Changing Zakat Date To Ramadan
Question:
My zakat due date is few months before Ramadan. Can I move my zakat date to Ramadan so that it is easier to remember?
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Raḥmatullāhi Wa-Barakātuh
Islam does not set a specific day or month in which zakāt must be discharged. Instead, each person has their own zakāt date based on their wealth status. In principle, zakāt calculation begins when a person’s wealth reaches the niṣāb amount and a lunar year passes over it. If their wealth remains equal to or above the niṣāb, zakāt becomes due on that same day each lunar year. If, however, their wealth falls below the niṣāb on that date, then the next time their wealth reaches the niṣāb, that day becomes their new zakāt date.[1]
Although changing one’s zakāt date is not permitted, a person may pay zakāt in advance during Ramaḍān by estimating the amount due and later adjusting any differences when the actual zakāt date arrives.[2]
The moment a person reaches the niṣāb and zakāt becomes obligatory, it is an important date that should be remembered. Set reminders on calendar or apps so that a person can easily remember when to discharge zakāt.
However, if a person does not remember the date on which they first reached the niṣāb, they may choose a convenient date for their zakāt calculation. They should calculate and pay zakāt on that same chosen date each lunar year.[3]
And Allah Taʿāla Knows Best.
Rukunuddin Bin Jahangir
Student –Darul Iftaa
Milwaukee, WI, USA
Checked and Approved by
Mufti Muhammad Zakariyya Desai
[1] «مختصر القدوري في الفقه الحنفي للعلامة أبي الحسن بن جعفر القدوري الحنفي البغدادي (المتوفى ٤٢٨هـ)» ط. دار الكتب العلمية DKi (ص ٥١) كتاب الزكاة
الزكاة واجبة على الحر المسلم البالغ العاقل إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول،
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع للإمام علاء الدين أبي بكر بن مسعود الكاساني (المتوفى ٥٨٧ هـ)» ط. دار الكتب العلمية، الطبعة الثانية ١٤٢٤ هـ (۳۷۳/۲) فصل في كيفية فرضيتها
وأما كيفية فرضيتها فقد اختلف فيها ذكر الكرخي أنها على الفور، وذكر في «المنتقى» ما يدل عليه ؛ فإنه قال : إذا لم يؤد الزكاة حتى مضى حولان فقد أساء وأثم، ولم يحل له ما صنع، وعليه زكاة حول واحد. وعن محمد : أن من لم يؤد الزكاة لم تقبل شهادته، وروي عنه أن التأخير لا يجوز، وهذا نص على الفور وهو ظاهر مذهب الشافعي، وذكر الجصاص أنها على التراخي واستدل بمن عليه الزكاة إذا هلك نصابه بعد تمام الحول والتمكن من الأداء؛ أنه لا يضمن، ولو كانت واجبة على الفور – لضمن؛ كمن أخر صوم شهر رمضان عن وقته؛ أنه يجب عليه القضاء .
«الفتاوى القاضيخان للإمام فخر الدين قاضيخان الحنفي (المتوفى ٥٩٢ هـ)» ط. دار الكتب العلمية DKi، الطبعة الأولى ٢٠٠٩ م (١/٢١٧) كتاب الزكاة
الزكاة فرض على المخاطب إذا ملك نصاباً نامياً حولاً كاملاً
«تحفة الملوك في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة النعمان لزين الدين محمد يبن أبي بكر ين عبد القادر الرازي (المتوفى ٦٦٦ هـ)» ط. دار البشائر الإسلامية، الطبعة الأولى ١٤١٧ هـ (ص ١١٨) كتاب الزكاة
١٩٦ – إيجَابُ الزَّكَاةِ
تجب على كل حر بالغ عاقل مسلم، ملك نصاباً ملكا تاما، وتم عليه حول (كامل)، وجوباً على الفور (في قول).
«الاختيار لتعليل المختار للإمام الفقيه المحدث عبد الله بن محمود الموصلي (المتوفى ٦٨٣ هـ)» ط. الرسالة العالمية، الطبعة الثانية ١٤٣١ هـ (١/٣٣٠) كتاب الزكاة
قال : (إذا مَلَكَ نِصاباً خالياً عن الدِّينِ فاضلاً عن الحوائج الأصلية ملكاً تاماً في طَرَفِي الحَوْلِ… وقوله: في طرفي الحول، لأن الحول لا بد منه، قال عليه السلام : «لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول»، ولأنه لا بد من التمكن من التصرف في النصاب مدةً يحصل منه النماء، فقدرناه بالحول لاشتماله على الفصول الأربعة التي تتغير فيها الأسعار غالباً. ثم لا بد من اعتبار كمال النصب في أول الحول للانعقاد، وفي آخره لوجوب الأداء، وما بينهما حالة البقاء فلا اعتبار بها، لأن في اعتبارها حرجاً عظيماً، فإن بالتصرفات في النفقات يتناقص ويزداد في كل وقت، فيسقط اعتباره دفعاً لهذا الحرج.
«حاشية رد المحتار على الدر المختار لابن عابدين (المتوفى ١٢٥٢ هـ)» ط. ايچ ايم سعيد کمپنی (٢/٢٦٧)
وحولان الحول وهو في ملكه وثمنية المال كالدراهم والدنانير….. فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة وتحته في الشامية ، والشرط تمام النصاب في طرفي الحول الخ.
«الموسوعة الفقهية الكويتية» ٢٣/٢٤٥ — مجموعة من المؤلفين
وذهب الحنفية إلى أن المعتبر طرفا الحول، فإن تم النصاب في أوله وآخره وجبت الزكاة ولو نقص المال عن النصاب في أثنائه، ما لم ينعدم المال كلية، فإن انعدم لم ينعقد الحول إلا عند تمام النصاب، وسواء انعدم لتلفه، أو لخروجه عن أن يكون محلا للزكاة، كما لو كان له نصاب سائمة فجعلها في الحول علوفة.
«احسن الفتاوى، مفتي رشيد احمد (المتوفى ٢٠٠٢ م)» ط. ایچ ایم سعید کمپنی (٤/٢٦٥) بكتاب الزكاة
o نصاب زکوۃ پر سال گزرنے کا مطلب :
سوال: میں رمضان کی پہلی تاریخ کو زکوۃ نکالتا ہوں، اگر شعبان کے آخر میں کچھ رقم آجائے تو کیا اس پر بھی زکرہ ہے؟ بینوا توجروا
الجواب باسم ملهم الصواب: آپ قمری ماہ کی جس تاریخ میں صاحب نصاب ہوئے تھے ہمیشہ وہی تاریخ آپ کی زکوۃ کے حساب کے لئے متعین رہے گی، اس تاریخ میں آپ کے پاس سونا چاندی، مالی تجارت اور نقدی جو کچھ بھی ہو خواہ ایک ہی روز قبل میلا ہو سب پر زکوٰۃ فرض ہو گی، زکوٰۃ کا حساب ہمیشہ اسی تاریخ میں ہو گا ، ادار جب چاہیں کریں، اگر درمیان سال میں بقدر نصاب مال نہیں رہا مگر متعین تاریخ میں نصاب پورا ہو گیا تو بھی زکوۃ فرض ہے ، البتہ اگر درمیان میں مال بالکل نہ رہا تو اب پھر جس تاریخ میں صاحب نصاب ہوں گے وہ متعین ہوگی، اگر صاحب نصاب بننے کی قمری تاریخ یاد نہ ہو تو غور و فکر کے بعد جس تاریخ کا ظن غالب ہو رہ متعین ہوگی، اگر کسی تاریخ کا بھی ظن غالب نہ ہو تو خود کوئی قمری تاریخ متعین کرلیں، فقط واللہ تعالیٰ اعلم،
«امداد الفتاوى، حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (المتوفى ١٩٤٣ م)» ط. مكتبة نعمانية (٣/٥٢٤) كتاب الزكوة والصدقة
o نصاب پر حولان حول کا مطلب
سوال (۷۸۹): قدیم ۱۱/۲- ایک شخص کی آمدنی روز مرہ کی ہے وہ روپیہ بینک میں بدامانت بلاسودی جمع کرتا جاتا ہے مثلاً ماہ جنوری سے دسمبر تک آمدنی معتد بہ قابل زکوۃ ہو گئی آخر ماہ دسمبر تک اس کا حساب زکوۃ کیوں کر دیا جاوے؟ کسی آمدنی پر گیارہ ماہ گزرے، کسی پر دس کسی پر دو چار ؛ بلکہ کسی پر دو چار دن اسی آمدنی سے خرچ ہوتا رہا مگر اختتام سال پر باوجود خرچ کے وہ قابل زکوۃ ہے، لیکن کسی آمدنی پر سال پورا نہیں گزرا جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ؟
الجواب : جس وقت سے وہ ذخیرہ بقدر نصاب ہو گیا ہو اس تاریخ سے سال شروع ہوگا اور اس سال کے ختم پر جس قدر اس وقت موجود ہوگا بشرطیکہ نصاب سے کم نہ ہو سب پر زکوۃ واجب ہوگی ، گوہر جز و پر سال نہ گزرا ہو، اور گو درمیان سال کے نصاب سے کم رہ گیا ہو۔
(٣/٥٩٩) كتاب الزكوة والصدقة
o تبدیل حول زکوۃ میں ایک اشکال
سوال (۷۳۶): قدیم ۲/ ۳۸- ایک شخص کے پاس یکم جمادی الاولیٰ کو تین سو روپے تھے آٹھ مہینے میں ٣٠ / ذی الحجہ تک بذریعہ تجارت ایک سو روپے اس کو نفع ہوا اب اس کے پاس چار سو روپے ہیں چاہتا ہے کہ یکم محرم سے اپنے کاغذات سالانہ ترتیب وار کرے اب اس آٹھ مہینے کی زکوٰۃ وہ کتنے روپے اداء کرے براہ کرم جواب سے ممتاز فرماویں؟
الجواب : اس میں ایک خرابی ہو گی وہ یہ کہ زکوۃ واجب ہوتی ہے اُس مقدار پر جو وقت حولان حول کے موجود (۱) ہو تو صورت مسئولہ میں فرض کیجیے حولان حول ہوا ۔ ۳۰ ربیع الثانی کو اور فرض کیجئے کہ اس وقت رو پیر زائد ہوا اور جب اس نے یکم محرم سے حساب رکھا تو ۳۰ ذی الحجہ کو جتنا روپیہ ہو گا زکوۃ اُس کی دے گا تو اگر اس وقت کم ہوا تو زکوۃ میں کمی رہے گی اور ہر سال ایسا ہی احتمال رہے گا۔
«فتاوى قاسمية، حضرت مولانا مفتى شبير احمد القاسمي» ط. مكتبة اشرفيه، ديو بند الهند، ۱۴۳۷ ھ (١١/٢٨٣) باب وجوب الزكاة
o وجوب زکوۃ کیلئے سال گزرنا شرط ہے
الجواب وبالله التوفيق : زکوۃ سال پورا ہونے پر ادا کرنا واجب ہوتی ہے، لہذا بینک میں روپیہ جمع کرنے میں اور نکالتے رہنے میں یہ دیکھا جائے کہ جس وقت نصاب پورا ہوا ہے، اس وقت آئندہ سال پورا ہونے پر نصاب کے بقدر باقی ہے یا نہیں؟ اگر نصاب کے بقدر باقی ہے تو اس کی زکوۃ ادا کرنا واجب ہے۔
[2] «الفتاوى القاضيخان للإمام فخر الدين قاضيخان الحنفي (المتوفى ٥٩٢ هـ)» ط. دار الكتب العلمية DKi، الطبعة الأولى ٢٠٠٩ م (١/٢٣٢) فصل في تعجيل الزكاة
يجوز تعجيل الزكاة بعد ملك النصاب، ولا يجوز أقبله وكما يجوز التعجيل بعد ملك نصاب واحد عن نصاب واحد يجوز عن نصب كثيرة
«الاختيار لتعليل المختار للإمام الفقيه المحدث عبد الله بن محمود الموصلي (المتوفى ٦٨٣ هـ)» ط. الرسالة العالمية، الطبعة الثانية ١٤٣١ هـ (١/٣٤١) كتاب الزكاة
قال : (وَمَنْ مَلَكَ نِصاباً فَعَجَلَ الزَّكَاةَ قَبْلَ الحَول السنة أو أكثر، أو لنصب جاز لما روي أنه عليه السلام استسلف العباس زكاة عامين، ولأنه أدى بعد السبب وهو المال . والحول الأول وما بعده سواء، بخلاف ما قبل تمام النصاب لأنه أدى قبل السبب فلا يجوز . كغيره من العبادات، ولأن النصاب الأول سبب لوجوب الزكاة فيه وفي غيره من النصب، ألا ترى أنها تضم إليه وكانت تبعاً له، وقال زفر : إذا أدى عن نُصب لا يُجزئه إلا عن النصاب الذي في ملكه، لأنه أدى قبل السبب وهو الملك، ولنا ما بينا، ولأن المستفاد تبع الأصل في حق الوجوب، فيكون تبعاً في حكم الحول أيضاً، فكأن الحول حال على الجميع.
«حاشية رد المحتار على الدر المختار لابن عابدين (المتوفى ١٢٥٢ هـ)» ط. ايچ ايم سعيد کمپنی (٢/٢٩٣)
ولو عجل ذو نصاب زكاته لسنين صح لوجود السبب ) در مختار أى سبب الوجوب وهو ملك النصاب النامي فيجوز التعجيل لسنة وأكثر.
«کتاب النوازل مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری» ط. دار الاشاعت ۲۰۱۶ (٥٤٩/٦) ادائے زکواۃ سے متعلق مسائل
o ربیع الاول میں فرض ہونے والی زکوة رمضان تک روکنا ؟
سوال (۱۰۲):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی شخص پر ربیع الاول میں زکوۃ فرض ہوتی ہے، وہ ہر سال ربیع الاول میں زکوۃ کی رقم نکالتا ہے، کیا اس شخص کے لئے یہ بہتر ہے کہ وہ زکوة کی رقم رمضان شریف تک روکے رکھے، اور رمضان شریف میں اسی روپیہ کو تقسیم کرے؟ تاکہ وہ ستر گنا ثواب کا مستحق ہو جائے؟
الجواب وباللہ التوفیق: جس وقت سال پورا ہو اسی وقت مستحقین تلاش کر کے زکوۃ دینا بہتر ہے، رمضان شریف تک مؤخر کرنے کی ضرورت نہیں ، اگر زیادہ ثواب کی خواہش ہے تو رمضان شریف تک حساب لگائیں ، یہ مشکل ہو تو ہر سال پیشگی زکوۃ رمضان کے مہینہ میں ادا کیا کریں۔
[3] «فقهی مقالات مفتی محمد تقی عثمانی» ط. میمن اسلامک پبلشرز ۱۹۹۹م، (۱۶١/۳) زکواۃ کے جدید مسائل
o زکوۃ کی تاریخ کیا ہونی چاہئے؟
ایک بات یہ سمجھ لیں کہ زکوۃ کے لئے شرعاً کوئی تاریخ مقرر نہیں ہے اور نہ کوئی زمانہ مقرر ہے کہ اس زمانے میں یا اس تاریخ میں زکوۃ ادا کی جائے، بلکہ ہر آدمی کی زکوۃ کی تاریخ جدا ہوتی ہے۔ شرعاً زکوة کی اصل تاریخ وہ ہے جس تاریخ ] اور جس دن آدمی پہلی مرتبہ صاحب نصاب بنا، مثلاً ایک شخص یکم محرم الحرام کو پہلی – مرتبہ صاحب نصاب بنا تو اس کی زکوۃ کی تاریخ یکم محرم الحرام ہو گئی، اب آئندہ ہر سال اس کو یکم محرم الحرام کو اپنی زکوۃ کا حساب کرنا چاہئے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے ۔ کہ لوگوں کو یہ یاد نہیں رہتا کہ ہم کس تاریخ کو پہلی مرتبہ صاحب نصاب بنے تھے، 1 اس لئے اس مجبوری کی وجہ سے وہ اپنے لئے کوئی ایسی تاریخ زکوۃ کے حساب کی مقرر کرلے جس میں اس کے لئے حساب لگانا آسان ہو، پھر آئندہ ہر سال اسی تاریخ کو زکوۃ کا حساب کر کے زکوۃ ادا کرے، البتہ احتیاطاً کچھ زیادہ ادا کر دیں۔
(۱۶۲/۳) زکواۃ کے جدید مسائل
o کیا ر مضان المبارک کی تاریخ مقرر کر سکتے ہیں ؟
عام طور پر لوگ رمضان المبارک میں زکوۃ نکالتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ رمضان المبارک میں ایک فرض کا ثواب ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے، لہذا زکوۃ بھی چونکہ فرض ہے اگر رمضان المبارک میں ادا کریں گے تو اس کا ثواب بھی ستر گنا ملے گا۔ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے اور یہ جذبہ بہت اچھا ہے، لیکن اگر کسی شخص کو اپنے صاحب نصاب بننے کی تاریخ معلوم ہے تو محض اس ثواب کی وجہ سے وہ شخص رمضان کی تاریخ مقرر نہیں کر سکتا، لہذا اس کو چاہئے کہ اسی تاریخ پر اپنی زکوۃ کا حساب کرے ۔ البتہ زکوۃ کی ادائیگی میں یہ کر سکتا ہے کہ اگر تھوڑی تھوڑی زکوۃ ادا کر رہا ہے تو اس طرح ادا کرتا رہے اور باقی جو بچے اس کو رمضان المبارک میں ادا کر دے ۔ البتہ اگر تاریخ یاد نہیں ہے تو پھر گنجائش ہے کہ رمضان المبارک کی کوئی تاریخ مقرر کرلے، البتہ احتیاطاً زیادہ ادا کر دے تاکہ اگر تاریخ کے آگے پیچھے ہونے کی وجہ سے جو فرق ہو گیا ہو وہ فرق بھی پورا ہو جائے۔
پھر جب ایک مرتبہ جو تاریخ مقرر کرلے تو پھر ہر سال اسی تاریخ کو اپنا حساب لگانے اور یہ دیکھے کہ اس تاریخ میں میرے کیا کیا اثاثے موجود ہیں، اس تاریخ میں رقم کتنی ہے، اگر سونا موجود ہے تو اسی تاریخ کی سونے کی قیمت لگانے، اگر شیرز ہیں تو اسی تاریخ کی ان شیرز کی قیمت لگانے، اگر اسٹاک کی قیمت لگانی ہے تو نقد رقم ای تاریخ کی اسٹاک کی قیمت لگانے اور پھر ہر سال اسی تاریخ کو حساب کر کے زکوۃ ادا کرنی چاہئے ، اس تاریخ سے آگے پیچھے نہیں کرنا چاہئے۔ بہر حال، زکوۃ کے بارے میں یہ تھوڑی سی تفصیل عرض کردی ۔ اللہ تعالی ہم سب کو ان احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
(۱۷۳/۳) سوالات اور جوابات
o زکوۃ کی تاریخ بدلنے کا حکم
سوال (۲۳) اگر کوئی شخص اپنی زکوۃ کی تاریخ بدلنا چاہتا ہے تو وہ بدل سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: جیسا کہ پہلے بتایا تھا کہ ہر شخص کی زکوۃ کی تاریخ وہ ہے جب وہ پہلی بار صاحب نصاب بنا، لیکن جب ایک تاریخ بن گئی تو پھر آئندہ اس کو وہی تاریخ رکھنی چاہئے اس کو بدلنا درست نہیں۔