ADORNMENTBeard & HairImportant Topics

Shaving the nape

Question:

Shaving the hair on the nape

It is related from Amirul Mu’minin, Sayyiduna ‘Umar that Nabi Sallallahu Radiallahu Anhu, that Nabi Sallallahu Alayhi Wasallam prohibited shaving the hair on the nape, except for cupping purposes. – Majma’, Vol. 5, Page 221

 Note: It is thus Makrüh to shave the hair on the nape without any valid reason.

 (excerpt from Shamail Kubra)

Is it permissible to shave the hair on the nape or trim it different length (for Men)?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

It is Makrooh to shave or trim the hair on the nape in varied lengths. The nape (Qafa in Arabic) refers to the region of the head that is above the ear lobe level and hence part of the head.

However, the neck is the area below the earlobes, and there is no prohibition or Karahah for shaving the neck.

Maulana Rasheed Ahmad Gangohi Rahimahullah explains this difference in Fatawa Rasheediyyah pg 576.

And Allah Ta’ala Knows Best.

Muhammud Luqman Moideen

Student Darul Iftaa
Mauritius

Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai

[i] الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 357):

يكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب.

وعن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – ‌يكره ‌أن ‌يحلق ‌قفاه إلا عند الحجامة كذا في الينابيع

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص526):

وفي شرح النقاية عن الإمام ‌يكره ‌أن ‌يحلق ‌قفاه إلا عند الحجامة

 احسن الفتادی جلد ٨ ص ٧٧ كتاب الحظر والاباحة

گردن کے بال مونڈنا جائز ہے : سوال : گردن کے بال مونڈنا جائز ہے یا نہیں ؟ امداد الفتادی ص ٣١٣ ج ٤ میں ہے: گردن کے بال مونڈ نا فقہا کرام رحمہم اللہ تعالی نےمکروہ سمجھا ہے ؟ بینوا توجروا۔

الجواب باسم ملهم الصواب

عالمگیریہ میں قفا کے بال مونڈنے کی کراہت منقول ہے۔ عن ابي حنيفة رحمه الله تعالى يكره ان يحلق قفاه الا عند الحجامة كذا في الينابيع (عالمگیریه (۳۵۶ ج ۵) امداد الفتادی میں غالبا اسی عبارت میں قفا بمعنی گردن لے کر حکم لکھا گیا ہے ،

حقیقت یہ ہے کہ قفا بمعنی مؤخر الرأس (گدّی) و مؤخر العنق (گردن کی پشت) دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ گدی سر کا حصہ ہے اور گردن مستقل عضو ہے، خود امداد الفتاوى جلد اول ص ١٣ میں مسح گردن کے بیان میں تحریر ہے کہ قفا رأس کا جزء ہے اور رقبہ اس سے خارج ہے اه

لہذا گدّی کا حلق قزع میں داخل ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے ، مگر گردن کا حلق مکروہ ہونے کی کوئی وجہ ظاہر نہیں، حضرت گنگوہی قدس سرہ فرماتے ہیں : گردن جدا عضو ہے اور سر جدا ، لہذا گردن کے بال منڈانا درست ہے ، سر کا جوڑ علیحدہ کان کی لو کے پیچھے معلوم ہوتا ہے، اس سے نیچے گردن ہے (فتاوی رشیدیہ ص ٤٦٧) اس سے معلوم ہوا کہ عالمگیریہ میں قفا بمعنی گدی ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔

فتاوی دار العلوم زکریا جلد ٧ ص ٣٣٠ بالوں سے متعلق احکام کا بیان

گردن کے بال صاف کرنے کا حکم :

سوال: عام طور پر لوگ سر کے بال کٹاتے وقت گردن کے بال بھی صاف کرتے ہیں، کیا گردن کے بال منڈانا درست ہے یا نہیں ؟

الجواب: گردن کے بال منڈانا جائز اور درست ہے۔

فتاوی دارالعلوم دیو بند میں ہے:

گردن کے بال جو کہ کانوں کے لو کے نیچے ہوتے ہیں تراشنا یا منڈانا ان کا جائز ہے۔ كذا يشير إليه بعض ألفاظ الشامي من الحظر والإباحة وكذا صرح به حضرة الشيخ الكنكوهى في فتاواه : ٨٣/٢. (امداد المفتین ، جلد دوم ص ۸۱۸، دار الاشاعت )

امداد الاحکام میں ہے: خلاصہ یہ ہے کہ گردن اور رخسار کے بال مونڈ ناجائز اور حلق میں اختلاف ہے۔ (امداد الاحکام : ۳۳۴/۴)

فتاوی رشد یہ یہ میں ہے: گردن جدا عضو ہے اور سر جدا ہے لہذا اگردن کے بال منڈانا درست ہے سر کا جوڑ علیحدہ کان کی لو کے پیچھے معلوم ہوتا ہے اس سے نیچے گردن ہے۔ (فتاوی رشید یہ ص ۱۳۰، اردو بازار، لاہور )۔ واللہ اعلم۔

[ii] صحيح البخاري (7/ 163 ط السلطانية):

5920 – حدثني محمد، قال: أخبرني مخلد، قال: أخبرني ابن جريج، قال: أخبرني عبيد الله بن حفص، أن عمر بن نافع، أخبره، عن نافع، مولى عبد الله: أنه سمع ابن عمر رضي الله عنهما يقول: «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن القزع» قال عبيد الله: قلت: وما القزع؟ فأشار لنا عبيد الله قال: إذا حلق الصبي، وترك ها هنا شعرة وها هنا وها هنا، فأشار لنا عبيد الله إلى ناصيته وجانبي رأسه. قيل لعبيد الله: فالجارية والغلام؟ قال: لا أدري، هكذا قال: الصبي. قال عبيد الله: وعاودته، فقال: أما القصة والقفا للغلام فلا بأس بهما، ولكن القزع أن يترك بناصيته شعر، وليس في رأسه غيره، وكذلك شق رأسه هذا وهذا

 

 

Related Articles

Back to top button