AQEEQAH

Parents Consuming ʿAqīqah Meat

Question: 

A friend of mine gave birth and they are planning of doing Aqiqah. Some people have told me that the parents who are doing Aqiqah cannot eat the meat but my friend is saying they can eat the meat. What is correct?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Ramatullāhi Wa-Barakātuh

The consumption of ʿaqīqah meat is permissible, as it shares the same ruling as qurbānī (udḥiyyah) meat. Just as qurbānī meat may be consumed by all, the meat of ʿaqīqah may likewise be eaten by everyone.[1]

And Allah Taʿāla Knows Best.

Rukunuddin Bin Jahangir

Student  –Darul Iftaa

Milwaukee, WI, USA

Checked and Approved by

Mufti Muhammad Zakariyya Desai

 



[1] «إعلاء السنن للمحدث ظفر أحمد عثماني التهانوي (المتوفى ١٩٧٤ م)» ط. إدارة القرآن والعلوم الإسلامية (١٢٦/۱۷) أفضلية ذبح الشاة في العقيقة

فائدة: روى ابن حزم في “المحلى” من طريق الحسن البصري: يصنع بالعقيقة ما يصنع بالأضحية. وعن عطاء قال: يأكل أهل العقيقة ويهدونها. أمر رسول الله بذلك زعموا، وإن شاء تصدق اهـ (٥٢٥:٧). قلت: وقد تقدم عن عطاء أنه قال: لا يتصدق منها بشيء فلعله كان يقول بذلك من رأيه ثم بلغه عن الصحابة أنهم قالوا: وإن شاء تصدق. وفي قوله: يأكل أهل العقيقة ويهدونها دليل على بطلان ما اشتهر على الألسن أن أصول المولود لا يأكلون منها، فإن أهل العقيقة هم الأبوان أولا ثم سائر أهل البيت. وقال الموفق في “المغني”: وسبيلها في الأكل والهدية والصدقة سبيل الأضحية إلا أنها تطبخ أجدالا أى عضوا عضوا لا يكسر لها عظم اهـ ( ١٢٤:١١).

«فتاوی دار العلوم دیوبند  يعني عزيز الفتاوى مبوّب مكمل مفتی عزیز الرحمن (١٩٢٨ م)» ط.  دار الاشاعت (ص  ٦٨١)  كتاب الاضحية والعقيقة

o     عقیقہ کے گوشت کا حکم مثل قربانی کے ہے

(سوال ۱۳۱۳) عقیقہ کا گوشت ماں باپ بیٹا بیٹی ۔ نانا نانی دادا دادی۔ پوتا پوتی کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ جو جانور عقیقہ میں ذبح ہو اس کا سر مونڈھنے والے کو دیں اور ایک ران دائی کو دیں۔ یہ کیسا ہے ؟

(الجواب) حنفیوں کے نزدیک عقیقہ کے گوشت کا حکم مثل قربانی کے ہے جیسے قربانی کے گوشت کو سب گھر والے اور رشتہ دار کھاتے ہیں۔ اسی طرح عقیقہ کا گوشت بھی سب کھا سکتے ہیں ماں باپ، دادا دادی و غیرہ سب کو کھانا اس کا درست ہے۔ اور یہ کچھ ضرور نہیں کہ سر جانور کا بال مونڈھنے والے کو اور ران دائی کو دی جاوے۔ اور اگر دیں تو کچھ حرج بھی نہیں ہے۔ مگر کچھ ضروری بات نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

«کفایت المفتی ، مفتي كفاية الله دهلوي (١٩٥٢ م)» ط. مكتبة حقانية (٨/٢٤١) كتاب الاضحية والذبيحة

o     عقیقہ کا گوشت بچہ کے والدین، بہن بھائی وغیرہ کھا سکتے ہیں

(سوال)  عقیقہ کا گوشت والدین اور بھائیوں بہنوں کو کھانا جائز ہے یا نہیں ؟

(جواب ۳۱۹) عقیقہ کا گوشت والدین اور بھائی بہن سب کھا سکتے ہیں۔ محمد کفایت اللہ غفر لہ

 «فتاوى قاسمية، حضرت مولانا مفتى شبير احمد القاسمي» ط. مكتبة اشرفيه، ديو بند الهند،  ۱۴۳۷ ھ (٢٢/ ٥٤٦)  العقيقة

o     عقیقہ کے گوشت کا حکم

سوال [ ۱۰۱۴۶]: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : اگر کسی شخص نے اپنے بچے کا عقیقہ کیا تو وہ شخص اس گوشت کو کھا سکتا ہے یا نہیں اگر کھا سکتا ہے تو کون کون کھا سکتا ہے اور کون کون نہیں کھا سکتا؟

الجواب وبالله التوفیق: عقیقہ کا گوشت بھی قربانی کے گوشت کی طرح ہے، لہذا عقیقہ کا گوشت خود کھانا اور اعزاء و اقارب کو کھلانا اور فقیروں : اور اعزاء واقارب کو کھلانا اور فقیروں میں تقسیم کرنا جائز اور درست ہے، اور سارا گوشت اپنے لیے بھی رکھنا درست ہے ۔

o     کیا عقیقہ کا گوشت دادا، دادی اور ماں ، باپ نہیں کھا سکتے ؟

سوال [۱۰۱۴۷]: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عقیقہ کا گوشت دادا، دادی اور ماں باپ نہیں کھا سکتے اور ان کے لیے الگ سے عقیقہ کے دن کھانا پکواتے ہیں تو کیا یہ شرعاً درست ہے، نیز عقیقہ کا گوشت کون کون لوگ کھا سکتے ہیں؟

الجواب وبالله التوفیق: بعض لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ عقیقہ کا گوشت دادا، دادی اور ماں باپ نہیں کھا سکتے ، عقیقہ کا گوشت سب لوگ کھا سکتے ہیں ، لہذا ان کے لیے عقیقہ کے دن الگ سے کھانا پکوانے کی ضرورت بھی نہیں ہے، البتہ مستحب طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کیے جائیں جیسا کہ قربانی کے گوشت میں کیا جاتا ہے، کہ ایک حصہ گھر والوں کے لیے اور ایک حصہ رشتہ داروں ! شتہ داروں اور دوست احباب کو ایک حصہ غرباء کو دیا جائے ۔

Back to top button