MEDICINE & TREATMENTS

Ethanol in medication

Question:

what’s the fatwa of ethanol in medication?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Ramatullāhi Wa-Barakātuh

In principle, if the ethanol is derived from dates or grapes, it will be classified as Khamr, and consuming it will not be permissible.

However, if the ethanol is derived from any other source, or if it is synthetically produced, it will not be classified as Khamr. In that case, its use will be permissible.

The alcohol used in many medicines today is generally not made from dates or grapes. However, the best course of action is to verify the source of the ethanol with the medication manufacturer before using the product. [1]

And Allah Taʿāla Knows Best.

Baba Abu Bakr

Student Darul Iftaa

Accra, Ghana

Checked and Approved by

Mufti Muhammad Zakariyya Desai

[1] بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٥/‏١١٦ — الكاساني (ت ٥٨٧)

«(وأما) المثلث فنقول: لا خلاف في أنه ما دام حلوا لا يسكر يحل شربه.

(وأما) المعتق المسكر فيحل شربه للتداوي واستمراء الطعام والتقوى على الطاعة عند أبي حنيفة وأبي يوسف رضي الله عنهما وروى محمد رحمه الله أنه لا يحل، وهو قول الشافعي رحمه الله وأجمعوا على أنه لا يحل شربه للهو والطرب كذا روى أبو يوسف رحمه الله في الأمالي وقال لو أراد أن يشرب المسكر فقليله وكثيره حرام وقعوده لذلك والمشي إليه حرام.»

الهداية في شرح بداية المبتدي ٤/‏٣٩٥ — المرغيناني (ت ٥٩٣)

«”وقال في الجامع الصغير: وما سوى ذلك من الأشربة فلا بأس به” قالوا: هذا الجواب على هذا العموم والبيان لا يوجد في غيره، وهو نص على أن ما يتخذ من الحنطة والشعير والعسل والذرة حلال عند أبي حنيفة، ولا يحد شاربه عنده وإن سكر منه، ولا يقع طلاق السكران منه بمنزلة النائم ومن ذهب عقله بالبنج ولبن الرماك وعن محمد أنه حرام ويحد شاربه ويقع طلاقه إذا سكر منه كما في سائر الأشربة المحرمة»

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي ٦/‏٤٧ — الفخر الزيلعي (ت ٧٤٣)

«قال في الجامع الصغير: وما سوى ذلك من الأشربة المحرمة، وهي الخمر والسكر ونقيع الزبيب والعصير الذي ذهب بالطبخ أقل من ثلثيه فلا بأس به قال الأتقاني: قال فخر الإسلام وغيره في شروح الجامع الصغير: وهذا الجواب على هذا العموم في البيان لا يوجد إلا في هذا الكتاب ثم قال، وهذا نص على قول أبي حنيفة حتى أن الحد لا يجب، وإن سكر منه في قوله وروي عن محمد أن ذلك حرام يجب الحد بالسكر منه وكذلك السكران منه إذا طلق امرأته لم يقع عند أبي حنيفة بمنزلة طلاق النائم والمغمى عليه وعند محمد يقع بمنزلة طلاق السكران من الأشربة المحرمة إلى هنا لفظ فخر الإسلام وقال الطحاوي في مختصره قال هشام وكان يقول من صلى في ثوبه مما يسكر كثيره أكثر من مقدار الدرهم أعاد الصلاة قال الطحاوي: وهذا أجود وكذلك كان قول ابن أبي عمران اهـ (قوله والفتوى في زماننا بقول محمد) كذا في جامع الفتاوى والنوازل وغيرهما. اهـ.»

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ٤/‏٤٢ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)

«وبه علم أن المراد الأشربة المائعة، وأن البنج ونحوه من الجامدات إنما يحرم إذا أراد به السكر وهو الكثير منه، دون القليل المراد به التداوي ونحوه كالتطيب بالعنبر وجوزة الطيب، ونظير ذلك ما كان سميا قتالا كالمحمودة وهي السقمونيا ونحوها من الأدوية السمية فإن استعمال القليل منها جائز، بخلاف القدر المضر فإنه يحرم، فافهم واغتنم هذا التحرير (قوله؛ لأنه حشيش) لا معنى لهذا التعليل، وليس في عبارة العناية. اهـ.»


کتاب النوازل ) 16 / 152(

اِسپرٹ اور الکحل سے آمیز کی ہوئی دواؤں کا استعمال؟
سوال(۶۴۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: موجودہ زمانہ میں مختلف قسم کے اَمراض ظہور پذیر ہورہے ہیں؛ لیکن ہر مرض کا اللہ تعالیٰ نے علاج پیدا کیا ہے، ہر دور میں اَطباء بذریعہ اَدویات مرض کا اِزالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بحکم اللہ اَدویات سے شفا بھی ہوتی ہے، نیز ایک طریقۂ علاج کو ہومیوپیتھک سے موسوم کیا جاتا ہے، اور اِس طریقۂ علاج سے عوام کو انتہائی فائدہ ہوتا ہے، ہومیوپیتھک کی اَدویات زود اثر اور بے ضرر بھی ہوتی ہیں؛ لیکن ہومیوپیتھک کی دوا سازی میں الکحل کا سہارا لینا پڑتا ہے، یعنی جملہ اَدویات میں الکحل مخلوط ہوتی ہے، جیساکہ شکر کی بنی ہوئی ۲۰؍ گولیوں میں ایک قطرہ ٹپکایا جاتا ہے، یعنی شکر کی گولیوں میں سیال دوا کی خوشبو کی ضرورت ہے، اُس کے جوہری مادہ کی ضرورت نہیں، اِسی لئے ایک قطرہ سے شکر کی گولیوں کو تر ومرطوب کیا جاتا ہے، نیز مریض لذت حاصل کرنے کے لئے دوا نہیں کھاتا؛ بلکہ مرض سے شفاء پانے کی غرض سے استعمال کرتا ہے، مزید براں اَیلو پیتھی کی بھی تمام سیال اَدویات میں الکحل کی ملاوٹ ہوتی ہے، زمانہ موجودہ میں اِن ادویات سے اجتناب انتہائی دشوار ہے؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ کے پیشِ نظر ہومیو پیتھی ادویات کا استعمال جائز ہے یا ناجائز؟ اگر ناجائز ہے تو معالج اور مریض دونوں ہی گنہگار ہوں گے، یا صرف معالج یا صرف مریض؟ نیز ہومیوپیتھک دواؤں کا استعمال کرنا درست ہے یا نہیں، جب کہ اُن میں اِسپرٹ ملا رہتا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: الکحل اور اِسپرٹ کے بارے میں جب تک اِس کا یقین نہ ہوجائے کہ یہ اسپرٹ اور الکحل اشیاء ثلاثہ: انگور، کشمش اور کھجور ہی سے بنی ہے، اُس وقت تک برائے علاج ایسی اسپرٹ سے آمیز کی ہوئی دواؤں کے استعمال کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اُن میں نشہ نہ ہو، اور ایسی صورت میں اُن دواؤں کے استعمال سے مریض اور معالج کوئی گنہگار نہ ہوگا۔

فتاوی قاسمیہ ) 23 / 314(

الکحل ملی ہوئی دوا استعمال کرنے کا حکم
سوال ]۱۰۴۴۳[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : راقم الحروف عرصہ دراز سے امراض قلب، ووجع المفاصل سے متعلق ایلوپیتھک ادویات استعمال کررہا ہے اور اس قدر مجبوری ہے کہ اگر دو یوم دوا استعمال نہ کرے تو حالت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے، ایلوپیتھک ادویات کے کثیر استعمال کی وجہ سے کچھ دوسری بیماریاں حاوی ہونے لگیں ، امراض قلب کی ادویات گردوں پر اثر انداز ہوتی ہیں ، درد کی دوائیں فعل جگر کو متأثر کرتی ہیں ، متعلقین کی آراء سے ہومیوپیتھک علاج شروع کیا گیا، چار پانچ دن استعمال سے بفضل خدا خاطر خواہ فائدہ معلوم ہوا، لیکن اچانک دوا کی شیشی پر راقم کی نگاح پڑی تو الکحل لکھا ہوا نظر آیا، الکحل دیکھ کر راقم کو دوا سے کراہیت ہو گئی اور دوا بند کردی (الکحل شراب میں ملایا جاتا ہے یا اس سے شراب بنائی جاتی ہے اس وہم کی وجہ سے راقم سینٹ بھی استعمال نہیں کرتا ہے) معالج مسلم ہیں ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہومیوپیتھک دوا کوئی بھی الکحل کے بغیر نہیں ہوتی ہم نے ڈاکٹری پڑھنے کے بعد علماء و مفتیان سے مشورہ کیا، استخارہ بھی کیا، معلوم یہ ہوا کہ بیماری سے نجات اور فائدہ کی غرض سے کوئی حرج نہیں ہے، پندرہ بیس یوم دوا بالکل استعمال نہ کرنے کی وجہ سے طبیعت زیادہ خراب ہو گئی، متعلقین نے مصر ہو کر ہومیوپیتھک دوا دوبارہ شروع کرادی، راقم بڑی کراہیت کے ساتھ استعمال کر رہا ہے، اور پریشان ہے، عرض یہ ہے کہ حکم شرعی کیا ہے؟ دوا استعمال کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
المستفتی: مصباح العابدین
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:  الکحل عین شراب ہوتا ہے لیکن جو شراب انگور اور کھجور سے بنتی ہے وہ ناپاک اور نجاست غلیظہ ہوتی ہے اور جو انگور و کھجور کے علاوہ اشیاء سے بنتی ہے وہ حضرت امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے نزدیک نجاست غلیظہ اور کلی طور پر حرام نہیں ہوتی، بلکہ اس کی نجاست میں بھی خفت ہے اور مقدار سکر سے کم حرام بھی نہیں ہے، اس لیے اس کے حکم میں تخفیف ہے، لہٰذا عطریات اور ادویات میں اس کے استعمال کی ضرورت کی بنا پر گنجائش ہے، اس لیے ہومیوپیتھک یا ایلو پیتھک کی وہ دوا جس میں الکحل ملا ہوا ہو، مریض کے لیے استعمال کرنا حضرت امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے نزدیک جائز ہے، لہٰذا جو دوا آپ پہلے سے استعمال کررہے تھے، وہ اب بھی استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

Related Articles

Back to top button