GoodsImportant TopicsZAKAT

Is Zakat on Cost or Selling Price – Merchandise

Question: 

If a person owns merchandise, will Zakāt be calculated based on the cost price or the selling price? And if it is based on the selling price, but he later sells it for less what happens?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Ramatullāhi Wa-Barakātuh

If a person owns merchandise for the purpose of trade, Zakāt is calculated based on its selling price on the Zakāt due date. The valuation is determined according to the price at which the goods can reasonably be sold, and Zakāt is then paid at 2.5% of that amount. Accordingly, if the goods are later sold for a lesser amount, this does not affect the Zakāt that was already due.[1]

And Allah Taʿāla Knows Best.

Baba Abu Bakr

Student Darul Iftaa

Accra, Ghana

Checked and Approved by

Mufti Muhammad Zakariyya Desai

[1] مختصر القدوري ١/‏٥٧ — القدوري (ت ٤٢٨) – كتاب الزكاةباب زكاة العروض

 «الزكاة ‌واجبة ‌في ‌عروض ‌التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قميتها نصابا من الذهب أو الورق يقومها بما هو أنفع للفقراء والمساكين منهما»

المبسوط للسرخسي ٢/‏١٩٠ — شمس الأئمة السرخسي (ت ٤٨٣)

 وكذلك ‌زكاة ‌مال ‌التجارة ‌تجب ‌بالقيمة والكلام فيه في فصول (أحدها) أن الزكاة تجب في عروض التجارة إذا حال الحول عندنا. وقال مالك – رحمه الله تعالى -: إذا باعها زكى لحول واحد وإن مضى عليها في ملكه أحوال، وقال نفاة القياس: لا شيء فيها، والدليل على وجوب الزكاة فيها حديث سمرة بن جندب أن النبي صلى الله عليه وسلم «كان يأمرنا بإخراج الزكاة من الرقيق، وفي كل مال يتبعه» وفي حديث أبي ذر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «، وفي البر صدقة إذا كان للتجارة».

المحيط البرهاني ٢/‏٢٦٥ — برهان الدين ابن مازه البخاري (ت ٦١٦)

لأن وجوب الزكاة في عروض التجارة، وانعقاد الحول عليه باعتبار القيمة، والقيمة لم تتبدل.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي ١/‏٢٧٩ — الفخر الزيلعي (ت ٧٤٣)

«قال رحمه الله (وفي عروض تجارة بلغت نصاب ورق أو ذهب) ‌يعني ‌في ‌عروض ‌التجارة ‌يجب ‌ربع ‌العشر ‌إذا ‌بلغت ‌قيمتها ‌من ‌الذهب ‌أو ‌الفضة ‌نصابا ويعتبر فيهما الأنفع أيهما كان أنفع للمساكين»

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري ١/‏١٢٤ — أبو بكر الحداد (ت ٨٠٠)

 «قال رحمه الله (‌الزكاة ‌واجبة ‌في ‌عروض ‌التجارة ‌كائنة ما كانت) أي سواء كانت من جنس ما تجب فيه الزكاة كالسوائم أو من غيره كالثياب والحمير.»

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ١/‏١٧٩ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)

 «‌الزكاة ‌واجبة ‌في ‌عروض ‌التجارة ‌كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات ثم في تقويم عروض التجارة التخيير يقوم بأيهما شاء من الدراهم والدنانير إلا إذا كانت لا تبلغ بأحدهما نصابا فحينئذ تعين التقويم بما يبلغ نصابا هكذا في البحر الرائق. إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن أدى من عينها أدى خمسة أقفزة، وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب؛ لأن الواجب أحدهما ولهذا يجبر المصدق على قبوله وعندهما يوم الأداء.»

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ٢/‏٢٩٩ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)

 «أما إذا اختلفا قوم بالأنفع اهـ ح وقدم الشارح عند قوله وجاز دفع القيمة أنها تعتبر يوم الوجوب، ‌وقالا ‌يوم ‌الأداء كما في السوائم، ويقوم في البلد الذي المال فيه إلخ (قوله: تعين التقويم به) أي إذا كان يبلغ به نصابا،»

فتاوی محمودیہ (415/9)

عنوان:مالِ تجارت میں کس قیمت پر زکوۃ ہوگی؟

سوال(٢٥٢٩::کتابوں کی بکری پر کمیشن وغیرہ نکال کر ہمیں بیس پچیس روپے فی سیکڑا بچ جاتا ہے،تو کتابوں کے اسٹاک میں اس لاگت پر زکوۃ واجب ہوگی جو ہمارا خرچ ان پر ہوا ہے،یا جس قیمت پر ہم کتابوں کو فروخت کرتے ہیں؟

الجواب حامداً و مصلياً:

جواب:بوقتِ ادائے زکوۃ یعنی سال بھر پوار ہونے پر جس قدر کی مالیت موجود ہو اس قدر پر زکوۃ واجب ہوگی۔

(416/9)

تجارت کے لئے کتاب چھپوائی ، زکوۃ کسی قیمت سے ادا کرے؟

سوال (٢٥٣٠: مال تجارت کی قیمت زکوۃ کے لئے کس حساب سے لگائی جائے گی ، آیا اصل مصارف پر یا مع منافع ؟ مثلاً زید نے تجارت کے لئے ایک کتاب کے دو ہزار نسخے چھپوائے ، ہر نسخہ پر اصل مصارف بغیر منافع کے ایک روپیہ آیا یعنی کل مال کی اصل قیمت دو ہزار روپے ہوئی مگر زید نے اس کتاب پر بازار کے لئے تین روپے قیمت مقرر کی اور خود اس کو دوسرے تاجروں کو دو روپے فی کتاب کے حساب سے فروخت کرنا شروع کیا۔ اپنے کاروبار کے لئے زید نے ملازم بھی رکھے، دوکان وغیرہ کا کرایہ بھی دیا ، جب سال پورا ہوا تو اس کے پاس اس کتاب کے آٹھ سو نسخے باقی تھے، نقد کچھ نہ تھا۔ درمیان سال میں ملازم کی تنخواہ دکان کے کرایہ وغیرہ میں چار سو روپے بھی خرچ کئے ۔ اب سوال یہ ہے کہ زید کا راس المال کیا ہے؟ زید اگر ز کو اصل کتاب ہی دینا چاہے تو ہر کتاب کی قیمت کیا لگائے ؟

الجواب حامداً و مصلياً:

سال بھر گزرنے پر زید کے پاس تجارتی کتاب کے آٹھ سو نسخے ہیں اس کے علاوہ ایسا کوئی مال نقد وغیر ہ نہیں جس میں زکوۃ واجب ہو تو اب زکوۃ کتاب کے موجودہ نسخوں ہی میں واجب ہوگی ، نہ کہ کل مال میں جس کو صرف کر کے کتاب چھپوائی، نہ خرچ کر ده تنخواہ وغیرہ میں ، نہ فروخت شد و وخرچ شدہ قیمت میں ، لہذا آسان صورت یہ ہے کہ بیں نسخے زکوۃ میں ادا کرے پھر مصرف زکوۃ ان نسخوں کو چالیس روپے میں فروخت کرے یا ساتھ میں اس کو اختیار ہے، یا جس قیمت میں خود فروخت کرتا ہے میں نسخوں کی وہ قیمت دیدے۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔

كتاب النوازل لمفتي محمد سلمان منصور پوری (6/555-558)

زیورات کی زکوۃ میں فروختگی کی قیمت کا اعتبار ہے

سوال (۱۰۷):- کیا فرماتے ہیں علما و دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میرا سوال یہ ہے کہ جب ہم سونے کے زیور کی زکوۃ خلاف جنس ادا کرتے ہیں، تو وزن نہیں قیمت کا اعتبار ہوتا ہے، اور جس دن ادا کی جائے اس دن کو دیکھا جاتا ہے، تو بازار کے بھاؤ کا اعتبار ہوتا ہے، تو جب ہم بازار کا بھاؤ کہتے ہے، تو اس قیمت کو کہتے ہے؟ اگر وہ زیور اس سنار کے پاس ہوتا تو جس قیمت پر وہ اس کو بیچتا وہ قیمت بازاری قیمت ہوتی ، اب اگر میں اس کا وزن کرنے اور ڈیزائن دیکھنے کے بعد اس کو کسی دوسرے شخص کو بیچ دوں، تو مجھے اس کی جتنی قیمت مل سکتی ہے، کیا اس قیمت پر زکوۃ واجب ہے؟

مثال : – وزن ۱۰۰ گرام ہو ، ۱۸ مرکریٹ کا ہو، ایک گرام پر ہزار روپے کا ہو، تو قیمت ایک لاکھ بنتی ہے، اگر اس ڈیزائین کو سنار خود بیچتا تو اس کو وہ ایک لاکھ چالیس ہزار کا بیچتا، جس میں اس کی بنائی کی اجرت بھی شامل ہے، اور اگر کسی دوسرے شخص کو بیچا جائے تو اس زیور کا امر لاکھ پندرہ ہزار سے املاکھ ا ر ہزار تک روپئے مل سکتے ہیں۔ تو اب زکوۃ کسی قیمت پر واجب ہوگی ؟

جس طرح ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس ۴۰ گندم کی بوریاں ہوں اور اس پر زکوۃ نکالنی ہو تو وہ ایک بوری واجب ہوگی، اور اگر اس کی زکوۃ روپئے سے دیتی ہو، تو اس بوری کی قیمت ادا کرنی ہوگی ، یعنی جس قیمت پر یہ خود بیچ رہا ہے؛ تا کہ یہ غریب جب بازار جائے تو اس کو گندم کی بوری مل سکے یا خود اس شخص سے خریدے تو وہ ایک بوری خرید سکے۔

میں سمجھتا ہوں جس طرح صدقہ فطر میں غریب کو اتنے قیمت کا مالک بنایا جاتا جس سے وہ آسانی سے اپنے لیے گندم خرید سکے ۔

مثال: اگر ایک شخص کو زکوۃ میں ایک گرام سونا دینا ہو ( جس طرح بھی فتاوی میں ہے، سنار کے قیمت خرید پر زکوۃ ہے ) اور سنار جس قیمت پر خریدتا ہے اس پر زکوۃ نکالتا ہے، اگر وہ غریب اس سنار سے جا کر وہ گرام خریدے تو اس کو نہیں ملے گا؛ کیوں کہ قیمت میں فرق آگیا ہے۔ سنار جس   قیمت پر خریدتا ہے اور بیچتا ہے اس میں فرق ہے۔ یہاں پر بھی گندم کی بوری کی طرح اتنی قیمت ملنی چاہئے ، اگر وہ ایک گرام سونا خریدنا چاہے تو خرید سکے ۔ یعنی جس قیمت پر سنار ایک گرام ہونا بچے گا اس قیمت پر زکوۃ نکالنی چاہئے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ کھلی مارکیٹ میں جو قیمت ملے یا جس پر فروخت ہو سکتی ہے، سونے کی چیز کو سنا رہی بتائے گا کہ اس کی اصل مالیت کیا ہے اور اس کی کتنی قیمت مل سکتی ہے؟ اور میں نہیں سمجھتا کہ جس قیمت پر سنار خریدے گا؛ کیونکہ جس پر وہ خریدتا ہے، وہ ہول سیل قیمت ہوتی ہے، جو خاص ان کے لئے ہے اور یہ عام نہیں ہے ، سب کو اس قیمت پر سونا نہیں مانتا، یوں لگتا ہے کہ ہم نے خاص کو عام کر دیا اور عام کو خاص ۔

بعض علماء جو کہتے ہیں کہ بنائی کا اعتبار نہیں ہے لیکن زیور کی مالیت کو بڑھانے کے لئے دست کاری ڈیزائن ایک اہم رول ہے۔

ہمارے مفتی صاحب نے اس پر ایک فتادی شائع کیا ہے، جو مقامی زبان میں ہے، میں ترجمہ کرنے کی کوشش کروں گا ، ایک مثال دی ہے ایک انگوٹھی وزن کے اعتبار سے ۳ گرام ہے، انگوٹی میں استعمال شدہ سونے کی قیمت ۲۷ سور و پئے ہے اور اگر انگوٹھی پر کام کرنے کی وجہ سے اس کی قیمت ۳۹ رسور دینے ہوگئی، توز کو ۃ ۳۹ سو روپے کی نکالی جائے گی ۔ یہ مسئلہ کے نام سے جانا جاتا ہے ( آپ خود کتابوں میں علماء کا مسئلہ ابریق دیکھ سکتے ہیں کہ مجھ سے ترجمہ صحیح ہوا کہ نہیں؟ ) اس مسئلہ کے اعتبار سے اگر ہمارے پاس ایک چاندی کا جنگ ہو ، وزن کے اعتبار سے دوسو درہم پر ۔ الا کہ اس کی زکوۃ چاندی سے ہی دی جائے تو پھر دو سود رام پر دی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وزن کا اعتبار کیا جاتا تھا نہ کہ قیمت کا؛ کیوں کہ اس زمانے میں درہم چاندی اور بینا رسونے کا تھا، اگر ہم نے سونے اور چاندی کی زکوۃ سونے اور چاندی سے ہی نکالنی ہو، تو اس وقت وزن کو دیکھا جاتا ہے۔ آج کل ہم زکوہ سونے اور چاندی سے نہیں دیتے، تو ہم اس کی قیمت کا اعتبار کریں گے؟

وأجمعوا أنه لو أدى من خلاف جنسه أعتبرت القيمة حتى لو أدى من الذهب ما تبلغ قيمته خمسة الإناء لم يجز في قولهم ….. الفتاوى الشامية دراهم من غير.

ایک دوکاندار کو اپنے مال کی زکوۃ نکالنی ہے تو قیمت فروخت کا اعتبار ہے، یعنی جس قیمت پروو اپنا مال بیچتا ہے، اس قیمت پر ہے، اگر وہ دوکاندار ایک قمیص دو سور وپنے کی بچتی ہے تو ہم زکوة دوسور و پنے پر نکالیں گے؟

بعض علماء جو کہتے ہیں منافع کو شامل نہیں کریں گے، بلکہ اسے بازار میں لے جا کر جو قیمت ملے گی ، اس قیمت پر ہے ۔ اس سب پر آپ کی تحقیق درکار ہے۔ حوالہ کے ساتھ ، جزاک اللہ ۔

باسمہ سبحانہ تعالی

الجواب بالله التوفيق: آن كل عرف یہ ہے کہ سنار جب زیور بیچتا ہے تو سونے چاندی کے وزن کے ساتھ ساتھ اس کی بنائی کی قیمت بھی جوڑتا ہے، لیکن جب عام آدمی اپنا زیور سنار کے پاس بیچنے کے لئے جاتا ہے تو ایسی صورت میں سار بنائی کی قیمت نہیں جوڑتا ، اور وزن میں بھی کم قیمت پر خریدتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر زیور کے بیچنے کی قیمت ۲۷ رسور و پیہ فی گرام چل رہی ہے، تو واپسی کے وقت ۲۵ رسور و پیرنی گرام ہو جاتی ہے، اور یہ عرف آج کل تقریبا پوری دنیا میں با انگیر جاری ہے، لہذا مسئولہ صورت میں اگر کوئی شخص قیمت لگا کر اپنے زیورات کی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے، تو وہ زیور سنار کے یہاں جتنے میں فروخت ہوگا ، پس اسی مقدار پر زکوۃ کی ادائیگی فرض ہوگی ، کیوں کہ عرفا اس کی یہی قیمت ہے؛ البتہ اگر کوئی سنار اور سونے کی تجارت کرنے والا صراف اپنی دکان میں موجود برائے فروخت زیورات کی زکوۃ کا قیمت سے حساب لگانا چاہے، تو اس میں وہ جس قیمت پر فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس مقدار پر زکوۃ فرض ہوگی ، اور آپ نے جس مسئلہ بریق کی عبارت کا حوالہ دیا ہے، اس کا مصداق یہی صورت ہے؛ لہذا خلاصہ یہ نکلا کہ اس معاملہ میں عام آدمی اور سونے کے تاجر کے درمیان قیمت کا حساب لگانے میں فرق ہوگا، یہی بات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ نے اپنے فتاوئی میں لکھی ہے۔ حضرت کے الفاظ یہ ہیں : ہمارے دیار میں یہ عرف ہے کہ اگر سنار یا اصراف سے زیور خرید و تو وہ بنوائی لگاتا ہے اور اگر اس کے ہاتھ پچ تو نہیں لگاتا، پس اس بنا پر مقتضی قاعدہ کا یہ ہے کہ ایسے دیار میں مالک زیورات کا اگر تاجر زیورات کا ہے، تب تو وہ زکوۃ میں بنوائی بھی لگادے، اگر تاجر نہیں ہے محض استعمال میں لانے والا ہے، تو وہ نہ لگائے ۔ (امداد الفتادی ۴۹/۲)

درج بالا تفصیل سے سونے کے علاوہ دیگر اشیاء کا حکم بھی معلوم ہو گیا کہ تاجر اپنی دکان میں جو چیز جتنی قیمت میں فروخت کرتا ہے وہ سب زکوٰۃ میں لگائے گا، اور عام آدمی کی چیز جتنے میں بازار میں فروخت ہوگی وہ اس کو زکوۃ میں محسوب کرے گا۔

والمعتبر وزنهما أداء ووجوباً (درمختار) يعني يعتبر أن يكون المؤدي قدر الواجب وزنا عند الإمام والثاني. (شامي ۲۲۷/۳ زكرياء البحر الرائق ٣٩٥/٢ زكرياء تبيين الحقائق (٧٤/٢)

وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا: يوم الأداء ….. ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة، ففي أقرب الأمصار إليه. (درمختار) وفي الشامي: إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء، وفي المحيط يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندهما، (شامي ۲۱۱/۳ زکریا، شامی ۲۷۶/۲ کراچی)

ولو كان له إبريق فضة وزنه ماتان وقيمته لصياغته ثلاث مائة، إن أدى من العين يؤدي ربع عشره، وهو خمسة قيمتها سبعة ونصف، وإن أدى خمسة قيمتها خمسة جازك ولو أدى من خلاف جنسه يعتبر القيمة بالإجماع، الفتاوى الهندية ١٧٨٧١ زكرياء تبیین الحقائق (٧٤/٢) فقط والله تعالى اعلم

املاہ: احقر محمد سلمان منصور پوری ۹ ۱۲ / ۵۱۴۳۶

الجواب صحیح شبیر احمد عفا اللہ عنہ

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر : 144403101518

مال تجارت کی زکوۃ ادا کرنے میں قیمتِ خرید کا اعتبار ہے یا قیمتِ فروخت کا؟

سوال

ایک سال گزرنے کے بعد مالِ تجارت کا حساب قیمتِ خرید کے مطابق کیا جائے گا یا قیمتِ فروخت کے مطابق ؟مثلاً ایک چیز کا پرنٹ ریٹ پانچ سو روپے ہے جب کہ اس کی قیمتِ خرید چارسو پچاس روپے ہے تو زکوۃ کا حساب قیمتِ خرید کے حساب سے ہوگا یا قیمتِ فروخت ؟

جواب

تجارتی مال کی زکوۃ  ادا کرنے میں قیمتِ خرید کا اعتبار  نہیں ہوتا، بلکہ  قیمتِ فروخت کا اعتبار  ہوتا ہے،  یعنی زکوۃ نکالتے  وقت بازار میں  سامان کو فروخت کرنے کی جو قیمت  ہوتی ہے اسی قیمت سے ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرنا ضروری ہے۔

فتاوی دار العلوم زکریا(138/3)

تجارتی سامان میں قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا :

سوال : ایک شخص اپنی دکان کے مال تجارت کی زکوۃ نکالنا چاہتا ہے تو کسی قیمت کے اعتبار سے نکالے قیمت خرید یا قیمت فروخت ؟ اور کس وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا ؟

الجواب : صورت مسئولہ میں سامان تجارت کی زکوۃ نکالتے وقت قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا۔

جدید فقہی مباحث(568/7)

تھوک پھٹکر کاروبار میں کون سا نرخ معتبر ہے ؟

تھوک و پھٹکر کاروبار میں تاجر کے حال کا اعتبار ہے، اس لیے کہ بازار میں د دونوں کا رنے الگ الگ ہوتا ہے ہیں جو تا جر تھوک کا روبار کرتا ہے تو اس صورت میں تھوک کی قیمت معتبر ہوگی، اور جو تاجر پٹر کا روبار کرتا ہے وہ پھٹکر کے اعتبار سے قیمت لگاکر زکوٰۃ دے اور جو تاجر دونوں طرح خرید و فروخت کرتا ہے تو وہ شخص تقویم بالا نفع للفقراء کے اصول کے پیش نظر پھٹکر قیمت کا لحاظ کر کے زکوٰۃ دے یہاں پر پیسٹل بھی یادر ہے کہ ادائے گی زکوۃ کے لیے اسی شہر کی قیمت لگائی جائے گی جس شہر میں مال ہے یا اگر شہر میں مال نہیں ہے بلکہ آبادی سے باہر ماں ہے تو اس صورت میں مال سے جو آبادی زیادہ قریب ہے سے باہراں تو میں مال سے جو ہے اس قریب والی آبادی کی قیمت معتبر ہوگی جہاں صاحب مال یا تاجر رہتا ہے وہاں کی قیمت کا اعتبار نہیں ہے،

زکوۃ کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا(118)

تجارتی مال کی قیمت کا تعین

تجارتی مال سے زکوۃ نکالنے وقت قیمت فروخت کا اعتبار ہوتا ہے، قیمت خرید کا نہیں لہذا سال مکمل ہونے پر جب تاجر زکوۃ نکالے گا تو قیمت فروخت سے نکالے گا قیمت خرید سے نہیں ۔

مثلا کسی نے تجارت کی نیت سے ایک چیز دس ہزار میں خریدی ہے اور اسکی قیمت فروخت بارہ ہزار ہے تو بارہ ہزار سے ڈھائی فیصد زکوۃ نکالی جائے گی۔

اور اگر قیمت کم ہو کر قیمت فروخت آٹھ ہزار ہوگی تو آٹھ ہزار سے زکوۃ نکالی جائے گی ۔

اور تجارتی مال کی وہ قیمت فروخت لگائی جائے گی جو اس شہر میں چل رہی ہے مثلا ایک مال ہے اسکی قیمت کراچی میں دس ہزار ہے اور لاہور میں پندرہ ہزار ہے اور مال کراچی میں ہے تو دس ہزار سے زکوۃ ادا کرے گا اور اگر لاہور میں ہے تو پندرہ ہزار کے حساب سے زکوۃ ادا کرے گا۔

اور اگر مال کسی غیر آباد علاقے میں ہے تو اس علاقہ کے قریب جو شہر ہو وہاں کی قیمت فروخت کے لحاظ سے اسکی مالیت مقرر کر کے زکوۃ نکالی جائے گی ۔

Related Articles

Back to top button