Husband Fails in Providing Maintenance and Shelter
Question:
ASALLAMU alaikum
My Daughter got married ….…she is pregnant and the husband has sent her back home saying he is currently unemployed hence not able to provide a place for her to stay…its been a few months and he sent R500 (nafaqa) once only which is not even enough for her basic needs..he fails to provide and claims its because he is out of a job…to such an extend that the pregnant lady now has to go work in her state in order to support herself which is affecting her health but she has no choice…so my question is…can these factors be the basis of annulling the marriage because he fails to provide the mandatory nafaqa and shelter?
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
In principle, the maintenance (Nafaqah) and shelter (Sukna) of the wife is the responsibility of the husband. However, the annulment of a marriage is a serious and sensitive matter, as it leads to the breakdown of a family.
It is therefore advised to approach a recognised Islamic body (such as the Jamiat) for counselling and mediation. They will assess the situation, attempt reconciliation where possible, and guide you if further steps are required.[1]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa
Port-louis, Mauritius
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] «المبسوط» للسرخسي (5/ 180): [باب النفقة]
(قال:) رضي الله عنه اعلم بأن نفقة الغير تجب بأسباب منها الزوجية، ومنها الملك، ومنها النسب، وهذا الباب لبيان نفقة الزوجات. والأصل فيه قوله تعالى {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف} [البقرة: 233] وقال الله تعالى: {وبما أنفقوا من أموالهم} [النساء: 34] وقال الله تعالى: {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: 6] معناه: أسكنوهن من حيث سكنتم وأنفقوا عليهن من وجدكم، وقال: صلى الله عليه وسلم «أوصيكم بالنساء خيرا؛ فإنهن عندكم عوان، اتخذتموهن بأمانة الله، واستحللتم فروجهن بكلمة الله، وإن لكم عليهن أن لا يوطئن فرشكم أحدا، وأن لا يأذن في بيوتكم لأحد تكرهونه، فإذا فعلن ذلك فاضربوهن ضربا غير مبرح، وإن لهن عليكم نفقتهن، وكسوتهن بالمعروف» وقال صلى الله عليه وسلم لهند: «خذي من مال أبي سفيان رضي الله عنه ما يكفيك وولدك بالمعروف»، ولأنها محبوسة لحق الزوج ومفرغة نفسها له فتستوجب الكفاية عليه في مال، كالعامل على الصدقات لما فرغ نفسه لعمل المساكين استوجب كفايته في مالهم،
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص257): باب النفقة
هي لغة: ما ينفقه الإنسان على عياله. وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته
فتاوى دار العلوم زكريا ط زمزم پبليشر (4/241)
شوہر کا نفقہ ادا نہ کرنے پر تفریق کا حکم :
سوال: ایک عورت شوہر کے متعلق یہ کہتی ہے کہ وہ گھر کا ضروری خرچہ نہیں دیتا ہے، مثلاً بہت کم رقم دیتا ہے جس سے گزارہ مشکل ہوتا ہے اور اس کا حساب بھی مانگتا ہے، نیز بیوی کے رشتہ داروں کی مہمان نوازی سے انکار کرتا ہے، لڑائی جھگڑے روزانہ کا معمول ہے، بیوی سخت کوفت میں مبتلا ہے، شوہر کے ساتھ بالکل رہنا نہیں چاہتی ، اور شوہر کے مطالبات ظالمانہ ہونے کے وجہ سے خلع بھی مشکل ہے، لہذا اس مسئلہ میں کوئی عالم تفریق ، کر سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ کورٹ میں تفریق ہو چکی ہے۔
الجواب: اگر شوہر زوجہ کو نفقہ کے معاملہ میں پریشان کرتا ہو اور سخت مجبوری کی بنا پر تفریق کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو ایسے وقت میں علمائے احناف عورت کو مصیبت سے نکالنے کے لئے مذہب مالکیہ پر فتوی دیتے ہیں، یعنی جب کسی قسم کی مصالحت یا خلع وغیرہ کی گنجائش باقی نہ رہے تو عورت کو اپنا مقدمہ قاضی یا جمعیۃ العلماء کے سامنے پیش کر کے تفریق کرانے کا اختیار ہے۔
ملاحظہ ہو الحیلۃ الناجزة“ میں ہے:
زوجه متعنت ( با وجود قدرت کے بیوی کے حقوق نفقہ وغیرہ ادانہ کرے) کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے ضلع وغیرہ کرلے، بین الربا وجود کی بیع کے لوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔ اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں:
(۱) ایک یہ کہ عورت کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندو بست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو۔
(۲) اور دوسری صورت مجبوری کی یہ ہے کہ اگر چہ بسہولت یا بدقت خرچ کا انتظام ہو سکتا ہے، لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلائے معصیت کا قوی اندیشہ ہو۔
اور صورت تفریق کی یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ قاضی یا مسلمان حاکم ، اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں جماعت مسلمین کے سامنے پیش کرے، اور جس کے سامنے پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ پوری تحقیق کرے، اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو کہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتا تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنی عورت کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا شرعاً جو اس کے قائم مقام ہو طلاق واقع کردے، اس میں کسی مدت کے انتظار و مہلت کی با تفاق مالکیہ ضرورت نہیں۔
” للرواية الثانية والعشرين من الفتوى للعلامة سعيد بن صديق المالكي. ( الحيلة الناجزة للحليلة العاجزة: ص ٦٣ ، حكم زوجه متعنت في النفقة، ط: دار الاشاعت ، دیوبند).
اسباب فسخ نکاح مولانا ثمير الدین قاسمی ط مکت ثمير ، مانچسٹر ، انگلینڈ (33)
(۳) تیسرا سبب استطاعت کے باوجود نفقہ نہیں دیتا ہے
شوہر کو استطاعت ہے کہ نان و نفقہ دے لیکن وہ دیتا نہیں ہے، اور عورت کے پاس نفقہ کا کوئی انتظام نہیں ہے ، اور نہ وہ بغیر نفقہ کے زندگی گزار سکتی ہے، تو ایسی سخت مجبوری میں قاضی کے پاس درخواست دے کر تفریق کروا سکتی ہے۔ اور یہ تفریق طلاق رجعی قرار پائے گی ۔ ( مجموعہ قوانین اسلامی ، باب شوہر کا استطاعت کے باوجود نفقہ نہ دینا ، دفعہ نمبر ۷۹، ص ۱۹۸ رحیلہ ناجزہ ، باب حکم زوجہ متعت في النفقة، ص ۱۶۳)
مالکیہ کا مذہب یہ ہے ۔ ولها الفسخ ان عجز عن نفقة حاضرة لا ماضية – (مختصر الخليل باب في النفقة بالنكاح و الملک والقرابة ، ص ۱۷۰) اس عبارت میں ہے کہ نفقہ نہ دے سکتا ہو تو موجودہ نفقہ کی وجہ سے تفریق کرواسکتی ہے، ماضی کے نفقے سے نہیں ۔
وجه : (1) لينفق ذو سعة من سعته و من قدر عليه رزقه فلينفق مما ءاتاه الله لا يكلف الله نفسا الا ما ءاتاها سيجعل الله بعد عسر يسرا – ( آیت ہے، سورة الطلاق (۶۵) اس آیت میں اشارہ ہے کہ بیوی پر خرچ کرنا چاہئے۔
(۲) اس حدیث میں ہے کہ عورت پر خرچ کرو، جس کا مطلب یہ ہوا کہ خرچ نہ کرے تو تفریق کرواسکتی ہے۔ عن حكيم بن معاوية القشيرى عن ابيه قال قلت يا رسول الله ! ما حق زوجة أحدنا عليه ؟ قال ان تطعمها اذا طعمت و تكسوها اذا اكتسیت او اكتسبت و لا تضرب الوجه و الا تقبح و لا تهجر الا في البيت – ( ابوداود شریف ، باب فی حق المرأة على زوجها ،ص ۳۰۹ نمبر ۲۱۴۲)
(۳) اس حدیث میں بھی ہے۔ عن جده معاوية القشيري قال أتيت رسول الله الله قال فقلت ما تقول في نسائنا ؟ قال أطعموهن مما تأكلون و اكسوهن مما تكتسون و لا تضربوهن ولا تقبحوهن – (ابوداود شریف ، باب فی حق المرأة على زوجها ص ۱۳۱۰، نمبر ۲۱۴۴) : اس حدیث میں ہے کہ بیوی کو نان نفقہ دو۔۔ اور مجبوری ہو تو تفریق کرواسکتی ہے۔
(۴) چوتھا سبب ۔ شوہر نفقہ ادا کرنے سے عاجز ہے
شوہر کے پاس نان نفقہ ہو اور نہ دے تو اس کو شوہر کا نفقہ نہ دینا کہتے ہیں ، اور یہاں یہ ہے کہ شوہر کے پاس نفقہ ہے ہی نہیں وہ اس سے عاجز ہے۔ اس صورت میں بھی اگر عورت کے پاس کوئی انتظام نہ ہو اور وہ مجبور ہو تو قاضی سے تفریق کرواسکتی ہے ( مجموعہ قوانین اسلامی شوہر کا ادائیگی نفقہ سے عاجز ہونا ۔ ، دفعه ۸۰، ص ۱۹۹)
حضرت امام مالک کا مسلک یہ ہے – و لها الفسخ ان عجز عن نفقة حاضرة لا ماضية – ( ) مختصر الخلیل ، باب في النفقة بالنكاح والملك والقربة ، ص ۱۷۰) اس عبارت میں ہے کہ نفقہ نہ دے سکتا ہو تو موجودہ نفقہ کی وجہ سے تفریق کرواسکتی ہے، ماضی کے نفقے ۔ سے نہیں۔
وجه: (1) اوپر کے جتنے دلائل ہیں انکے علاوہ یہ دلیل ہے۔
(۲) سألت سعيد بن المسيب عن الرجل لا يجد ما ينفق على امرأته ؟ قال يفرق بينهما قال قلت : سنة ؟ قال نعم سنة – ( مصنف عبد الرزاق ، باب الرجل لا يجد ما ينفق على امراتہ ، ج سابع ، ص اے، نمبر ع ۱۲۴۰۵ مصنف ابن ابی شیبہ ، باب ما قالوا في الرجل يعجز عن نفقه امراؤتة يجبر على ان يطلق امرا اتهام لا ، واختلافهما فی ذالک ، ج رابع ص ۱۷۴، نمبر ۱۹۰۰۶)
اس اثر میں ہے کہ خرچ کرنے کا نہ ہو تفریق کر دی جائے گی۔
(۳) عن حماد قال اذا لم يجد الرجل ما ينفق على امراته فرق بينهما – (مصنف عبد الرزاق، باب الرجل لا يجد ما ينفق على امر انته، ج سابع جس اے نمبر ۱۲۴۰۶)
اس اثر میں ہے کہ خرچ کرنے کا نہ ہو تفریق کر دی جائے گی۔