Ruling on Eating Ice-Creams Containing Ethanol
Question:
Is it permissible to eat ice-creams containing ethanol?
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
If the ethanol in the product is not made from grapes or dates, it will be permissible to consume; otherwise, it will not be.
Many food-grade ethanol used in ice cream flavourings is derived either from synthetic ethanol or fermented ethanol (from sugar, corn, wheat, etc.). One should consult a Halaal-certifying body to verify the Halaal status of a product containing ethanol.[1]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Azhar Mownah
Student Darul Iftaa
Mauritius
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1]
(وأما) المثلث فنقول: لا خلاف في أنه ما دام حلوا لا يسكر يحل شربه.
(وأما) المعتق المسكر فيحل شربه للتداوي واستمراء الطعام والتقوي على الطاعة عند أبي حنيفة وأبي يوسف رضي الله عنهما وروى محمد رحمه الله أنه لا يحل، وهو قول الشافعي رحمه الله وأجمعوا على أنه لا يحل شربه للهو والطرب.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 453):
وهذا (إذا شرب) منه (بلا لهو وطرب) فلو شرب للهو فقليله وكثيره حرام
…………..
قلت: وكان ينبغي للمصنف أن يذكر التقييد بعدم اللهو والطرب وعدم السكر بعد الرابع ليكون قيدا للكل (قوله فلو شرب ما يغلب على ظنه إلخ) أي يحرم القدر المسكر منه، وهو الذي يعلم يقينا أو بغالب الرأي أنه يسكره كالمتخم من الطعام، وهو الذي يغلب على ظنه أنه يعقبه التخمة تتارخانية. فالحرام: هو القدح الأخير الذي يحصل السكر بشربه كما بسطه في النهاية وغيرها؛ ويحد إذا سكر به طائعا. قال في منية المفتي شرب تسعة أقداح من نبيذ التمر فأوجر العاشر لم يحد اهـ. وقال في الخانية. وفيما سوى الخمر من الأشربة المتخذة من التمر والعنب والزبيب لا يحد ما لم يسكر.
أحسن الفتاوى للمفتي رشيد أحمد صاحب ط أيج أيم سعيد (8/486)
الکحل والے مشروبات ماکولات کا حکم :
سوال : ہمارے ملک میں کوکا کولا، فانٹا اور ان کی مانند دیگر مشروبات شائع و ذائع ہیں اور کثرت سے مستعمل ہیں ، بنانے والے کارخانہ سے تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ ان مشروبات و غیرہا میں الکحل ڈالا جاتا ہے ، اس الکحل کے بعض اقسام عصير العنب سے تیار ہوتے ہیں اور بعض اقسام آلو ، کوئلہ اور گیہوں وغیرہ اشیاء سے بنتے ہیں ، ایک بوتل میں تقریبا ایک آدھ قطرہ الکحل موجود ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی مشروبات محض تنعم و تلذ ذ کے طور پر پی جاتی ہیں۔
بہشتی زیور حصہ نہم کے ضمیمہ ثانیہ کی عبارت حسب ذیل ہے :
(فالقسم الأول منه حرام و نجس غليظا والثلاثة الأخيرة حرام ونجس خفيفا وفي رواية نجس غليظا كما فى الهداية) وما عدا ذلك من الأشربة فهى فى حكم الثلاثة الأخيرة عند محمد رحمه الله في الحرمة والنجاسة وعند أبي حنيفة رأبي يوسف رحمهما الله تعالى يحرم منها القدر المسكر وأما القدر الغير المسكر فحلال إلا للهو.
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ عند الشيخين رحمہما اللہ تعالی غیر خمر کی قلیل مقدار حلال ہے ، لہذا اگر غیر خمر کی قلیل مقدار کسی کھانے یا پینے کی چیز مثلاً بسکٹ ، کیک مٹھائی کو کا کولا وغیرہ میں استعمال کی جائے تو ان چیزوں کا کھانا پینا حلال ہوگا۔
زید کہتا ہے کہ بر بناء مذہب شیخین رحمہما اللہ تعالی اگر کسی کھانے یا پینے کی چیز میں غیر خمر کا الکحل ڈالا جائے تو وہ طعام یا شراب جائز الاکل اور حلال ہے۔
لیکن عمرو کہتا ہے کہ انہوں نے جو قول کیا ہے وہ عدم لہو کی قید کے ساتھ مقید ہے اور بسکٹ ، کیک ، کوکا کولا وغیرہ اشیاء غیر ضروریات میں سے ہیں اور محض تنعم و تلذذ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں ، لہذا یہ لہو میں داخل ہو کر حرام ہو جائیں گی۔ دونوں میں سے کس کا قول معتبر اور برحق ہے ؟
زید یوں بھی کہتا ہے کہ کوکا کولا وغیرہ اتنی کثرت سے مستعمل ہیں کہ اب ابتلاء عام ہو گیا ہے ، ابتلاء عام کا حکم لگایا جا سکتا ہے ، اس بناء پر گو حرمت ثابت ہوگی مگر منتفی ہو جائے گی۔
عمرو یہ کہتا ہے کہ اس معاملہ میں ابتلاء عام کا حکم لگا نا نا قابل قبول ہے ، کیونکہ یہ اشیاء فقط تنعم و تلذذ کے درجہ میں مستعمل ہیں، ضرورات طعام سے نہیں ، نیز دوسرے شربت مثلاً پھلوں کا رس وغیرہ اس کے قائم مقام مل سکتے ہیں۔ لہذا عدم ضرورة وحاجة کے سبب ابتلاء عام نہیں کہا جا سکتا ۔
دونوں میں سے کون صواب پر ہے زید یا عمرد ؟
کتب فقہ میں غیر خمر سے متعلق کسی قدر اختلاف معلوم ہوتا ہے۔ بعض کے نزدیک قلیل مقدار کا خارجاً و داخلاً استعمال حلال ہے اور بعض کے نزدیک دونوں طرح استعمال کرنا حرام ہے۔ البتہ حاشیه مذکوره از بہشتی زیور میں فرمایا گیا:
فالأولى أن لا يتعرض للمبتلى به بشىء ونعم من قدر على الاحتراز منه فليحترز ما شاء .
اسی بناء پر زید کہتا ہے کہ قدر قلیل از غیر خمر شراب جائز الاستعمال ہے خارجا ہو یا داخلا البته اجتناب از روئے تقوی اولی و افضل ہے۔
عمرد اس کے خلاف کا قائل ہے کہ بہشتی زیور متن و حاشیہ کی عبارت اس پر محمول ہے کہ دواء حلال ہوگا نہ کہ تنعما و تلذذا۔
اور بہشتی زیور کی دوسری عبارت استدلال میں پیش کرتا ہے :
“اور دواء بقدر غیر منشی داخلا بھی استعمال کی جا سکتی ہے”
زید دواءً کی قید کو اتفاقی کہتا ہے اور استدلال میں بہشتی زیور کی یہ عبارت پیش کرتا ہے :
ہر اسپرٹ اشربہ اربعہ میں سے نہیں ہے، ایسی اسپرٹ کا شیخین رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک استعمال جائز ہے ۔
یہاں دوائے کی قید مفقود ہے۔ معلوم ہوا کہ وہاں قید اتفاقی تھی۔
جبکہ عمر کہتا ہے کہ دونوں جگہ الگ الگ مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ جناب فیصلہ فرمائیں کہ کون صائب الرأی ہے ؟
نیز آج کل دواؤں میں الکحل ڈالا جاتا ہے ، خصوصاً هومیو پیتھک کی کوئی دوا ہی شاید اس سے خالی ہو، ان دواؤں کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا تو جروا۔
الجواب باسم ملهم الصواب
تحقیق سے ثابت ہوا کہ اشر بہ وا دو یہ میں عصر العنب یا عصر الرطب نہیں ڈالا جاتا دوسرے اشر بہ کے حکم کی تفصیل یہ ہے :
قال العلامة الشلبي رحمه الله تعالى : ( قوله فيما إذا قصد به التقوى) على طاعة الله أو استمراء الطعام أو التداوي فأما المسكر منه حرام بالإجماع اه اتقانى (حاشية الشبلي على التبيين)
وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: (قوله بلا لهو وطرب) قال في المختار الطرب خفة تصيب الإنسان لشدة حزن وسرور اه.
قال في الدر: وهذا التقييد غير مختص بهذه الأشربة بل إذا شرب الماء وغيره من المباحات للهو وطرب على هيئة الفسقة حرم اه (رد المحتار ط ج ۵)
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى : والرابع المثلث العنبي وإن اشتد وهو ما طبخ من ماء العنب حتى يذهب ثلثاه ويبقى ثلثه إذا قصد به استمراء الطعام والتداوي والتقوى على طاعة الله تعالى ولو للهو لا يحل اجماعا حقائق (رد المحتار صاج (۵)
وقال في الهندية: (واما ما هو حلال عند عامة العلماء) فهو الطلاء وهو المثلث ونبيذ التمر والزبيب فهو حلال شربه ما دون السكر لاستمراء الطعام والتداوي وللتقوى على طاعة الله تعالى لا للتلهي والمسكر منه حرام وهو القدر الذي يسكر وهو قول العامة (عالمگیرية سلام ج ۵)
وقال العلامة اللكنوي رحمه الله تعالى : قلت اللهو والطرب نوعان نوع منهما مباح إذا كان خاليا عن معنى المعصية ومقدماتها و نوع منهما مكروهة اذا خلط بالمعصية أو مقدماتها أو تكون وسيلة إليها وهذا هو المراد بقوله اللهو والطرب دون الأول (عمدة الرعاية حاشية شرح الوقاية م ج ٢)
عبارات بالا سے امور ذیل ثابت ہوئے :
1- غیر خمر کا اندرونی استعمال حد سکر سے کم تقوی و استمراء طعام کے لئے جائز ہے ، زمان حاضر میں معدہ کی خرابی اور سوء ہضم کا مرض عام ہے ، اس لئے مصلح معدہ و ہاضم طعام اشیاء لوازم میں داخل ہو گئی ہیں۔
2- نشاط وطرب کے لئے اکل د شرب مطلقا ممنوع نہیں بلکہ علی طریق الفساق سے مانعت ہے ، ادر اس میں کسی خاص ماکول و مشروب کی تخصیص نہیں، بلکہ سب ماکولات و مشربات کا یہی حکم ہے ۔
3- ہر لہو و طرب حرام نہیں ، بلکہ اس میں کسی حرام فعل کا ارتکاب ہو یا مفضی الی الحرام ہو تو نا جائز ہے۔ نمبر ۲ اور تمبر ۳ کا حاصل تقریبا ایک ہی ہے۔
اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ سوال میں مذکورہ اشیاء کا کھانا پینا حلال ہے۔
علاوہ ازیں عموماً ایسے ماکولات و مشروبات میں الکحل تعفن سے حفاظت کی غرض سے ڈالا جاتا ہے اس لئے یہ استعمال ہوجہ ضرورت میں داخل ہے ، تلہی میں نہیں ۔
زید کا ابتلاء عام سے استدلال صحیح نہیں ، ابتلاء عام سے حرام چیز حلال نہیں ہو جاتی۔
والله سبحانه وتعالى اعلم
منتخبات نظام الفتاوى مفتي نظام الدين أعظمي ط ايفا پبلكيشنز تئي دهلي (3/487)
کوکا کولا اور فنا کا شرعی حکم :
حسب ذیل مسئلہ کے تعلق فتوی مطلوب ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کوکا کو لافتا اور ان کے مانند دیگر اشیاء نشر و به شائع ذائع اور کثرت سے مستعمل ہیں جیسا کہ آنجناب کو بخوبی معلوم ہوگا ، اب بنانے والے کارخانہ سے با تحقیق معلوم ہوا کہ ان شربتوں میں یعنی کوکا کولا واخواتہا میں الکحل ڈالا جاتا ہے جس کو انگریزی میں ايتنول“ کہتے ہیں ، اس الکحل کے بعض اقسام عصیر العنب سے تیار شدہ ہیں اور بعض اقسام آلو، کوئلہ، گیہوں وغیرہ اشیاء سے بنتے ہیں ایک شیشی میں تقریباً ایک آدھ قطرہ الکو حل موجود ہیں اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی شربتیں محض تنعم و تلذذ کے طور پر پی جاتی ہیں بہشتی زیور حصہ نہم کے ضمیمہ ثانیہ میں ایک حاشیہ کی حسب ذیل عبارت ہے :
فالقسم الأول منه حرام ونجس غليظا والثلاثة الاخيرة حرام ونجس خفيفاً وفي رواية نجس غليظا كما في الهدايه وما عدا ذالك من الأشربة فهي في حكم الثلاثة الأخيرة عند محمد في الحرمة والنجاسة وعند ابي حنيفة وابي يوسف رحمهما الله تعالى يحرم منها القدر المسكر واما القدر الغير المسكر فحلال الا اللهو اهـ
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ عند الشیخین غیر خمر کی قلیل المقدار شراب حلال ہے، لہذا اگر غیر خمر کی کوئی شربت قلیل مقدار میں کسی کھانے یا پینے کی چیزیں مثلاً بسکٹ، ایک مٹھائی کو کا کولا وغیرہ میں استعمال کی جائے تو ان چیزوں کا کھانا بیٹا حال ہوگا۔
زید کہتا ہے کہ یہ بنا مذہب شیخین عليہما الرحمۃ اگر کسی کھانے یا پینے کی چیز میں غیر خمر کا الکحل ڈالا جائے تو وہ طعام یا شراب جائز الاکل و حال ہے، لیکن عمر کہتا ہے کہ انھوں نے جو قول کیا ہے وہ عدم لہو کے ساتھ مقید ہے اور بسکٹ ، کیک ، مٹھائی کوکا کولا وغیرہ چیزیں تو غیر ضروریات میں سے ہیں وہ تو محض تنعم وتلذذ کیلئے کھائی جاتی ہیں، لہذا یہ لہو میں داخل ہو کر حرام ہو جائیں گی ، دونوں میں سے کس کا قول صحیح و برحق ہے۔
زید یوں بھی کہتا ہے کہ کوکا کولا ، فضا و غیر ہ اتنی کثرت سے مستعمل ہیں کہ اب ابتلاء عام کا حکم لگایا جا سکتا ہے اور اس بناء پر حرمت ثابت ہے مگر منتفی ہو جائیگی عمر و یہ قول کرتا ہے کہ اس معاملہ میں ابتلاء عام کا حکم لگانا نا قابل قبول ہے کیونکہ کوکا کولا وغیرہ اثر بہ کو تو فقط مستم و تلذذ کے درجہ میں مستعمل ہیں ضروریات طعام میں سے نہیں ہیں نیز دوسری شربتیں مثال پھلوں کے رس وغیرہ اس کے قائم مقام مل سکتے ہیں، لہذا عدم ضرورت و حاجت کے سبب ابتلاء عام نہیں کہا جا سکتا، اب کون صواب پر ہے، زید یا عمر و، کتب فقہ میں غیر خمر کے متعلق کسی قدر اختلاف معلوم ہوتا ہے بعض کے نزدیک قلیل المقد ار خارجا ود اخلا حلال ہے اور بعض کے نزدیک دونوں طرح استعمال کرنا حرام ہے البتہ حاشیہ مذکورہ از بہشتی زیور میں فرما گیا :
” فالا ولی ان لا يتعرض للمبتلى به بشيء نعم من قدر على الاحتراز منه فليحترز ما شاء“۔
اس بناء پر زید کہتا ہے کہ قدر قلیل از غیر خمر شراب جائز: الاستعمال ہے خارجا ہو یا داخلا البتہ اجتناب از روئے تقوی اولی واحسن ہے، اس طرح کوکا کولا وغیرہ میں اگر یہ غیر خمر الکحل ڈالا جائے تو جائز اشرب ہوگا بوجہ اسکے قلیل المقدار ہونے کے عمر و اس کے خلاف کا قائل ہے یہ عبارت بہشتی زیور کے متن میں ہے اور حاشیہ پر جو لکھا ہے وہ صرف دواء ہے، یعنی صرف تداوي کے لئے استعمال درست ہوگا نہ کہ تلذذ و معم کے لئے اور عمر و بہشتی زیور کی یہ عبارت سند میں پیش کرتا ہے۔
دواء بقدر غیر منشی داخلا بھی استعمال کی جاسکتی ہے مگر زید تو دواء کی قید کو غیر احترازی بتلاتا ہے اور اس رائے کے استناد میں اس کتاب کی دوسری عبارت پیش کرتا ہے مہر اسپرٹ خمر اربعہ میں سے نہیں ہے پس ایسی اسپرٹ کا شیخین کے نزدیک استعمال جائز ہے-
یہاں دوار کی قید مفقود ہے معلوم ہوا کہ اول عبارت میں قید اتفاقی تھی تو چاہے کھانے یا پینے کی اشیاء میں یہ غیر خمر الکحل قليل المقدار موجود ہو تب بھی اکل و شرب جائز و درست ہو گا لیکن عمر کہتا ہے دونوں عبارتیں ایک دوسرے سے متعلق ہیں الگ الگ نہیں ہیں، آنجناب فرمائیں کہ دونوں میں سے کون صائب الرائے ہے۔ جن اثر بہ میں یہ غیر خمر الکوحل پایا جائے قلت مقدار کے ساتھ اگر وہ حرام ہیں تو ان کی خرید فروخت کا کیا حکم ہوگا؟
سراج احمد خان افریقی
الجواب وبالله التوفيق :
فقہاء کی یہ تحقیق اس وقت کی ہے جب الکحل شراب کا جوہر یا اس کی تلچھٹ ہی ہوا کرتا تھا ، اب الکحل سائنٹیفک طریقہ سے اس طرح بنائی جاتی ہے جس کو شراب کا جوہر یا شراب کی تلچھٹ نہیں کہہ سکتے، لہذا جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ یہ شراب کا جوہر ہی ہے یا اس کی تلچھٹ ہی ہے اس وقت تک حرمت کا حکم نہیں لگایا جائے گا البتہ کوئی احتیاط برتے تو یہ تقوی ہو گا فتوئی نہ ہو گا نتوٹی کے اعتبار سے ان مذکورہ چیزوں کو نا جائز الاستعمال یا حرام نہیں کہہ سکتے ، فقط واللہ اعلم بالصواب
کبر محمد نظام الدین اعظمی ہفتی دارالعلوم دیو بند سہارنپور