BUSINESS & DEALINGS

Valuation in a Partnership

Question:

Asalaamu alaykum
Respected mufti saheb

I have 2 scenarios that I would like clarification on.

SCENARIO 1

5 people decide to start a business together
They all invest 5000 rands
And they each own 20% of the business (so they are equal partners.

They then ask someone else (a 6th person) to invest into the business

The investment arrangement was the following

The investor will invest 100 thousand rands and we will buy stock with that money
The investor will then receive a percentage of profits made by selling the stock bought with the 100 thousand rands investment when the products get sold and profit is realized on the goods bought with the investors money.

However the investor will have no management rights in the business.

So basically a profit sharing investment.(mudaraba)

The investor and partners agreed to this arrangement

So the 5 partners bought stock with all the money
(The 5 partners initial 25 thousand rands investment and the investors 100 thousands rands)

So the current state of the business is 90% of the capital is in stock and 10% was sold for profit.

Now 2 of the 5 initial partners want a payout.

The 2 partners that want to exit are saying that The evaluation of the stock should be at market price of the stock or a similar mutually agreed evaluation

But the 3 remaining partners are saying that The evaluation of the stock should be based on the cost of the stock

Please advise how the evaluation should happen and how the payout process should proceed.

Also Please mention if any of the arrangements above are in line with the Shari’a or not.

SCENARIO 2

The same as scenario one but instead of a 100 thousand rand investment it was a 100 thousand rand loan.

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

Scenario 1:

According to our understanding, the nature of this partnership is Shirkah al Amwaal and not Mudhaarabah. This is because in a Mudhaarabah arrangement, the Rabbul Maal (investor) provides the capital while the other partner or partners contribute work without investing.

In this case, a partnership of five people was initially formed, and a sixth partner was later added as an investor. Therefore, this arrangement is a Mushaarakah, and based on the details mentioned in the query, this partnership is permissible.

Valuation:

If one or more partners wish to terminate the Musharakah while the remaining partner or partners wish to continue the business, this can be achieved through mutual agreement.

When valuing the value of the stocks, a mutually agreed value must be taken into consideration. If there is a dispute, then the current market price will apply.

Payout:

There are three methods by which the payout may be carried out:

1. The remaining partners purchase the shares of the exiting partners.

2. The exiting partners sell their shares to external buyers.

3. The exiting partners may remain in the business, continuing to share in the profits and losses, while the remaining partners gradually purchase their shares.

Scenario 2:

The current value of the business will be calculated in the following manner:

Business Value = (Stock Value + Cash on Hand) – Total Debt

For example: Business Value = (120,000 + 10,000) – 100,000

Business Value = 130,000 – 100,000

Business Value = R 30,000

Each leaving partner will then receive 20% of this sum.

Note: It is not permissible for the person who advanced the loan to be a partner in this agreement, and therefore he will not share in the profits.

Kindly contact us if any further clarification is required.[1]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Azhar Mownah

Student Darul Iftaa
Mauritius

Checked and Approved by,

Mufti Muhammad Zakariyya Desai.


[1]

An Introduction to ISLAMIC FINANCE- Mufti Muhammad Taqi Usmani Page 28/63

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

شرکت کے احکام

سوال

السلام علیکم ! محترم مفتی صاحب میں تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے تنخواہ کی بچت میں سے اپنے ایک دوست کے ساتھ کاروباری شراکت داری کی ہے۔ اسکا پرنٹنگ پریس کا کام ہے۔ معاہدے کی شرائط درج ذیل ہیں۔

1.       میں نے اسے 2 لاکھ روپے دئیے ہیں جن کو وہ اپنے کاروبار میں سرمائے کے طور پر استعمال کرے گا۔

2.      اس سرمائے کو قرض کے طور پر لیا جائے گا جو کہ میری طرف سے کاروبار میں استعمال ہو گا۔

3.     میری طرف سے صرف سرمایہ ہو گا جبکہ مشینری، محنت، افرادی قوت وغیرہ اسی کی ہو گی۔

4.     وہ مجھے ہرماہ منافع میں سے حصہ دے گا۔

5.      ابتدائی طور پر ماہ وار 2 ہزار روپے منافع ہوگا جبکہ جیسے جیسے کاروبار چلے گا منافع نفع یا نقصان کے حساب سے بدلتا رہے گا۔ نفع زیادہ ہونے کی صورت میں زیادہ حصہ ملے گا جبکہ نقصان کی صورت میں اسی حساب سے کم ملے گا۔

6.      اصل رقم یعنی 2 لاکھ روپیہ محفوظ رہے گا اور معاہدے کی مدت کی تکمیل کے بعد مکمل طور پر قابل واپسی ہوگا۔

7.     معاہدے کی مدت 2 سال ہو گی۔

میری رہنمائی فرمائیں کہ مندرجہ بالا شرائط اور  کاروباری شراکت شریعت کی روشنی میں جائز ہے یا نہیں؟  اگر ناجائز ہے تو مہربانی فرما کر ناجائز معاملہ کی نشاندہی فرما دیں اور جائز معاملہ کی طرف رہنمائی فرمائیں۔جزاک الله خیرا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

درج بالا شرائط کے ساتھ سرمایہ دینے اور کارباری شراکت داری کرنے میں چند شرعی خرابیاں ہیں مثلا: سرمایہ بطورِ قرض دینااور اس پر نفع طے کرنا، جو سود ہے، سرمایہ کا ضمان، یعنی مدت کی تکمیل پر سرمایہ لوٹانے کی شرط، نفع کی مقرر مقدار یعنی فی الحال دو ہزار وغیرہ۔ یہ سب ناجائز شرائط ہیں، لہٰذا یہ کاروبار  درست نہیں۔

اس کا جائز شرعی متبادل یہ ہوسکتا ہے کہ آپ سرمایہ کے بقدر اس کے ساتھ شرکت کا معاملہ کریں  اور اس کے بعد نفع کا تعین شرکت کے شرعی اصولوں کے مطابق کریں، مثلاً اگر دکان میں موجود سامان، پرنٹنگ پریس مشینیں وغیرہ پانچ لاکھ کی ہیں اور آپ دولاکھ روپے دینا چاہتے ہیں تو دو لاکھ روپے، جو کل سرمایہ کا 28.57% بنتا ہے ، کے حصہ کا آپ مالک بن جائیں گے اورباقی 71.43%  کا پریس والا۔ اب پریس والا کام کرے گا تو وہ شریک عامل(Working partner) ہوگا اور آپ شریک غیر عامل(Sleeping partner)

اگر کاروبار میں نقصان ہوا تو وہ ہر شریک سرمایہ کے تناسب سے برداشت کرے گا، یعنی ساڑھے اٹھائیس فیصد آپ برداشت کریں گے باقی دوسرا،  اور نفع کی شرح آپ کے لیے(شریک غیر عامل)  آپ کے سرمایہ کے تناسب سے ذیادہ نہیں رکھی جاسکتی، اس سے کم کم کوئی بھی شرح طے کی جاسکتی ہےیعنی جتنا نفع ہوگا اس میں آپ کا تناسب آپ کے سرمایہ کے تناسب سے ذیادہ نہیں ہوسکتا اس سے کم ہوسکتاہے۔

دو سال کہ بعد جب آپ شرکت کا معاملہ ختم کرنا چاہیں  تو آپ اپنا ساڑھے اٹھائیس فیصد ملکیت جتنے پیسوں میں چاہیں  اسی شریک کو بیچ دیں یا اس کے علاوہ کسی اور کو بھی بیچ سکتے ہیں۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 9)

قال: “وإذا أراد الشركة بالعروض باع كل واحد منهما نصف ماله بنصف مال الآخر، ثم عقد الشركة” قال رضي الله عنه: “وهذه الشركة ملك” لما بينا أن العروض لا تصلح رأس مال الشركة، وتأويله إذا كان قيمة متاعهما على السواء، ولو كان بينهما تفاوت يبيع صاحب الأقل بقدر ما تثبت به الشركة.

حاشية ابن عابدين (5/ 646)

في شركة البزازية حيث قال وإن لأحدهما ألف ولآخر ألفان واشتركا واشترطا العمل على صاحب الألف والربح أنصافا جاز وكذا لو شرطا الربح والوضيعة على قدر المال والعمل من أحدهما بعينه جاز ولو شرطا العمل على صاحب الألفين والربح نصفين لم يجز الشرط والربح بينهما أثلاثا لأن ذا الألف شرط لنفسه بعض ربح مال الآخر بغير عمل ولا مال والربح إنما يستحق بالمال أو بالعمل أو بالضمان ا هـ ملخصا

عنایت الله عثمانی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

29/محرم الحرام/ 1445ھ

والله سبحانہ وتعالی اعلم


دار الافتاء:دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

شراکت داری ختم کرنے کا طریقہ
سوال

میں (سفیان محفوظ) اور حارث، ہم دونوں نے مل کر پانی کا کام شروع کیا تھا۔ میں نے ڈیڑھ لاکھ روپے ادھار لیے تھے اور میرے اور حارث کے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ اِس ڈیڑھ لاکھ روپے کو دونوں مل کر واپس کریں گے۔ کام شروع ہوگیا اور دونوں مل کر کام کرتے رہے، سب کچھ صحیح چل رہا تھا اور آہستہ آہستہ دونوں مل کر ادھار واپس کررہے تھے۔ پھر ہم دونوں نے مل کر ادھار پر ایک لوڈنگ گاڑی خرید لی، پچپن ہزار روپے کی تین مہینوں کی قسطوں پر اور اُس لوڈنگ گاڑی کی قسط بھی ہم دونوں مل کر اتار رہے تھے۔ اب میں (سفیان محفوظ) اِس کام سے الگ ہورہا ہوں تو میرے الگ ہونے میں شریعت کیا فیصلہ کرتی ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں آپ شرکت سے الگ ہوسکتے ہیں۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ عقدِ شرکت ختم کریں اور جو مال قابلِ تقسیم ہو، وہ آپس میں تقسیم کریں اور جو مال قابلِ تقسیم نہ ہو، اُس کی قیمت لگالی جائے، پھر جسے اُس سامان کی ضرورت ہے وہ یہ سامان رکھ کر آدھی قیمت دوسرے کو دے دے۔ جتنا قرض ہے وہ بھی دونوں مشترک طور پر ادا کریں گے۔ اور اگر دونوں میں سے کوئی ایک کاروبار جاری رکھنا چاہتا ہے اور دوسرا اُس سے الگ ہونا چاہتا ہے تو پورے کاروبار کی قیمت لگا کر دوسرے کو اُس کے حصے کے بقدر رقم دے کر اُس کا حصہ خرید لیا جائے۔
حوالہ جات

قال العلامة الحصکفي رحمه الله تعالی: (و) تبطل أيضا (بإنكارها) وبقوله: لا أعمل معك. فتح. (وبفسخ أحدهما)، ولو المال عروضا.(الدر المختار مع رد المحتار: 4/327)

قال العلامة الطوري رحمه الله تعالی: (ولا تدخل في القسمة الدراهم إلا برضاهم): وإذا كان أرض وبناء فعن الثاني أنه يقسم باعتبار القيمة؛ لأنه لا يمكن اعتبار التعديل فيه، إلا بالتقويم؛ لأن تعديل البناء لا يمكن إلا بالمساحة، والمساحة هي الأصل في الممسوحات، ثم يرد من وقع البناء في نصيبه قيمة البناء، أو من كان أجود دراهم على الآخر، فتدخل الدراهم في القسمة ضرورة.(تکملة البحر الرائق: 8/174)

وقال العلامة الطوري رحمه الله تعالی: وإن قسما دارا فإنه يقسم العرصة بالذراع، ويقسم البناء بالقيمة. ثم هذا على ثلاثة أوجه، فتارة يقسما الأرض نصفين، ويشترطا أن من وقع البناء في نصيبه يعطي لصاحبه نصف قيمة البناء، وقيمة البناء معلومة، أو اقتسموا ذلك وقيمة البناء غير معلومة بأن اقتسموا الأرض، ولم يقتسموا البناء، فإن اقتسموا الأرض، وشرطا في البناء، كما تقدم، فيكون بيعا مشروطا في القسمة. وهذا البيع من ضرورات القسمة، فيكون له حكم القسمة، فيجوز.(تکملة البحر الرائق: 8/176)

 

Related Articles

Back to top button