BUSINESS & DEALINGS

Business Partnership between a Muslim and a Non-Muslim

Question:

Is it permissible for a Muslim to enter into a partnership with a Non-Muslim?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.

It is permissible for a Muslim to enter into a partnership with a non-Muslim, on condition that the laws of Shari’ah are not violated.[1]

And Allah Ta’ala Knows Best.

Muhammud Luqman Moideen

Student Darul Iftaa
Mauritius

Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.

[1] شرح مختصر الطحاوي للامام بهاء الدين الاسبيجابي ت:٥٣٥ج ٢ ص ١١٤٢ ط: دار الرياحين

أما المفاوضة منهما فلا تجوز حتى يكون كل واحد من الشريكين من أهل الكفالة، نحو : أن يكونا بالغين ،عاقلين، حُرَّيْن متفقين في الدين، وأن يكون رأس مالهما على السواء، وقد يكون رأس مالهما من جنس واحد بصفتين مختلفين كالصحاح مع المكسرة، فإنه يحتاج إلى التسوية في القيمة، وأن يشترطا الربح نصفين، وأن لا يكون لكل واحد منهما من المال الذي يجوز عليه عقد الشركة سوى رأس المال الذي شارك به صاحبه، وأن يتلفظا بلفظ المفاوضة، فإذا اجتمعت هذه الشرائط انعقدت بينهما شركة المفاوضة ، وإذا فات واحد من هذه الشرائط لا تكون مفاوضة وتكون عِناناً عاماً، كما إذا كان أحدهما صبياً أو كلاهما ،صبيين أو أحدهما معتوهاً، أو كلاهما كذلك، أو كان أحدهما عبداً، أو كلاهما، أو أحدهما مكاتباً، أو كلاهما؛ لأن هؤلاء ليسوا من أهل الكفالة وعهدة المفاوضة: الكفالة.

وقال الشافعي: لا أدري ما المفاوضة.

ولو كان أحدهما مسلماً والآخر ذمياً، لا تجوز شركتهما مفاوضة عند أبي حنيفة ومحمد؛ لأنهما غير مستويين في التجارة، ألا ترى أن الذِّمِّي يجوز تجارته في الخمر والخنزير، ولا يجوز للمسلم ذلك، وعقد المفاوضة يقتضي المساواة. وقال أبو يوسف: تجوز شركتهما مفاوضة، ولكنه يكره للمسلم أن يشارك مع الذمي، وتجوز شركتهما عِنانا بالإجماع، إلا أنه يكره؛ لأنه يخاف أن يطعمه الربا.

فتاوى قاضيخان لفخر الدين حسن بن منصور ت:٥٩٢ ج٤ ص٤٩١ ط: مكتبه حقانية

فصل في شركة العنان

وصورة هذه الشركة أن يشترك اثنان في نوع خاص من التجارات نحو البر والطعام أو يشتركان في عموم<613> التجارة وموجب هذه الشركة ثبوت الوكالة لكل واحد منهما من صاحبه فيما يبيع ويشتري. والتوقيت ليس بشرط لصحة هذه الشركة والمضاربة. وإن وقّتا لذلك وقتا بأن قال ما اشتريت اليوم فهو بيننا صح التوقيت فما اشتراه اليوم يكون بينهما وما اشتراه بعد اليوم يكون للمشتري خاصة. وكذا لو وقت المضاربة صح التوقيت لأن المضاربة والشركة توكيل والوكالة مما يتوقت. ولو قال أحدهما لصاحبه في العقد بع بالنقد ولا تبع بالنسيئة اختلف فيه المتأخرون بعضهم جوز ذلك. وتجوز هذه الشركة بين الرجال والنساء والبالغ والصبي المأذون والحر والعبد المأذون في التجارة والمسلم والكافر لأنها تعتمد الوكالة ولا تتضمن الكفالة بخلاف المفاوضة.

الفتاوى التاتارخانية ج ٧ ص ٤٦٣] فريد الدين عالم بن العلاء الاندربتي – ت:٧٨٦، مكتبه رشيديه [

۱۰۸۹۲ : ومنها: أن يكون كل واحد منهما من أهل الكفالة، بأن كانا بالغين عاقلين حرين، وفي الذخيرة متفقين في الدين، وفى التجريد: وقال أبو حنيفة ومحمد رحمهما الله: لا تصح المفاوضة بين المسلم والذمي، وقال أبو يوسف: تصح، وفى الهداية: كالمفاوضة بين الشافعي والحنفي فإنها جائزة، وفى التجريد: وذكر أبو الحسن أنها لا تصح بين المسلم والمرتد في قولهم، وذكر في الأصل قياس قول أبي يوسف أنه يجوز ، وتصح بين الذميين وإن اختلف دينهما وشركة المرتدين عنانا موقوفة على أصل أبي حنيفة رضى الله عنه ولا تصح المفاوضة وعند محمد تصح العنان ولا تصح المفاوضة ، ولو شارك مسلم مسلما، ثم ارتدا فهو موقوف عند أبي حنيفة رضى الله

١٠٨٩٣ – ويكره للمسلم أن يشارك الذمي، وفي السراجية: ولو ارتد أحد المتفاوضين بطلت المفاوضة أصلا، وقالا تصير عنانا، وفي التحريد: ولا تصح شركة المفاوضة بين الحر والعبد والمكاتب والصبي ولا بين العبد المكاتب.

فقه البيوع  لمفتي تقي عثماني ج ١ ص١٦١ ط:دار القلم

 أحكام بيع غير المسلمين

٦٣ – بيع غير المسلمين:

وكذلك لا يُشترط لصحة البيع إسلام المتعاقدين؛ فيصح البيع والشراء من غير مسلم سواء أكان ذمّيّاً، أم حربيّاً، أو مستأمناً. ولكن منع بعض الفقهاء من مُبايعته لبعض العوارض لا لكونه غير أهل للتعاقد. وإنّ هذه العوارض إمّا لكون العقد يؤدّي إلى إذلال مسلم، أو إهانة مقدّسات إسلاميّة، أو إعانة المحارب على محاربته للمسلمين، أو معارضة المصالح السّياسيّة للإسلام والأمة المسلمة؛ ولنتكلّم على كلّ واحدٍ منها بشيءٍ من التفصيل والله سبحانه هو الموفق.

امداد الاحكام لمولانا ظفر احمد عثمانى ج  ٤  ص ٣٩٢  ط:مكتبه دار العلوم كراجي

کفار سے دوستی اور میل جول رکھنے کا حکم

سوال: کسی مرد غیر مذہب کے ساتھ دوستی یعنی محبت پیارا اچھا سلوک ہمدردی رکھنا کیسا ہے ؟

الجواب :کفار سے معاملات بیع و شراء اجارہ وغیرہ جائزہ اور ظاہری میل جول میں بھی مضائقہ نہیں اگر میل جول کے بغیر چارہ نہ ہو باقی بلا ضرورت میل جول کرنا جائز نہیں اور رابطہ محبت و دوستی بھی جائزہ نہیں۔ باقی معاملات ہر حال میں جائز ہیں۔ واللہ اعلم . حرره الاحقر ظفر احمد عفا اللہ عنہ

فتاوی دار العلوم زکر یا جلد ٥ ص ٧٧٩

شرکت کے احکام کا بیان

سرکہ بنانے میں مسلمان کی شرکت کا حکم :

سوال : ایک مسلمان اور ایک غیر مسلم سرکہ بنانے کی ایک فیکٹری میں شریک ہیں ، سرکہ بنانے کے لیے انگور وغیرہ کے عصیر کو شراب کے مرحلہ سے گزارنا پڑتا ہے، غیر مسلم کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن مسلمان پریشان ہے کہ کیا میرے لیے یہ کاروبار جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔ الجواب: جب شراب مقصود نہیں بلکہ سرکہ بنانا مقصود ہے تو اس کا روبار میں مسلمان کی شرکت جائز ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ کسی طرح شراب کو سرکہ بنانے سے پہلے پینے کے لیے استعمال نہ کیا جائے ۔

كفاية المفتي لمفتي محممد كفايت الله دهلوى ج ٩ ص ٣٣٠

ایک پوسٹر میں قرآن مجید سے ثبوت دیا ہے کہ کافروں سے منانا جائز ہے اور پوسٹر آپ کی خدمت میں ارسال ہے۔ دریافت یہ ہے کہ قرآن شریف سے ثبوت کافروں سے ملنے کا ہے یا نہیں۔ اگر ملنے کا ثبوت ہے تو آپ آیات قرآن معہ ترجمہ کے تحریر فرمائیے کیونکہ ہم مسلمان کافروں سے لین دین اور شادی و غمی میں شریک رہتے ہیں اور ہم ان کے ہاتھ کی نبی ہوئی مٹھائی وغیرہ وغیرہ کھاتے ہیں پیتے ہیں ۔ فقط المستفتی ٢٥٢٤ احمد سعید سکریٹری ہندو مسلم مشرکه بورڈ  دربیہ کلان دہلی ۳۰  اگست ۱۹۳۹ ء م ۱۳ رجب ١٣٥٨ه

(۴۵۵) جواب ۔ اشتہار میں جو آیات قرآنیہ لکھی ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو کفار سے محبت اور دوستی پیدا کرنا اور مسلمانوں کے خلاف کفار کے ساتھ میل جول محبت کرنا  ناجائز اور حرام ہے۔ ان آیات کریمہ کا یہ مطلب نہیں کہ مطلقا کافروں سے معاملہ کرنا حرام ہے شریعیت مقدسہ اسلامیہ کا یہ حکم نہیں ہے کہ کافر سے کوئی معاملہ نہ کرو ۔ بیع و شرا دادوستد کفار کے ساتھ جائز ہے بلکہ کا فر  پڑسی کو حق ہمسایگی کے طور پر ہدیہ بھیجنا اور کافر کا ہدیہ قبول کر نا بھی جائزہہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان میں ایک بکری ذبح کی گئی اور اس کا گوشت پڑوس میں تقسیم کیا گیا جب حضور مکان میں تشریف لائے تو دریافت فرمایا اهديتم لجارنا اليهودي اهديتم لجارنا اليهودي یعنی گھر کے لوگوں سے پوچھا تم نے ہمارے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا۔ تم نے ہمارے یہودی پڑوسی کو بھی ہدیہ بھیجا خود حضور یہودی پڑوسی کی بیماری میں مزاج پرسی یعنی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تھے ۔ ذمی کا فرتو دار الاسلام میں رہتے ہیں اور ان کے قانونی حقوق مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں حتی کہ ہمارے امام اعظم امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک مسلمان اگر ذمی کافر کو قتل کر دے تو مسلمان اس کے قصاص میں قتل کیا جائے گا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حربى كفار سے بھی بیع وشرا کی ہے۔ حربی کفار کے ہدایا قبول فرمائے ہیں۔ حربی کا فروں کو صحابہ کرام نے هدایا دیئے ہیں. حضرت فاروق اعظم نے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ معظمہ میں تھا ہدیہ بھیجا ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے امیہ بن خلف کو اپنی مکہ کی جائداد کا نگراں مقرر کیا اور اس کے عوض میں اس کی مدینہ کی جائداد کی نگرانی اپنے ذمہ لی یہ تمام باتیں بخاری شریف و دیگر کتب احادیث میں موجود اور ثا بت ہیں ۔

بہر حال کفار کے ساتھ معاملات رکھنا ناجائز نہیں ہے نہ ممنوع ہے ۔ اور ہندوستان جیسے ملک میں رہ کر تو اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ قرآن پاک میں بھی ہم کو حضرت حق جل شانہةنے اجازت عطا فرمائی ہے لا ينهكم الله عن الذین لم يقاتلوكم في الدين الخ یعنی الله تعالی تم مسلمانوں کو اس سے منع نہیں کرتا کہ جو کا فر تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے ور تم کو تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ان کے ساتھ تم نیکی اور سلوک کا معاملہ اور انصاف کا برتاؤ كرو.

خلاصہ یہ ہے کہ کفار   کے ساتھ ان کے مذہب کی پسندیدگی کے لحاظ سے دوستی اور محبت رکھنا تو حرام ہے اور محض یكجائی حکومت اور ہم سایگى کے طور پر یا تمدنى اور معاشرتی ضرورتوں کی وجہ سے ان سے ملنا بات چیت کرنا ان کے ساتھ بیع و شرا کرنا۔ ہدیہ دینا۔ ہدیہ قبول کرنا۔ یہ سب جائز اور مباح ہے۔ باقی اور تہمتیں جو پوسٹر میں مذکور ہیں کہ مسلمانوں کو کافروں کی غلامی میں دے رہے یا ان کے دین کو اختیار کر رہے ہیں یا ان کے وظیفہ خوار اور تنخواہ دار ہیں اس کا جواب صرف يهی ہو سکتا ہے کہ ان جہتوں کا فیصلہ رب العزت کے دربار میں قیامت کے دن ہوگا۔ والله يهدي من يشاء الى صراط مستقیم محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی

 

ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند

کفار کے ساتھ شرکت یا مضاربت جائز ہے ؟

سوال: کفار کے ساتھ شرکت یا مضاربت جائز ہے اگر اس میں دینی خطرہ نہ ہو؟

جواب :بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa: 770-685/H= 7/1438

اصول واحکامِ شرکت ومضاربت کو ملحوظ رکھ کر تمام امور انجام دیئے جائیں اور کوئی دینی خطرہ بھی نہ ہو تو یہ معاملہ کفار کے ساتھ بھی جائز ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،

دارالعلوم دیوبند

فتوی نمبر :149572

تاریخ اجراء :Apr 6, 2017

 

Related Articles

Back to top button