencies that are no longer in circulation or are of a lower grade, both of which still possess some intrinsic value. If the Shar’i ruling prohibits transactions involving such currencies in the manner described, then, a fortiori (بدرجة الأولى), the use of counterfeit currency, which has no intrinsic value and involves deception, is even more deserving of being ruled impermissible.
Although the ruling can be established directly by the Qur’an and Sunnah—such as the statement of Nabi ﷺ, “Whoever deceives us is not one of us”—the Fiqh texts are cited to demonstrate how the jurists applied this general principle to monetary transactions and analogous cases involving defective or invalid currency.
المسائل المهمة فيما ابتليت به العامة ط جامعة إسلامية إشاعت العلوم (7/198)
جعلی نوٹ دکاندار کو دینا
مسئلہ(۱۵۳): بسا اوقات کسی شخص کے پاس جعلی نوٹ آجاتا ہے، اُسے پتہ ہوتا ہے کہ یہ جعلی نوٹ ہے، اس کے باوجود وہ اسے آگے چلاتا ہے، اور اس سے اپنی ضرورت کی چیزیں خریدتا ہے، دکاندار کو نہیں بتاتا کہ یہ جعلی نوٹ ہے، جب کہ یہ دھوکہ دینے میں شامل ہے، اور اس پر لازم ہے کہ جس دکان سے جتنی خریداری کی اتنی صحیح رقم دکاندار کو کسی طریقہ سے ادا کردے، ظلم کوئی کرے اور بدلہ کسی اور سے لیا جائے، یہ عقلمندی وانصاف نہیں ، بلکہ جس نے یہ نوٹ دیا ہے اسی کو واپس کردے۔ (1)
الحجۃ علی ما قلنا :
(1) ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : رد العدلیات من لہ بصارۃ علی أنہا زیف فلیس لہ أن یدفع إلی من یأخذہا مکان الجیدۃ لأنہ تلبیس وغدر ۔ کذا في القنیۃ ۔ (۵/۳۶۷ ،کتاب الکراہیۃ ، الباب السابع والعشرون في القرض والدین)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : وروي عن أبي یوسف أنہ أنکر استقراض الدراہم المکحلۃ والمزیفۃ وکرہ انفاقہا ۔۔۔۔ ولو کان لہ علی رجل دراہم جیاد فأخذ منہ مزیفۃ أو مکحلۃ أو زیوفا أو نبہرجۃ أو ستوقۃ جاز في الحکم لأنہ یجوز بدون حقہ ، فکان کالحط عن حقہ ، إلا أنہ یکرہ لہ أن یرضی بہ وأن ینفقہ وإن بین وقت الإنفاق لا یخلو عن ضرر العامۃ بالتلبیس والتدریس ۔ (۶/۵۱۸، کتاب القرض ورکنہ)
ما في ’’ رد المحتار‘‘ : وعلی ہذا إذا قبض رجل دراہم علی رجل وقضاہا من غریمہ فوجدہا الغریم زیوفا فردہا علیہ بلا قضاء فلہ ردہا علی الأول ۔
(۷/۲۰۰ ، کتاب البیوع ، باب خیار العیب ، مطلب مہم قبض من غریمہ دراہم فوجدہا زیوفا الخ ، ط؛ بیروت) (فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۷۴۴۸)
جاننے كے باوجود جعلی نوٹ سے خریداری
سوال:برائے مہربانی یہ بتائے کہ – اگر میرے پاس پانچ سو روپے کا ایک نوٹ کہیں سے آیا جو جعلی تھا، مجھے پتہ چلا اور میں نے اسی نوٹ سے خریداری کی اور دوکاندار کو یہ نہیں بتایا کی نوٹ جعلی ہے – کیا یہ غلط ہے – یاد رہے نوٹ جیسے میرے پاس آیا تھا میں نے بھی ویسے اے اسے آگے چلا دیا –
جواب نمبر: 47448
بسم الله الرحمن الرحيم
مذکورہ بالا صورت میں اگر آپ کو قطعی طور پر یہ عمل ہوگیا تھا کہ یہ جعلی ہے تو آپ کے لیے اس رقم سے خریداری کرنا جائز نہ تھا، یہ دھوکہ میں شامل ہے جس نے آپ کو وہ نوٹ دیا تھا اگر اسی کو واپس کردیتے تو درست ہوتا لیکن دوسرے کو وہ نوٹ دینا صحیح نہ ہوا، آپ نے جتنے رقم کی خریداری کی اتنی صحیح رقم آپ دوبارہ اس دوکاندار کو کسی طریقے سے ادا کردیں، یہی اس کی تلافی کی صورت ہے، ظلم کوئی کرے اور بدلہ کسی دوسرے سے لیا جائے یہ کوئی عقلمندی نہیں ہے: ”رد العدلیات من لہ بصارة علے أنہ زیف فلیس لہ أن یدفع إلی من یأخذہا مکان الجیدة لأنہ تلبیس وغدر (عالمگیري: ۵/۳۶۷)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
اگر کسی کے پاس جعلی نوٹ آجائے تو کیا اسے آگے دے سکتے ہیں ؟
سوال: اگر کسی کو کوئی جعلی نوٹ دے جس کا اسے پتہ نہ چلے اور جب پتہ چلےاور یہ یاد نہ رہے کہ کس نے اسے دیا ہے تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟ مثلا اگر نوٹ 5000 کا ہو تو اتنے پیسے آدمی کا ضائع کرنا (یعنی ایسا نوٹ آگے کسی کو نہ دینا) ایک مشکل کام ہے۔
جواب: واضح رہے کہ کسی کو جعلی نوٹ دینا جعل سازی، دھوکا اور فراڈ ہونے کی وجہ سے شرعاً اور قانوناً ناجائز اور حرام ہے، اگر آپ کو کسی نے جعلی نوٹ دے کر دھوکا دیا ہے تو اس بنا پر شرعاً آپ کے لیے کسی اور کو دھوکا دینا قطعاً جائز نہیں ہے،لہذا ایسے امور میں ایمان والوں کو اللہ تعالی سے اچھے بدلے کی امید رکھنی چاہیے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
“رد العدليات من له بصارة على أنها زيف فليس له أن يدفع إلى من يأخذها مكان الجيدة لأنه تلبيس وغدر كذا في القنية.” (كتاب الكراهية،الباب السابع والعشرون في القرض والدين،ج5،ص367،ط:المطبعة الكبرى الأميرية)
مسند امام احمدؒ میں ہے :
“وعن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب.”
ترجمہ:” مومن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے.۔”
(تتمة مسند الأنصار، حديث أبي أمامة الباهلي الصدي بن عجلان بن عمرو، ج 36، ص 504، رقم: 22170، ط: مؤسسة الرسالة)
فقط واللہ اعلم