Important Topics

Ṣadaqatul Fiṭr on Someone’s Behalf

Question: 

if someone’s صدقة الفطرwas payed on their behalf for a number year do they have to make قضاء or will it suffice them?

Clarification

  1. Q=who is this someone?

A= my parents, am dependent upon them, yet I am ṣāḥib al-niṣāb.

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ʿAlaykum Wa-Ramatullāhi Wa-Barakātuh

In principle, if Ṣadaqatul-Fiṭr is wājib upon a person, the obligation rests upon him personally and he is required to discharge it himself.

However, if he is dependent upon another, and the prevailing custom (ʿurf) is that dependents’ Ṣadaqatul-Fiṭr is paid by the one upon whom they depend, then if that person pays it on his behalf the Ṣadaqatul-Fiṭr will be validly discharged and the obligation fulfilled.

Accordingly, the Ṣadaqatul-Fiṭr paid by your parent is sufficient.[1]

And Allah Taʿāla Knows Best.

Baba Abu Bakr

Student Darul Iftaa

Accra, Ghana 

Checked and Approved by

Mufti Muhammad Zakariyya Desai

[1] الهداية في شرح بداية المبتدي ١/‏١١٣ — المرغيناني (ت ٥٩٣)

 «”ولا عن أولاده الكبار وإن كانوا في عياله” لانعدام الولاية ‌ولو ‌أدى ‌عنهم ‌أو ‌عن ‌زوجته ‌بغير ‌أمرهم أجزأه استحسانا لثبوت الإذن عادة»

العناية شرح الهداية – بهامش فتح القدير ط الحلبي ٢/‏٢٨٦ — البابرتي (ت ٧٨٦)

«وقوله (ولو أدى عنهم) ظاهر، وهو استحسان، والقياس أن لا يصح كما إذا أدى الزكاة بغير إذنها. وجه الاستحسان أن الصدقة فيها معنى المؤنة فيجوز أن تسقط بأداء الغير وإن لم يوجد الإذن صريحا، وفي العادة أن الزوج هو الذي يؤدي عنها فكان الإذن ثابتا عادة، بخلاف الزكاة فإنها عبادة محضة لا تصح

بدون الإذن صريحا»

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري ١/‏١٣٣ — أبو بكر الحداد (ت ٨٠٠)

 «(قوله ‌ولا ‌عن ‌أولاده ‌الكبار ‌وإن ‌كانوا ‌في ‌عياله) بأن كانوا زمناء لانعدام الولاية فإن أدى عنهم أو عن زوجته بغير أمرهم أجزأهم استحسانا لثبوت الإذن عادة ثم إذا كان للولد الصغير والمجنون مال فإن الأب يخرج صدقة فطرتهما من مالهما عندهما.»

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ١/‏١٩٣ — محمد أورنك عالم كير (ت ١١١٨)

«ولا يؤدي عن زوجته، ولا عن أولاده الكبار، وإن كانوا في عياله، ولو أدى عنهم أو ‌عن ‌زوجته ‌بغير ‌أمرهم ‌أجزأهم ‌استحسانا ‌كذا ‌في ‌الهداية.»

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ١/‏٧٢٤ — الطحطاوي (ت ١٢٣١)

 «قوله: “ولا ولده الكبير” أي الفقير وإن كان في عياله لانعدام الولاية ولو أدى عنه بغير إذنه فالقياس عدم الإجزاء كالزكاة وفي الاستحسان الإجزاء لثبوت الأذن عادة ذكره العلامة نوح قوله: “وزوجته” لعدم الولاية الكاملة عليها ولو أدى عنها بلا إذن جاز استحسانا للأذن عادة كالولد الكبير وإن كان في عياله وقيد به إشارة إلى أنه لو دفع عن الزوجة الناشزة والصغيرة التي لم تزف وعن الابن الكبير الذي لم يكن في عياله لا يجوز عنهم إلا بالأمر كما يفيده القهستاني وهل حكم الأجنبي إذا كان في عياله حكم الولد الكبير ومقتضى ما في البحر عن الظهيرية الجواز كذا في كتابة الدر قوله: “وقن مشترك الخ” لقصور الولاية والمؤنة في حق كل واحد منهما وهذا عند الإمام وقالا تجب في العبيد المشتركة على كل من الشريكين فطرة ما يخصه من الرؤس دون الأشقاص نهر فلو كانت العبيد تسعة تجب عندهما في ثمانية فقط كذا في سكب الأنهر قوله: “وكذا المغصوب المأسور” فلا تجب على سيدهما إلا بعد عودهما فتجب لما مضى كما في التنوير»

اللباب في شرح الكتاب ١/‏١٥٩ — عبد الغني الميداني (ت ١٢٩٨)

 «(عن زوجته ‌ولا ‌عن ‌أولاده ‌الكبار ‌وإن ‌كانوا ‌في ‌عياله) ، لانعدام الولاية، ولو أدى عنهم بغير أمرهم أجزأهم استحسانا، لثبوت الإذن عادة.»

فتاوی قاسمیه(603-605/11)

صدقہ فطر سے متعلق چند سوالات کے جوابات

سوال : [۴۸۴۸] : کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ

(۱) صدقہ فطر کا نصاب کیا ہے، نیز اس کے نصاب اور زکاۃ کے نصاب میں بنیادی

فرق کیا ہے؟

(۲) کیا شوہر کے ذمہ بیوی اور بالغ اپانچ اولاد کی جانب سے صدقہ فطر نکالنا واجب ہے ، نیز کیا آدمی کے لئے اپنی بیوی اور بالغ اولاد کی جانب سے بدون ان کی اجازت کے نکالنا جائز ہے؟

(۳) صدقہ فطر کی مقدار موجودہ اوزان سے کتنی ہے؟ کیا صاحب وسعت کے لئے کشمش یا کھجور سے صدقہ فطر نکالنا افضل ہے؟

باسمہ سبحانہ تعالی

الجواب وبالله التوفيق : (1) زکوة کا نصاب دو سو درہم چاندی یا اس کی قیمت ہے، اور بارہ ماشہ کے تولہ کے حساب سے اس کی مقدار ساڑھے باون تولہ ہے، اور آج کل کے گراموں کے حساب سے ۶۱۲ گرام اور ۳۶۰ ملی گرام اس کا وزن ہے ۔

اور زکوۃ کا جو نصاب ہے وہی نصاب صدقہ فطر کا بھی ہے مگر دو چیزوں میں صدقہ فطر اور زکوۃ میں فرق ہے۔

(1) وجوب صدقہ فطر کے لئے مال نامی یعنی مال تجارت یا سونا چاندی روپیہ پیسہ کا ہونا لازم نہیں بلکہ حوائج اصلیہ سے زائد گھر کے سامان مثلا برتن اور گھر میں رکھے کھانے غلہ اور ضرورت سے زائد کپڑے وغیرہ کی بھی قیمت لگے گی اور وجوب زکوۃ کے لئے ان چیزوں کی قیمت نہیں لگتی۔

(۲) زکوۃ کے واجب ہونے کے لئے حولان حول لازم ہے، یعنی جس مال نامی کا مالک ہے پہلی مرتبہ اس کے اوپر سال گذر نا ضروری ہے، یعنی جو شخص اب تک مال نصاب کا مالک نہیں ہوا ہے، وہ مالک ہو جانے کے بعد اس نصاب پر سال گزرنا بھی ضروری ہے بعد کے سالوں میں جس مال کا اضافہ ہوتا رہے گا ، اس پر سال گذرنا لازم نہیں ہے، بلکہ اداء زکوة کے وقت جتنا مال موجود ہو اتنے مال میں سے زکوۃ نکالنا واجب ہو جاتا ہے، اور صدقہ فطر کے واجب ہونے کیلئے نصاب کے اوپر سال گذر نا لازم نہیں ہے ۔

(۲) شوہر کے ذمہ بیوی کی طرف سے صدقہ فطر نکالنا واجب نہیں ہے، اسی طرح اپنی بالغ اولاد کی طرف سے نکالنا واجب نہیں ہے، بلکہ اپنی طرف سے اور اپنی نا بالغ اولاد کی طرف سے نکالنا واجب ہے، ہاں البتہ اگر شوہر اپنی خوشی سے بیوی کی طرف سے صدقہ فطر نکالے یا بالغ اولاد کی طرف سے نکالنا چا ہے ان کی اجازت سے نکالے یا ان کی اجازت کے بغیر نکالے دونوں صورتوں میں رائج اور مفتی بہ قول کے مطابق ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا ہو جاتا ہے، یہیں بالغ اپانچ اولاد کا بھی حکم ہے۔

(۳) صدقہ فطر کی مقدار ڈیڑھ کلو٧٤ رگرام ۶۴۰ رملی گرام ہے۔ (مستفاد: ایضاح المسائل (۱۰۱) اور یہ مقدار گیہوں یا آطا یا اس کی قیمت کے حساب سے ہے، اور کشمش یا کھجور سے نکالیں گے تو اس مقدار کے دو گنے ہوں گے، اگر سر مایہ دار کشمش یا کھجور سے صدقہ فطر نکالیں گے تو ان کے لئے افضل بھی ہوگا، اور ثو اب بھی زیادہ ملے گا ، اسلئے کہ اس میں فقراء کا زیادہ فائدہ ہے

Related Articles

Back to top button