DUAS

Reciting the ‘Quls’ Before Sleeping and the Method of Blowing

Question:

I would like to enquire about the Sunnah of sleeping i.e. Can you please provide details and how do we blow over the body after reading the quls. How many times do we read quls and how many times we blow?

Appreciate Jzk.

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

The method of reciting and blowing is as follows:

First, one will recite the four Quls:

·       (قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ )

·       (قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ )

·       (قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ )

·       (قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ )

Thereafter, cup the hands together and blow into them. The blowing should be such that along with the breath, fine particles of saliva also go forth.

Then, wipe the hands over the entire body, beginning from the head and face, followed by the front of the body as much as possible, then the back.

To attain the complete Sunnah, this entire procedure (reading, blowing and wiping) should be repeated two more times. [1]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Azhar Mownah

Student Darul Iftaa
Mauritius

Checked and Approved by,

Mufti Muhammad Zakariyya Desai.


[1]

صحيح البخاري ط ابن كثير(4/ 1916):

4729 – حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا المفضل، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة:

أن النبي صلى الله عليه وسلم ‌كان ‌إذا ‌أوى ‌إلى ‌فراشه ‌كل ‌ليلة، جمع كفيه ثم نفث فيهما، فقرأ فيهما: {قل هو الله أحد}. و {قل أعوذ برب الفلق}. و{قل أعوذ برب الناس}. ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده، يبدأ بهما على رأسه ووجهه، وما أقبل من جسده، يفعل ذلك ثلاث مرات.

…………..

الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري للكرماني الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت-لبنان (19/ 26):

فان قلت: علم من لفظ (يبدأ) المبتدأ فما المنتهى قلت محذوف تقديره ثم ينتهى إلى ما أدبر من جسده قال المظهري في شرح المصابيح ظاهر الحديث يدل على أنه نفث في كفه أولا ثم قرأ وهذا لم يقل به أحد ولا فائدة فيه ولعله سهو من الراوي والنفث ينبغي أن يكون بعد التلاوة ليوصل بركة القرآن الى بشرة القارئ والمقروء له فأجاب الطيبى عنه بأن الطعن فيما صح رواية لا يجوز وكيف والفاء فيه مثل ما في قوله تعالى ” فإذا قرأت القرآن فاستعذ” فالمعنى جمع كفيه ثم عزم على النفث فيه أو لعل السر في تقديم النفث مخالفة السحر.

عمدة القاري شرح صحيح البخاري للعيني دار إحياء التراث العربي، ودار الفكر (20/ 35):

قوله: (إذا أوى) ، يقال: أويت إلى منزلي، بقصر الألف، وأويت غيري وآويته بالقصر والمد. وأنكر بعضهم المقصور المتعدي، وأبى ذلك الأزهري فقال: هي لغة فصيحة. قوله: (يبدأ بهما) . إلخ. وعلم المبتدأ من لفظ: يبدأ، وأما المنتهى فلا يعلم إلا من مقدر تقديره: ثم ينتهي إلى ما أدبر من جسده. قال المطهري في شرح المصابيح: ظاهر الحديث يدل على أنه نفث في كفه أولا ثم ققرأ وهذا لم يقل به أحد ولا فائدة فيه. ولعله سهو من الراوي، والنفث ينبغي أن يكون بعد التلاوة ليوصل بركة القرآن إلى بشرة القارىء أو المقروء له، وأجاب الطيبي عنه: بأن الطعن فيما صحت روايته لا يجوز، وكيف والفاء فيه مثل ما في قوله تعالى: {فإذا قرأت القرآة فاستعذ} (النحل: 89) فالمعنى: جمع كفيه ثم عزم على النفث فيه أو لعل السر في تقديم النفث فيه مخالفة السحرة، والله أعلم.

إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري المؤلف: أبو العباس أحمد بن محمد القسطلاني الشافعي (851 – 923 هـ) الناشر: دار عطاءات العلم – دار ابن حزم (15/ 601):

وقد ثبت في رواية أبي ذر عن الكشميهني: «يقرأ» بلا فاء ولا واو فيهما ({قل هو الله أحد} و {قل أعوذ برب الفلق} و {قل أعوذ برب الناس} ‌ثم ‌يمسح ‌بهما ‌ما ‌استطاع من جسده، يبدأ بهما) أي: يبدأ بالمسح بيديه (على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده، يفعل ذلك ثلاث مرات).

قال في «شرح المشكاة»: قوله: يبدأ، بيان لجملة قوله: يمسح بهما ما استطاع، لكن قوله: «ما استطاع من جسده»، وقوله: «يبدأ»، يقتضيان أن يقدر يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده، ثم ينتهي إلى ما أدبر من جسده، ورواية عقيل، عن ابن شهاب هذه، وإن اتحد سندها بالسابقة [خ¦5016] لكن فيها أنه كان يقرأ بالمعوذات عند النوم، فهي مغايرة لحديث مالك السابق [خ¦5016] فالذي يترجح أنهما حديثان عن ابن شهاب بسند واحد. قاله في «الفتح».

إنعام الباري مفتي تقي عثماني ط مكتبة الحراء (12/526)

۵۰۱۶ – حدثنا عبد الله بن يوسف : أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها : أن رسول الله كان إذا اشتكى يقرأ على نفسه بالمعوذات وينفث. فلما اشتد وجعه كنت أقرأ عليه وأمسح بيده رجاء بركتها. [راجع : ۴۴۳۹]

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے ( اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی لکھتا ) ۔ پھر جب ( مرض الموت میں ) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ کے ہاتھوں سے برکت کی امید میں آپ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھی ۔

۵۰۱۷ – حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا مفضل بن فضالة، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة: ان النبي كان إذا أوى الى فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم لغت فيهما، فقرأ فيهما ﴿قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الناس لم يمسح بهما ما استطاع من جسده، يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من

جسده، يفعل ذلك ثلاث مرات أنظر : ۲۳۱۹۰۵۷۴۸]

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر آرام فرماتے تو روزان رات کو اپنے دونوں ہاتھوں کو ملاکر ان پر قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ﴾ اور (قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُل أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ) پڑھ کر دم کرتے اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور سامنے کے بدن پر ۔ یہ عمل آپ تین دفعہ کرتے تھے۔

صحيح البخاري ط ابن كثير (5/ 2169):

5416 – حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأويسي: حدثنا سليمان، عن يونس، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عائشة رضي الله عنها قالت:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أوى إلى فراشه، نفث في كفيه بـ {قل هو الله أحد} وبالمعوذتين جميعا، ثم يمسح بهما وجهه، ‌وما ‌بلغت ‌يداه ‌من ‌جسده، قالت عائشة: فلما اشتكى كان يأمرني أن أفعل ذلك به. قال يونس: كنت أرى ابن شهاب يصنع ذلك إذا أتى إلى فراشه.

تحفة القاري شرح صحيح البخاري مفتي سعيد بلان بوري ناشر مکتبه حجاز دیوبند (8/528)

آئندہ حدیث : نبی صلی الله عليه وسلم کا معمول تھا، جب آپ بستر پر پہنچتے تو تین قل پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیوں پر دم کرتے یہاں بھی نفث ہے) پھر اپنے بدن پر جہاں تک ہاتھ پہنچتا پھیرتے ، آخری بیماری میں یہ کام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کرتیں امام زہری کا بھی یہی معمول تھا ( ہم کو بھی اس کو معمول بنانا چاہئے ، واللہ الموافق )

صحيح البخاري ط ابن كثير (5/ 2329):

5960 – حدثنا عبد الله بن يوسف: حدثنا الليث قال: حدثني عقيل، عن ابن شهاب: أخبرني عروة، عن عائشة رضي الله عنها:

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا ‌أخذ ‌مضجعه ‌نفث ‌في ‌يديه، وقرأ بالمعوذات، ومسح بهما جسده.

فتح الباري لابن حجر (11/ 125 ط السلفية):

‌‌12 – باب التعوذ والقراءة عند المنام

6319 – حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث قال: حدثني عقيل، عن ابن شهاب، أخبرني عروة، عن عائشة رضي الله عنها، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أخذ مضجعه نفث في يديه، ‌وقرأ ‌بالمعوذات، ‌ومسح ‌بهما ‌جسده.

قوله: (باب التعوذ والقراءة عند النوم) ذكر فيه حديث عائشة في قراءة المعوذات، وقد تقدم شرحه في كتاب الطب، وبينت اختلاف الرواة في أنه كان يقول ذلك دائما أو بقيد الشكوى، وأنه ثبت عن عائشة أنه يفيد الأمرين معا؛ لما في رواية عقيل عن الزهري بلفظ: كان إذا أوى إلى فراشه كل ليلة وبينت فيه أن المراد بالمعوذات: الإخلاص والفلق والناس، وأن ذلك وقع صريحا في رواية عقيل المذكورة وأنها تعين أحد الاحتمالات الماضي ذكرها ثمة، وفيها كيفية مسح جسده بيديه.

تحفة القاري شرح صحيح البخاري مفتي سعيد بلان بوري ناشر مکتبه حجاز دیوبند (8/546)

۹ – صدیقہ رضی اللہ عنہا مرض وفات میں دعائیں پڑھ کر آپ پر دم کرتی تھیں

حضرت صدیقہ نے اپنے بھانجے حضرت عروہ کو بتایا کہ نبی صلی الله عليه وسلم جب بھی بیمار پڑتے معوذات پڑھ کر اپنے او پر دم کیا کرتے تھے اور اپنے اوپر اپنا ہاتھ پھیرا کرتے تھے، پھر جب آپ کو وہ بیماری ہوئی جس میں آپ کی وفات ہوئی تو میں وہ معوذات پڑھ کر آپ پر دم کیا کرتی تھی، جن معوذات سے آپ دم کیا کرتے تھے، اور میں سی ایم کا ہاتھ آپ کے بدن پر پھیرا کرتی تھی۔

لغات المُعَوِّدة: ( واؤ پر تشدید اور کسرہ اسم فاعل واحد مونث) پناہ دینے والی دعا ئیں جیسے چار قل اور آیت الکرسی وغیرہ

نفث: ایسا پھونکنا جس کے ساتھ تھوک کے ہلکے ہلکے ذرے جائیں اور نفخ وہ پھونکنا جس میں صرف ہوا نکلے اور تفل وہ پھونکنا جس کے ساتھ تھوک جائے (حاشیہ دعا پڑھ کر دم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تین مرتبہ پھونکا جائے اور ہوا کے ساتھ تھوک کے ہلکے ذرے بھی جانے چاہئیں ، تب پورا فائدہ ہوگا صرف ہوا نکلنے سے پورا فائدہ نہیں ہوگا۔

تشریح: جاننا چاہئے کہ دعا پڑھ کر دم کرنے کا فائدہ علاحدہ ہے اور متبرک ہاتھ پھیرنے کا فائدہ الگ ہے،

روایت میں ہے: بیماروں کے لئے لوگ پانی لے کر فجر کی نماز میں آتے تھے، فجر کے بعد اس دروازہ پر کھڑے ہو جاتے تھے، جہاں سے حضور صلی الله عليه وسلم  نکلتے تھے، جب نبی صلی الله عليه وسلم لوٹتے تو ہر ایک کے پانی میں ہاتھ ڈو باتے ، حالانکہ سخت سردی ہوتی تھی، اس روایت میں کچھ پڑھنے کا ذکر نہیں، پس کچھ پڑھ کر دم کرنا اور ہاتھ نہ لگانا بھی مفید ہے اور دم کرنے کے ساتھ تکلیف کی جگہ ہاتھ پھیر نازیادہ مفید ہے، اور صرف ہاتھ پھیرنا بھی مفید ہے، صدیقہ رضی اللہ عنہا دعا میں تو خود پڑھتی تھیں، اور نبی صلی الله عليه وسلم… پر دم کرتی تھیں، پھر نبی صل یہ پیلم کا ہاتھ تکلیف کی جگہ پھیرتی تھیں، اس سے دوہرا فائدہ مقصود تھا، جو آپ کے ہاتھ ہی سے حاصل ہو سکتا تھا ، میرے پاس بچے لائے جاتے ہیں جن کو نظر لگی ہوتی ہے، میں دعا پڑھ کر دم کرتا ہوں ، پھر منہ پر ہاتھ پھیرتا ہوں، جب دونوں چیزیں جمع کرتا ہوں تو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

سنن الترمذي الناشر: دار الغرب الإسلامي – بيروت (5/ 407):

3402 – حدثنا قتيبة ، قال: حدثنا المفضل بن فضالة ، عن عقيل ، عن ابن شهاب ، عن عروة ، عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه وسلم «كان إذا أوى إلى فراشه كل ليلة جمع كفيه»، ثم نفث فيهما، فقرأ فيهما {قل هو الله أحد} و {قل أعوذ برب الفلق} و {قل أعوذ برب الناس}، ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده، يفعل ذلك ثلاث مرات.

هذا حديث حسن غريب صحيح.

……………

تحفة الالمعي حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد منا بالن پوري مرحلة زمزم پبلشرز (8/72)

سوتے وقت قرآن کریم پڑھنا

۱۔ سورۂ اخلاص اور معوذتین پڑھنا

حدیث: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : صلی الله عليه وسلم جب ہر رات اپنے بستر پر ٹھکانا پکڑتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھا کرتے، پھر ان میں دم کرتے ( دم میں ہوا کے ساتھ تھوک کے ہلکے ذرات بھی جانے چاہئیں) پھر ان میں سورۃ الاخلاص اور معوذتین پڑھتے ، یعنی یہ تین سورتیں پڑھ کر ہتھیلیوں میں دم کرتے ، اور جہاں تک آپ کے ہاتھ پہنچ سکتے ان کو اپنے جسم پر پھیرتے، پہلے سر اور چہرے پر اور جسم کے سامنے کے حصے پر پھیرتے ، آپ یہ عمل تین دفعہ کرتے۔

تشریح : سورۃ الاخلاص بڑی بابرکت سورت ہے، اس میں توحید کی کامل تعلیم ہے، اور معوذتین: رقیہ (منتر) ہیں، کس قدر رونا روتے ہیں! اور آسیب سے ان کے ذریعہ سحر اور آسیب سے حفاظت ہوتی ہے، آج کل مسلمان سحر قدر پریشان ہیں! اور یہ تین سورتیں ہر شخص کو یاد ہوتی ہیں، مگر لوگ غفلت برتتے ہیں، پس یہ کس قدر حرمان نصیبی کی بات ہے! کاش لوگوں کو ان سورتوں کی قدر و قیمت معلوم ہو جائے! اور ان سورتوں کے ساتھ سورۃ الکافرون بھی پڑھنی چاہئے ، جیسا کہ آئندہ حدیث میں آرہا ہے۔

سنن أبي داود الناشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت (4/ 313 ت محيي الدين عبد الحميد):

5056 – حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد بن موهب الهمداني، قالا: حدثنا المفضل، – يعنيان ابن فضالة – عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها: ” أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ‌إذا ‌أوى ‌إلى ‌فراشه ‌كل ‌ليلة ‌جمع ‌كفيه ‌ثم ‌نفث ‌فيهما، وقرأ فيهما قل هو الله أحد، وقل أعوذ برب الفلق، وقل أعوذ برب الناس ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده: يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده، يفعل ذلك ثلاث مرات “

………….

بذل المجهود في حل سنن أبي داود المؤلف: الشيخ خليل أحمد السهارنفوري (ت 1346 هـ) الناشر: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند (13/ 448):

5056 – (حدثنا قتيبة بن سعيد ويزيد بن خالد الهمداني قالا: نا المفضل – يعنيان ابن فضالة-، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أوى إلى فراشه كل ليلة) أي من الليالي عندها (جمع كفيه ثم نفث فيهما فقرأ فيهما: {قل هو الله أحد} و {قل أعوذ برب الفلق} و {قل أعوذ برب الناس})، والظاهر (4) أنه صلى الله التي عليه وسلم يقرأ أولا هذه السور، ثم ينفخ في كفيه، (ثم يمسح بهما) أي بالكفين (ما استطاع من جسده، يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده، يفعل ذلك ثلاث مرات).

فتح الودود في شرح سنن أبي داود المؤلف: أبو الحسن السندي الناشر (مكتبة لينة – دمنهور – جمهورية مصر العربية)، (مكتبة أضواء المنار – المدينة المنورة – المملكة العربية السعودية) (4/ 653):

“جمع كفيه ثم نفث فيها فقرأ” إلخ، مقتضى العادة تأخير النفث عن القراءة،

فأما أن يجعل الفاء في فقرأ لبيان كيفية النفث بأن يعتبر القراءة من كيفية النفث بأن يعتبر، والمراد أنه ما كان نفثا خاليا عن القراءة بل مقرونا بها،

أو يقال قوله: “ثم نفث” وقولة: “فقرأ” كلاهما معطوفان على جمع، فيعتبر في النفث التراخي عن الجمع وفي القراءة التعقيب بلا بالنسبة، وعند ذلك يظهر وقوع القراءة قبل النفث كما هو العادة،

ويمكن أنه صلى الله عليه وسلم يخالف العادة من أصلها والله تعالى أعلم.

سنن ابن ماجه الناشر: دار الرسالة العالمية (5/ 41 ت الأرنؤوط):

3875 – حدثنا أبو بكر، حدثنا يونس بن محمد وسعيد بن شرحبيل، قالا: أخبرنا الليث بن سعد، عن عقيل، عن ابن شهاب، أن عروة بن الزبير أخبره

عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ‌إذا ‌أخذ ‌مضجعه، نفث في يديه وقرأ بالمعوذتين، ومسح بهما جسده.

مشكاة المصابيح المؤلف: محمد بن عبد الله الخطيب التبريزي الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت (1/ 657):

2132 -[24] (متفق عليه)

وعن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ‌إذا ‌أوى ‌إلى ‌فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم نفث فيهما فقرأ فيهما (قل هو الله أحد)

و (قل أعوذ برب الفلق)

و (قل أعوذ برب الناس)

ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده يفعل ذلك ثلاث مرات “

…………….

شروحات مشكاة المصابيح

المفاتيح في شرح المصابيح المؤلف: الحسين بن محمود بن الحسن، مظهر الدين الزَّيْدَانيُّ الكوفي الضَّريرُ الشِّيرازيُّ الحَنَفيُّ المشهورُ بالمُظْهِري (ت 727 هـ) الناشر: دار النوادر، وهو من إصدارات إدارة الثقافة الإسلامية – وزارة الأوقاف الكويتية (3/ 81):

1532 – وعن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أوى إلى فراشه كل ليلة جمع كفيه، ثم نفث فيهما، فقرأ فيهما: {قل هو الله أحد}، و {قل أعوذ برب الفلق}، و {قل أعوذ برب الناس}، ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده، يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده، ‌يفعل ‌ذلك ‌ثلاث ‌مرات.

قوله: “إن رسول الله عليه السلام كان إذا أوى إلى فراشه كل ليلة جمع كفيه، ثم نفث فيهما، فقرأ فيهما {قل هو الله أحد}، و {قل أعوذ برب الفلق}، و {قل أعوذ برب الناس}، ثم يمسح بهما” … إلى آخره.

“أوى إلى فراشه”؛ أي: دخل فراشه.

قوله: “فقرأ فيهما: {هو الله أحد} “، الفاء للتعقيب، وظاهر الحديث يدل على أنه عليه السلام نفث في كفيه أولا، ثم قرأ، هذا لم يقل به أحد، وليس فيه فائدة، ولعل هذا سهو من الكاتب، أو من الراوي؛ لأن هذا الحديث في “صحيح البخاري” بالواو في قوله: “وقرأ فيهما”.

وهذا الحديث يدل على أن النفث بعد تلاوة القرآن أو التعويذ على الأعضاء مستحب؛ لوصول بركة القرآن واسم الله إلى بشرة القارئ والمقروء عليه.

شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (5/ 1651):

قوله: ((ثم نفث فيهما فقرأ فيهما)) ((مظ)): الفاء للتعقيب، وظاهر هذا الحديث يدل علي أنه صلى الله عليه وسلم نفث في كفيه أولاً ثم قرأ، وهذه لم يقل بها أحد، وليس فيها فائدة، ولعل هذا سهو من الكاتب، أو من راوى الراوى؛ لأن النفث ينبغى أن يكون بعد التلاوة، لتوصل بركة القراَن واسم الله إلي بشرة القارئ، أو المقرؤ له. ومعنى النفث إخراج الريح من الفم مع شيء من الريق.

أقول: من ذهب إلي تخطئة الرواة الثقات العدول، ومن اتفقت الأمة علي صحة روايته، وضبطه وإتقانه بما سنح له الرأي الذي أوهن من بيت العنكبوت، فقد خطأ نفسه، وخاض فيما لا يعنيه، هل قاس هذا الفاعل علي ما في قوله تعالي: {فإذا قرأت القراَن} {فأستعذ} وقوله: {فتوبوا بارئكم فاقتلوا أنفسكم} علي أن التوبة عين القتل، ونظائره في كلام الله العزيز غير عزيز. المعنى جمع كفيه ثم عزم علي النفث فيهما فقرأ فيهما، أو لعل السر في تقديم النفث علي القراءة، مخالفة السحرة البطلة، علي أن أسرار الكلام النبوى جلت عن أن تكون مشروع كل وارد. وبعض من لا بد له في علم المعانى لما أراد التقصى عن الشبهه، تشبث بأنه جاء في صحيح البخاري بالواو وهو يقتضى الجمعية لا الترتيب، وهو زور وبهتان، حيث لم أجد فيه، وفي كتاب الحميدى وجامع الأصول إلا بالفاء.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح المؤلف: علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري (ت 1014هـ)

الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان (4/ 1468):

(فقرأ) ، أي بعد النفث وعقبيه (فيهما) ، أي في الكفين (قل هو الله أحد وقل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناس) قال الطيبي: دل ظاهره على أن النفث مقدم على القراءة فقيل: خالف السحرة، أو المعنى: ثم أراد النفث فقرأ فنفث، قال بعض شراح المصابيح وفى صحيح البخاري: وقرأ بالواو وهو الوجه لأن تقديم النفث على القراءة مما لم يقل به أحد وذلك لا يلزم من الواو بل من الفاء ولعل الفاء سهو من الكاتب أو الراوي، قال ابن الملك: تخطئة الرواة العدول بما عرض له من الرأي خطأ هلا قاسوا هذه الفاء على ما في قوله ” {فإذا قرأت القرآن فاستعذ بالله} [النحل: 98] ” وقوله ” {فتوبوا إلى بارئكم فاقتلوا} [البقرة: 54] ” على أن التوبة مؤخرة عن القتل، فالمعنى جمع كفيه ثم عزم على النفث فيهما فقرأ فيهما اهـ وهو مآل تأويل الطيبي وقوله التوبة مؤخرة عن القتل لا وجه له لأن القتل إنما هو علامة توبتهم أو شرطها، قال ابن حجر: عطف بثم لترتب النفث فيهما على جمعهما ثم بالفاء ليبين أن ذلك النفث ليس المراد به مجرد نفخ مع ريق بل مع قراءته فهي مرتبة على ابتداء النفث مقارنة لبقيته، وقال الطيبي: وزعم أن الحديث جاء في صحيح البخاري بالواو مردود لأنه فيه بالفاء اهـ ويحتمل أن يكون في نسخة صحيحة والمثبت مقدم على النافي (ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده، يبدأ) بيان أو بدل ليمسح (بهما) ، أي بمسحهما (على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده) ، وما أدبر منه (‌يفعل ‌ذلك ‌ثلاث ‌مرات. متفق عليه) قال الجزري في الحصن: رواه البخاري والأربعة، والله أعلم (وسنذكر حديث ابن مسعود لما أسري برسول الله صلى الله عليه وسلم في باب المعراج إن شاء الله تعالى) وهو إما لتكرره حوله إليه أو لكونه أنسب بذلك الباب – والله أعلم بالصواب

لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح المؤلف: عبد الحق بن سيف الدين بن سعد اللَّه البخاري الدِّهلوي الحنفي «المولود بدهلي في الهند سنة (958 هـ) والمتوفى بها سنة (1052 هـ) رحمه اللَّه تعالى» الناشر: دار النوادر، دمشق – سوريا (4/ 552):

2132 – [24] (عائشة) قوله: (ثم نفث فيهما، فقرأ) النفث كالنفخ، وأقل من التفل، كذا في (القاموس) (1)، وحقيقته إخراج ريح من الفم مع شيء من الريق، ثم اختلفوا في توجيه الفاء في قوله: (فقرأ) فإنه يدل على تأخير القراءة عن النفث، والظاهر العكس، فقيل: المراد أراد النفث فقرأ، وقيل: الفاء بمعنى الواو، وقيل: تقديم النفث على القراءة مخالفة للسحرة البطلة، وقيل: هي سهو من الراوي أو الكاتب، والله أعلم. وقد روي أنه صلى الله عليه وسلم في مرضه أخذ بيدي عائشة رضي الله عنها فقرأ ونفث فيهما وأمرها بإمرارهما على جسده الشريف.

الفتوحات الربانية على الأذكار النواوية المؤلف: محمد بن علان الصديقي الشافعي الأشعري المكي (ت 1057 هـ) الناشر: جمعية النشر والتأليف الأزهرية (3/ 137):

قوله: {قُل هُوَ اللَّهُ أَحَد} [الإخلاص: 1] الخ) أي هذه السور الثلاث ويقال لها المعوذات بكسر الواو وتفتح تغليبًا قال الترمذي النفث يتفاوت أهله على قدر نور قلوبهم وعلمهم بهذه الكلمات فإذا فعل ذلك بجسده عند إيوائه إلى فراشه كان كمن اغتسل بأطهر ماء وأطيبه فما ظنك بما يغتسل بأنوار كلمات الله فكان كثوب نفض من غباره اهـ. قوله: (ثمَّ مَسحَ بهما الخ) أي ما استطاع مسحه فالعائد محذوف والمراد ما يصل إليه من بدنه وظاهر أن المسح فوق الثياب وقضية الحديث أنه جمع كفيه ونفث وقرأ ثم مسح ثم قرأ ثم مسح لقوله فيه يفعل ذلك ثلاث مرات رواه الترمذي وفي الشمائل وظاهرها أن السنة لا تحصل إلَّا بالثلاث وحملت على كمال السنة أما أصلها فيحصل بمرة والجسد كالجسم لكنه أخص منه إذ لا يقال إلا للحيوان الناطق العاقل وهو الإنسان والملائكة والجن كما في البارع وغيره. قوله: (يبدأُ بِهمَا الخ) هذا بيان للأفضل من المسح المستطاع فيبدأ بأعالي بدنه فيمسح بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده أي ثم ينتهي إلى ما أدبر من جسده قال في الحرز فهو كهيئة الغسل المسنون على الوجه الأصح اهـ. أي بالنسبة إلى تقديم المقبل من البدن على المدبر منه وإلّا فالجانب اليمين والشمال يمسح عليهما معًا بخلافه في الغسل فيقدم اليمين والمراد غسل الميت أما غسل الحي فيغسل الجانب الأيمن المقبل والمدبر معًا ثم الأيسر كذلك والله أعلم. قوله: (يَفَعَلُ ذَلِكَ) أي ما ذكر من الجمع والنفث والقراءة والمسح .

وفي هذا الحديث رد على من زعم أنه لا يجوز استعمال الرقي والعوذ إلّا عند حلول المرض ونزول ما يتعوذ منه ألا ترى أنه صلى الله عليه وسلم فعل ما ذكر واستعاذ من شر ما يحدث في ليلته مما يتوقعه وهذا من أكبر الرقى اهـ. قوله: (قَال أهْلُ اللغةِ النّفثُ الخ) قال أبو عبيد النفث بالفم شبيه بالنفخ وأما التفل فلا يكون إلّا ومعه شيء من الريق.

سنن أبي داود الناشر: دار الرسالة العالمية (7/ 395 ت الأرنؤوط):

5055 – حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا أبو اسحاق، عن فروة بن نوفل عن أبيه: أن النبي- صلى الله عليه وسلم قال لنوفل: “اقرأ: {قل يا أيها الكافرون}

ثم نم على خاتمتها، فإنها براءة من الشرك”.

سنن الترمذي الناشر: دار الرسالة العالمية (6/ 28):

3700 – حدثنا محمود بن غيلان، قال: حدثنا أبو داود، قال: أنبأنا شعبة، عن أبي إسحاق، عن رجل

عن فروة بن نوفل: أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، علمني شيئا أقوله إذا أويت إلى فراشي. قال: “اقرأ: {قل ياأيها الكافرون}، ‌فإنها ‌براءة ‌من ‌الشرك”. قال شعبة: أحيانا يقول: مرة، وأحيانا لا يقولها.

 

Back to top button