Saying “Jesus Christ” as an Exclamation
Question:
As salaam wa alaikum
Hope you are well with the blessings of Allah (SWT)
There is an individual, whenever something goes wrong or when he shows dismay, he exclaims “Jesus christ”, “oh Jesus” or “christ”
I and a few have warned him on several occasions not to say that, but he keeps doing it, and he dismisses us
What is his status
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
Such phrases are used by Christians as invocations and supplications to their Lord. They call upon him with these expressions when faced with distress, shock, or difficulty.
Therefore, it is not permissible for Muslims to use such phrases. Instead, one should call upon Allah and cultivate the habit of saying phrases such as “SubhānAllāh,” “Yā Allāh,” “Innā lillāhi wa innā ilayhi rājiʿūn,” or “Astaghfirullāh.”
However, merely uttering such phrases in this manner does not automatically render a person a kāfir or take him out of Islam, so long as he does not intend belief in Christian doctrines or reverence of Jesus as Christians do. Rather, it is an impermissible and blameworthy habit from which one should sincerely repent and strive to abandon.[1]
And Allah Ta’ala Knows Best.
Abdour-Rahmaan Lim Voon Heek
Student Darul Iftaa
Port-louis, Mauritius
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
[1] «أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي» (1/ 27): سورة الفاتحة
ثم الاعتراف بالعبادة له وإفرادها له دون غيره بقوله [إياك نعبد] ثم الاستعانة به في القيام بعبادته في سائر ما بنا الحاجة إليه من أمور الدنيا والدين وهو قوله [وإياك نستعين]
«أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي» (4/ 42): سورة المائدة: 17
قوله تعالى لقد كفر الذين قالوا إن الله هو المسيح ابن مريم قل فمن يملك من الله شيئا إن أراد أن يهلك المسيح ابن مريم إنما لحقتهم سمة الكفر لأنهم قالوا ذلك على جهة التدين به واعتقادهم إياه والإقرار بصحته لأنهم لو قالوا على جهة الحكاية عن غيرهم منكرين له لما كفروا والكفر هو التغطية ويرجع معنى ما ذكر عنهم إلى التغطية من وجهين أحدهما كفران النعمة يجحدها أن يكون المنعم بها هو الله تعالى وإضافتها إلى غيره ممن ادعوا له الإلهية والآخر كفر من جهة الجهل بالله تعالى وكل جاهل بالله كافر لتضييعه حق نعم الله تعالى فكان بمنزلة مضيفها إلى غيره وقوله تعالى فمن يملك من الله شيئا إن أراد أن يهلك المسيح ابن مريم معناه من يقدر على دفع أمر الله تعالى إن أراد هلاك المسيح وأمه وهذا من أظهر الاحتجاج وأوضحه لأنه لو كان المسيح إلها لقدر على دفع أمر الله تعالى إذا أراد الله تعالى إهلاكه وإهلاك غيره فلما كان المسيح وسائر المخلوقين سواء في جواز ورود الموت والهلاك عليهم صح أنه ليس بإله إذا لم يكن سائر الناس آلهة وهو مثلهم في جواز الفناء والموت والهلاك عليهم
«أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي» (1/ 116): سورة البقرة: 157
وقوله تعالى [الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله وإنا إليه راجعون] يعني إقرارهم في تلك الحال بالعبودية والملك له وأن له أن يبتليهم بما يشاء تعريضا منه لثواب الصبر واستصلاحا لهم لما هو أعلم به إذ هو تعالى غير متهم في فعل الخير والصلاح إذ كانت أفعاله كلها حكمة ففي إقرارهم بالعبودية تفويض الأمر إليه ورضى بقضائه فيما يبتليهم به إذ لا يقضي إلا بالحق كما قال تعالى [والله يقضي بالحق والذين يدعون من دونه لا يقضون بشيء] وقال عبد الله بن مسعود لأن أخر من السماء أحب إلي من أن أقول لشيء قضاه الله تعالى ليته لم يكن وقوله تعالى [إنا لله وإنا إليه راجعون] إقرار بالبعث والنشور واعتراف بأن الله تعالى سيجازي الصابرين على قدر استحقاقهم فلا يضيع عنده أجر المحسنين
فتاوى رشيدية مولانا رشيد أحمد ط دار الإشاعت ص 203
یارسول اللہ پکارنا
سوال: یا رسولؐ اللہ دور سے یا نزدیک قبر شریف سے پکارنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: جب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو علم غیب نہیں تو یا رسولؐ اللہ کہنا بھی ناجائز ہو گا اگر یہ عقیدہ کر کے کہے کہ وہ دور سے سنتے ہیں بسبب علم غیب کے تو خود کفر ہے اور جو یہ عقیدہ نہیں تو کفر نہیں مگر کلمہ مشابہ بکفر ہے البتہ اگر اس کلمہ کو درود شریف کے ضمن میں کہے اور یہ عقیدہ کرے کہ ملائکہ اس درود شریف کو آپکے پیش عرض کرتے ہیں تو درست ہے کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ ملائکہ درود بندہ مومن کا آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں اور ایک صنف ملائکہ اسی خدمت میں پر ہیں۔ فقط۔
باقيات فتاوى رشيدية مولانا رشيد أحمد (61)
(۵۶) یاشیخ عبد القادر جیلانی شیئا اللہ کا وظیفہ پڑھنے کا حکم؟
مسئله وظیفہ پڑھنا ياشیخ عبدالقادر جیلانی شیئاً للہ کا جائز نہیں، اب تیار حاضر وعالم منتصف جان کر پڑھتا ہے تو وہ مشرک ہے، اور جو یہ نہیں جانا اور و مشرک ہیں مگر پڑھا سکا تاہم جائز ہیں، اوراس کے جاری کرنے والے سے، جس نے اول ایجاد کیا، بنده كو اطلاع نہیں ۔ فقط
رشید احمد گنگوہی عفی عنہ
(۵۷) یا شیخ عبدالقادر جیلانی کا ورد کرنے والے کا تفصیلی حکم؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پڑھنا ا شیخ عبد القادر جیلانی کا شرک ہے، یا جائز ؟ اگر شرک ہے تو جو شخص اس کو جائز رکھتا ہواور پڑھتا
ہو، اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ اگر نا درست ہے تو جو نماز اس کے پیچھے پڑھی ہو، اس کا اعادہ چاہئے یا نہیں؟ -جواب : اس کا پڑھنا شرک اس وقت ہے، کہ شیخ کو عالم غیب و متصرف مستقل جانے ، اور جو اس لفظ میں -برکت اور اثر جان کر پڑھے تو بعض مشائخ قادریہ کا معمول ہے، ایسے پڑھنے پر نہ تکفیر ہو سکے اورنہ تفسیق ۔ اگر چہ ایسے وظیفہ کا پڑھنا اولی بھی نہیں ہے اور کسی مسلمان پر گمان کفر اور شرک و فسق کا کرنا ، جب تک تاویل اس – پر و کے قول کی حسن ہو سکے، درست نہیں ، اور جب تک کہ وہ اقرار کچھ نہ کرے، تو تاویل کر کے مسلمان بنادے، اور جو تا ویل اچھی بیان کرے، تو پھر اس پر گمان بد کرنا خود معصیت ہے۔
إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (الحجرات آیت (۱۲)
ترجمه: مقرر بعضی تہمت گناہ ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند)
لہندا اے شخص کی امامت بھی درست ہے اور پہلی صلوہ بھی درست ہے، اور باہم اتفاق واجب ہے۔ فقط واللہ تعالی اعلم
کتب الاحقر رشید احمد گنگوہی عفی عنہ
كفاية المفتي للشيخ محمد كفاية الله ط دار الإشاعت (1/196)
(۱)’’اغثنی یا رسول اللہ ‘‘ کہنے کا حکم ؟
(۲) ’’یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئاً للہ ‘‘ کہنا کیسا ہے؟
(۳) کیا غیر اللہ سے مدد مانگنا جائز ہے؟
(از اخبار الجمعیۃ دہلی مورخہ ۲۶ نومبر ۱۹۲۵ء)
(سوال) (۱) اغثنی یا رسول اللہ کہنا درست ہے یا نہیں؟
(۲) یاشیخ عبدالقادر جیلانی شیئاً للہ کہنا کیسا ہے ؟
(۳) وفات شدہ برزگان دین سے مدد مانگنا کیسا ہے؟
(۴) کیا استعانت غیر اللہ سے درست ہے؟
(جواب ۱۹۱) اغثنی یارسول اللہ کہنا اگر اس خیال سے ہو کہ آنحضرت ﷺ ہر جگہ سے اس کلمے کو سنتے ہیں اور فریاد رسی کرتے ہیں تو شرک ہے ۔(۳) اور اگر اس خیال سے ہو کہ آپ فریاد رسی کرنے پر اور ہر قسم کی حاجت روائی کرنے پر قدرت رکھتے ہیں جب بھی شرک ہے ۔ (۴)
ہاں اگر فریاد رسی سے مراد خدا تعالیٰ کی جناب میں شفاعت ہو اور ہر جگہ سے حضور ﷺ کے سننے کا اعتقاد نہ ہو تو شرک نہیں مگر بے کاراور عبث ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ۔ کیونکہ حضور ﷺ تک اس کلمے کے پہنچنے کا کوئی ثبوت شرعی نہیں۔ (۱)
یاشیخ عبدالقادر جیلانی شیئاً للہ۔ یہ بھی مشرکانہ کلمہ اور عبث و ناجائز ہے ۔(۲) جو چیزیں کہ حضرت حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں مثلاً اولاد دینا ، رزق دیان ،مصیبتوں کا دور کرنا وغیرہ ان کو حضرت حق کے سوا کسی دوسرے زندہ یا وفت یافتہ ولی سے مانگنا جائز نہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:۔
اذا استعنت فاستعن بالله واذا سألت فاسأل الله۔(۳)’’ یعنی جب تو مدد مانگے تو خدا سے مانگ اور جب کوئی چیز مانگے تو خدا سے مانگ۔‘‘
اور مسلمان نماز میں پانچوں وقت خد ا سے معاہدہ کرتے ہیں ۔
ایاك نعبد وایاك نستعین(۴) یعنی ’’ اے مولیٰ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔‘‘
پس خد اکے سوا کسی دوسرے سے مدد مانگتے وقت اس معاہدہ کوپش نظر رکھا جائے تو ناممکن ہے کہ انسان خدا کے سوا کسی دسرے سے استعانت کرے۔ واللہ اعلم ۔
محمد کفایت اللہ غفرلہ۔
________________
۳ ۔ کیونکہ ہر جگہ سے پکار کو سننا اور امداد طلب کرنے والے کی امداد کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔’’امن یجیب المضطر اذا دعاه ویکشف السوء‘‘ (التمل : ۶۲ ) وقال تعالیٰ : ’’وان یمسك الله بضر فلا کاشف له الا هو‘‘ (الانعام : ۱۷ ) وفی الحدیث۔ عن رجل من بلهجیم قال قلت یا رسول الله الا م تدعو؟ قال : ادعو الی الله وحده الذی ان مسك خیّر فدعوته کشف عنك ‘‘ (ابن کثیر : ج ۳ ﷺ ص ۳۷۰ ط سہیل اکیڈمی لاہور)
۴۔ ’’قل ادعوا الذین زعمتم من دون الله لا یملکون مثقال ذرة فی السمٰوات ولا فی الارض وما لهم فیهما من شرك وما له منهم من ظهیر‘‘ (سبا: ۲۲ ) ۔ علامة قرطبی رحمة الله علیه ’’من دون الله‘‘ کی وضاحت میں فرماتے ہیں : ’’المعبودین من دون الله من الملائکة والانبیاء والا صنام‘‘ (تفسیر قرطبی ،آیت ۲۳ کے ذیل میں : ۱۸۹ /۱۴ ط دارالکتب العلمیۃ بیروت)….
۱۔شرعی ثبوت صرف درو د پہنچنے کا ہے ،جو کہ فرشتے دور سے پہنچاتے ہیں ۔ دیکھئے سنن نسائی ، کتاب الصلو ّٰۃ ، باب التسلیم علی النبی ﷺ : ۱/ ۱۴۳ط سعید۔
۲۔ ازیں چنین وظیفه احتراز لازم و واجب اولا ازین جهت که این وظیفه متضمن شيئاً لله است و بعض فقهاء را از همچو لفظ حکم کفر کرده اند چنانکه در در مختار مینویسند كذا قول شيء لله قبل يكفر انتهى و در رد المختاری اردو لعل وجهه انه طلب شيئا لله والله غنى من كل شئى والكل مفتقر و محتاج اليه. وينبغي ان يرجح عدم التكفير فانه يمكن ان يقول أردت طلب شیئی اكراما لله شرح الوهبانية . قلت فينبغي او يجب التباعد عن هذه العبارة وقد مر ان مافيه خلاف يؤمر بالتوبة والاستغفار و تجديد النكاح انتهى و ثانیا ازین جهت که این وظیفه متضمن ست ندای اموات را از امکنه بعید دوشر عا ثابت نیست که اولیاء را قدرتی حاصل است که از امکنه بعیده ندار اشنوندان (مجموعة الفتاوى على هامش خلاصة الفتاوى : ج ٤ ص ٣٣١ ط امجد اکیدمی لاهور)
3- ترمذی، آخر ابواب القيامة : ج ۲ ص ۷۸ ط سعید
4- الفاتحة: 4
فتاوی دینیہ مفتی اسماعیل کچھولوی ط جامعه حسینیه را ندیر (1/93)
{۲۳} کیا یا رسول اللہ، یا محمد، یا غوث وغیرہ نعرے لگانا جائز ہے نہیں ؟
سوال: بعض بھائی بہت سی مرتبہ یا رسول اللہ ﷺ اور یا محمد ﷺ کے نعرے لگاتے ہیں ۔ بعض لوگ ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں کہ ایسے نعرے لگانا جائز نہیں ہے۔ اللہ کے سوا کوئی ذات حاضرو ناظر نہیں ہے نہ نبی اور نہ ہی کوئی ولی‘ تو جواب میں وہ کہتے ہیں کہ نماز میں التحیات پڑھتے وقت ’’یا ایھا النبی‘‘ پڑھا جاتا ہے قرآن شریف میں یا ایہا المزمل نازل ہوا ہے۔ تو یہ کس طرح جائز ہے؟اس بارے میں آپس میں اختلاف ہے۔ تو آنجناب رہبری فرما کر ثواب دارین حاصل کریں ۔
ایک شخص کا کہنا ہے کہ اگر ’’یا محمد، یا رسول اللہ‘‘ کے ساتھ درود شریف پڑھا جائے تو ایسے نعرے لگانا جائز ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… ’’یا محمد‘‘ یا ’’یا رسول اللہ‘‘ یا ’’یا غوث‘‘ وغیرہ کے نعرے لگانا آپ کے بتائے عقیدہ اور خیال کے مطابق جائز نہیں ہے۔ اور جو لوگ ایسے نعرے لگاتے ہیں وہ لوگ زیادہ تر اسی خیال اور عقیدہ کے پیش نظر ایسے نعرے لگاتے ہیں ۔ اللہ کے علاوہ کسی اور کو حاضرو ناظر سمجھنا شرک ہے۔ اور اسلامی شان کے خلاف ہے۔ تشہد یا قرآن میں جہاں اس طرح کے الفاظ ہیں ان کے پڑھنے کے وقت اس عقیدہ کی نیت یا خیال نہیں ہوتا ہے۔ اور شریعت کے بتائے ہوئے الفاظ کی ادائے گی مقصود ہوتی ہے۔ اس لئے اس سے دلیل پکڑنا صحیح نہیں ہے۔ فقط و اللہ تعالی اعلم
فتاوى قاسمية لمولانا شبير أحمد قاسمي ط مكتبة أشرفية ديوبند (1/434)
سلام کے بعد حق لا الہ الا اللہ ، یا غوث المدد‘ پڑھنا
سوال [۴۲]: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ ہمارے یہاں چند مقتدی حضرات با جماعت نمازیں ادا کرتے ہیں اور پیش امام صاحب جب سلام سے فارغ ہوتے ہیں، تو یہ حضرات مل کر بلند آواز سے یہ کلمات پڑھتے ہیں. حق لا اله الا الله محمد رسول الله يا غوث المدد يا غوث المدد يا غوث المدد المدد المدد کیا ان حضرات کا یہ پڑھنا درست ہے یا ہیں؟
المستفتي: مسیحا سائیکل اسٹور لالباغ چھند باڑا (ایم پی )
باسمہ سبحانہ تعالی
الجواب وبالله التوفيق: “حق لا اله الا الله محمد رسول الله کہنے میں کوئی گناہ کی بات نہیں ہے، لیکن سلام کے بعد اس طرح پڑھنے کا ثبوت کسی صحیححدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اور یا غوث المدد کہنے میں ضیاع ایمان کا خطرہ ہے، یہ موجب کفر کلمہ ہے، اس کا ترک لازم ہے اور کہنے والے سب پر تو بہ لازم ہے۔ (مستفاد: نمادی محمود یه قدیم ۱۲۳/۱ ، جدید ڈا بھیل ۳۶۲/۱)
أن الناس قد أكثروا من دعاء غير الله تعالى من الأولياء الأحياء منهم والأموات وغيرهم، مثل يا سيدي فلان أغثني، وليس ذلك من التوسل المباح في شيء …… وقد عده أناس من العلماء شركا. (روح المعاني، سورة المائدة، تحت رقم الآية : ٣٥ ، زكريا جلد: ٤ ، جزو : ٥ / ١٨٨)
اين وظيفة متضمن است ندائى اموات را از امکنه بعید و شرعا ثابت نیست که اولیاء را قدرتی حاصل نیست که از امکنه بعیده ندارا بشوند …… بلکه اعتقاد اینکه غیر حق سبحانه حاضر وناظر وعالم خفی و جلی در هر وقت و هر آن است اعتقاد شرک است. (مجموعة الفتاوى للكنوى على هامش خلاصة الفتاوى ٣٣١/٤) فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
الجواب صحیح: احقر محمد سلمان منصور پوری غفرلہ
یا شیخ عبد القادر جیلانی شیمی الله کا وظیفہ پڑھنا
سوال [۴۳] : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ زید اس طرح ایک وظیفہ پڑھتا ہے: یا شیخ عبد القادر جیلانی شیمی للہ کیا اس طرح پڑھنا درست ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں تصدیق فرمائیں۔
المستفتی: احقر محمد طیب بسکٹ والان مراد آباد
باسمہ سبحانہ تعالی
الجواب وبالله التوفيق: یہ مشرکانہ، حرام اور نا جائز حرکت ہے، اس سے باز رہنا لازم ہے؛ کیوں کہ غیر اللہ سے مرادیں مانگنا حرام ہے۔ (مستفاد: فتاوی محمودیہ قدیم ۲۰۹/۱ ، جدید ڈا بھیل ۳۵۹/۱)
قال الله تعالى: وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ [الأحقاف، الآية: ٥]
عن ابن عباس قال: كنت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم – إلى – إذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله. (ترمذي شريف أبواب صفة القيامة، باب بلا ترجمة، النسخة الهندية ۲/۷۸، دار السلام، رقم: ٢٥١٦، مسند أبو يعلى الموصلي، دار الكتب العلمية بيروت ١/١٠١، رقم: (٩٦)
أن الناس قد أكثروا من دعاء غير الله تعالى من الأولياء الأحياء منهم والأموات وغيرهم، مثل يا سيدي فلان أغثني، وليس ذلك من التوسل المباح في شيء …. وقد عده أناس من العلماء شركا. (روح المعاني، سورة المائدة تحت الآية: ٣٥، زكريا جلد: ٤ ، جزء: ٥ / ١٨٨) فقط واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
الجواب صحیح: احقر محمد سلمان منصور پوری غفرلہ