Fatwa

Endoscopic Thoracic Sympathectomy Surgery

Question:

Is Endoscopic thoracic sympathectomy (ETS) surgery permissible.

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

Endoscopic thoracic sympathectomy (ETS) is a surgery to treat sweating that is much heavier than normal. This condition is called hyperhidrosis. Usually, the surgery is used to treat sweating of the palms or face. The sympathetic nerves control sweating. The surgery cuts these nerves to that part of the body that sweats abnormally.[1]

In principle, surgery is permissible when performed for medical reasons and not for cosmetic reasons. Accordingly, it is permissible to undergo an ETS surgery. [2]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Arib Raza
Student Darul Iftaa
New York, U.S.A

Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai

[1] https://medlineplus.gov/ency/article/007291.htm#:~:text=Endoscopic%20thoracic%20sympathectomy%20(ETS)%20is,The%20sympathetic%20nerves%20control%20sweating.

[2] الفتاوى الهندية (44/ 64-65)

لا بأس بقطع العضو إن وقعت فيه الأكلة لئلا تسري كذا في السراجية، لا بأس بقطع اليد من الأكلة وشق البطن لما فيه كذا في الملتقط، إذا أراد الرجل أن يقطع إصبعا زائدة أو شيئا آخر قال نصير رحمه الله تعالى إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك رجل أو امرأة قطع الإصبع الزائدة من ولده قال بعضهم لا يضمن ولهما ولاية المعالجة وهو المختار ولو فعل ذلك غير الأب والأم فهلك كان ضامنا والأب والأم إنما يملكان ذلك إذا كان لا يخاف التعدي والوهن في اليد كذا في الظهيرية.

تكملة فتح الملهم، ج.4، ص.115/116، دار القلم

قوله: (والمتفلجات): جمع المتفلجة، وهي المرأة التي تبرد ما بين أسنانها (بالمبرد) الثنايا والرباعيات لتحدث فرجة بينها، وكانت العجائز يفعلنه لإظهار صغرهن؛ لأن هذه الفرجة اللطيفة بين الأسنان ربما تكون للبنات الصغار، فإذا تفلجت امرأة كبيرة السن أوهمت أنها صغيرة في السن، ويقال له أيضا: الوشر.

قوله: (المغيرات خلق الله): إشارة إلى قوله تعالى حكاية عن قول الشيطان: (وقال لأتخذن من عبادك نصيبا مفروضا ولأضلنهم ولأمنينهم ولآمرنهم فليبتكن ءاذان الأنعم ولآمرنهم فليغيرن خلق الله). وفيه تصريح بأن الوصل والوشم والنمص وغيرها من جملة تغيير خلق الله الذي يفعله الإنسان بإغواء من الشيطان، والذي نهى عنه الله.

وقال القرطبي في تفسيره: (ثم قيل: هذا المنهي عنه إنما هو فيما يكون باقيا؛ لأنه من باب تغيير خلق الله تعالى. فأما ما لا يكون باقيا كالكحل والتزين به للنساء، فقد أجازه العلماء، مالك وغيره، وكرهه مالك للرجال، وأجاز مالك أيضا أن تشي المرأة يديها بالحناء).

والحاصل: أن كل ما يفعل في الجسم من زيادة أو نقص من أجل الزينة بما يجعل الزيادة أو النقصان مستمرا مع الجسم، وبما يبدو منه أنه كان في أصل الخلقة هكذا؛ فإنه تلبيس وتغيير منهي عنه. وأما ما تزينت به المرأة لزوجها من تحمير الأيدي، أو الشفاه أو العارضين بما لا يلتبس بأصل الخلقة، فإنه ليس داخلا في النهي عند جمهور العلماء. وأما قطع الإصبع الزائدة ونحوها؛ فإنه ليس تغييرا لخلق الله، وإنه من قبيل إزالة عيب أو مرض، فأجازه أكثر العلماء خلافا لبعضهم.

كتاب النوازل 16/226ص

زیبائش اور حسن کے لئے پلاسٹک سرجری کرانا ؟

سوال (۷۷ ):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ : میں میڈیکل سائنس کا ایم بی بی ایس کا طالب علم ہوں ، میں ڈاکٹر کے ساتھ کام کر رہا ہوں، وہ ایک ماہر پلاسٹک سرجن ہیں، آپ سے پلاسٹک سرجری کے ذریعے ہونٹوں کو پتلا کرنا، یا موٹی ناک کو پتلا کرنے کے بارے میں مسئلہ تفصیل سے جانا چاہتا ہوں ، اس میں جس حصے کی سرجری کرنی ہوتی ہے، اس میں باہر سے پلاسٹک وغیرہ کا خول نہیں پڑھاتے ہیں ،صرف اس کا نام ایسا ہے باہر سے کچھ نہیں لگاتے ہیں ، دھونے اور نہانے میں جہاں جہاں تک پانی پہنچنا چاہئے بالکل آسانی سے پہنچتا ہے۔ میں جانا چاہتا ہوں کہ اگرکوئی شخص ایسا کروا تا ہے یا کرتا ہے، تو اس کی نماز ہوتی ہے یانہیں؟ اور ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ اگر کوئی آدمی (مریض ) موٹے ہونٹ یا موٹی ٹاک کی وجہ سے چینی اعتبار سے کافی پریشان ہو اور یہ پریشانی اسے جنون کی طرف لے جانے والی ہوں یعنی وہ اتنا پریشان ہو کہ بیمار ہو جائے (نیند نہ آنا ، بھوک نہ لگنا، بے چینی، ذہنی و با ؤ وغیرہ) تو ایسے مریض کی سرجری کر نا شریعت کے مطابق جائز ہے یانہیں؟

الجواب وبالله التوفيق: محض حسن آرائی اور زیبائش کے لئے پلاسٹک سرجری ثریت میں پسند یدہ نہیں ہے؛ البتہ کسی پیدائشی نقص کو دور کرنے کے لئے مکمل کرایا جاۓ تو شرعا اس میں کوئی مضائقہ معلوم نہیں ہوتا، اور حسب تحریرسوال اس عمل میں کوئی چین بون پرنہیں چڑ ھائی جاتی اس لئے وضو یا نماز میں اس کی وجہ سے کوئی خلل واقع نہیں ہوگا ۔

فتاوي دار العلوم زكريا 6/639ص

آنکھوں میں لیز رآ پریشن کا حکم :

سوال: ایک شخص کی آنکھوں کی بینائی انتہائی کمزور ہے ، بینائی کوٹھیک کرنے کے لیے لیز رآ پریشنکرانا چاہتا ہے کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

الجواب: بینائی کا کمزور ہونا آنکھوں میں عیب ہے اور ازالہ عیب کے لیے آپریشن کرانا جائز ہے ،لہذاآنکھوں میں لیز را پریشن کرانا جائز اور درست ہوگا ۔ ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

إذا أراد الرجل أن يقطع أصبعاً زائدة أو شيئاً آخر قال نصير”: إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك

فتاوي دار العلوم زكريا 6/777ص

زینت کے لیے اعضاء کی سرجری کا حکم :

الجواب: انسانی جسم میں ایسے تصرفات جواپنے خیال میں محض زینت کے قبیل سے ہوں درست نہیں ، ہاں ازالہ عیوب جائز ہے مثلا ٹوٹے ہوئے دانت کی جگہ دوسرا دانت لگوانا جائز ہے کیونکہ یہ ازالہ عیب ہے اسی طرح نکلے ہوۓ دانتوں کو برابر کرنا بھی درست ہے مصنوعی ناک کان لگوانا بھی درست ہے تا کہ عیب دور ہو جاۓ لیکن دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا درست نہیں ہے کیونکہ یہ اس کے خیال میں حسن ہے جس کو فرضی حسن کہہ سکتے ہیں حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

Related Articles

Back to top button