MISCELLANEOUS

Sadaqah on a New Born’s Hair

Question: 

Assalamualaykum

Respected mufti saheb

How much sadaqah should one pay on a new born baby’s hair that weighs 62g?

Request for duas

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Ramatullāhi Wa-Barakātuh

It is mustahabb (recommended) to give gold, silver, or their monetary equivalent in ṣadaqah equal to the weight of the hair.

We ask Allah ﷻ to make the child the coolness of your eyes, grant complete ʿāfiyah (well-being), and make them a means of hidāyah for all of humanity. [1]

And Allah Taʿāla Knows Best.

Baba Abu Bakr

Student Darul Iftaa

Accra, Ghana

Checked and Approved by

Mufti Muhammad Zakariyya Desai

[1] التجريد للقدوري ١٢/‏٦٣٥٦ — القدوري (ت ٤٢٨) كتاب الأضاحيمسألة ١٥٤٧ استحباب العقيقة

31337 – قال أصحابنا [رحمهما الله]: العقيقة مستحبة، وليست بسنة.

31338 – وقال الشافعي رحمه الله: هي سنة.

31339 – لنا: ما روى عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل عن العقيقة، فقال: (إن الله تعالى لا يحب العقوق) وكأنه كره الاسم. ثم قال: (من ولد له مولود وأحب أن ينسك عنه، فلينسك عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة). وكراهية الاسم تمنع كونها سنة.

31340 – ثم علقها بإرادته، ولو كانت مسنونة لم تقف على إرادته بعد وجود سببها.

31341 – قالوا: روي أنه قال: (إذا دخل العشر وأراد أحدكم أن يضحي).

31342 – قلنا: الإرادة هنا القصد الذي يخرج بها الساهي، وهاهنا علقة بالمحبة. ويدل عليه حديث أبي رافع أن فاطمة قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أعتق عن ولدى الحسين؟ قال: (لا، ولكن تصدقي ‌بوزن ‌شعره ‌فضة). ولو كان ذبحًا مسنونًا لم تقم الصدقة مقامه.»

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ٦/‏٣٣٦ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)

«‌يستحب ‌لمن ‌ولد ‌له ‌ولد ‌أن ‌يسميه ‌يوم ‌أسبوعه ‌ويحلق ‌رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا، والله تعالى أعلم.»

بهشتى زيور مكتبه تھانوى (3/ 43-42):

جس كے کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو بہتر ہے کہ ساتویں دن اسکا نام رکھ دے اور عقیقہ کردے۔ عقیقہ کر دینے سے بچہ کی سب الا بالا دور ہو جاتی ہے اور آفتوں سے حفاظت رہتی ہے۔ عقیقہ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر  لرکا ہو تو دو بکری یا دو بھیڑ اور لڑکی ہو تو ایک بکری یا بھیڑ ذبح کرے یا قربانی کی گائے میں لڑکے کی واسطے دو حصے اور لڑکی کے واسطے ایک حصہ لے لیوے اور سر کے بال منڈوا دیوے اور بال کے برابر چاندی یا سونا تول کر خیرات کردے اور بچہ کے سر میں اگر دل چاہے تو زعفران لگا دیوے۔ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرے تو جب کرے ساتویں دن ہونے کا خیال کرنا بہتر ہے۔ اور اسکا طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا ہو اس سے ایک دن پہلے عقیقہ کر دے یعنی اگر جمعہ کو پیدا ہوا ہو تو جمعرات کو عقیقہ کر دے اور اگر جمعرات کو پیدا ہوا ہو تو بدھ کو کرے چاہے جب کرے وہ حساب سے ساتواں دن پڑیگا۔ یہ جو دستور ہے کہ جس وقت بچہ کے سر پر استرار کھا جاوے اور نائی سر مونڈنا شروع کرے فوراً اسی وقت بکری ذبح ہو۔ یہ محض مہمل رسم ہے۔ شریعت سے سب جائز ہے چاہے سر مونڈنے کے بعد ذبح کرے یا ذبح کر کے تب سرمونڈے۔ بے وجہ ایسی باتیں تراش لینا برا ہے۔ جس جانور کی قربانی جائز نہیں اُسکا عقیقہ بھی درست نہیں اور جس کی قربانی درست ہے اسکا عقیقہ بھی درست ہے۔ عقیقہ کا گوشت چاہے کچا تقسیم کرے چاہے پکا کر کے بانٹے چاہے دعوت کر کے کھلا دے سب درست ہے۔ عقیقہ کا گوشت باپ، دادا، دادی نانا، نانی، وغیرہ سب کو کھانا درست ہے۔ کسی کو زیادہ توفیق نہیں اسلئے اس نے لڑکے کی طرف سے ایک ہی بکری کا عقیقہ کیا تو اسکا بھی کچھ حرج نہیں ہے۔ اور اگر بالکل عقیقہ ہی نہ کرے تو بھی کچھ حرج نہیں۔

 

Related Articles

Back to top button