MasjidWAQF

“Ruling on Masjid shops paying below market rent”

Question: 

Our masjid is located in the city center. Some time ago, when we intended to renovate the masjid, we did not have sufficient funds. At that time, we asked the shop tenants (the shops belong to the masjid) to assist with the renovation, on the condition that we would charge them a significantly reduced rent well below the market rate.

However, several years have now passed, and the shops are still being rented at that same low rate, despite the fact that rental values in the city center have increased substantially.

Our question is: Are we now permitted to demand a higher rent in line with the current market rate, or alternatively ask the tenants to vacate if they do not agree?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Ramatullāhi Wa-Barakātuh

In principle, waqf properties must be managed in accordance with the best interest of the waqf. It is therefore necessary that such properties are rented at the prevailing market rate (ujrat al-mithl), based on current conditions of time and place.

Accordingly, in the above scenario, fixing the rent to the current market value is obligatory and binding in Sharīʿah, and it is not permissible to ignore it or keep it below market rate, thus, if a tenant is not willing to pay a reasonable market rent, the management must force him to vacate the premises through lawful means.[1]

And Allah Taʿāla Knows Best.

Baba Abu Bakr

Student Darul Iftaa

Accra, Ghana

Checked and Approved by,

Mufti Muhammad Zakariyya Desai

[1] المحيط البرهاني ٦/‏١٤٢ — برهان الدين ابن مازه البخاري (ت ٦١٦)

إذا استأجر أرض وقف ثلاث سنين بأجرة معلومة، هي أجر المثل حتى جازت الإجارة فرخصت أجرتها لا تفسخ الإجارة، وإن ازداد أجر مثلها بعد مضي بعض المدة على رواية «فتاوى سمرقند» بأن لا يفسخ العقد، وعلى رواية «شرح الطحاوي» يفسخ، ويجدد العقد،

درر الحكام شرح غرر الأحكام ٢/‏١٣٩ — منلا خسرو (ت ٨٨٥)

 «‌إذا ‌استأجر ‌أرض ‌وقف ‌ثلاث ‌سنين ‌بأجرة ‌معلومة ‌هي ‌أجر ‌المثل ‌حتى جازت الإجارة فرخصت أجرتها لا تنفسخ الإجارة وإذا ازداد أجر مثلها بعد مضي مدة فعلى رواية فتاوى السمرقندي لا يفسخ العقد. وعلى رواية شرح الطحاوي يفسخ ويجدد العقد وإلى وقت الفسخ يجب المسمى وزيادة الأجرة تعتبر إذا زادت عند الكل حتى لو زاد واحد تعنتا لا تعتبر وعلى رواية الشرح لو زادت الأجرة فرضي المستأجر الأول بالزيادة كان هو أولى من غيره»

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ١/‏٧٥٠ — داماد أفندي عبد الرحمن شيخي زاده (ت ١٠٧٨)

 «(‌ولا ‌يؤجر) ‌الوقف (‌إلا ‌بأجر ‌المثل) حتى لو آجر بدون أجر المثل لزمه إتمامه بالغا ما بلغ وعليه الفتوى دفعا للضرر عن الموقوف عليهم كأب آجر منزل صغيره بدونه، إلا إذا لم يوجد من يستأجره بالمثل.»

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ٢/‏٤١٩ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)

«‌وإذا ‌استأجر ‌أرض ‌وقف ‌ثلاث ‌سنين ‌بأجرة ‌معلومة ‌هي ‌أجر ‌المثل ‌حتى جازت الإجارة فرخصت أجرتها لا تفسخ الإجارة، كذا في المحيط.»

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ٤/‏٤٠٢ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)

«(قوله: فلا يجوز بالأقل) أي لا يصح إذا كان بغبن فاحش كما يأتي قال في جامع الفصولين إلا عن ضرورة وفي فتاوى الحانوتي شرط إجارة الوقف بدون أجرة المثل إذا نابته نائبة أو كان دين. اهـ»

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية ١/‏٢٢٤ — ابن عابدين (ت ١٢٥٢)

«ولا ‌يؤجر ‌الوقف ‌إلا ‌بأجر ‌المثل فلا يجوز ويفسد بالأقل ولو هو المستحق لجواز»

فتاوی قاسمیہ

) 18 / 270(مسجد کی دوکان کا کرایہ بڑھانا
سوال:]۸۰۴۴[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ میں کرایہ دار محلہ قاضی باغ کاشی پور کاہوں ، جس کا پچھلا کرایہ ۱۲۰؍ روپیہ چلا آرہاہے، اب نئی کمیٹی کا مسجد پر تسلط ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا رعب جمائے ہوئے یہ کہتے ہیں ، کہ اگر آپ مسجد کی دوکان میں رہنا چاہتے ہیں ، تو اپنا کرایہ چارسو روپیہ مہینہ دیجئے نہیں تو خالی کردیجئے اگر آپ نے چار سو رو پیہ نہیں دیا توہم سامان نکال کر پھینک دیں گے، جب کہ ہم کو کسی طرح کی کوئی سہولت وغیرہ مسجد کی کمیٹی نہیں دیتی اور یہ سب کام اپنے ہاتھ سے کرانے پڑتے ہیں ، اور ہر ماہ کرایہ وقت پر ادا کرتے ہیں ، ایسی حالت میں آپ سے درخواست ہے کہ احکام شریعت کی روشنی میں جواب تحریر فرمائیں ؟
المستفتي: شرافت حسین ، محلہ قاضی باغ،الیکٹریشن، کاشی پور
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباﷲّٰ التوفیق:مسجد کی جائیداد کے بارے میں شرعی حکم یہی ہے کہ زمانہ اور حالات کے اعتبار سے موجودہ زمانہ میں ایسی جائداد کاعام طورپر جوکرایہ ہوسکتاہے، اس سے کم میں کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے ، لہٰذا اگر مذکورہ دوکان چار سوروپیہ کرایہ کے لائق ہے توذمہ داران مسجد کیلئے اس سے کم میں کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے، اورمثل کرایہ نہ دینے پر آپ سے دوکان خالی کرانے کے مجاز ہیں ۔

 

) 18 / 272(مسجد کی دوکانیں کم اجرت میں کرائے پر دینا
سوال:]۸۰۴۶[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ ہمارے شہر کامٹی میں جو جامع مسجد گری بازار تمباکو میں ہے، اس میں جو کرایہ دار ہیں وہ پانچ سال سے کرایہ نہیں دے رہے ہیں ، کرایہ دار میں سے کوئی دس سال سے ہے کوئی پندرہ سال سے ہے، کوئی بیس سال سے ہے آج سے تقریباً پانچ سال پہلے پرانی کمیٹی نے ان سے ۳۵۰؍ روپیہ کرایہ طلب کیاتھا، جو دوکانداروں نے دینے سے انکار کیا پھر ایک اور ثالث کمیٹی نے ان دونوں کے بیچ میں آکے فیصلہ کیاکہ دونوں پارٹی کے متعلق ثالث جو فیصلہ دے اس کو مانیں گے ، ثالث کمیٹی کے فیصلہ کو چونکہ ہر دو فریق ماننے کیلئے تیارتھے، اسلئے ثالث کمیٹی نے دونوں سے ایک کورے کاغذ پر دستخط لے لئے اور فیصلہ دیدیا کہ دوکاندار دو سوپچاس روپئے مہینہ دیں گے، اور دوکانوں کا ٹیکس بھی دیں گے ، لیکن پھر دوکانداروں نے اس بات سے انکار کردیا اور بات طے نہیں ہوئی پھر مارچ ۱۹۹۶ء میں دوسری کمیٹی آئی اس نے اپنی طرف سے دوسو روپیہ مہینہ کرایہ طے کیا، اور ٹیکس مسجد کی طرف رکھا اس پر بھی وہ راضی نہیں ہیں ، ان کاکہنا ہے کہ ہم پرانے کرایہ میں کچھ بڑھاکردیں گے، ان کا پرانا کرایہ کسی کا۴۲،کسی کا ۷۰، کسی کا ۲۸، کسی کا۶۳، کسی کا ۱۳۰، او رکسی کا ۱۵۰روپیہ ہے ، جس سے مسجد کا خرچ پورا نہیں ہوتا ایک بات یہ بھی ہے کہ ان دوکانداران نے غیر مسلموں سے ساز باز کررکھی ہے ، اور ان کے اشارے پر کام کررہے ہیں ، کیا ایسے دوکانداروں کو رکھنا چاہئے یاخالی کروانا چاہئے ، عام مسلمانوں کاکہنا ہے کہ خالی کروانا چاہئے ، اب آپ جو فیصلہ دیں گے، انشاء اﷲ اس پر ہی عمل ہوگا؟
المستفتي: محمد اسلم لہارو،معرفت: مفتی عتیق الرحمن مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم ،کامیٹی ، ناگپپور، مہاراشٹر
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباﷲّٰ التوفیق:اس علاقہ کی تمام دوکانوں کو جتنی اجرت میں کرایہ پر دیا جاتاہے، اس سے کم اجرت پر مسجد کی موقوفہ زمین اور دوکانیں کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے، لہٰذا اگر کوئی پہلے سے موجود کرایہ دار اتنی اجرت دینے سے انکار کردے تو اسے خالی کروا دینا چاہئے، کیونکہ اس سے وقف اور مسجد کابڑا نقصان ہے ۔

 

Related Articles

Back to top button