Miscellaneous in ZakatZAKAT

A late person accidentally payed zakaat on the cost price……

Question: 

A person accidentally payed zakaat on the cost price instead of the selling price for the past 20 years The person is now deceased The family wants to rectify this error now

What procedure should be followed in terms of working out the outstanding value and how should this be determined

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Ramatullāhi Wa-Barakātuh

DISCLAIMER
• The Sharīʿah ruling issued herein is based specifically on the situation described above.

In the scenario in question, the zakāt that was discharged by the deceased is valid. Therefore, there is no need for the family to make any additional payment. [1]

And Allah Taʿāla Knows Best.

Baba Abu Bakr

Student Darul Iftaa

Accra, Ghana

Checked and Approved by

Mufti Muhammad Zakariyya Desai

[1] المبسوط للسرخسي ٢/‏١٩٠ — شمس الأئمة السرخسي (ت ٤٨٣)

 وكذلك ‌زكاة ‌مال ‌التجارة ‌تجب ‌بالقيمة والكلام فيه في فصول (أحدها) أن الزكاة تجب في عروض التجارة إذا حال الحول عندنا. وقال مالك – رحمه الله تعالى -: إذا باعها زكى لحول واحد وإن مضى عليها في ملكه أحوال، وقال نفاة القياس: لا شيء فيها، والدليل على وجوب الزكاة فيها حديث سمرة بن جندب أن النبي صلى الله عليه وسلم «كان يأمرنا بإخراج الزكاة من الرقيق، وفي كل مال يتبعه» وفي حديث أبي ذر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «، وفي البر صدقة إذا كان للتجارة».

المحيط البرهاني ٢/‏٢٦٥ — برهان الدين ابن مازه البخاري (ت ٦١٦)

لأن وجوب الزكاة في عروض التجارة، وانعقاد الحول عليه باعتبار القيمة، والقيمة لم تتبدل.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي ١/‏٢٧٩ — الفخر الزيلعي (ت ٧٤٣)

«قال رحمه الله (وفي عروض تجارة بلغت نصاب ورق أو ذهب) ‌يعني ‌في ‌عروض ‌التجارة ‌يجب ‌ربع ‌العشر ‌إذا ‌بلغت ‌قيمتها ‌من ‌الذهب ‌أو ‌الفضة ‌نصابا ويعتبر فيهما الأنفع أيهما كان أنفع للمساكين»

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري ١/‏١٢٤ — أبو بكر الحداد (ت ٨٠٠)

 «قال رحمه الله (‌الزكاة ‌واجبة ‌في ‌عروض ‌التجارة ‌كائنة ما كانت) أي سواء كانت من جنس ما تجب فيه الزكاة كالسوائم أو من غيره كالثياب والحمير.»

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ١/‏١٧٩ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)

 «‌الزكاة ‌واجبة ‌في ‌عروض ‌التجارة ‌كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات ثم في تقويم عروض التجارة التخيير يقوم بأيهما شاء من الدراهم والدنانير إلا إذا كانت لا تبلغ بأحدهما نصابا فحينئذ تعين التقويم بما يبلغ نصابا هكذا في البحر الرائق. إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن أدى من عينها أدى خمسة أقفزة، وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب؛ لأن الواجب أحدهما ولهذا يجبر المصدق على قبوله وعندهما يوم الأداء.»

فتاوی محمودیہ (416/9)

تجارت کے لئے کتاب چھپوائی ، زکوۃ کسی قیمت سے ادا کرے؟

سوال (٢٥٣٠: مال تجارت کی قیمت زکوۃ کے لئے کس حساب سے لگائی جائے گی ، آیا اصل مصارف پر یا مع منافع ؟ مثلاً زید نے تجارت کے لئے ایک کتاب کے دو ہزار نسخے چھپوائے ، ہر نسخہ پر اصل مصارف بغیر منافع کے ایک روپیہ آیا یعنی کل مال کی اصل قیمت دو ہزار روپے ہوئی مگر زید نے اس کتاب پر بازار کے لئے تین روپے قیمت مقرر کی اور خود اس کو دوسرے تاجروں کو دو روپے فی کتاب کے حساب سے فروخت کرنا شروع کیا۔ اپنے کاروبار کے لئے زید نے ملازم بھی رکھے، دوکان وغیرہ کا کرایہ بھی دیا ، جب سال پورا ہوا تو اس کے پاس اس کتاب کے آٹھ سو نسخے باقی تھے، نقد کچھ نہ تھا۔ درمیان سال میں ملازم کی تنخواہ دکان کے کرایہ وغیرہ میں چار سو روپے بھی خرچ کئے ۔ اب سوال یہ ہے کہ زید کا راس المال کیا ہے؟ زید اگر ز کو اصل کتاب ہی دینا چاہے تو ہر کتاب کی قیمت کیا لگائے ؟

الجواب حامداً و مصلياً:

سال بھر گزرنے پر زید کے پاس تجارتی کتاب کے آٹھ سو نسخے ہیں اس کے علاوہ ایسا کوئی مال نقد وغیر ہ نہیں جس میں زکوۃ واجب ہو تو اب زکوۃ کتاب کے موجودہ نسخوں ہی میں واجب ہوگی ، نہ کہ کل مال میں جس کو صرف کر کے کتاب چھپوائی، نہ خرچ کر ده تنخواہ وغیرہ میں ، نہ فروخت شد و وخرچ شدہ قیمت میں ، لہذا آسان صورت یہ ہے کہ بیسں نسخے زکوۃ میں ادا کرے پھر مصرف زکوۃ ان نسخوں کو چالیس روپے میں فروخت کرے یا ساٹھ میں اس کو اختیار ہے، یا جس قیمت میں خود فروخت کرتا ہے میں نسخو ں کی وہ قیمت دیدے۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔

فتاوی دار العلوم زکریا(138/3)

تجارتی سامان میں قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا :

سوال : ایک شخص اپنی دکان کے مال تجارت کی زکوۃ نکالنا چاہتا ہے تو کسی قیمت کے اعتبار سے نکالے قیمت خرید یا قیمت فروخت ؟ اور کس وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا ؟

الجواب : صورت مسئولہ میں سامان تجارت کی زکوۃ نکالتے وقت قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا۔

جدید فقہی مباحث(568/7)

تھوک پھٹکر کاروبار میں کون سا نرخ معتبر ہے ؟

تھوک و پھٹکر کاروبار میں تاجر کے حال کا اعتبار ہے، اس لیے کہ بازار میں د دونوں کا نرخ الگ الگ ہوتا ہے ہیں جو تا جر تھو ک کا روبار کرتا ہے تو اس صورت میں تھو ک کی قیمت معتبر ہوگی، اور جو تاجر پٹکر روبار کرتا ہے وہ پھٹکر کے اعتبار سے قیمت لگاکر زکوٰۃ دے اور جو تاجر دونوں طرح خرید و فروخت کرتا ہے تو وہ شخص تقویم بالا نفع للفقراء کے اصول کے پیش نظر پھٹکر قیمت کا لحاظ کر کے زکوٰۃ دے یہاں پر ميسٹلہ بھی یادر ہے کہ ادائے گی زکوۃ کے لیے اسی شہر کی قیمت لگائی جائے گی جس شہر میں مال ہے یا اگر شہر میں مال نہیں ہے بلکہ آبادی سے باہرماں ہے تو اس صورت میں مال سے جو آبادی زیادہ قریب ہے اس قریب والی آبادی کی قیمت معتبر ہوگی جہاں صاحب مال یا تاجر رہتا ہے وہاں کی قیمت کا اعتبار نہیں ہے،

  فتاوی دار العلوم دیوبند 4 / 141

سوداگر کے پاس جو مال موجود ہے اس کی قیمت دریاداری کا انتہار پر گا یا موجودہ بھاؤ کا

سوال: سودا گر کے پاس مال موجود ہے اب زکوٰۃ دینا چاہتا ہے سال بھر کے بعد تو اس مال کی قیمت خرید کا

اعتبار ہو گا یا بازار کے بھاؤ کا لحاظ ہو گا؟

الجواب: مال تجارت کی جو قیمت بازار میں بوقت زکوۃ دینے کے ہے اسی قیمت کے اعتبار سے زکوۃ ادا کی جاوے، خواہ قیمت خرید سے زیادہ ہو یا کم ہو بحوالہ شامی ۔

 

The Fuqahā did not clearly specify which exact price trade goods must be valued at. Because of this, علماء العاصر differed; some said cost price, others said selling price, and others mentioned different methods.

Although we hold the view that the selling price should be adopted, this recognized difference of opinion provides valid leeway.

Therefore, the Zakāt paid by the deceased can be considered valid and sufficient, and no additional payment is necessary.

Related Articles

Back to top button