General Rules of Salah

Deviation of Qiblah in a Masjid

Question:

A Masjid was built 26⁰ off the exact Qiblah.

Will it be necessary to correct it, or will the 48⁰/24⁰ concession be considered?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

The tolerable deviation when facing the precise direction of the Ka’bah is 90 degrees (45 degrees to the right or left). In the case described, the deviation of 26 degrees falls within the accepted tolerance of 45 degrees, and any Salaah performed in such a setting will therefore be valid.

However, now that the error has been identified, the Sufoof (rows) should be adjusted to face the correct direction. This may easily be done by marking the Musalla (carpet) or floor with new lines, or by realigning the Musalla itself.[1]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Azhar Mownah

Student Darul Iftaa
Mauritius

Checked and Approved by,

Mufti Muhammad Zakariyya Desai.


[1]

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع الإمام علاء الدين أبي بكر بن مسعود الكاساني المتوفى سنة ٥٨٧ ط دار الكتب العلمية (1/ 118):

{فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره} [البقرة: 144] ، وفي وسعه تولية الوجه إلى عينها فيجب ذلك، وإن كان نائيا عن الكعبة غائبا عنها يجب عليه التوجه إلى جهتها، وهي المحاريب المنصوبة بالإمارات الدالة عليها لا إلى عينها، ‌وتعتبر ‌الجهة ‌دون ‌العين.

كذا ذكر الكرخي والرازي، وهو قول عامة مشايخنا بما وراء النهر.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 427):

(و) السادس (استقبال القبلة) حقيقة أو حكما كعاجز، والشرط حصوله لا طلبه (فللمكي) وكذا المدني لثبوت قبلتها بالوحي (إصابة عينها) يعم المعاين وغيره لكن في البحر أنه ضعيف. والأصح أن من بينه وبينها حائل كالغائب، وأقره المصنف قائلا: والمراد بقولي فللمكي مكي يعاين الكعبة (ولغيره) أي غير معاينها (إصابة جهتها) بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة أو لهوائها، بأن يفرض من تلقاء وجه مستقبلها حقيقة في بعض البلاد خط على زوايا قائمة إلى الأفق مارا على الكعبة، وخط آخر يقطعه على زاويتين قائمتين يمنة ويسرة منح.

………………

والحاصل أن المراد بالتيامن والتياسر الانتقال عن عين الكعبة إلى جهة اليمين أو اليسار لا الانحراف، لكن وقع في كلامهم ما يدل على أن الانحراف لا يضر؛ ففي القهستاني: ولا بأس بالانحراف انحرافا لا تزول به المقابلة بالكلية، بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة. اهـ.

فتاوى محمودية لمحمود حسن گنگوهی مع تعليق شيخ سليم الله خان ط دار الإفتاء جامعة فاروقية كراچي (5/535)

۳۵ درجه شمال منحرف مسجد کا حکم

سوال: ہمارے یہاں ایک مسجد ہے جو خط استواء سے ۳۵/ درجہ شمال کی جانب منحرف ہے۔ معارف مدنیہ میں لکھا ہے کہ ” کعبہ سے ۲۴ / درجہ انحراف تک بلا کراہت نماز درست ہوتی ہے لہذا میرے خیال میں اس مسجد میں نماز بلا کراہت درست ہوگی ۔ اور ہمارے یہاں ایک دوسرے صاحب ہیں وہ فرماتے ہیں کہ یہ مسجد ۳۴ / درجہ منحرف شمار کی جائے گی اور اس میں نماز مکروہ ہوگی ۔ تو حضرت والا سے دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ مسجد کو ۳۴ / درجہ منحرف شمار کی جائے گی یا 14 درجہ ( یہاں کے عرض البلد (۲۴)۔

الجواب حامداً ومصلياً :

ظاہر تو یہی ہے کہ اس مسجد میں نماز مکروہ نہیں تاہم قدرے انحراف کر کے رخ بالکل سیدھا کر لیں تو خلفشار نہ رہے اور سب کو سکون حاصل ہو جائے ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔

(5/540)

قدیم مسجد کا رخ مکمل صحیح نہیں ہے تو کیا کیا جائے؟

سوال [۲۳۲۹] : ہمارے محلہ کی ایک قدیم مسجد ہے جس پر آج تک لکڑی کی چھت تھی ، اب اس پر لینٹر ڈلوانے کا پروگرام ہے، مسجد کو جب ناپا گیا تو اس کے اندر تقریبا چھ فٹ کا فرق نکلا، بالکل قبلہ رخ نہیں تھی ، یہ فرق بائیں جانب ہے۔ اب اس صورت میں مسجد کو قبلہ رخ بنانے کے لئے مسجد شہید کر کے دوبارہ تعمیر کرائی جائے یا اس صورت پر باقی رکھ کر لینٹر ڈلوایا جائے؟

الجواب حامداً ومصلياً :

نماز تو اتنے فرق سے بھی ادا ہو جاتی ہے (۱) تاہم اس فرق کو نکالنے اور صفوف کا رخ صحیح کرنے کے لئے صفوف کے نشانات کو صحیح کر دینا بھی کافی ہے تا کہ ان نشانات پر نماز ادا کی جائے، تمام مسجد کو گرانے اور شہید کرنے کی ضرورت نہیں-فقط واللہ اعلم ۔

أحسن الفتاوى للمفتي رشيد أحمد صاحب ط أيج أيم سعيد (2/313)

حد الانحراف عن القبلة :

سوال: ایک مسجد سمت قبلہ سے بہت زیادہ منحرف ہے، اس کا شرعاً کیا حکم ہے ؟ بینوا بيانا شافيا توجروا اجرا و افيا

الجواب ومنه الصدق والصواب

بیت اللہ سے پینتالیس درجہ تک اخراف مفسد نہیں ، اس سے زیادہ ہو تو مفسد ہے، لہذا کسی ریاضی کے عالم سے تحقیق کروالیں، کہ مسجد کا انحراف کتنے درجے ہے، کوئی ریاضی دان نہ ملے تو مسجد کی قبلہ والی دیوار کا طول اور قطب نما رکھ کر دیوار کی دونوں طرفوں کا تفاوت نہایت احتیاط سے ناپ کر احقر کی طرف لکھ بھیجیں، دیوار کا طول اور شمالی و جنوبی طرفوں کا تفاوت ناپنے کے لئے سمجھدا را در معتبر شخص کی ضرورت ہے ، فقط واللہ تعالیٰ اعلم-

Related Articles

Back to top button