Transactions

Imposing Late Fee in ROSCA/CHIT FUND

Question:

A group of people put together money every month and then give that amount to one member of the group each month (I’m not sure what this system is called).  they would like to start taking an extra fine for whoever pays late, and that fine will go to the one who has to receive the money that month. Would this be permissible?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Ramatullāhi Wa-Barakātuh

This concept is formally known as ROSCA (Rotating Savings and Credit Association). It is an informal group savings system where members contribute a fixed amount of money at regular intervals, and the entire pooled amount is given to one member each round. The payout rotates until every member has received the lump sum once.[1]

This system is based on joint contribution and promise (ʿahd). It is not permissible to stipulate any late fee on delayed contributions from members participating in a ROSCA.[2]

And Allah Taʿāla Knows Best.

Rukunuddin Bin Jahangir

Student  –Darul Iftaa

Milwaukee, WI, USA

Checked and Approved by

Mufti Muhammad Zakariyya Desai



[1] Chen, James. “Rotating Savings and Credit Association (ROSCA).” Investopedia, 3 Oct. 2025. Accessed 30 Nov. 2025.

[2] «الأصل لمحمد بن الحسن» – ت بوينوكالن ٣/‏٢٢ — محمد بن الحسن الشيباني (ت ١٨٩)

وحدثنا أبو يوسف عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم أنه كان يكره كل قرضٍ جَرَّ منفعة.

«المحيط الرضوي في فروع الفقه الحنفي للإمام رضي الدين الحنفي السرخسي (المتوفى ٥٧١ هـ)» ط. دار الكتب العلمية DKi، الطبعة الأولى ١٤٤٢ هـ (٢/٧١٢) باب القروض والديون والبيع فيهما

ولا يجوز قرض جر منفعة بأن أقرض له دراهم مكسرة، بشرط أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه طعاما في مكان بشرط أن يوفيه في مكان آخر؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم “نهى عن قرض جرّ منفعة؛ ولأنه يحصل له زيادة منفعة مالية بسببه، فنسبته الربا.

«الحاوي القدسي في فروع الفقه الحنفي للقاضي الغزنوي (المتوفى  ٥٩٣ هـ)» ط. دار النوادر، الطبعة الأولى ١٤٣٢ هـ (٢/٦١) البيوع

ويكره كل قرض جر منفعة، حتى السفتجة، وهي: قرض استفاد به المقرض أمن خطر الطريق

«المحيط البرهاني» ٧/‏١٢٦ — برهان الدين ابن مازه البخاري (ت ٦١٦)

قال محمد في كتاب الصرف: إن أبا حنيفة كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض عادلية صحاحًا أو ما أشبه ذلك،

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» ٥/‏٤٤ — زين الدين ابن نجيم (ت ٩٧٠) فصل في التعزير

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال،

«الفتاوى الهندية تأليف لجنة العلماء برآسة الإمام نظام الدين» ط. دار الكتب العلمية بيروت، الطبعة الأولى ١٤٢١ هـ (٣/١٢٥) الفصل السادس في تفسير الربا وأحكامه:

وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال وهو محرم في كل مكيل وموزون بيع مع جنسه، وعلته القدر والجنس … وإن وجد القدر والجنس حرم التفاضل والنساء وإن وجد أحدهما وعدم الآخر حل الفضل وحرم النساء وإن عدما حل الفضل والنساء كذا في الكافي

 «فتاوى دار العلوم زكريا،  مفتي رضى الحق»  ط.  زمزم  پبلشرز ، ٢٠١٧  م  (٥/٥٤٦) قرض اور دیون کے احکام

o     قرض کی ادائیگی میں تاخیر پر مالی جرمانے کا حکم :

سوال: جلد رابع میں آپ نے لکھا ہے کہ بعض علماء تعزیر بالمال کو جائز سمجھتے ہیں ، اور اس کے کافی دلائل لکھے گئے ہیں ، اب یہ مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ اگر کوئی مدیون یا مستقرض قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول کرتا ہے اور اس پر ایک لاکھ کا قرضہ ہے اور قرضہ کی اجل یکم دسمبر پوری ہو چکی تو کیا قرض کی تاخیر کی وجہ سے اس پر مالی جرمانہ لگا سکتے ہیں یا نہیں ؟ مثلاً دو ماہ کی تاخیر پر دو ہزار اور تین ماہ کی تاخیر پر تین ہزار دینے پڑیں گے۔ کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا.

الجواب: یہ صورت بالکل نا جائز ہے، ایک لاکھ قرض کی جگہ ایک لاکھ دو ہزار وصول کرنا جائز نہیں ، اس کو قرآنی ربا کہتے ہیں کہ اجل کے بڑھنے سے دین اور قرض بڑھ جاتا ہے یعنی قرض پر جرمانہ لگانا نا جائز ہے۔ ہاں کسی نامناسب فعل پر جرمانہ لگانے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے ایک جماعت کے ہاں یہ جرمانہ درست ہے اس کی تفصیل فتاوی دار العلوم زکریا جلد چہارم میں گزر چکی ہے۔ نیز اجل کی بیع اور اس کا شمن وصول کرنا بھی نا جائز ہے۔

–              Usmani, Muhammad Taqi. An Introduction to Islamic Finance. Maktaba Maʿriful Quran, Karachi, 2018, p. 131

 

 

 

 

 «فتاوى قاسمية، حضرت مولانا مفتى شبير احمد القاسمي» ط. مكتبة اشرفيه، ديو بند الهند،  ۱۴۳۷ ھ (٢٠/٥١٦ باب القمار

o     کمیٹی کی ایک شکل اور اس کا حکم

سوال [۹۱۳۳]: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ دس آدمیوں نے مل کر ایک کمیٹی بنائی جس کے تحت انہوں نے یہ طے کیا کہ تمام لوگ ہر مہینے ایک ایک ہزار روپئے جمع کر لیا کریں گے، تو اس طرح سے ایک مہینے میں دس ہزار روپئے جمع ہو جائیں کے اور پھر قرعہ اندازی کریں گے، جس کا بھی نام آجائے گا اس کو دس ہزار مل جائیں گے، اس کو جہاں چاہے استعمال کرے پھر یہی دس حضرات اگلے مہینے دس ہزار جمع کریں گے، تو جس کا نام پہلی مرتبہ یا اس سے پہلے نکل چکا ہے، اس کو چھوڑ کر قرعہ اندازی کریں گے ؟ البتہ جس کا نام قرعہ اندازی میں پہلی مرتبہ میں نکل چکا تھا، اس کو آخر تک پیسے جمع کرنے ہوں گے، تو اس طرح ہر آدمی کو اس کے دس ہزار جو دس ماہ میں جمع ہوئے تھے مل جائیں گے، تو اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے؟

الجواب وبالله التوفيق: اس معاملہ میں سود نہیں ہے، مگر شہتہ القمار ہے، وہ یہ ہے کہ ہر ایک چاہتا ہے کہ میرا نام پہلے نکلے اور میں پہلے فائدہ اٹھاؤں یہی شبہۃ القمار ہے، لیکن یہ معاملہ اس شرط کے ساتھ درست ہو گا کہ اس میں با قاعدہ ایگریمنٹ اور ضمانت ہو اور بغیر اگریمنٹ اور ضمانت کے یہ معاملہ درست نہیں ہوگا؛ اس لئے کہ جس کا نمبر شروع میں آگیا ہے، وہ پیسہ لیکر فرار ہو جائے، تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ یا آئندہ قسطوں کی ادائیگی سے مکر جائے ، تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ اس لئے ضمانت اور اگریمنٹ لاز اس لئے ضمانت اور اگر یمنٹ لازم ہے ، لہذا بغیر سرکاری ایگریمنٹ کے ایسا معاملہ کرنا درست نہیں ہے۔

«جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن»

o     ’’بی سی‘‘اور ’’کمیٹی‘‘ سسٹم کی شرعی حیثیت

سوال:  اگر دس لوگ مل کر ایک کمیٹی رکھتے ہیں ہر مہینہ دس ہزار  اور ہر مہینے ایک قرعہ نکالا جاتا ہے، جس کا نام نکلا اس کو مجموعی طور پر ایک لاکھ روپے دیے جاتے ہیں ، اس طرح دس مہینوں میں ہر کسی کے حصے میں ایک ایک لاکھ روپے آتے ہیں؛ کیوں کہ کسی کے بھی حصے میں کوئی کمی یا زیاتی نہیں ہوتی؛ اس لیے ہر کوئی مطمئن ہوتا ہے۔لیکن ابھی کچھ دن پہلے ایک صاحب علم نے کہا کہ یہ حرام میں شمار ہوتا ہے!

جواب بی سی اور کمیٹٰی کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے، گویا کمیٹی کے ممبران میں سے ہر ممبر ایک معین رقم قرض دیتا ہے اور قرعہ اندازی میں نام نکلنے پر قرض دی ہوئی رقم وصول کر لیتا ہے،  اگر تمام ممبران برابر رقم جمع کرائیں اور انہیں برابر برابر رقم ملے تو یہ نظام شرعاً درست ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں، تاہم بعض جگہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کمیٹی کا چیئر مین کمیٹی کے پیسوں میں سے ہی اپنی دی ہوئی رقم سے کچھ زیادہ وصول کرتا ہے، ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اسی طرح بعض جگہوں پر یہ ہوتا ہے کہ جس کی بی سی نکل جاتی ہے، وہ آئندہ نہیں دیتا، اس طرح کی بی سی بھی شرعاً جائز نہیں ہے۔

اسی طرح شریعت کا ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی شخص قرض دے تو اُس قرض دینے والے کو  یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ کسی بھی وقت اپنی قرض دی ہوئی رقم کا مطالبہ کر لے اگرچہ قرض کی واپسی کے لیے  ایک مدت متعین کر لی ہو ؛ لہذا کمیٹی کے ممبران کو بھی کسی بھی وقت اپنی دی ہوئی رقم واپس لینے کا حق حاصل ہو گا۔

https://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D8%A8%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D9%85%DB%8C%D9%B9%DB%8C-%D8%B3%D8%B3%D9%B9%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C-%D8%AD%DB%8C%D8%AB%DB%8C%D8%AA/17-12-2018

Back to top button