Chewing Gum During A Fast
Question:
Salaam, had a question Does chewing gum break ur fast
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
Chewing in itself does not nullify the fast. For example, chewing on a miswak to soften it will not affect the fast.[1]
However, gum is infused with juice and flavours. When that juice or flavour mixes with saliva and is ingested, the fast will be nullified.[2]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Arib Raza
Student Darul Iftaa
New York, U.S.A
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] فتاوی عثمانی جلد دوم ۱۹۰
روزے میں مسواک چبانے کا حکم
سوال: – کیا روزے میں مسواک چہاتا جائز ہے؟
جواب – مسواک کرنا تو جائز ہے، لیکن چہانے سے حتی الوسع پر ہیز کرنا چاہئے ۔ بہتر یہ ہے کہ مسواک پہلے سے بنالی جاۓ ، تاہم روزہ چہانے سے بھی نہیں نوقتا تاوقتیکہ عرق حلق تک نہ بنے،
[2] النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 151) دار الفرقان
مَا يكره فِي الصَّوْم قَالَ وَعِشْرُونَ شَيْئا مَكْرُوهَة فِي الصَّوْم احدها المعانقة بالشهوة وَالثَّانِي الْمُبَاشرَة بالشهوة وَالثَّالِث المماسة بالشهوة وَالرَّابِع الْقبْلَة بالشهوة للشباب والشيوخ وَفِي قَول بعض الْفُقَهَاء يكره للشباب وَلَا يكره للشيوخ وَالْخَامِس النّظر الى فرج الْمَرْأَة وَالسَّادِس الْحجامَة اذا خشى الضعْف وَالسَّابِع الْقَصْد اذا خشى الضعْف وَالثَّامِن دُخُول الْحمام اذا اخشى الضعْف وَالتَّاسِع الاستقاء فِي قَول ابي عبد الله وَفِي قَول ابي حنيفَة واصحابه وَالشَّافِعِيّ يفطره والعاشر ادخال النَّفس فِي عمل يخْشَى مِنْهُ الضعْف عَليّ نَفسه وَالْحَادِي عشر السِّوَاك فِي آخر النَّهَار وَالثَّالِث عشر الْمَضْمَضَة عِنْد الافطار وَالثَّانِي عشر الْمَضْمَضَة بِغَيْر وضوء وَالرَّابِع عشر مضغ العلك
المبسوط للسرخسي (3/ 100) دار المعرفة – بيروت
(قال): ويكره للصائم مضغ العلك ولا يفطره؛ لأن مضغ العلك، يدبغ المعدة ويشهي الطعام ولم يأن له فهو اشتغال بما لا يفيد، والناظر إليه من بعد يظن أنه يتناول شيئا فيتهمه ولا يأمن أن يدخل شيئا منه حلقه فيكون معرضا صومه للفساد، ولكن لا يفطره؛ لأن عين العلك لا تصل إلى حلقه إنما يصل إليه طعمه، وهذا إذا كان العلك مصلحا ملتئما فأما إذا لم يكن ملتئما فمضغه حتى صار ملتئما يفسد صومه؛ لأنه تتفتت أجزاؤه فيدخل حلقه مع ريقه
البناية شرح الهداية (4/ 68) دار الكتب العلمية
م: (إلا أنه يكره للصائم) ش: هذا استثناء من قوله: ومن مضغ العلك لا يفطر م: (لما فيه من التعريض للفساد) ش: لأنه يتوهم وصول شيء منه إلى الباطن، فيكون معرضاً لصومه أي على الفساد م: (ولأنه يتهم بالإفطار) ش: وفي بعض النسخ – ولأنه يوهم الإفطار- لأن من رآه من بعيد يظن أنه مفطر، وقال علي – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: إياك وما سبق إلى القلوب إنكاره، وإن كان عندك اعتذاره، وقال الشافعي – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أكرهه لأنه يجفف الفم ويعطش، ذكره في ” التهذيب ” عنه، لكن يدبغ المعدة ويهضم الطعام ويشتهي الأكل، ذكره في ” المبسوط “، وأشار في ” الجامع الصغير ” إلى أنه لا يكره العلك لغير الصائم، ولكن يستحب للرجال تركه إلا من عذر مثل أن يكون في فمه بخر.
الفتاوي البزازية ۸۸/ ا قديمي كتب خانه
لا يفسده …أو خرج الدم من بين أسنانه والبزاق غالب فابتلعه ولم يجد طعمه، وإن غلب الدم أو تساويا فسد،
فتاوی دارالعلوم زکر یا جلد سوم ۳۰۹
روزہ کی حالت میں پان منہ میں رکھنے سے فساد صوم کا حکم :
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر پان کا ذائقہ حلق میں محسوس ہوا اور حلق سے نیچے اتارایا تو روزہفاسد ہو گیا ،لیکن اگر حلق تک پہونچ کر حلق سے نیچے نہیں اتراتو مفسد نہیں ہے ،البتہ مکروہ تحریمی ضرور ہے لیکن عادة حلق سے نیچے جاتا ہے ۔
فراوی دارالعلوم زکر یا جلد سوم ۳۱۲
روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ (tooth paste) استعمال کرنے کا حکم :
الجواب : روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ (tooth paste) کا استعمال با انضر ورت شد یدہ کراہت سے خالی نہیں البتہ جب تک حلق سے نیچے نہ اترے روز و فاسد نہیں ہوگا، بوقت ضرورت استعمال کی گنجائش ۔۔
فتاوی محمودیه جلد دهم ۱۵۹
نشر و رمنجن کا استعمال بحالت صوم
ــــــــوال ۳۸۴۷]: روزہ کی حالت میں ایک قسم کا منجن جوتمہا کو اور پرانے گڑے تیار کیا جا تا ہے استعمال کرتا ہے ،جس کی اسے عادت پڑی ہوئی ہے، اس کے استعمال سے اس کو تسکین بھی ہوتی ہے، اس سجن میں نشربتہ رتمباکو ہے۔ کیا ایسے منجن کا روزہ کی حالت میں استعمال جائز ہے؟
الجواب حامداًومصليا
اس سے پورا پر ہیز کرے، اکثر اس کا کچھ حصہ حلق کے اندر پہونچ جاتا ہے نشہ کا ہونا مستقل وجہ منع ہے (۱) ۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔
فتاوی عثمانی جلد دوم ۱۹۲
نسوار کے استعمال سے روزہ فاسد ہو جا تا ہے
سوال: – نسوار جس میں چونہ وغیرہ ڈال کر منہ میں رکھا جاتا ہے، کا شرعی حکم کیا ہے؟ بعض لوگ اس کو حرام ، بعض مباح کہتے ہیں ، کیا اس سے روزہ ٹوٹتا ہے؟ جواب: – تمباکو، نسوار وغیرہ کا استعمال مباح ہے، اور اس سے روزہ بھی فاسد ہو جاتا ہے، کی جس سے اس اس لئے کہ نسوار کا منہ میں رکھنا عملاً کھانے کے حکم میں ہے ۔