Using the Words of “Talaaq” in Explaining the Laws of Talaaq to One’s Wife
Question:
Asalamualaikum Respected Mufi Saab
If husband and wife [both are ALIMS] are casually speaking, discussing rulings of talaq. And husband says to wife “for example if I said talaq talaq talaq to you, it would be 3 talaqs”
Or said something like “Talaq Talaq Talaq” to his wife in explanation of ruling.
In either of these cases, would talaq occur? As intention is not considered when Sareeh words of talaq are used, and although he didn’t intend to give talaq, he still said the word talaq to his wife
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
In the inquired scenario, no Talaaq has occurred.[1]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa
Port-louis, Mauritius
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] «فتح القدير للكمال بن الهمام – ط الحلبي» (4/ 4):
فروع: هو أنه لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول: أنت طالق ولا ينوي طلاقا لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال: ثم وقف وكتب امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة بالتلفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه.
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (3/ 278):
لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول أنت طالق ولا ينوي لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال ثم يقف ويكتب: امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة باللفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه وما في القنية: امرأة كتبت أنت طالق ثم قالت لزوجها: اقرأ علي فقرأ لا تطلق اهـ.
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار – ط الحلبي» (3/ 250): باب صريح الطلاق
(قوله أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر، احترازا عما لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته، وعما لو لقنته لفظ الطلاق فتلفظ به غير عالم بمعناه فلا يقع أصلا على ما أفتى به مشايخ أوزجند صيانة عن التلبيس وغيرهم من الوقوع قضاء فقط.
فتاوى قاسمية لمولانا شبير أحمد قاسمي ط مكتبة أشرفية ديوبند (14/454)
کیا طلاق کے مسائل کے تکرار سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟
سوال ]۶۲۳۳[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہوں، کیا طلاق پڑجائے گی، پھر میں نے کہاکہ میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہوں،اس کے بعد ایک دو دفعہ یہ لفظ استعمال کیا ہو کہ کیا طلاق پڑجاوے گی؟ اور دل میں یہ بھی کہا کہ طلاق نہیں پڑے گی، پھر میں نے دل میں یہ سوچا کہ اگر آدمی ہنس کر بھی طلاق دیتا ہے، تو طلاق واقع ہوجاتی ہے، توکہیں یہ طلاق بھی واقع تو نہیں ہوگئی اتنا جملہ میں نے سوچا ہے۔
اور یہ ساری باتیں بلا نیت ثواب وغیر اختیاری طور پر حالت سفر و تنہائی ٹرین میں پیش آئی تو حالات مذکورہ کی وجہ سے ذہن میں تشویش بڑھنے کے سبب بندہ نے حضرات مفتیان کرام کی جانب رجوع کیا، لہٰذا استفتاء کا جواب واضح اور صاف مطلوب ہے۔
المستفتی: محمدرفیق اڑیسہ
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: یہ محض تخیلات ہیں اگر اس طرح کی باتیں تنہائی کی حالت میں زبان سے بھی نکل جائیں تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی،اس لئے کہ یہ مسائل طلاق کے سمجھنے سمجھانے اور تکرار کے درجہ میں ہیں، اس کی وجہ سے شبہات میں نہ پڑیں۔
لو کرر مسائل الطلاق بحضرتہا، ویقول: في کل مرۃ أنت طالق لم یقع۔ (الأشباہ والنظائر قدیم مطبع دیوبندص ۴۵، جدیدزکریا ۱/۹۱)
لوکرر مسائل الطلاق بحضرۃ زوجتہ، ویقول أنت طالق، ولا ینوي لا تطلق۔ (البحر الرائق، کوئٹہ۳/۲۵۸، زکریا۳/۴۵۱) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
الجواب صحیح: احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
نجم الفتاوی حضرت شیخ الحدیث مفتی سید نجم الحسن ط شعبه نشر و اشاعت جامعه دارالعلوم یاسین القرآن نارتھ کراچی (6/253)
(۱۴۳) بیوی کو کتاب الطلاق پڑھاتے وقت الفاظ طلاق کا استعمال
سوال……. کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری بیوی کو عالمہ بنے کا شوق ہوا۔ میں نے اس کو کتا ہیں پڑھانا شروع کر دیں۔ ایک دن میں کتاب الطلاق پڑھار ہا تھا تو مسئلہ بیان کرتے ہوئے میں نے کہا تم کو طلاق تم کو طلاق تم کو طلاق۔ وہ اٹھ کر چلی گئی اس نے کہا آپ نے مجھے طلاق دیدی۔ میں نے بہت سمجھایا وہ نہیں مانتی حالانکہ میں تو صرف مسئلہ سمجھا رہا تھا۔ اس صورت میں طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟
الجواب بعون الملك الوهاب ……. وقوع طلاق کے لئے الفاظ طلاق سے طلاق کا قصد ہونا ضروری ہے۔ اگر طلاق کے الفاظ پڑھانے کیلئے یا بطور حکایت یا دیگر کسی قصد سے استعمال کئے جائیں تو اگرچہ بیوی سامنے موجود ہو طلاق واقع نہیں ہوتی لہذا صورت بالا میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
لما في الأشباه والنظائر في القاعدة الأولى (ص (۲۴) ولكن لا بد أن يقصدها باللفظ، قالوا لوكرر مسائل الطلاق بحضرتها ويقول في كل مرة : أنت طالق ، لم يقع ولو كتبت امرأتي طالق أو أنت طالق وقالت له اقرأ علي فقرأ عليها لم يقع عليها لعدم قصدها باللفظ.
و في خلاصة الفتاوى (۷۵/۲) وفى فتاوى أهل سمر قند فى رجل حكى عن رجل فلما بلغ إلى ذكر الطلاق خطر بباله ذكر امرأته إن نوى عند ذكر الطلاق عدم الحكايات واستئناف الطلاق و كان الكلام موصولا بحيث يصلح للإيقاء على امرأته طلقت امرأته وإن لم ينو لا تطلق وهو محمول على الحكاية
وحكى عن شيخ الاسلام أوز جندى فى رجل يذكر مسائل الطلاق بين يدى امرأته ويقول أنت طالق وهو لا ينوى بذلك طلاق امرأته لا تطلق
وفى الهندية (۳۵۳/۱ ما حكى يمين رجل فلما بلغ إلى ذكر الطلاق خطر بباله امرأته إن نوى عند ذكر الطلاق عدم الحكاية واستئناف الطلاق وكان موصولا بحيث يصلح للإيقاء على امرأته يقع لأنه أوقع وإن لم ينو شيئا لا يقع لأنه محمول على الحكاية كذا في الفتاوى الكبرى
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے طلاق کے الفاظ کہنا
سوال: کیا مثال دینے یا سمجھانے سے طلاق ہوتی ہے؟
میرا دوست ایک دن خوش گوار موڈ میں بیوی کو طلاقِ رجعی کے الفاظ کے بارے میں سمجھا رہا تھا کہ لفظِ آزاد اور طلاق سے طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے، پس اس نے اسے سمجھانے کے لیے کسی اور کو مثال میں لینے کے بجائے خود کو مثال میں لیا اور یہ الفاظ کہہ دیے “آزاد لفظ کا مطلب طلاق ہوتا ہے،جیساکہ میں یہ بات کہہ دوں کہ میں نے تمہیں آزاد کیا،پس تمہیں طلاق ہو ہی گئی”، اس اس کی طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی، صرف سمجھانے کے لیے بیوی کو بول دیا۔کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟اگر واقع ہوگئی تو ایک یا دو طلاقیں؛ کیوں کہ اس نے جملے میں طلاقِ رجعی دو مرتبہ کہہ دیا تھا، لوگ کہتے ہیں کہ طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، کیا واقعتًا ایسا ہی ہے؟
جواب: واضح رہے کہ اگر کوئی شخص تعلیم کی غرض سے طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے طلاق کے الفاظ کہے، یا طلاق کے مسئلہ کو سمجھاتے ہوئے مثال کے طور پر طلاق کا جملہ کہے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے دوست واقعۃ اپنی بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے بطور مثال مذکورہ جملے کہے ہیں تو اس سے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، دونوں کا بدستور برقرار ہے۔
تاہم یہ ملحوظ رہے کہ “آزاد کیا” سے طلاق واقع ہونے کی صورت میں اس سے ایک صریح بائن طلاق ہوجائے گی، کیوں کہ ہمارے عرف میں “آزاد” کا لفظ طلاق کے لیے صریح ہوچکا ہے، لہٰذا نیت کے بغیر بھی اس سے طلاق واقع ہوجائے گی، البتہ چوں کہ یہ اصالۃً صریح نہیں ہے تو طلاق بائن واقع ہوگی۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (9/ 183):
“لَوْ كَرَّرَ مَسَائِلَ الطَّلَاقِ بِحَضْرَةِ زَوْجَتِهِ، وَيَقُولُ: أَنْتِ طَالِقٌ وَ لَايَنْوِي لَاتَطْلُقُ ، وَ فِي مُتَعَلِّمٍ يَكْتُبُ نَاقِلًا مِنْ كِتَابِ رَجُلٍ قَالَ: ثُمَّ يَقِفُ وَ يَكْتُبُ: امْرَأَتِي طَالِقٌ، وَكُلَّمَا كَتَبَ قَرَنَ الْكِتَابَةَ بِاللَّفْظِ بِقَصْدِ الْحِكَايَةِ لَايَقَعُ عَلَيْهِ”. فقط واللہ اعلم