Shaving the Baby’s Hair After Aqiqah
Question:
Assalamualaykum
Aqiqa was done on the 7day but we couldn’t shave the baby’s hair as he is still in the hospital.
Is the ruling same as aqiqa 14-21-28…7days pattern to shave his hair or can it be done any day?
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
In principle, shaving the baby’s hair on the seventh day together with slaughtering the Aqiqah animal is Mustahab. If it could not be done on the seventh day, it may be shaved later; it is still desirable to follow the 14th, 21st, or 28th-day pattern, although this is not necessary.[1]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa
Port-louis, Mauritius
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] «شرح مختصر الطحاوي» للجصاص (7/ 292): كتاب الصيد والذبائح
مسألة: العقيقة تطوعٌ وليست واجبة
قال: (والعقيقة تطوع، من شاء فعلها، ومن شاء تركها).
قال أحمد: روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: “كل غلاء رهينة بعقيقته، تذبح عنه يوم السابع، ويحلق رأسه، ويدمى”.
رواه الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم.
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 362): [الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة]
العقيقة عن الغلام وعن الجارية وهي ذبح شاة في سابع الولادة وضيافة الناس وحلق شعره مباحة لا سنة ولا واجبة كذا في الوجيز للكردري.
وذكر محمد – رحمه الله تعالى – في العقيقة فمن شاء فعل ومن شاء لم يفعل وهذا يشير إلى الإباحة فيمنع كونها سنة وذكر في الجامع الصغير ولا يعق عن الغلام ولا عن الجارية وأنه إشارة إلى الكراهية كذا في البدائع في كتاب الأضحية. والله أعلم.
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار – ط الحلبي» (6/ 336): كتاب الأضحية
[خاتمة]
يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا، والله تعالى أعلم.
فتاوى محمودية لمحمود حسن گنگوهی بترتيب جديد ط مكتبةمحمودية (26/422)
عقیقہ دیر سے کرنے کی صورت میں بچہ کے بال اُتار نے میں دیر نہ کی جائے
سوال:- بچے کے سر کے بال پیدائش کے ساتویں دن ہی اتروانا ضروری ہے، یا عقیقہ جب کیا جائے ، جب اتر وایا جائے؟ عقیقہ سے قبل یا بعد بال اتروا کر چاندی ہم وزن کر کے خیرات کی جاسکتی ہے؟ یا عقیقہ تک بالوں کو رکھنا چاہئے؟ چونکہ عقیقہ کرنے کی اب استطاعت نہیں ہے، ایک سال یا دو سال بعد کرنے کا ارادہ ہے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟
الجواب حامد أو مصلياً
ساتویں دن مستحب ہے، اگر اس وقت موقع نہ ہو تو چودھویں روز پھر اکیسویں روز ، یہ ترمذی شریف میں ہے ، اس کے بعد اگر کرنا ہو تب بھی پیدائش سے ساتویں روز کی رعایت کر لی جائے، عقیقہ خود واجب نہیں بلکہ مستحب ہے ، اس کے لئے اتنا اہتمام اور اصرار بھی نہیں کہ کرنا ضروری ہو، سال دو سال بعد عقیقہ کرنا ہو تو اس وقت تک بالوں کا سر پر رکھنا لازم نہیں کی۔
فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم
حرره العبد محمود غفر لۂ دار العلوم دیو بند ۱۳۹۴/۶/۲۴
آپ کی مسائل اور ان کا حل لمولانا محمد ط مكتبة لدهيانوي (4/228)
عقیقے کے وقت بچے کے سر کے بال اُتارنا
س … کیا عقیقے کے وقت بچے کے سر کے بال اُتارنا ضروری ہے جبکہ دو چار ماہ بعد عقیقہ کیا جا رہا ہو؟
ج… ساتویں دن بال اُتارنا اور عقیقہ کرنا سنت ہے، اگر نہ کیا تو بال اُتار دیں، بعد میں جانور ذبح کرتے وقت پھر بال اُتارنے کی ضرورت نہیں ۔
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
سوال: عقیقہ کے لیے کیا ساتویں دن کی قید ہے یا کسی اور دن بھی کیا جاسکتا ہے مجبوری کی صورت میں؟ (۲)کیا بکرا ذبح کرنا او رسر منڈانا دونوں کام ایک ہی دن کرنا ضروری ہیں یا پھر کوئی گنجائش ہے؟
جواب نمبر: 13396
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 883=883/م
ساتویں دن عقیقہ کرنا مستحب ہے، اگر ساتویں دن نہ کرسکے تو جب کرے ساتویں دن ہونے کا خیال کرلینا بہتر ہے۔ یستحب لمن ولد لہ ولد أن یسمیہ یوم أسبوعہ ویحلق رأسہ ویتصدق الخ
(۲) مذکورہ دونوں کام ایک ساتھ یا ایک ہی دن ہونا ضروری نہیں، آگے پیچھے ہوجائے تب بھی مضائقہ نہیں، گنجائش ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم