Zakat on the Money Deposited in the Nusuk App Wallet
Question:
Assalamualikum ww
I paid zakat on my other zakaable assets this year but i want to know:
Do I have to pay Zakat on the money deposited in the nusuk app wallet ?
This is Haj money; I couldn’t buy any of the Haj packages yet. I am waiting for the next global sale.
Point to note if I withdraw, they will deduct 5% and return the rest.
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Raḥmatullāhi Wa-Barakātuh
In the above scenario, zakāh will be obligatory on the entire amount deposited in the nusuk app wallet. [1]
And Allah Taʿāla Knows Best.
| Baba Abu Bakr
Student Darul Iftaa Accra, Ghana |
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa |
Checked and Approved by
Mufti Muhammad Zakariyya Desai
[1] البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ٢/٢٢٢ — زين الدين ابن نجيم (ت ٩٧٠)
«فقد صرح بأن من معه دراهم وأمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة إذا حال الحول وهي عنده ويخالفه ما في معراج الدراية في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة اهـ.»
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ١/١٧٢ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ٢/٢٦٢ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)
«ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها»
فتاوی قاسمیہ)10 / 307(
پرائیویٹ ٹورکو حج کیلئے دی گئی رقم پر زکوٰۃ
سوال:]۴۱۱۰[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ آپ کے ارسال کردہ جواب سے حج کمیٹی اور دیگر ٹور ایجنٹ حضرات کی حیثیت کا تعین ہوگیا کہ وہ ایک حیثیت سے بکنگ کرانے والوں کے وکیل ہیں، الحمد ﷲ بندہ کا نظر یہ بھی یہی تھا، بس کسی معتمد کی تائید کی ضرورت تھی ، ان کی حیثیت کے متعین ہوجانے سے ایک بات طے ہوجاتی ہے، کہ ان کے پاس جمع کردہ رقم ’’امانت‘‘ ہے خواہ رقم پوری ہوخواہ کم وبیش ہو ، لہذا پرائیویٹ ٹوروں میںرقم جمع کرنے کے بعد جب تک رقم ٹکٹ کی خریداری کاغذات کی تیاری ، ہوٹل میں بکنگ وغیرہ میں صرف نہیں کی گئی ہے، تب تک اس کی امانتی حیثیت اگر برقرار ہے، اور اسی دوران کسی کا سال زکوٰۃ مکمل ہوجائے، تو ضابطہ کے مطابق زکوٰۃ واجب ہونی چاہئے، ہاں البتہ اگر جمع کردہ رقم پر تصرفات ہوچکے ہیں، تب توزکوٰۃ کا مسئلہ نہیںہے، چنانچہ بعض حضرات چھ آٹھ ماہ قبل اور اب تو پرائیویٹ ٹوروں میں سال دوسال پہلے بھی مکمل یا نصف رقم دے کر بکنگ کرالیتے ہیں، اور یہ بھی پیش نظر رہے کہ ہر کسی کا سال زکوٰۃ رمضان ہی میں پورا نہیں ہوتا بلکہ درمیان سال میں کبھی بھی حولان حول ہو سکتاہے، اسلئے اس طرح کی صورتیں پیش آسکتی ہیں، بلکہ آتی ہیں کہ رقم علیٰ حالہ بغیر کسی تصرف کے باقی ہے، اور سال مکمل ہوگیا تو کیا اب بھی رقم کی امانت والی حیثیت کے علی الرغم صرف اس بنیاد پر عدم وجوب زکوٰۃ کا حکم لگا یا جانا درست ہوگا، کہ رقم ملکیت سے خارج ہوچکی ہے ، اورمذکورہ ممکنہ صورتوں کے باوجود علی الاطلاق صرف رقم جمع کردینے سے ہی عدم وجوب زکوٰۃ کا حکم کر دینا صحیح ہوگا یا ان کی وجہ سے احکام میں فرق ہو کر تفصیل ناگزیر ہوگی ؟
واضح رہے کہ احکام میں تفصیل کا خانہ صرف پرائیویٹ ٹوروں سے متعلق ہے خواہ حج وعمرہ کے ہوں ، یا سیاحتی اورتجارت کے ہوں ، حج کمیٹی سے متعلق نہیں کیونکہ ہماری اپنی معلومات کے مطابق قرعہ اندازی میں نام نکل آنے کے بعد جب وقت مقررہ پر رقم جمع کردی جاتی ہے، تو اگلے سارے مراحل حکومتی سطح پر طے ہونے کی وجہ سے فوراً روبہ عمل ہوجاتے ہیں ، اس لئے ان میں زکوٰۃ علی الاطلاق واجب ہوگی ، جیساکہ آنجناب کا جواب بھی ہے ، نیز دوسری گذارش یہ ہے، کہ پرائیویٹ ٹوروالوں کے پاس جمع کردہ رقم سے اگر ٹکٹ ، ہوٹل بکنگ وغیرہ امور انجام دیئے جاچکے ہوں لیکن انہیں صرف ڈاؤن پیمنٹ یانصف رقم مثلاً ادا کی گئی ہو ، بقیہ رقم کی ادائیگی باقی ہو جس کا دینا ضروری ہو اور اتنی رقم پاس موجود بھی ہو جو بقدر زکوٰۃ بھی ہوا ور اسی اثناء میں زکوٰۃ کا سال مکمل ہوجائے ، تو چونکہ اس بقیہ رقم کو ادا کرنا حولان حول کے وقت بھی ضروری ہے ، اس لئے شامی کی تصریح :
بخلاف ما إذا حال الحول وہو مستحق الصرف إلیہا۔( شامی ، زکریا ۳/۱۷۹، کراچی ۲/۲۶۲)
کے پیش نظر زکوٰۃ لازم نہیں ہونی چاہئے، ممکن ہے کہ علامہ شامیؒ کی بیان کردہ عبارت کے سمجھنے میں بندہ غلطی کررہا ہو ، یا مسئلہ مبحوث فیھا پر اس کا انطباق درست نہ ہو اس لئے جناب والا سے درخواست ہے کہ کچھ توجہ منعطف فرما کر دونوں گذارشات کے سلسلہ میں بندہ کی رہنمائی فرما کر ممنون ہوں؟
المستفتي:بندہ عبد الرشید عفی عنہ نعمانی ، بمبئی ایسٹ
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:(۱)پرائیویٹ ٹوروالوں کے پاس پیسہ جمع ہوجانے کے بعد جب تک پیسوں کی آسانی سے واپسی کا اعتماد باقی رہے، اس وقت تک اس پیسہ پرزکاۃ کا حکم لاگو ہوگا اور واپسی کا اعتماد ختم ہو جانے کے بعد وہ پیسہ خرچہ میں شمار ہوجائیگا۔
)۲(جس شخص نے پرائیویٹ ٹور والوں کو نصف رقم دیدی ہے اور بقیہ نصف رقم دینی باقی ہے، اور پرائیویٹ ٹور والوں نے ان کے ٹکٹ اور ہوٹل بکنگ وغیرہ کروادیئے ہیں تو مابقیہ رقم حاجی یا سیاحی پر قرض ہوگئی جس کا اسے پرائیویٹ ٹور والوں کو ادا کرنا لازم ہے، اور ضروری ہے اس لئے اس بقیہ رقم پر زکاۃ واجب نہ ہوگی ۔
کتاب النوازل) 6 / 466(
حج کے نام پر نکالی گئی رقم پر زکوٰۃ؟
سوال(۳۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص نے حج کے لئے رقم الگ نکال کے رکھ دی، تو کیا سال گذرنے پر اس رقم پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی؟ جو بھی حکم ہو مدلل جواب تحریر فرمائیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جی ہاں یہ رقم اگر نصاب کو پہنچتی ہے تو سال گذرنے پر اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔
Nusuk E-Wallet (from the FAQ)
- What it is: A digital wallet that must be pre-loaded with money to pay for Hajj packages.
- How to add money: By credit card or bank transfer. Small test amounts can be added. Multiple people can pay into the same wallet.
- Fees: No fee to add money, but the bank might charge for the transfer. A 1.5% processing fee applies to all purchases and refunds. Example: Refunding 50,000 SAR costs a 750 SAR fee, so 49,250 SAR is returned.
- Crucial rule: The wallet must have enough funds before booking a package. There is no “pay later” option.
Nusuk Platform Terms of Use
- What it is: An official Saudi government platform (under the Ministry of Hajj and Umrah) to book flights, hotels, transport, and get a visa.
- Responsibility: The user is responsible for ensuring all documents are correct.
- Force majeure: The platform is not liable for disruptions from events outside its control (natural disasters, war, government actions).
- Governing law: All rules follow the laws of Saudi Arabia.