Eligible Zakat Agent Using Funds for Himself
Question:
Assalamu Alaykum. Kindly assist with the following query:
Yusuf regularly gives his zakat to Ahmad, who acts as Yusuf’s wakeel and distributes it to people eligible to receive zakat.
On one occasion, Ahmad asked Yusuf to send him a specific amount of zakat to distribute to three people:
- A Pakistani brother who was eligible to receive zakat.
- A person who was eligible to receive zakat because he had debts, although he was not completely without wealth. Ahmad was referring to himself when he mentioned this person, but Yusuf did not know this.
- A distant family relative who was experiencing financial difficulty and was eligible to receive zakat.
Yusuf sent the money to Ahmad and told him that if these people are eligible for zakat and need the money, you may give it to them.
At the time Ahmad made the request, he intended to give zakat to the first and third people and to take some of the zakat himself as the second person he had referred to.
However, after receiving the money, Ahmad found himself in financial difficulty. He therefore used the entire amount for himself rather than giving any of it to the first and third people.
The questions are:
- Is Ahmad sinful for using the entire amount of zakat for himself, even though he had told Yusuf that he would distribute it to the three specified people? At the time he made the request, he genuinely intended to give some of it to the first and third people and to take some himself as an eligible recipient.
- Has Yusuf’s zakat been discharged? The zakat was ultimately given to Ahmad, who was himself eligible to receive zakat, but it was not given to the first and third people whom Ahmad had originally specified.
Jazakallahu Khayra
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
In principle, Tamleek (transferring ownership) is necessary for Zakaah to be validly discharged. When a person appoints a Wakil (agent) to distribute Zakaah to the needy, the Wakil is merely an Ameen (trustee). He is required to distribute the Zakaah according to the donor’s instructions and is not permitted to use the Zakaah funds for himself. In such a case, the donor’s Zakaah will not be discharged.
Therefore, in the inquired scenario, it is necessary to ascertain from the donor whether, when he handed over the money, he made Ahmad the owner of the funds or merely appointed him as a Wakil. If he made Ahmad the owner, the Zakaah will be discharged; otherwise, it will not. [1]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa
Port-louis, Mauritius
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] «تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (1/ 305):
[حاشية الشلبي]
(فروع) من مسائل الأمر بأداء الزكاة ذكرها في المبسوط والجامع وجوامع الفقه والواقعات لو قال لرجل ادفع زكاتي إلى من شئت أو أعطها من شئت فدفعها لنفسه لم يجز وفي جوامع الفقه جعله قول أبي حنيفة وقال وعند أبي يوسف يجوز ولو قال ضعها حيث شئت جاز وضعها في نفسه وقال في المرغيناني وكل بدفع زكاته فدفعها لولده الكبير أو الصغير أو زوجته يجوز ولا يمسك لنفسه وفي الواقعات الصغرى أوصى بثلث ماله إلى إنسان يضعه حيث شاء جاز له وضعه في نفسه ولو قال أعطه من شئت لا يجوز وضعه في نفسه علل فقال لأنه صار معرفة بالإضافة إليه والمعرفة لا تدخل تحت النكرة وأحاله إلى الجامع لكن هذا التعليل باطل بمسألة الوضع وفي المبسوط أوصى إليه بثلثه يضعه أو يجعله حيث شاء فجعله في نفسه أو في ولده جاز كالموصي وليس له جعله أو وضعه في ولد الموصي كالموصي فإن وضعه في بعض ولد الموصي فهو باطل ويرد على جميع الورثة وليس له أن يعطيه أحدا بعد ذلك لانتهائه به وصار فعله كفعل الموصي وفي الجامع فرق بين الوضع وبين الدفع والصرف والفرق أن الدفع والصرف للتمليك كالإعطاء والإيتاء والواحد لا يكون مملكا ومتملكا في غير الأب والجد والوصي عنده وليس الوضع للتمليك فافترقا. اهـ. غاية
«الجوهرة النيرة على مختصر القدوري» (1/ 115):
وفي الفتاوى إذا دفعها إلى ولده الصغير أو الكبير وهم محتاجون جاز ولا يجوز أن يأخذ لنفسه منها شيئا فإن قال له صاحب المال ضعها حيث شئت له أن يأخذ لنفسه.
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (2/ 227):
وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا اهـ.
إلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (2/ 228):
وفي القنية من باب الوكالة بأداء الزكاة لو أمره أن يتصدق بدينار على فقير معين فدفعها إلى فقير آخر لا يضمن ثم رقم برقم آخر أنه في الزكاة يضمن، وله التعيين. اهـ.
والقواعد تشهد للأول؛ لأنهم قالوا: لو قال: لله علي أن أتصدق بهذا الدينار على فلان له أن يتصدق على غيره، وفي الواقعات ولو شك رجل في الزكاة فلم يدر أزكى أم لا فإنه يعيد فرق بين هذا وبين ما إذا شك في الصلاة بعد ذهاب الوقت أصلاها أم لا، والفرق أن العمر كله وقت لأداء الزكاة فصار هذا بمنزلة شك وقع في أداء الصلاة أنه أدى أم لا، وهو في وقتها ولو كان كذلك يعيد اهـ
________________
[منحة الخالق]
(قوله والقواعد تشهد للأول إلخ) أقول:: فيه نظر فإن ما ذكره قياس مع الفارق؛ لأنهم صرحوا بأن تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير غير معتبر في النذر؛ لأن الداخل تحت النذر ما هو قربة، وهو أصل التصدق دون التعيين فيبطل التعيين وتلزم القربة، وهنا الوكيل إنما يملك التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فليس له مخالفته كما في سائر أنواع الوكالة ونظيره لو أوصى بدراهم لفلان، وأمر الوصي بأن يدفعها إليه بعد موته ليس له أن يدفعها إلى آخر
«مجمع الضمانات» (ص262):
دفع إليه دينارا ليتصدق به على فقير غير معين فدفعه إلى آخر، أو أمره أن يتصدق به فتصدق على فقير غير معين فإن كان بحضرة الأول وعمله يجوز.
ولو أمره أن يتصدق به على فقير معين فدفعه إلى فقير آخر لا يضمن، وفي الزكاة يضمن وله التعيين، من القنية.
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار – ط الحلبي» (2/ 269):
«وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت، ولو تصدق بدراهم نفسه أجزأ إن كان على نية الرجوع وكانت دراهم الموكل قائمة
________________
(قوله: لولده الفقير) وإذا كان ولدا صغيرا فلا بد من كونه فقيرا أيضا لأن الصغير يعد غنيا بغنى أبيه أفاده ط عن أبي السعود وهذا حيث لم يأمره بالدفع إلى معين؛ إذ لو خالف ففيه قولان حكاهما في القنية. وذكر في البحر أن القواعد تشهد للقول بأنه لا يضمن لقولهم: لو نذر التصدق على فلان له أن يتصدق على غيره. اهـ.
أقول: وفيه نظر لأن تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير غير معتبر في النذر لأن الداخل تحته ما هو قربة، وهو أصل التصدق دون التعيين فيبطل، وتلزم القربة كما صرحوا به، وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل
(قوله ولو تصدق إلخ) أي الوكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم الموكل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم الموكل صح. بخلاف ما إذا أنفقها أولا على نفسه مثلا ثم دفع من ماله فهو متبرع،
أحسن الفتاوى للمفتي رشيد أحمد صاحب ط أيج أيم سعيد (4/307)
وکیل زکوۃ اپنے نفس پر خرچ نہیں کر سکتا :
سوال: زید ایک معزز علمی گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، یتیم ہو جانے کی بناء پر مالی حالات نا گفتہ بہ تھے اور ہیں، معہد ا زید نے دینی تعلیم مکمل حاصل کر کے ایک دینی ادارہ سے وابستگی اختیار کی، اور ایک مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینے لگا، والدہ ، ہمشیرہ اور بھائی کا کفیل ہونے کی بنا پر کچھ مقروض بھی ہے، زید کو کبھی کبھار لوگ صدقات واجبہ یا نافلہ دیدیتے ہیں جو یہ کہہ دیں کہ مدرسہ کو دیدینا ، زید مدرسہ میں دیدیتا ہے، جو یہ کہدیں کہ کسی طالب علم کو دیدینا ہی طلب علم کو دیتا ہے کبھی کوئی ہوں کہ دیا ہے کہ جسے آپ تا ہے کہ جسے آپ مناسب سمجھیں دیدیں وہ اپنی صوابدید کسی ط سی طالب یا جو آپ کے نزدیک مستحق ہوا سے دیدیں، کسی سے بے تکلفی کی بناء پر زیدیوں بھی تصریح کر لیتا ہے کہ جو مستحق ہوا کے دیدوں ؟ طالب علم ہو یا غیر طالب علم، وہ یہ کہ دیتا ہے جی ہاں جسے چاہیں دیدیں ۔ ایک آدمی سے خود زید کہتا ہے کہ آپ مجھے پیسے دیدیں ، میں ان شاء اللہ صحیح مصرف میں صرف کر دوں گا وہ دیدیتا ہے، مذکورہ رقوم سے زید کچھ تو مصارف میں صرف کر دیتا ہے، کچھ اپنی ناداری اور علی اور مدیون ہونے کی بناء پر خود استعمال کر لیتا ہے ، زید نے یہ مسئلہ سنا ہوا تھا کہ اگر معلی کیے جسے چاہو دیدو تو مستحق ہونے کی بنا پر وکیل خود بھی رکھ سکتا ہے، اب زید کو احساس ہوا کہ شامی کے جزئیہ ضعها حيث شئت کا یہ مفہوم نہیں ، زید متفکر در مغموم ہے کہ یہ میں نے کیا کیا ، نہ تو حساب یاد ہے کہ کس کے کتنے پیسے خود صرف کئے، او کئے، اور کتنے پیسے دیتے ، غلبہ ظن سے تخمینہ بھی لگایا جائے تو پیسے کہاں ؟ اور نہ ہی معطین کو آگاہ کیا جا سکتا ہے، یہ تو موت سے بھی زیادہ مشکل ہے، زید کی ظاہری سلامت روی اور نیک چلنی کی بناء پر لوگ اسے اچھا تصور کرتے ہیں ۔
يظن الناس بي خيراً والى و الشر الناس أن لم يعف عنى
بعد از تفصیل مذکور سوالات یہ ہیں :
اگر معطین کی زکوۃ ادار نہیں ہوئی تو اب کیا کیا جائے ؟
ضعها حيث شئت کا مفہوم ادا کرنے کے لئے اردو میں کو نسا لفظ بولا جائے گا ؟
خصوصیت سائل کی بناء پر کوئی معافی کی صورت نکل آئے تو گذشته را صلوات آئندہ را احتیاط ” پر عمل کیا جائے ، نہ ہو تو تلافی کیسے کی جائے ؟ سائل انتہائی غریب ہے، اگر گذشتہ کے لئے کسی قول پر توقع ہو سکتا ہو تو دریغ نہ فرمائیں، اعطاك الله اجرك مرتين
نوٹ : جسے چاہے دیدہ کہتے ہوئے معطی کے ذہن میں ہوتا ہے کہ آگے دے گا، آخذ کے ذہن میں ہوتا ہے کہ اس سے میرے لئے بھی گنجائش نکل آئی، یہ تضاد فکر اثر انداز ہو تو اسے بھی ذہن میں رکھیں ، بہشتی زیور اختری ص ا س ج ۳ میں ہے البتہ اگر تم نے یہ کہ دیا ہو کہ جو چاہو کرد اور جسے چاہے دیدو تو آپ بھی لے لینا درست ہے، اور جسے چاہے دید و اگر عطت تفسیری ہے تو ظاہر ہے، بصورت دیگر یہ کس کا ترجمہ ہے؟ جبکہ حاشیہ میں جزئیہ رہی مذکور ہے، بینوا توجروا
الجواب باسم ما هم الصواب
اس صورت میں زکوۃ نہیں ہوتی ، ضعها حيث شئت کا ترجمہ ہے جہاں چاہو خرچ کرد یہ جملہ تملیک ہے، اور مجھے چاہو دیدو توکیل ہے، عرف عام میں بہشتی زیور کے دو سر نے جملہ کو جملہ اولی پر تفریح قرار دیا جاتا ہے، یعنی بعد ملک چاہو اپنے مصرف میں لا دیا دوسرے کو دیدد، گذشتہ کی تلافی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی، یہ صرف تدبیر ہو سکتی ہے کہ مزکی سے کہے کہ ” لا علمی کی وجہ سے رقم غیر مصرف میں لگ گئی ہو، جس کا ضمان مجھ پر واجب ہے، اور میرے اندر اتنی استطاعت نہیں کہ آپ کا یہ قرض ادار کر سکوں ، اس لئے آپ مجھے اتنی رقم میریز کوہ سے دے کر بمد قرض مجھ سے واپس لے لیں، فقط واللہ تعالیٰ اعلم
فتاوى دار العلوم زكريا ط زمزم پبليشر (3/199)
وکیل زکوۃ کی رقم اپنے اوپر خرچ کرلے تو ادائیگی کا حکم :
سوال: ایک شخص نے کسی کو زکوۃ کی رقم فقراء پر خرچ کرنے کے لئے دی چونکہ وہ خود مستحق تھا اس نے لئے اس نے اپنے اوپر خرچ کر لی تو زکوۃ ادا ہوئی یا نہیں ؟
الجواب: اگر اعطاء کا لفظ کہا ہو تو دوسرے کو دینا ضروری ہے، اور اگر جیسے چاہو استعمال کرو کہا ہو تو خود استعمال کر سکتا ہے بشرطیکہ مستحق ہو۔
ملاحظہ ہو تبیین الحقائق کے حاشیہ میں ہے:
لو قال لرجل ادفع زكاتي إلي من شئت أو أعطها من شئت فدفعها لنفسه لم يجز وفي جوامع الفقه جعله قول أبي حنيفة، وقال وعند أبي يوسف يجوز ولو قال ضعها حيث شئت جاز وضعها في نفسه، وقال في المرغيناني وكل بدفع زكاته فدفعها لولده الكبير أو الصغير أو زوجته يجوز ولا يمسك لنفسه . (حاشية تبيين الحقائق للشلبي: ٣٠٥/١).
در مختار میں ہے:
والوكيل أن يدفع لولده الفقير و زوجته لا لنفسه إلا إذا قال ربها ضعها حيث شئت… وفي الشامي: الوكيل إنما يستفيد التصرف من المؤكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره ، كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل. (الدر المختار مع الشامي: ٢٦٩/٢ ، سعيد).
فتاوی قاضی خان میں ہے:
رجل دفع زكاة ماله إلى رجل وأمره بالأداء فأعطى الوكيل ولد نفسه الكبير أو الصغير أو امرأته وهم محاويج جاز ولا يمسك لنفسه شيئاً. (فتاوی قاضیخان على هامش الهندية: فصل في اداء الزكاة ٢٦١/١٠ فصل في أداء الزكاة والفتاوى الهندية : ١٨٩/١).
بہشتی زیور میں ہے:
تم نے ایک شخص کو اپنی زکوۃ دینے کے لئے دو روپے دئے تو اس کو اختیار ہے چاہے خود کسی غریب کو دیدے یا کسی اور کے سپرد کر دے کہ تم یہ روپیہ زکوۃ میں دیدینا اور وہ شخص وہ رو پیدا اگر اپنے کسی رشتہ دار یا ماں باپ کو یا غریب دیکھ کر دیدے تو بھی درست ہے لیکن اگر وہ خود غریب ہو تو آپ ہی لے لینا درست نہیں ، البتہ اگر تم نے یہ کہدیا ہو کہ جو چاہے کر داور جسے چاہے دید و تو آپ بھی لے لینا درست ہے۔ (بہشتی زیور ۲۴۵)۔ واللہ اعلم ۔
فتاوى قاسمية لمولانا شبير أحمد قاسمي ط مكتبة أشرفية ديوبند (11/224)
وکیل کا زکوٰۃ کی رقم اپنی ضروریات میں خرچ کرکے دوسرے روپیوں سے ادا کرنا
سوال:]۴۵۵۰[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ زید نے بکر کوزکوٰۃ کی رقم دی کہ جاکر مدرسہ میں دیدینا مصرف میں خرچ کردینا بکر سے وہ رقم یعنی دیئے ہوئے روپئے اپنی ضرورت میں خرچ ہوگئے بعد میں بکر نے وہ پیسہ زید کی دی ہوئی رقم کے مطابق اور اس کے حکم کے مطابق مدرسہ میں یا جو مصرف بتلایا تھا، اسمیں دیدی تو آیا زید کی زکوٰۃ ادا ہوئی یانہیں ؟
المستفتي:جمیل اختر عثمانی ، مظفر نگر
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:صورت مذکورہ میں زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی ہاں البتہ اسطرح جائز ہوسکتاہے، کہ اولاً اس نیت سے اپنی جیب سے مصرف زکوٰۃ میں اداکردے کہ بعد میں زید کے دیئے ہوئے روپئے میں وصول کرلیا جائیگا، اور اولاً زکوٰۃ کے پیسے میں سے خرچ کرکے بعد میں اس کو جمع کردینے سے ادا نہیں ہوتی ، لہذا زید کی دی ہوئی جورقم بکر نے اپنی ضرورت میں خرچ کرڈالی ہے بکر اتنی کاضامن ہوگا اور وکیل بمنزلہ امین ہوتاہے، اور امانت کی رقم خرچ کرتے ہی امانت ختم ہوکر ضمانت بن چکی ہے اب زکوٰۃ ادا ہونیکی صرف یہ صورت ہوسکتی ہے، کہ بکر زید کو مطلع کردے اور زید بکر کو دوبارہ وکیل بنادے تو بکر اپنی جیب سے مذکورہ مقدار بنیت زکوٰۃ مصرف میں دے دیگا، توزکوٰ ۃ ادا ہوجائیگی یاشروع ہی سے زید نے بکر کو خرچ کی اجازت دیدی ہو اور زید کی طرف سے اتنی مقدار زکوٰۃ فی الجملہ ادا کرنے کاحکم کیاہو، تو زکوٰۃ ادا ہو جائیگی ورنہ نہیں ۔ (بہشتی زیوراختری۳/۲۹)
الوکیل بدفع الزکاۃ إذا أمسک دراہم الموکل ودفع من مالہ لیرجع ببدلہا فی دراہم الموکل صح بخلاف ماإذا أنفقہا أوّلاً علی نفسہ مثلاً ثم دفع من مالہ فہو متبرع الخ۔ (شامی، کتاب الزکاۃ، مطلب فی زکاۃ ثمن المبیع وفاء زکریا۳/۱۸۹، کراچی ۲/۲۶۹)
لأن الدراہم تتعین فی الوکالۃ ۔ (الدرالمختار ، کراچی ۵/۵۳۴، زکریا دیوبند۸/۲۷۶، بزازیہ علی الہندیۃ زکریا دیوبند۴/۸۶) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
خیر الفتاوی حضرت مولانا خیر محمد جالندھری ط مکتبۃ امدادیہ (3/399)
” وکیل مستحق نے زکوۃ کی رقم خود سرف کر لی تو زکوۃ ادا ہوئی یا نہیں؟
زید نے ایک عربی مدرسے کے طالب علم بکر کو 40 روپے زکوۃ کے دیے کہ اس کو اپنے مدرسہ میں داخل کر دو طالب علم نے اس خیال سے کہ میں بھی غریب اور مصرف زکوۃ ہو، اپنے اوپر صرف کر لیے بکر کا یہ فعل بہشتی زیور کی تحریر کے مطابق صحیح معلوم نہیں ہوتا تو کیا زکوۃ ادا ہو گئی یا نہیں؟ اگر بکر مالک زید سے ایجاد لے لے تو یہ کافی ہو جائے گا یا نہیں؟ اگر اجازت کافی نہیں تو بکر اپنے پاس سے دے یا نہیں ؟
المستفتی:مولانا عبدالمجید مدرس دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا
الجواب: وفی الدر المختار ج:2، ص:13، وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال ربها : ضعها حيث شئت.
روایت بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ سورت مسئولہ میں زکوۃ ادا نہیں ہوئی اور اب جب کہ وہ رقم خرچ ہو چکی ہے تو مالک اجازت بھی دے دے تب بھی زکوۃ ادا نہ ہوگی ، اور اگر بکر اپنے پاس سے رقم مدرسہ میں دے دے اور زید کو اس کی اطلاع نہ کرے تو بھی زکوۃ ادا نہ ہوگی البتہ اگر زید کو پوری تفصیل بتلا کر دوبارہ زید سے اجازت حاصل کر کے رقم جمع کرا دے تو زکوۃ ادا ہو جائے گی۔فقط واللہ اعلم:
بندہ محمد اسحاق غفر اللہ
الجواب صحیح خیر محمدعفا اللہ عنہ
(3/409) وکیل نے زکوہ کا پیسہ اپنی ضروریات میں استعمال کر لیا پھر اپنے پاس سے مستحق کو دید یا تو زکواۃ ادا ہوئی یا نہیں؟
زید نے عمدا یا کسی مغالطہ کی بناء پر زکواۃ کی شرعی حیلہ کے بغیر مدرس کی ضروریات یا اپنے ضروریات میں صرف کر لیا ۔ پھر اتنی رقم مدرسہ میں داخل کردی تو کیا رکوہ و ہندگان کی زکوۃ ادا ہوگئی ؟ جب کہ پیسے مدرسہ میں داخل کر دیئے گئے ۔ ۔
الجواب: صحیح صورت حال مالکان کو بلا کر پھران سے اجازت لی جائے اور پھران کی ران سے زکوۃ ادا کی جائے ۔ اور اگر اس میں مشکلات ہوں تو ایک قول کے مطابق امید ہے کہ زکوۃ ادا ہو گئی۔ بشرطیکہ تملیک کے بعد مدرسہ میں استعمال کی گئی ہو۔
لكن قد يقال تجزى عن الأمر مطلقا لبقاء الاذن بالدفع اه” (شامی : ج ۲ ص ۱۴) – رجل جمع مالا من الناس لينفقه في بناء للمسجد فانفق تلك الدراهم في حاجته شمرد بدلها في نفقة المسجد لا يسعه ان يفعل ذالك فان فعل فان عرف صاحب ذالك المال رد عليه او سأله تجديد الاذن فيه وان لم يعرف صاحب المال استأذن الحاكم وان تعذر عليه ذالك رجوت له فى الاستحسان ان ينفق مثل ذالك من ماله على المسجد فيجوز اهـ (هندیه ج ۲ ۲۵۶ ) – فقط والله اعلم بنده عبد الستار عفا اللہ عنہ : ۱۵ را / ۱۳۹۶ –
زکوة کے وکیل کا زکوة کی رقم استعمال کرنا
سوال:زید نے احمد کو کچھ رقم دی زکوتہ،خیرات وغیرہ کہ کسی نیک کام یا کسی ضرورتمند کو دے دینا۔ احمد شرع مستحق زکوتہ تھا احمد کوکوی ضرورت پیش آئی ، اس نے وہ رقم اپنے استعمال میں لے لی مثلا بیوی بچوں پر خرچ کردی۔ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟
جواب نمبر: 176254
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:461-362/sd=6/1441
صورت مسئولہ میں اگر زید نے احمد کو زکات یا صدقہ کی رقم دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ کسی ضرورت مند کو دیدینا اور احمد کی اہلیہ یا بالغ اولاد مستحق تھی، تو احمد کے لیے وہ رقم اہلیہ اور بالغ غریب بچوں پر صرف کرنا جائز ہے اور اگر زکات یا صدقات واجبہ کی رقم ہو، تو ان کو قبضہ دے کر خواہ سامان کی شکل میں ہو مالک ومختار بنانا بھی ضروری ہوگا ؛ لیکن احمد کے لیے یہ رقم خود استعمال کرنا جائز نہیں ہے، ہاں اگر زید احمد کو مکمل اختیار دیدے اور صراحتا کہدے کہ ”جو چاہے کرو جسے چاہے دو، تو“ اس صورت میں احمد اگر مستحق ہو، تو خود بھی رقم استعمال کرسکتا ہے۔
قال الحصکفی: وللوکیل أن یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ إلا إذا قال ربہا ضعہا حیث شئت۔( الدر المختار مع رد المحتار:۱۸۸/۳، کتاب الزکاة، زکریا، دیوبند) قال ابن نجیم:وللوکیل بدفع الزکاة أن یدفعہا إلی ولد نفسہ کبیرا کان أو صغیرا، وإلی امرأتہ إذا کانوا محاویج، ولا یجوز أن یمسک لنفسہ شیئا اہ۔إلا إذا قال ضعہا حیث شئت فلہ أن یمسکہا لنفسہ کذا فی الولوالجیة۔ ( البحر الرائق:۳۶۹/۲، کتاب الزکاة، دار الکتب العلمیة، بیروت)
واللہ تعالیٰ اعلم
کیا وکیل کے لیے موٴکل کی زکوة کو اپنے مصرف میں لانا او رخود رکھ لینا جائز ہے؟
سوال:برائے مہربانی مندرجہ ذیل مسائل کا حل مطلوب ہے امید ہے جواب کی زحمت گوارہ فرماکر عنداللہ ماجور ہوں گے ۔ ایک آدمی بہت غریب ہے زکاة کا مستحق ہے لیکن عزت کے خاطر کسی سے کہہ نہیں سکتا تو کیا وہ اس طرح کسی سے کہے کے …”ایک آدمی ہے جو مستحق ہے اسکو زکوة دینی ہے ” خود کے بارے میں ایسا کہہ کر اپنے لئے زکوٰت لینا صحیح ہوگا یا نہیں؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی اسکو زکوٰت دیوے کہ کسی غریب کو دے دینا تو کیا وہ خود مستحق ہونے کی شکل میں استعمال کر سکتا ہے ؟ امید ہے جواب کی زحمت گوارہ فرمائیں گے ۔
جواب نمبر: 66576
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1162-1234/L=11/1437 مذکورہ بالا صورت میں اس شخص کی حیثیت وکیل کی ہو جائے گی اور وکیل کے لیے موٴکل کی زکوة کو اپنے مصرف میں لانا او رخود رکھ لینا جائز نہیں، الا یہ کہ موٴکل نے یہ کہہ دیا ہو کہ ”جہاں چاہے صرف کرلو“ اسی تفصیل سے دوسری بات کاجواب بھی ہو گیا کہ اگر زکوة کی رقم دے کر موٴکل اس کو بالکلیہ صرف کا اختیار دیدے تو خود وکیل کے لیے زکوة کی رقم کا استعمال کرنا جائز ہوگا ورنہ نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
وکیلِ زکوٰۃ کس کو دے سکتا ہے؟
وکیل ِزکوٰۃ کو اگر خاص شخص کو دینے کے لیے وکیل مقرر کیا جائے تو کسی اور کو نہیں دے سکتا، اگر مطلقاً فقراء و مساکین کو دینے کا وکیل بنایا گیا ہو تو خود نہیں لے سکتا، با قی جس مستحق کو بھی دے زکوۃ اداء ہو جائے گی، اگر چہ اپنی مستحق بیوی یا مستحق بالغ اولاد ہی کو دے، نابالغ مستحق اولاد کودینے میں یہ شرط ہے کہ یہ خود مستحق زکوٰۃ ہو ورنہ نابالغ بچوں کو نہیں دے سکتا۔
اگر اسے مکمل اختیاردیا جائے کہ آپ کی مرضی جہاں چاہیں اس زکوٰۃ کو صرف کر سکتے ہیں تو پھر خود بھی لے سکتا ہے، بشرطیکہ مستحقِ زکوٰۃ ہو۔
’’ وللوکیل أن یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ إلا إذا قال ربھا ضعھا حیث شئت۔‘‘
وفي الحاشیۃ: ’’ وإذا کان ولداً صغیراً فلا بد من کونہ ھو فقیرا أیضا لأن الصغیر یعد غنیا بغنی أبیہ۔‘‘ (رد المحتار:۲/۲۶۹)
وکیل کا خود زکوۃ رکھنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی
استفتاء
میرے ایک دوست ہیں مدرسے میں پڑھتے ہیں اور وہ میرے سے زکاۃ کے پیسے لیتے ہیں مجھے کہتے ہیں کہ ایک طالب علم ہے وہ بہت غریب ہے اس کو پیسے چاہئیں، اس کو زکوۃ لگتی ہے تو میں اسے پیسے دے دیتا ہوں۔مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ لے کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے جس نے مجھے بتایا ہے اس نے یہی کہا ہے کہ اس کے حالات ٹھیک نہیں ہیں، اس لیےیہ تم سےکسی اورکے نام سے مانگتا ہے۔ کیا میری زکوٰۃ ادا ہوگئی کہ نہیں؟ میں نے پتہ کروایا ہے واقعی میرےدوست کے حالات ٹھیک نہیں ہیں، کیا میری زکوٰۃ ادا ہوگئی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اس شخص کی حیثیت وکیل کی تھی اور وکیل کیلئے موکل کی زکوۃ کو اپنے استعمال میں لانا اور خود رکھ لینا جائز نہیں،اس طرح کرنے سے زکوۃ دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی۔
في البحر:2/211
ولايجوزان يمسک لنفسه شيئاالااذا قال ضعها حيث شئت فله ان يمسکها لنفسه کذا في الولواجية
امدادالاحکام جلد نمبر 2 صفحہ 1 میں ہے:
سوال: ایک شخص کو وکیل بنایا کہ وہ رقم زکاۃ اپنی ماں کو لے جا کر دے دے، اس نے درمیان میں خیانت کی، کچھ رقم خود صرف کرڈالی اورکچھ اپنی ماں کو دے دی،وہ شخص خود بھی مصرف زکوۃ ہے مگر اس کو وکیل بنایا گیا تھا، مالک نہیں بنایا گیا تھا، اس صورت میں زکوۃ ادا ہو جائے گی؟
جواب:اگر وکیل خود بھی فقیر ہے جب بھی زکوۃ ادا نہ ہوگی، البتہ جس قدر اس نے اپنی ماں کو دیدیا ہے اس قدر زکوٰۃ ادا ہوگئی، باقی کا ضمان وکیل سے لے سکتے ہیں۔
فتاوى دار العلوم زكريا ط زمزم پبليشر (3/227)
وکیل کا موکل کے خلاف زکوۃ کی رقم خرچ کرنے کا حکم :
سوال: ایک شخص نے کسی کو زکوۃ کی رقم جنوبی افریقہ میں دی کہ اس کو ہندوستان لے جا کر وہاں مستحقین کو دینا کیا شخص اس رقم میں سے کچھ حصہ یا کل رقم یہاں کے فقیروں کو دے سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب : صورت مسئولہ میں اگر دوسری جہت کی نفی نہیں کی تھی بلکہ صرف ہندوستان خرچ کرنے کو کہا تھا تو جنوبی افریقہ کے فقراء پر خرچ کر سکتا ہے، لیکن اگر دوسری جہت کی نفی کی تھی مثلاً یہ کہا تھا کہ صرف ہندوستان میں خرچ کرنا یہاں خرچ مت کرنا تو اب جنوبی افریقہ کے فقراء پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔
ملاحظہ ہوالا شباہ والنظائر میں ہے:
الأصل أن المؤكل إذا قيد على وكيله فإن كان مفيداً اعتبر مطلقاً وإلا لا وإن كان نافعاً من وجه، ضاراً من وجه، فإن أكده بالنفي اعتبر وإلا لا . وفي حاشية الحموي : قوله : وإن كان نافعاً من وجه ضاراً من وجه، كما لو قال: بعه في سوق كذا فباع في غير ذلك السوق جاز ، لأن هذا شرط قد ينفعه وقد لا ينفعه . (الأشباه والنظائر مع حاشية الحموي: ۲/ ۲۷۸ ، كتاب الوكالة، ادارة القرآن).
اگر کسی معین شخص کو زکوۃ دینے کا وکیل بنایا اور وکیل نے دوسرے شخص کو دیدی تو ضامن ہوگا۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
التوكيل إنما يستفيد التصرف من المؤكل وقد أمر بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره، كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره. (شامي: ٢٦٩/٢ ، سعيد).
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
سئل عمر الحافظ عن رجل دفع إلى الآخر مالا فقال له هذا زكاة ما لي فادفعها إلى فلان فدفعها الوكيل إلى الآخر هل يضمن ؟ فقال: نعم، له التعيين فتاوى التاتارخانية : ٢ / ٢٨٤ – إدارة القرآن) والله اعلم ۔
Note: The references stress on the wording used “ضعها حيث شئت” – “Dispose of it as you wish.”. However, the meaning of such wording may vary depending on the language used and the common usage (‘urf), and whether it is understood as Tamleek (transferring ownership) or Tawkeel (appointing an agent).