MISCELLANEOUS

Disposal of Hair & Nails

Question:

Assalamualaykum.

How do we dispose our hair and nails after we cut them?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

It is preferred that the body parts (i.e., hair, nails, etc.) are buried when they are no longer attached to the body. Scholars have advised against discarding them in filthy places or burning them.[1]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Sibghatallah ibn Numan Ahmed

Student – Darul Iftaa

Baltimore, Maryland, USA

Checked and Approved by,

Mufti Muhammad Zakariyya Desai.

[1] بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع للكاساني ت ٥٨٧ه (٥/١٣٣)  دار الكتب العلمية – الثانية

أن السن من الآدمي جزء منه فإذا انفصل استحق الدفن كله.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني لابن مازم البخاري ت ٦١٦ه (٥/٣٧٦) دار الكتب العلمية – الأولى

ولو قلم أظفاره أو جز شعره يجب أن يدفن، وإن رمى فلا بأس، وإن رماه في الكنيف والمغتسل فهو مكروه، ويغسل؛ لأنه يورث الداء.

بريقة محمودية للخادمي ت ١١٥٦ه (٤/٨٤) مطبعة الحلبي (الصنف الخامس في آفات اليد)

(و) من آفات اليد … (وإلقاء قلامة الظفر) ما سقط منه (أو الشعر إلى الكنيف) محل قضاء الحاجة (أو المغتسل فإنه مكروه يورث داء) في التتارخانية يجب أن يدفن وإن رمي فلا بأس به وفيه عن الغياثية تدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم وقيل كل ما انفصل عن الإنسان ففيه حرمة الإنسان فيدفن كالإنسان (كذا في الخلاصة) وغيره.

رد المحتار للشامي ت ١٢٥٢ه (٦/٤٠٥) ايج ايم سعيد

م: (ويستحب ‌قلم أظافيره) إلا لمجاهد في دار الحرب فيستحب توفير شاربه وأظفاره (يوم الجمعة)

ح: (قوله ويستحب ‌قلم أظافيره) وقلمها بالأسنان مكروه يورث البرص، فإذا ‌قلم أظفاره أو جز شعره ينبغي أن ‌يدفنه فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره لأنه يورث داء خانية ‌ويدفن أربعة ‌الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم عتابية ط.

كتاب النوازل للمنصورپورى (١٥/٥٧٦) دار الاشاعت – ٢٠١٦

ناخون کاٹ کر کسی گندی جگہ پھینکنا منع ہے، بہتر یہ ہے کہ اس کو دفن کر دیا جاۓ.

كتاب النوازل للمنصورپورى (١٥/٥٧٧) دار الاشاعت – ٢٠١٦

سوال:- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حدیث میں ہے کہ چار چیزوں کو دفن کرو: (۱) ناخون (۲) بال (۳) خون (٤) حائضہ کے کپڑے (کرسف) اس کی کیا وجہ ہے؟ کیوں دفن کرنا چاہئے؟

باسمہ سبحانہ تعالی الجواب وبالله التوفيق: اس طرح کی حدیث کا ہمیں علم نہیں؛ البتہ فتاوی عالمگیری میں ان اشیاء کا دفن مستحب لکھا ہے … غالبا اس کی وجہ اعضاء انسانی کا احترام اور فحاشی پھیلنے سے روکنا ہے. فقط واللہ تعالی اعلم.

فتاوى دار العلوم زكريا لرضاء الحق (٧/٣٧٠) زمزم پبلشرز – ٢٠١٧

احادیث اور آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ بال اور ناخن کو دفن کرنا مستحب ہے، اور اس کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ ساحرین ان کو کھلونا نہ بنائیں، نیز انسان بجميع اجزا مگرم ومحترم ہے اس وجہ سے گندگی وغیرہ میں پھینکنا اور جلانا درست نہیں ہے.

فتاوى دار العلوم زكريا لرضاء الحق (٧/٣٧٩-٣٨١) زمزم پبلشرز – ٢٠١٧

ناخن کو دفن کرنا مستحب ہے، متعدد روایات سے ثابت ہے اگرچہ روایات میں کچھ ضعف ہے. نیز فقہا ء نے بھی ناخن دفن کرنے کو مستحب قرار دیا ہے … علامہ ابن نجیم مصری کی عبارت سے وجوب مستفاد ہوتا ہے لیکن ما بعد والے جملہ “وإن رماه فلا بأس به” سے وجوب کی نفی ہو جاتی ہے. نیز بالوں کے احکام میں یہ مسئلہ مذکور ہوا کہ دفن کرنا انسانی شرافت وکرامت کی بنا پر ہے، اسی طرح ساحرین کے شر سے بھی بچنے کے لیے ہے ورنہ اگر دفن کرنے کی جگہ میسر نہ ہو تو کسی پنی میں بند کر کے ڈالدیا جاۓ تو بھی درست ہے. واللہ ﷺ اعلم … ناخن، بال وغیرہ کی صفائی کے بعد بیت الخلا، وضوخانہ، غسل خانہ وغیرہ میں ڈالنا مکروہ ہے، فقہاء نے اس کو مرض کا سبب قرار دیا ہے.

Related Articles

Back to top button