Question:
Assalamualaykum
Respected mufti saheb
What is sharee status of holding the asaa during the Friday arabic khutabah?
Please advice
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
Holding a staff (ʿAsā) during the Friday khutbah is permissible. It is not a Sunnah Muakkadah, nor is it necessary for the validity of the khutbah.[1]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa
Port-louis, Mauritius
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] «المحيط البرهاني» (2/ 75): الفصل الخامس والعشرون في صلاة الجمعة
وكذلك إذا خطب متكئاً على عصا أو على قوس جاز، إلا أنه يكره، لأنه خلاف السنّة
«معراج الدراية في شرح الهداية» (2/ 343): باب صلاة الجمعة
وفي الجامع: يتقلد الخطيب السيف في كل بلدة فتحت بالسيف. ويكره أن يخطب متكئا على عصا، أو قوس مستقبل القبلة.
«البناية شرح الهداية» (3/ 63): شروط الخطبة وسننها
ويستحب أن يتوكأ الخطيب في خطبته على نحو قوس وغيره، «وروى أبو داود عن رجل له صحبة في حديث طويل أنه قال: شهدنا الخطبة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام يتوكأ على عصا أو قوس.» وروى أبو بكر بن أبي شيبة عن وكيع عن ابن حبان عن يزيد بن عبد البر عن أبيه «أن النبي صلى الله عليه وسلم خطبهم يوم عيد وفي يده قوس أو عصا».
وعن طلحة بن يحيى قال: رأيت عمر بن عبد العزيز يخطب وبيده قضيب، وذكر البقالي: يخطب بالسيف في بلدة فتحت بالسيف.
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (2/ 160): شروط صحة الجمعة
المتعارف مع أن ظاهر ما في الخلاصة كراهة ذلك فإنه قال ويكره أن يخطب متكئا على قوس أو عصا لكن قال في الحاوي القدسي إذا فرغ المؤذنون قام الإمام والسيف بيساره، وهو متكئ عليه اهـ.
وهو صريح فيه إلا أن يفرق بين السيف وغيره، وفي المجتبى ويخطب بالسيف في البلدة التي فتحت بالسيف،
«النهر الفائق شرح كنز الدقائق» (1/ 359): باب صلاة الجمعة
قال في (الخلاصة): ويكره أن يتكئ على قوس أو عصا
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 148): الباب السادس عشر في صلاة الجمعة
ويكره أن يخطب متكئا على قوس أو عصا، كذا في الخلاصة، وهكذا في المحيط، ويتقلد الخطيب السيف في كل بلدة فتحت بالسيف، كذا في شرح الطحاوي.
«حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح» (ص515):
قوله: “ليريهم” هذه العلة إنما تظهر فيمن كان حديث عهد بالإسلام من أهل تلك البلدة ولكن العلة تعتبر في الجنس وقيل الحكمة فيه الإشارة إلى أن هذا الدين قد قام بالسيف وفيه إشارة إلى أنه يكره الإتكاء على غيره كعصا وقوس خلاصة لأنه خلاف السنة محيط وناقش فيه ابن أمير حاج بأنه ثبت أنه صلى الله عليه وسلم قام خطيبا بالمدينة متكئا على عصا أو قوس كما في أبي داود وكذا رواه البراء بن عازب عنه صلى الله عليه وسلم وصححه ابن السكن
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار – ط الحلبي» (2/ 162):
(يخطب) الإمام (بسيف في بلدة فتحت به)
كمكة (وإلا لا) كالمدينة. وفي الحاوي القدسي: إذا فرغ المؤذنون قام الإمام، والسيف في يساره، وهو متكئ عليه. وفي الخلاصة: ويكره أن يتكئ على قوس أو عصا.
______________________
(قوله وفي الخلاصة إلخ) استشكله في الحلية بأنه في رواية أبي داود «أنه صلى الله عليه وسلم قام: أي في الخطبة متوكئا على عصا أو قوس». اهـ. ونقل القهستاني عن المحيط أن أخذ العصا سنة كالقيام
فتاوى دار العلوم ديوبند ط دار الإشاعت (5/65)
خطیب کا بوقت خطبه عصا لینا
سوال (۲۳۸۱) خطیب کو خطبہ کے وقت لائٹی لینا کیسا ہے ، بعض مگر وہ کہتے ہیں اور حدیث میں ہے کہ سنت ہے ۔
بحوالہ کتاب یونا چاہیئے ۔
الجواب: در المختار میں ہے خلاصہ سے و یکرہ ان یتکئ علی قوس او عصا الخ اور شامی میں ہے حدیث سے کہ تکیہ لگانا عصا یا قوس پر ثابت ہے اور قہستانی نے محیط سے نقل کیا ہے کہ لینا عصا کا سنت ہے،پس شاید تطبیق کی یہ صورت ہو کہ ضرورت ہو تو لاٹھی ہاتھ میں رکھلے کچھ حرج نہیں ہے اور اگر ضرورت نہ ہو تو نہ لے
فتاوى قاسمية لمولانا شبير أحمد قاسمي ط مكتبة أشرفية ديوبند (9/367)
خطبۂ جمعہ میں عصا ہاتھ میں لینا
سوال ]۳۶۲۷[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ جمعہ کا خطبہ دیتے وقت ہاتھ میں عصا لینا او راس پر ٹیک لگا کر خطبہ دینا مسنون ہے یا نہیں؟ اگر مسنون ہے تو اس دور میں اس پر عمل کیوں متروک ہے؟ کیا اس سنت کو زندہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے؟
اگر مسنون عمل نہیں ہے، تو شرعاً اس کی حیثیت کیاہے؟ ہمارے علاقہ ضلع سیتاپور میں کچھ لوگ عصا لے کر خطبہ دیتے ہیں، کچھ لوگ بغیر عصا کے خطبہ دیتے ہیں، شرعی حیثیت واضح فرما کر شکر گذاری کا موقع دیں۔
المستفتی: شریف احمد مظاہری، مدرس مدرسہ تعلیم القرآن چوبے ٹولہ، شہر سیتاپور
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: حضرات فقہاء نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ جن بلاد کو لڑائی اور قتال کے ذریعہ فتح کیا گیا ہے، ان میں عصایا تلوار پر ٹیک لگا کر خطبہ دینا مستحب ہے۔ او رجن بلاد کو بغیر قتال کے صلح کے ذریعہ سے فتح کیا گیا ہے، اس میں بغیر عصا اور بغیر تلوار کے خطبہ دینا مستحب ہے۔ اور بعض فقہاء نے مطلقاً عصا پر ٹیک لگا کر خطبہ دینا مستحب لکھا ہے؛ اس لئے ہمارے ہندوستان میں لوگوں کو اختیار ہے کہ چاہے عصا ہاتھ میں لے کر خطبہ دیں او رچاہے بغیر عصا کے خطبہ دیں، دونوں طرح جائز ہے او ردونوں میں سے کوئی بھی خلاف شریعت نہیں ہے؛ ہاں البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ کبھی عصا ہاتھ میں لے کر خطبہ دیا جائے اور کبھی بغیر عصا کے خطبہ دیا جائے؛ لہٰذا سیتاپور میں جو لوگ عصا ہاتھ میں لے کر خطبہ دیتے ہیں اور جو لوگ بغیر عصا کے خطبہ دیتے ہیں دونوں جائز ہے، کسی کو کسی پر نکیر کرنے کا حق نہیں ہے او رعصا کو لازمی سمجھنا بدعت ہے اور اس کا ترک ایسے حالات میں اولیٰ اور افضل ہے۔ (مستفاد: امداد المفتیین ص:۳۸۱)
في الدر: یخطب الإمام بسیف في بلدۃ فتحت بہ کمکۃ، وإلا لا کالمدینۃ۔ وفي الحاوي القدسي: إذا فرغ المؤذنون قام الإمام والسیف في یسارہ، وہو متکئ علیہ۔ و في الخلاصۃ: یکرہ أن یتکئ علی قوس، أوعصا۔ وفي الشامیۃ: استشکلہ في الحلیۃ بأن في روایۃ أبي داؤد أنہ صلی الله علیہ وسلم قام أي في الخطبۃ متوکئاً علی عصا أو قوس الخ۔ ونقل القہستاني عن المحیط أن أخذ العصا سنۃ کالقیام۔ (در مختار مع الشامي، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، کراچي ۲/۱۶۳، زکریا ۳/۴۱) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
الجواب صحیح: احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
ہاتھ میں عصا لے کر خطبہ دینا
سوال ]۳۶۲۸[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ نماز جمعہ کا خطبہ دیتے وقت عصا لے کر خطبہ دینا کیسا ہے؟ شرعی حکم کیا ہے؟
المستفتی: محمدکمال
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جمعہ کا خطبہ دیتے وقت ہاتھ میں لاٹھی لینے کے بارے میں دو طرح کی فقہی روایات ملتی ہیں۔ در مختار او رعالمگیری میں خلاصہ کے حوالہ سے کراہت منقول ہے۔ اور علامہ شامیؒ نے قہستانی کے حوالہ سے سنیت کا قول ذکر کیا ہے؛ لہٰذا جب روایات دونوں طرح کی ہیں، تو کبھی لاٹھی ہاتھ میں لی جائے اور کبھی نہ لی جائے، لاٹھی لینے کا التزام نہ کیاجائے۔ (مستفاد: امداد الفتاوی ۱؍۶۸۲، فتاوی محمودیہ قدیم ۷؍۲۰۷، جدید ڈابھیل ۸؍۲۶۹، فتاوی سعدیہ ص:۱۰۷، احسن الفتاوی ۴؍۱۴۲)
ویکرہ أن یتکئ علی قوس أو عصا، قال الشامي: أنہ صلی الله علیہ وسلم قام أي في الخطبۃ متوکئاً علی عصا، أو قوس (إلی قولہ) ونقل القہستاني عن عید المحیط أن أخذ العصا سنۃ۔ (شامي، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، زکریا ۳/۴۱، کراچي۲/۱۶۳)
وفي الہندیۃ: ویکرہ أن یخطب متکئاً علی قوس أو عصاً، کذا في الخلاصۃ۔ (عالمگیري، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، زکریا قدیم ۱/۱۴۸، جدید ۱/۲۰۹) فقط واﷲ سبحانہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
(مستفاد: امداد الفتاوی ۱؍ ۶۸۱، محمودیہ قدیم ۱۴؍۲۴۲، ۷؍۲۰۷، ڈابھیل ۸؍۲۶۹، احسن الفتاوی ۴؍۱۵۲، امداد الاحکام ۲؍۳۵۰، امداد المفتیین ۳۷۵، ۳۸۲، کفایت المفتی قدیم ۳؍۲۱۴، جدید زکریا ۳؍۲۶۰)
فتاوى دار العلوم زكريا ط زمزم پبليشر (2/708)
خطبہ کے وقت عصا ہاتھ میں لینے کا حکم:
سوال: شریعت کا کیا حکم ہے عصا کے متعلق جمعہ کے دن خطبہ کے لیے کیا واجب ہے یا فرض یا سنت؟ کیا عصا نہ پکڑنے والا کافر ہو جائے گا؟
جواب: فقہائے کرام نے لکھا ہے اگر کوئی شہر تلوار سے فتح ہوا ہو تو اس میں امام کو چاہیے کہ تلوار بائیں ہاتھ میں لے اور اس پر ٹیک لگا کر خطبہ دے علامہ شامی رحمه الله نے اس کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
أي بالسيف ليريهم أنها فتحت بالسيف فإذا رجعتم عن الإسلام فذلك باقي في أيدي المسلمين يقاتلونكم حتى ترجعوا إلى الإسلام، درر. (شامي: ۲/۱٦۲، سعيد)
یعنی لوگوں کو یہ دکھائے کہ یہ شہر تلوار سے فتح ہوا ہے اگر تم نے اسلام کو چھوڑا تو مسلمانوں کے ہاتھ میں اب بھی تلوار باقی ہے تم سے لڑ کر تم کو اسلام کی طرف لوٹائیں گے ۔ اور اگر کوئی شہر یا ملک بزورِ شمشیر فتح نہیں کیا گیا بلکہ دعوت و تبلیغ یا صلح سے فتح ہوا ہو تو وہاں عصا کے سہارے خطبہ دیا جائے ۔ مگر یہ عمل نہ فرض ہے نہ واجب اور نہ سنتِ مؤکدہ بلکہ ایک مستحب عمل ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ لوگوں کی فرضیت اور لازم ہونے کا عقیدہ وابستہ نہ ہو ۔ اگر لوگ اس کو ضروری سمجھنے لگیں تو پھر اس کو چھوڑنا چاہیے ۔
علامہ طیبی نے شرح مشکوۃ میں لکھا ہے کہ مستحب عمل پر اصرار کرنے سے بدعت بن جاتا ہے پھر جو شخص عصا چھوڑنے والے کو کافر کہتا ہے وہ سخت گنہگار اور عاصی ہے اس کو توبہ کرنی چاہیے کسی مسلمان کو کافر کہنا یا سمجھنا سخت گناہ ہے ۔
امداد الاحکام میں ہے:
عصا لینا مستحب ہے لیکن اگر اس کو ضروری سمجھا جاوے اور تارک پر ملامت کی جائے تو التزام مالا یلزم کی وجہ سے منع کیا جائے گا ۔
في الدر: ويكره أن يتكئ على قوس أو عصا. وفي الشامي: نقل القهستاني: عن المحيط أن أخذ العصا سنة كالقيام. ( امداد الاحکام: ۱/۷۵۹، کراچی) نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۸/۲۷۰، مبوب و مرتب، جامعہ فاروقیہ ۔ و احسن الفتاوی: ٤/۱٤۳ ۔
خلاصہ یہ ہے کہ امام صاحب کو چاہیے کہ اکثر و بیشتر عصا نہ پکڑے، ہاں عوام کے عقیدے کی اصلاح کے بعد مستحب پر عمل کرتے ہوے گا ہے گا ہے عصا ہاتھ میں لیا کریں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
خطبہ میں عصا پکڑنا
استفتاء
جمعہ کے دن خطیب کا ہاتھ میں عصا پکڑنا ،کیا یہ سنت ہے یا افضل ہے اس کے بارے میں وضاحت فرمادیں۔؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جمعہ کے دن خطیب کا ہاتھ میں عصا پکڑ کر خطبہ پڑھنا سنت ہے تاہم یہ سنت عبادت نہیں ،بلکہ سنت عادت ہے۔
امدادالمفتین(324)میں ہے:
خطبہ کے وقت ہاتھ میں عصالینے کی مفصل تحقیق
سوال: منبر پر خطبہ پڑھنے کی حالت میں عصا لینا سنت ہے یا کہ نہیں ؟اگر عصا لے کر منبر پر خطبہ پڑھے تو عصا داہنے ہاتھ میں لے یا بائیں ہاتھ میں؟ اور زبانی خطبہ پڑھے یا کتاب میں دیکھ کر بہر نوع کیا عصابائیں ہاتھ میں ہی لینا چاہیے؟ کئی ایک کتب فقہیہ میں تلاش کیا، عصا کا بائیں ہاتھ میں لینا صراحت سے نہیں ملتا البتہ داہنے ہاتھ میں لینے کی تائید ’’وماتلک بیمینک یا موسیٰ قال هی عصای الایة‘‘ سے ہوتی ہے ۔بہشتی گوہر میں زیر عنوان جمعہ کے خطبہ کے مسائل کی صراحت ہے (حصہ دس) خطبہ منبر پر پڑھنا اگر منبر نہ ہو تو کسی لاٹھی وغیرہ پر سہارا دے کر کھڑا ہو نااور منبر کے ہوتے ہوئے کسی لاٹھی وغیرہ پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہونا الی آخرماقال منقول نہیں ۔ پھر زیر عنوان نبی ﷺ کا خطبہ جمعہ کے دن مصرح ہے جب تک منبر نہ بناتھا کسی لاٹھی یا کمان سے ہاتھ کو سہارا دے لیتے تھے اور بعد ایک سطر کے )بعد منبر بن جانے کےپھر کسی لاٹھی وغیرہ سے سہارا دینا منقول نہیں مگر تتمہ ثانیہ امدادالفتاویٰ مجتبائی دھلی ص۱۸۵ میں جو سوال و جواب ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا تھانویؒ نے سنت عصا کو بحوالہ در مختار قبول کرلیا ہے اور عبارت بہشتی گوہر کو مرجوح مان لیا ہے،چنانچہ عبارت ردالمحتار یہ ہے:
قوله وفي الخلاصة استشکله في الحلية بانه في رواية ابي داؤد انه صلي الله عليه وسلم قام اي في الخطبة متوکئا على عصاءاو قوس اھ . ونقل القهستاني عن عبدالمحيط ان اخذ العصاءسنة کالقيام اھ (رد المحتار مصري ص:1/877)
اوربحرالرائق (2/ 160) میں یہ ہے:
وفي المضمرات معزيا إلى روضة العلماء الحكمة في أن الخطيب يتقلد سيفا ما قد سمعت الفقيه أبا الحسن الرستغفني يقول كل بلدة فتحت عنوة بالسيف يخطب الخطيب على منبرها متقلدا بالسيف يريهم أنها فتحت بالسيف الي آخر نقله وهذا مفيد لكونه يتقلد بالسيف لا أنه يمسكه بيده كما هو المتعارف مع أن ظاهر ما في الخلاصة كراهة ذلك فإنه قال ويكره أن يخطب متكئا على قوس أو عصا لكن قال في الحاوي القدسي إذا فرغ المؤذنون قام الإمام والسيف بيساره …. وهو صريح فيه إلا أن يفرق بين السيف وغيره
کیا ایسا تو نہیں کہ روایت ابوداؤد نبی ﷺ کا منبر بن جانے سے پہلے عصا لے کر خطبہ پڑھنے سے متعلق ہو اور عبارت ہائے فقہا ء میں جیسا کہ خلاصہ سے بحر وغیرہ نے کراہت نقل کی اور خود صاحب بہشتی گوہر نے صراحت کی کہ بعد منبر بن جانے کے پھر کسی لاٹھی وغیرہ سے سہارا دینا منقول نہیں ہے۔لفظ کراہت منبر ہونے کی حالت سے متعلق ہو؟
الجواب: حامداًومصلّیاً: خطیب کے لئے بوقت خطبہ عصاہاتھ میں لینے کے متعلق چند روایات منقول ہیں جن میں سے قابل اعتماد تو صرف ابوداؤد کی روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں’’ فقام متوکا علی عصاء اوقوس ‘‘اگرچہ اختلاف اس کی اسناد میں بھی ہے ۔اس کے سوا مجمع الزوائد میں’’ باب علی اي شيئ یتکئ الخطیب‘‘ میں ایک حدیث حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ سے مروی ہے جس میں’’ کان يخطب بمخصرة برواية الطبراني في الکبير‘‘وارد ہے مگر اس کی اسناد میں ابن لہیعہ ہیں اس کی وجہ سے ضعیف ہے اور ایک حدیث حضرت ابن عباس ؓ سےان الفاظ کےساتھ منقول ہے ’’کان یخطبهم فی السفرمتکئا علی قوس و فیه ابوشیبه وهو ضعیف‘‘۔ اور تیسری حضرت سعد قرظؓ سے بلفظ’’کان اذا خطب فی الجمعةخطب علي عصاواسناده ضعيف (مجمع الزوائد)
الغرض یہ تینوں روایتیں جو مجمع الزوائد میں نقل کی گئی ہیں ضعیف الاسناد ہیں لیکن مجموعہ روایت سے بظن غالب اتنا ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے بوقت خطبہ کبھی کبھی قوس يا عصا دست مبارک میں لی ہے اور صحیح مسلم کی ایک روایت باب العید ين میں ہے ’’قام متوکئا علی بلال رضي الله عنه‘‘ جس سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات نہ عصا ہاتھ میں لی نہ قوس بلکہ حضرت بلال ؓ کے مونڈھے پر دست مبارک ٹیک لیا۔
اس کے بعد یہ امر غور طلب ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ فعل یعنی کبھی قوس اور کبھی عصاکبھی حضرت بلالؓ پر ٹیک لگانا بطور عادت کے پیش آیا ہے یا بطور عبادت کے ؟اس میں حضرات فقہاء کی نظریں مختلف ہوگئیں۔بعض حضرات نےاس فعل کوعبادت قراردےکرآداب خطبہ میں داخل کردیااوربعض حضرات نے عادۃ سمجھا اور خطبہ کے سنن یا آداب میں داخل نہیں کیا بلکہ منجملہ امور مشروعہ کے رہا۔ نیل الاوطار میں شاید اسی لئے اس کا عنوان ’’مشروعية التوکؤ علی قوس او عصاء‘‘رکھا ہے ۔(نیل الاوطار ،جلد۳۔)
فقہاء حنفیہ میں جو مختلف روایات ہیں اس کا سبب بھی نظر کا اختلاف ہے درمختار، شامی ،بحروغیرہ میں اس کو مستحب قرار دیا ہے اور خلاصۃ الفتاویٰ اور محیط میں مکروہ لکھا ہے اور مراد اس کی غالباً یہ ہے کہ اس پر ایسا التزام و دوام کرنا جیسے سنن مؤکدہ پر کیا جاتاہے یہ مکروہ ہے اور طحاوی علی المراقی الفلاح میں خلاصہ کے قول کے بعد یہ بھی لکھا ہے’’لانه خلاف السنة محيط وناقض منه ابن امير الحاج بانه ثبت انه ﷺ کان خطيبابالمدينة متکئا علي عصاءاو قوس کما في ابي داؤد وکذا رواه البراء ابن عازب وصححه ابن السکن انتهي‘‘
حنیفہ کا ظاہر مذہب جو عامہ متون و شروح و فتویٰ سے ظاہر ہوتا ہے یہی ہے کہ اس فعل کو منجملہ عادات قرار دیا گیاہے جو بوقت خطبہ مشروع ضرور ہیں لیکن خطبہ کے آداب و استحباب میں داخل نہیں ۔کنز ،ہدایہ ،بدائع اور عامہ معتبرات حنفیہ نے اس کو آداب خطبہ میں شمار نہیں کیا۔ کنزو ہدایہ میں تو یہ بھی احتمال ہے کہ بوجہ اختصار کے آداب کا ذکر ہی چھوڑ دیا گیا ہے بدائع الصنائع میں تومفصل طور پر سنن و آداب خطبہ ذکر کئے ہیں مگر اس میں علی القوس یا عصا کا کہیں نام نہیں۔ہمارے بزرگ جن کو ہم نے دیکھا ہے انکا معمول عموما ً بوقت خطبہ عصاہاتھ میں لینے کا نہیں تھا اور وجہ یہی ہے کہ یہ فعل سنن مقصودہ میں سے تو ہے نہیں ،محض عادات میں سے ہے جس کے ترک سے کوئی ادنیٰ کراہت خطبہ میں پیدا نہیں ہوتی۔دوسری طرف عادت عجم کی عموماً یہ ہے کہ خطبہ ہاتھ میں لے کر دیکھ کر پڑھا جاتا ہے اس صورت میں ایک ہاتھ میں خطبہ اور دوسرے ہاتھ میں عصا سنبھالنا دشواری اور تکلیف سے خالی نہیں ،اس لئے عموماً ہمارے سب بزرگوں کا عمل ترک ہی پر رہا ہے اور خود حضرت سیدی مصنف بہشتی زیورو گوہر وامدادالفتاویٰ کاآخر تک یہی عمل رہا ہے اور ترجیح الراجح میں سنیت کو قبول کرنے کا مطلب اس سے زائد نہیں کہ اس کو تسلیم فرما لیا کہ آنحضرت ﷺ سے یہ فعل منقول ہے، اس لئے فی الجملہ سنت کہا جاسکتا ہے اگرچہ وہ سنن عادیہ میں سے یعنی بطور عادت ہی کے ہو۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے افعال عادیہ کو بھی ایک حیثیت سے سنت کہا جاتاہے۔
امدادالفتاوی (3/73)میں ہے:
سوال:خطیب کو وقت خطبہ عصایا لکڑی ہاتھ میں لینا سنت ہے یامستحب؟ (۲) نیز داہنے ہاتھ میں لیوے یا بائیں میں؟
اگرداہنے ہاتھ میں عصا لیوے اور بائیں میں خطبہ توخلاف ادب تو نہیں ؟(۳) آں رسول مقبول ﷺ کااتکاء علی العصاء کبر سنی یا ضعف پر محمول ہے یا سنت مستمرہ؟
الجواب : (۱)عادت نہ کرے ضرورت میں مضائقہ نہیں ۔
وهووجه الجمع بين حديث أبي داؤد فقام ﷺ متوکئاً علي عصاء أوقوس وبين قول الفقهاء يکره أن يتکئ علي قوس أوعصا۔
(۲) ظاہراً کچھ حرج نہیں ۔ (۳) استمرار کا کوئی صیغہ نظر سے نہیں گزرا۔
کفایت المفتی (3/261)میں ہے:
سوال : ہمارے شہر جام نگر اور تمام علاقہ کاٹھیاواڑ میں جمعہ کا خطبہ پڑھتے ہوئے ایک عصا نہایت مزین لے کر کھڑا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے اور بغیر عصا خطبہ پڑھنے کو خلاف سنت بتایا جاتا ہے اور تارک کو ملامت اور طعن کیا جاتا ہے اور ثبوت زید یہ دیتا ہے کہ شامی میں اور حدیث ابوداؤد میں ایسا کرنا سنت لکھا ہے عمرو جو تارک ہے کہتا ہے کہ حضور ﷺ نے اس وقت تک عصا لے کر خطبہ پڑھا ہے جب تک منبر نہیں بنا تھا بعد میں ایسا کرنا منقول نہیں اور عالمگیری میں خلاصہ اور محیط کے حوالہ سے قوس پر یا عصا پر سہارا لگاکر خطبہ پڑھنا مکروہ لکھا ہے اس لئے ضروری ہے کہ علمائے کرام ساتھ دلیل کے ہم کو اس کا فیصلہ دیں کہ مفتی بہ حنفیہ کے نزدیک کیا قرار پایا ہے اور ابوداؤد اور شامی میں سنت ہونے کا جواب کیا ہے ؟ بینوا توجروا
جواب:عصا ہاتھ میں لیکر خطبہ پڑھنا ثابت تو ہے لیکن بغیر عصا کے خطبہ پڑھنا اس سے زیادہ ثابت ہے پس حکم یہ ہے کہ عصا ہاتھ میں لینا بھی جائز ہے اور نہ لینا بہتر ہے اور حنفیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے پس اس کو ضروری سمجھنا اور نہ لینے والے کو طعن تشنیع کرنا درست نہیں اسی طرح لینے والے کو بھی ملامت کرنا درست نہیں۔ فقط واللہ تعالی اعلم
** The Hadith of Abu Dawud show that Nabi ﷺ did hold a staff while delivering the khutbah. However, this does not indicate that holding a staff is a specific Sunnah of khutbah. Rather, it was the practice of Nabi ﷺ to carry a staff while walking, and therefore it would naturally have been with him at the time of the khutbah.
Furthermore, there is no evidence to establish that holding a staff during the khutbah, or keeping a staff in the masjid for that purpose, is a specific Sunnah. Therefore, regarding it as a specific Sunnah of the khutbah is Makrooh.