Does Biting Nails Causes Poverty?
Question:
As salaamu alaykum Is there anything where…Biting the nails causes Poverty?
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Raḥmatullāhi Wa-Barakātuh
In principle, cutting one’s nails with the teeth is makrūh (disliked). As for the claim that doing so leads to poverty, we are not aware of any reliable evidence to substantiate this claim. [1]
And Allah Taʿāla Knows Best.
Baba Abu Bakr
Student –Darul Iftaa
Accra, Ghana
Checked and Approved by
Mufti Muhammad Zakariyya Desai
[1] الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ٥/٣٥٨ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)
«قطع الظفر بالأسنان مكروه يورث البرص.»
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ٦/٤٠٥ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)
«قوله ويستحب قلم أظافيره) وقلمها بالأسنان مكروه يورث البرص، فإذا قلم أظفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفنه فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره لأنه يورث داء خانيه ويدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم عتابية ط»
الحظر والإباحة
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ١/٥٢٥ — الطحطاوي (ت ١٢٣١)
ثم قص الأظفار هو إزالة ما يزيد على ما يلابس رأس الإصبع من الظفر بمقص أو سكين أو غيرهما ويكره بالأسنان لأنه يورث البرص والجنون
دار الافتاء:دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر144407101588:
لوگوں میں مشہور بات ’’دانتوں سے ناخن کاٹنا رزق میں تنگی کا باعث ہے‘‘ کی تحقیق
سوال
ہمارے علاقے میں ایک بات مشہور ہے کہ جو لوگ اپنے دانتوں سے اپنے ناخن کاٹتے ہوں ان کے رزق میں تنگی ہوگی، کیا یہ بات صحیح ہے یاغلط ؟
جواب
اس بات کا شریعتِ مطہرہ میں کوئی اصل و ثبوت موجود نہیں ہے، کسی بھی معتبر کتاب میں اس کا ذکر نہیں ملتا، ابو حیان التوحیدی (جس کو علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ’’سير أعلام النبلاء‘‘ میں گمراہ، ملحد، زندیق، جھوٹا، بد عقیدہ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین رحمہم اللہ کی شان میں گستاخی کرنے والا،شریعت کو کھلواڑ بنانے اور تعطیل کا عقیدہ رکھنے والا، جیسے القابات دیے ہیں) نے اپنی کتاب ’’البصائر والذخائر‘‘ میں کسی کی طرف منسوب کیے بغیر بلا سند کے (یقال: ’’کہا جاتا ہے‘‘ کے ساتھ) یہ بات ذکر کی ہے ، لیکن اس کا بے اصل ہونا بالکل واضح ہے؛ کیوں کہ نہ تو انہوں نے اس کی کوئی سند ذکر کی ہے، اور نہ ہی کسی کی طرف منسوب کیا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود ابو حیان التوحیدی مذکورہ اوصاف کے ساتھ متصف ہونے کی بنا پر ناقابلِ اعتماد آدمی ہے، اس لیے ان کی بات بلا تحقیق کے قابلِ قبول نہیں ہے، لہذا عوام میں مشہور یہ بات کہ :’’دانتوں سے ناخن کاٹنے سے رزق تنگ ہوتا ہے‘‘ بے اصل ہونے کی بنا پر غلط ہے، ایسی باتوں کی تشہیر و تذکرہ سے گریز کیا جائے۔
ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ دانتوں سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے، اور بعض فقہاء و اطباء کے تجربے کے مطابق برص کی بیماری لگ جانے کا باعث ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
دانتوں سے ناخن کاٹنے کا حکم
سوال
مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا دانتوں سے ناخن نکالنا حرام یا گناہ ہے ؟ کیا دانتوں سے ناخن کاٹنے سے غریبی آتی ہے ؟
برائے مہربانی جلد جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں. نوازش ہوگی۔
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:74-50/N=2/1440
(۱): دانتوں سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے، اس سے برص کی بیماری ہوسکتی ہے۔
(۲): دانتوں سے ناخن کاٹنے سے غربت آتی ہے، یہ مجھے معلوم نہیں اور نہ ہی میں نے کسی معتبر ومستند کتاب میں دیکھا۔
واللہ تعالیٰ اعلم